پیر، 1 جون، 2015

رجب

رجب


ماہ رجب کی عبادات تیس رکعت نوافل : حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ اے سلمان! رجب کا چاند طلوع ہوگیا۔ اگر اس مہینے میں کوئی مومن مرد یا عورت تیس رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص تین بار اور سورۃ الکافروں تین بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو محو کر دیتا ہے اور اس کو اتنا اجر عطا فرمائے گا کہ جیسے اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے اور اس کا شمار آئندہ سال تک نماز پڑھنے والوں میں ہوگا (یعنی اس کو سال بھر کی نمازوں کا ثواب ملے گا) اور شہید بدر کے عمل کے برابر اس کے اعمال کو روزانہ بلند سے بلند تر کیا جائے گا اور ہر دن کے روزہ کے عوض سال بھر کی عبادت کا ثواب اس کیلئے لکھا جائے گا اور اس کے ہزار درجے بلند کیے جائیں گے۔ اور اگر اس نے پورے مہینے (ماہ رجب کے) روزے رکھے اور یہی نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے بچالے گا اور اس کیلئے جنت واجب کردے گا۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب و جوار میں ہوگا۔ مجھے اس کی خبر جبریل علیہ السلام نے دی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ آپ ﷺ کے اور مشرکوں اور منافقو ں کے درمیان فرق پیدا کرنے والی نشانی ہے۔ منافق یہ نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! مجھے بتایئے کہ میں یہ نماز کس طرح پڑھوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اول ماہ میں دس رکعتیں پڑھو اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ ایک بار، سورۃ اخلاص تین بار اور سورۃ الکافرون تین بار اور جب سلام پھیرو تو ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھو: لَاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ یُحْییٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیُّ ٗ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًاہ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرُٗہ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَآ اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا و یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ سب ملک اسی کا ہے۔ اسی کیلئے حمد ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے۔ وہ خود ہمیشہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آتی۔ نیکی اس کے ہاتھ میں ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کرتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے توروک دے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تیری مرضی کے علاوہ کوئی شخص کوشش کرے تو وہ لاحاصل ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اور دس رکعتیں وسط ماہ میں پڑھو اس طرح کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ ایک بار، سورۃ اخلاص تین بار اور سورۃ الکافرون تین بار اور جب سلام پھیرو تو ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھو: لَاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ یُحْییٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیُّ ٗ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًاہ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرُٗہاِلٰھًا وَّحِدًا اَحَدًا صَمَدًا فَرْدًا وِتْرًا لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا۔ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا و یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ سب ملک اسی کا ہے۔ اسی کیلئے حمد ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے۔ وہ خود ہمیشہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آتی۔ نیکی اس کے ہاتھ میں ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔وہ یکتا ہے اس کا کوئی نظیر نہیں وہ یگانہ و یکتا ہے۔ نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد۔ یہ دعا پڑھ کر دونوں ہاتھ منہ پر پھیر لو۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پھر مہینے کے آخر میں دس رکعتیں پڑھو۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ، سورۃ اخلاص اور سورۃ الکافرون تین بار پڑھے، سلام پھیرنے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہو: لَاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ یُحْییٖ وَیُمِیْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرُٗہوَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ الطَّاھِرِیْنَ وَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِہ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے وہی تعریف کا سزاوار ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ہمارے آقا حضرت محمدﷺ پر اور آپﷺ کی پاک آل پر اللہ کی رحمت ہو۔ اونچے مرتبہ والے اللہ کے بغیر نہ کوئی قوت ہے اور نہ طاقت۔ اس کے بعد مراد مانگو تمہاری دعا قبول ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور جہنم کے درمیان ستر خندقیں حائل فرمادے گا۔ ہر خندق اتنی وسیع و طویل ہوگی جیسے زمین سے آسمان تک کا فاصلہ، ہر رکعت کے عوض دس لاکھ (ہزار در ہزار) رکعتیں لکھی جائیں گی (دس لاکھ رکعتوں کا ثواب ملے گا) جہنم سے آزادی اور پل صراط سے (بغیر کسی خطرے کے) عبور تمہارے لیے مقرر کردیا جائے گا۔ حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب یہ بیان فرماچکے تو میں اس عظیم اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے روتا ہوا سجدے میں گر پڑا۔ (غنیہ الطالبین) رجب کے روزے: رجب المرجب کے مہینے میں روزے رکھنا کارِ ثواب ہے۔ سردار انبیاء ﷺ نے فرمایا، رجب ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو دگنا کرتا ہے جو آدمی رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے ہیں اور جو کوئی رجب کے ساتھ دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کئے جائیں گے اور جو کوئی اس کے آٹھ دن روزے رکھے تو اس کیلئے جنت کے آٹھ دروازے کھولے جائیں گے اور جو آدمی رجب کے دس دن روزے رکھے تو اللہ کریم سے جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا اور جو کوئی رجب کے پندرہ دن روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرے گا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہوگئے ہیں اور اب نئے سرے سے عمل شروع کر، اور جو زیادہ روزے رکھے گا اسے اللہ کریم زیادہ دے گا۔ (ماثبت السنۃ) نفل نماز شب معراج: ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھے۔ پہلی رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ قدر تین تین مرتبہ ہر رکعت میں بعد سلام کے ستر مرتبہ بیٹھ کر یہ پڑھے۔ لَاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ۔ اس کے بعد چار رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ ہر رکعت میں، بعد سلام کے بیٹھ کر ستر مرتبہ سورۃ الم نشرح پڑھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے اخلاص کے ساتھ دعا مانگیں۔ چار رکعت نوافل: بزرگوں سے مذکور ہے کہ ستائیسویں رجب کو رات کے وقت چار رکعت نوافل دو دو کرکے پڑھے جائیں۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد 27مرتبہ سورۃ اخلاص یعنی قل ہو اللہ پڑھی جائے۔ سلام پھیرنے کے بعد اسی مقام پر بیٹھا رہے۔ اور بیٹھ کر ستر مرتبہ یہ درود شریف پڑھے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ ستائیسویں رجب کو اس طرح نوافل اور درود پڑھنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور پڑھنے والے کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کیلئے رحمت کاملہ کا سایہ ہوجاتا ہے اور آخرت میں بھی یہ نوافل بخشش میں معاون ثابت ہوں گے۔ درود پاک یہ ہے۔ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ط وَ عَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ ط دو رکعت نفل: رجب کی ستائیسویں رات کو دو رکعت نماز نفل پڑھے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورۃ اخلاص اکیس مرتبہ پڑھے۔ نماز سے فارغ ہو کر دس مرتبہ درود شریف پڑھے اور پھر پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ بِمُشَاھِدَۃِ اَسْرَارِ الْمُحِبِّیْنَ۔ وَ بِالْخِلْوَۃِ الَّتِیْ خَصَّصْتَ بِھَا سَیِّدَ الْمُرَسَلِیْنَ حَیْنَ اَسْرَیْتَ بِہٖ لَیْلَۃِ السَّابِعِ وَالْعِشْرِیْنَ اَنْ تَرْحَمَ قَلْبِیْ الْحَزِیْنَ وَتُجِیْبُ دَعْوَتِیْ یَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِیْنَ ہ تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا اور جب دوسروں کے دل مردہ ہوجائین گے تو اس کا دل زندہ رکھے گا۔ (نزہۃ المجالس ج ۱ ص۳۰) آٹھ رکعت نوافل: شب معراج کو آٹھ رکعت نوافل دو دو کرکے چار سلاموں سے یوں پڑھے جائیں کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۃ بنی اسرائیل (پارہ نمبر۱۵) کی پہلی تین آیات پڑھی جائیں۔ ان نوافل کے پڑھنے سے قلبی پاکیزگی پیدا ہوگی اور اللہ کی حمد و ثنا کی طرف دل خوب مائل ہوگا اور اللہ کی بندگی میں کیف و سرور پیدا ہوگا۔ اگر کسی سالک کو کامل راہنما اور ہادی کی ضرورت ہو تو ان نوافل کی برکت سے اچھا راہنما ملنے کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں اور پڑھنے والا ہدایت کی راہ کا متلاشی بن جائے گا۔ غرضیکہ ان نوافل کے بے پناہ فوائد ہیں۔ بعد نماز ظہر نوافل: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا معمول تھا کہ جب ستائیسویں رجب آتی تو وہ اعتکاف میں بیٹھے ہوتے تھے اور بعد نماز ظہر نفل پڑھنے میں مشغول ہوجاتے اس کے بعد وہ چار رکعتیں پڑھتے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ ایک مرتبہ سورۃ القدر تین بار اور سورۃ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھتے تھے۔ پھر عصر تک دعاؤں میں مشغول رہتے انہوں نے فرمایا کہ سرور کونینﷺ کا یہی معمول تھا۔ بارہ رکعت نوافل: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جو شخص رجب کی ستائیسویں کو بارہ رکعت نفل کی نیت سے اس ترکیب سے پڑھے کہ سورۃ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۃ قدر اور بارہ دفعہ سورۃ اخلاص اور کے بعد یعنی نماز سے فارغ ہو کر ایک بار درود شریف اور تین مرتبہ: 1۔ سُبُّوْحُ ٗ قُدُّوْسُ ٗ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلآءِکَۃِ وَ الرُّوْحُ 2۔ رَبِّ اغْفِرْوَارْحَمْ وَتَجَاوَزُ عَمَّا تَعْلَمُ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْاَعْظَمَ۔ پڑھے اور ایک سو بار درود شریف اور ایک سو بار: اَسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَم نْبٍ وَخَطِیْءَۃٍ وَّ اَتْوْبُ اِلَیْہِ۔ اور ایک سو بار تسبیح پڑھے یعنی: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ وَاللّٰہْ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔ پڑھے اور اپنے لئے اور اپنے ماں باپ کیلئے اور تمام مسلمانوں مرد و زن کیلئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے پانچ نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ مخلوق کا عمر بھر محتاج نہ ہوگا۔ ایمان پر خاتمہ ہوگا۔ اس کی قبر کشادہ کردی جائے گی۔ جنت کی ہوائیں اسے پہنچتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوگا۔ (غنیہ الطالبین) یوم معراج کے روزے کا اجر: ستائیسویں رجب کی رات کو حضورﷺ کو معراج ہوا۔ اس رات کی فضلیت کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیاکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ستائیسویں رجب کا روزہ رکھا اس کو ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ اسی دن حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں رسالت لے کر نازل ہوئے۔ شیخ ہبۃ اللہ نے اپنی اسناد سے بروایت حضرت ابوسلمہؓ حضرت سلمان فارسیؓ نقل کیا ہے۔ کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ماہ رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی ہے کہ اگر اس دن کا کوئی روزہ رکھے اور اس رات کو عبادت کرے تو اس کو ایک سو برس روزے رکھنے والے اور سو سال کی راتوں کی عبادت کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ یہ رات وہ ہے جس کے بعد رجب کی تین راتیں رہ جاتی ہیں (یعنی ستائیسویں شب) اور یہ دن وہ ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کو رسالت عطا فرمائی۔ (

