Hi,
I want you to take a look at: Genwi - Twitter / ugalisharif newsfeed
Hi,
I want you to take a look at: Genwi - Twitter / ugalisharif newsfeed
معروف امریکی تھنک ٹینک ’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ کے ممتاز سکالر ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ اگرایسی کوئی اطلاع ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہیں تو یقینی طور پر سراغ لگانے میں معاون ثابت ہوگی، بصورتِ دیگر کسی ثبوت کے بغیر کوئی الزام تراشی نامناسب بات ہے۔
اُن سے پوچھا گیا تھا کہ القاعدہ کے سرکردہ لیڈروں، اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کے لاپتا ہونے کے بارے میں اُن کا کیا خیال ہے۔ اِس تناظر میں، امریکی وزیرِ خارجہ کے اظہارِ خیال کا حوالہ دیا گیا تھا جِنھوں نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان دوران ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں کہا تھا کہ یہ بات قرینِ قیاس نہیں لگتی کہ پاکستان کو پتا نہ ہو کہ القاعدہ کے رہنما کہاں ہیں۔
وائن بام نے کہا اگر آپ کےپاس ایسی کوئی اطلاع ہے تو یہ القاعدہ کے سرغنوں کا سراغ لگانے کے لیے یقینی طور پرسود مند ثابت ہوگی۔لیکن اُن کے بقول ’اِس طرح کا الزام لگانے کا یہ درست فورم نہیں تھا۔‘
ہلری کلنٹن کی طرف سے اسامہ اور الظواہری کے بارے میں بیان پر ڈاکٹر وائن بام کے بقول، 'بدقسمتی سے یہ بیان بغیر سوچے فوری رائے زنی کی صورت میں سامنا آیا، جِس سے اُنھوں نے دورے کے دوران ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا۔’
اُنھوں نے کہا کہ جہاں تک القاعدہ کا معاملہ ہے امریکہ نےواضح طور پر القاعدہ کو درجہٴ اول کا دشمن قرار دیاہوا ہے، اور اگر اِس سلسلے میں تعاون میں پاکستان کی طرف سے کوئی کوتاہی ہو رہی ہے، تو، اُن کے بقول، ’یوں سمجھا جائے گا کہ پاکستان کی دشمن کے ساتھ ملی بھگت ہے۔‘
اُن سے پوچھا گیا کہ کیا القاعدہ کے لیڈر اتنے شاطر ہیں کہ ابھی تک اپنا اتا پتا کامیابی سے صیغہ ٴ راز میں رکھا ہوا ہے، یا پھر اُن کے بارے میں معلومات نہ ملنے کی وجوہات فراخ دلانہ قبائلی روایات، خفیہ معلومات کی عدم فراہمی، اطلاعات کے تبادلے میں کسی طرح کی کوئی کمی، یا یہ کہ خطے میں موجود کسی اتحادی کی طرف سےکسی کوتاہی کا مظاہرہ ہے؟
جواب میں مارون وائن بام نے کہا کہ القاعدہ کے رہنماؤں کے نہ پکڑے جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ اُن کے بقول امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے لاہور کے بیان میں القاعدہ کے چوٹی کے سرغنوں اور دیگر قیادت میں تفریق نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر القاعدہ کے کچھ دھڑے ہیں جو دوسرے گروپوں سے قریبی رابطے رکھتے ہیں، جِن کی شناخت لشکرِ طیبہ، اور تحریکِ طالبان پاکستان کے طور پر کی جا تی ہے۔‘
’لیکن ایسا ہے کہ ہلری کلنٹن کے بیان کی تشریح کچھ یوں ہوتی ہے کہ پاکستان کو پتا ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ معاملہ ایسا ہی ہے۔‘
’کہا جارہا ہے کہ ایک عرصےسے اُن کی تلاش بے نتیجہ ر ہی ہے۔ ایک عرصہ قبل، خفیہ اداروں کے پاس کئی رپورٹیں تھیں، لیکن ساری بند گلی پہ جا کر ختم ہوتی ہیں۔‘