جمادی الثانی

جمادی الثانی


جمادی الثانی یہ مہینہ اسلامی سال کا چھٹا مہینہ ہے۔ اس کے نام کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس وقت پانی جمنے والے موسم کی اخیر تھی اس لئے اس کا نام جمادی الاخر پڑ گیا جسے بعد ازاں جمادی الثانی کہا جانے لگا۔ عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ اس مہینہ کی پہلی تاریخ کو رسول خداﷺ کے سامنے سیدنا حضرت جبریل علیہ السلام آئے تھے اور اسی ماہ کی ۲۲تاریخ ۱۳ ؁ھ کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تخت خلافت پر بیٹھے تھے اور اسی ماہ کی بیسویں تاریخ کو خاتونِ جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت مبارکہ ہوئی تھی۔ اس ماہ کی نفلی عبادت کا طریقہ حسب ذیل ہے۔ چار رکعت نوافل : اس مہینہ کی اول تاریخ میں چار رکعت ادا کرے ہر رکعت میں سورۃ اخلاص تیرہ مرتبہ پڑھے، تو ایک لاکھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ایک لاکھ برائیاں دور کی جاتی ہیں۔ (فضائل الشہور ) بارہ رکعت نوافل: کتاب فضائل الشہور میں حضرت اخطب بن حسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مہینہ کی شب اول میں بارہ رکعت نماز نفل ادا کیا کرتے تھے۔ اس نماز کیلئے کوئی سورۃ خاص نہیں اور اکثر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے۔ بیس رکعت نوافل: جمادی الثانی کی اکیس شب سے آخری تاریخ تک روزانہ ہر شب کو بعد نماز عشاء بیس رکعت نماز دس سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ اخلاص ایک ایک بار پڑھے۔ اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کو حرمتِ رجب المرجب کا ثواب عطا کرے گا اس نماز کا مقصد یہ ہے کہ ماہ رجب کے مبارک مہینہ کا استقبال عبادتِ الٰہی سے کیا جائے۔ اس لیے اس نماز کی فضیلت ہے۔ راہِ ہدایت پر استقامت کا وظیفہ: بزرگوں کا کہنا ہے کہ راہِ ہدایت پر استقامت کیلئے یہ وظیفہ بہت موثر ہے لہٰذا جو شخص جمادی الثانی کی پہلی تاریخ سے آخری تاریخ تک روزانہ اس وظیفہ کو 313 مرتبہ پڑھے گا اسے راہِ ہدایت پر استقامت نصیب ہوجائے گی اور اس کے بعد اگر ایک مرتبہ بعد نمازِ فجر اور ایک مرتبہ بعد نماز مغرب پڑھنے کا معمول بنالے تو بہت بہتر رہے گا۔ رَبَّنَا لَا تُذِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ہ رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ط اِ نَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ہ ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت کرنے کے بعد (غلط راستے پر) نہ پھیر اور اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا فرما۔ بے شک تو ہی دینے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار تو ایک دن جس (کے آنے) میں (کسی طرح کا) شبہ نہیں لوگوں کو (اعمال کی جزا سزا کیلئے ااکٹھا کرے گا (تو اس دن ہم پر تیری مہربانی کی نظر رہے) بے شک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

جمادی الاول

جمادی الاول


جمادی الاول جمادی الاول اسلامی سال کا پانچواں مہینہ ہے ۔ جمادی کا مطلب کسی چیز کا جم جانا ہے۔ ایسے موسم میں جب پانی جم جانے کا آغاز ہوتا تھا تو اسے جمادی الاول کہا جانے لگا۔ احادیث میں اس کی فضیلت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ اسی مہینے کی نسبت حضرت علیؓ کی پیدائش سے ہے کیونکہ حضرت علیؓ اس ماہ کی آٹھ تاریخ کو پیدا ہوئے اور جب واقعہ جمل پیش آیا تو اسی ماہ کی پندرہ تاریخ تھی۔ شب اول کے نوافل: جواہر غیبی میں لکھا ہے کہ جو شخص اس مہینہ کی پہلی رات میں چار رکعت ادا کرے اور ہر رکعت میں سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے۔ اللہ تعالیٰ نوے ہزار برس کی نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں درج کردیتا ہے اور نوے ہزار برس کی برائیاں اس کے نامۂ اعمال میں سے دور کرتا ہے۔ آٹھ رکعت نوافل: جواہر غیبی میں لکھا ہے کہ جمادی الاول کی پہلی تاریخ کی شب میں نماز مغرب کے بعد آٹھ رکعت نفل پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے۔ یہ نماز بہت افضل ہے اور اس کے پڑھنے سے انشاء اللہ تعالیٰ بے شمار عبادت کا ثواب پاک پروردگار کی طرف سے عطا کیا جائے گا۔ بیس رکعت نوافل: پہلی تاریخ کو بعد نماز عشاء بیس رکعت نماز دس سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ اخلاص ایک ایک بار پڑھے۔ بعد سلام کے ایک سو مرتبہ درود شریف پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کی برکت سے اللہ پاک اسے بے شمار نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔ تین دن کے نفلی روزے: اس مہینے کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخوں میں حضور اکرمﷺ نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ دوسروں سے بھلائی کا وظیفہ: دوسروں کی بھلائی اور بہتری چاہنے کیلئے یہ وظیفہ بہت عمدہ ہے۔ لہٰذا اس وظیفہ کو پورا جمادی الاول بعد نماز مغرب 100 مرتبہ پڑھنا چاہئے۔ بعد ازاں نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ اسے پڑھنے کا ہمیشہ معمول بنالے تو اسے دین و دنیا میں بھلائی حاصل ہوگی۔ رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِھِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِہ رَبَّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ انِ لَّتِیْ وَعَدْتَّھُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَ�آءِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ہ لا وَقِھِمُ السَّیِّءَاتِ ط وَ مَنْ تَقِ السَّیِّءَاتِ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ ط وَ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ہ (المومن: ۴۰) ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم سب چیزوں پر حاوی ہے۔ تو جو لوگ توبہ کرتے اور تیری راہ پر چلتے ہیں ان کو بخش دے اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا اور اے ہمارے پروردگار! ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیبیوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو بھی۔ بے شک تو ہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ اور ان کو (قیامت کے دن) خرابیوں سے محفوظ رکھ اور جس کو تو اس دن خرابیوں سے محفوظ رکھے گا تو اس پر تو نے بڑا رحم کیا اور یہی تو بڑی کامیابی ہے۔ *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*