پاکستانی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں مشتبہ افراد امریکہ کے حوالے کیےجا چکے ہیں۔ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں سینکڑوں پاکستانی فوجیوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے، اور یہ کہ جب امریکہ اور نیٹو اتحادی سیٹلائٹ کی مدد کے ہوتے ہوئے القاعدہ کے سرکردہ لیڈروں کا پتا نہیں لگا سکے تو مختصر وسائل کے ساتھ پاکستانی حکام کس طرح سے اُن کا کھوج لگا سکتے ہیں، جب کہ پاک افغان سرحدی علاقہ دشوار گزار سنگلاخ پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔
وائن بام نے کہا کہ القاعدہ نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان کوبھی اپنا ہدف بناتی رہی ہے۔ اُن کے الفاظ میں’ اسامہ حکومتِ پاکستان کو گرِانے کے درپے ہیں، کیوں کہ وہ پاکستان پرامریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگاتے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ انتہائی سنگلاخ اور دشوار گزار ہے۔ 'ہمیں پتا ہے کہ اُسامہ کی تلاش کی خاطر سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں اور یہ کہ القاعدہ کے کئی لیڈرہلاک کیے جاچکے ہیں۔’
'اِس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے تعاون کے نتیجے میں القاعدہ کے ٹھکانوں کا پتا لگاکر اُنھیں مسمار کیا گیا ہے۔ اِس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ القاعدہ کے معاملے میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہےہیں، کیونکہ دونوں یکساں دشمن سے نبرد آزما ہیں۔’
جنوبی وزیرستان میں رواں فوجی کارروائی کے بارے میں سوال پر اُنھوں نے کہا کہ قبائلی علاقے میں جاری فوجی کارروائی طالبان کے خلاف کیا جانے والا سنجیدہ آپریشن ہے۔ سارے شواہد اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستانی افواج کامیابی کےلیے سرگرداں ہیں، اور یہ کہ اِس کارروائی میں لوگ اُن کے ساتھ ہیں۔'
لیکن، اُن کے بقول مجھے شک ہے کہ اِس کارروائی کی بنا پر کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوگی۔ میں نہیں سمجھتا کہ اِس کارروائی کے نتیجے میں اُن عناصر کا مکمل صفایا ہوسکے گا جو علاقے کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ اِس مہم میں خون بہنے کے بعد توڑ ڈھونڈنے کے لیے آخرِ کار بات مذاکرات پر منتج ہوگی۔ لیکن ایک فرق یہ ضرور ہوگا کہ طالبان کے ساتھ ماضی کے سمجھوتوں کے برعکس اب ہونے والے مذاکرات طاقت کے بل بوتے پر ہوں گے۔’
'یعنی، ایسا نہیں ہوگا کہ ماضی کی طرح طالبان اپنی بات منوائیں گے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اُن کا مکمل صفایا ہوگا کیونکہ یہ بغاوت کے انسداد کی بہترین کوشش نہیں ہے جِس میں آپ بہتر حکومتی عمل داری کے ساتھ ترقی کو دہلیز تک لاسکیں اور فوجی انداز سے حالات سے مؤثر طور پرنمٹ سکیں۔’
' یہ محض سادہ سی فوجی کارروائی ہے کہ اگر آپ کامیاب بھی ہوں تب بھی ہر صورت طالبان واپس آجائیں گے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ اِس کے اصل محرکات کو پیشِ نظر رکھاجائے۔’
کیری لوگر بل کے بارے میں ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ دورہ اِسی تناظر میں کیا۔
ڈاکٹر وائن بام نے کہا کہ ہلری کلنٹن کا یہ بہت ہی اہم دورہ تھا۔ ماضی کے دوروں کے برعکس، امریکی وزیرِ خارجہ سرکاری دائرے سے باہر نکل کر لوگوں سے ملیں، مشکل نوعیت کے سوالات کے جواب دیے، اور واضح کیا کہ امریکہ اچھے مقاصد کا امین ہے۔