ربیع الثانی

ربیع الثانی


ربیع الثانی کے نوافل یہ اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نام رکھتے وقت ربیع کا موسم تھا یعنی ربیع کا اخیر تھا اس لیے اس کا نام ربیع الآخر رکھا گیا مگر ربیع الاول کی مناسبت سے ربیع الثانی مشہور ہوگیا۔ اس مہینہ کے مشہور واقعات یہ ہیں کہ اس مہینہ کی تیسری تاریخ کو حجاج نے کعبہ معظمہ پر آگ پھینکی تھی جبکہ سیدنا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ وہاں محصور تھے۔ جس سے خانہ کعبہ جل گیا۔ اسی ماہ میں حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال بھی ہوا۔ نفلی عبادت: اس ماہ کے نوافل حسبِ ذیل ہیں جو اکثر صوفیاء پڑھتے رہے ہیں۔ شب اول کے نوافل: عابدوں کا کہنا ہے کہ جب ربیع الثانی کا چاند نظر آجائے تو اس کی شب اول میں بعد نماز مغرب آٹھ رکعت نفل دو دو کی نیت سے پڑھے اور اس میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ کوثر تین بار اور دوسری رکعت میں سورۃ کافرون تین بار، پھر تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین بار ہر رکعت میں پڑھے۔ انشاء اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کو بے شمار نمازوں کا ثواب ملے گا۔ چار رکعت نفل: جواہر غیبی میں ہے کہ اس مہینہ کی پہلی، پندرہویں، انتیسویں تاریخوں میں چار رکعت نفل پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پانچ بار پڑھے اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہزار برائیاں محو کی جاتی ہیں۔ انجام بخیر کا وظیفہ: جو شخص پورا ماہ بعد نماز عشاء یہ وظیفہ روزانہ 1111 مرتبہ پڑھے گا وہ موت کے وقت کلمہ پڑھتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوگا۔ بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس وظیفے میں خاتمہ بالخیر کی بے حد تاثیر ہے۔ اس وظیفہ سے خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔ وظیفہ درج ذیل ہے۔ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ہ ترجمہ: اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا رفیق ہے، تو مجھ کو اپنی فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لے اور مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کرلے۔

ربیع الاول

ربیع الاول


ربیع الاول ماہ ربیع الاول بے حد متبرک اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس کا شمار اسلامی مہینوں میں تیسرا ہے۔ ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع کی ابتدا تھی۔ یہ مہینہ خیرات و برکات اور سعادتوں کا منبع ہے۔ کیونکہ اس مہینہ کی بارہویں تاریخ کو اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے رحمتہ للعالمین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ کو پیدا فرما کر اپنی نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کی کی دسویں تاریخ کو محبوبِ کبریاﷺ نے ام المومنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اسی لیے اس ماہ کو دوسرے مہینوں پر خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ اس ماہ کے نوافل کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:۔ ربیع الاول کی عبادت 16رکعت نوافل: کتاب الاوراد میں لکھا ہے کہ جب ربیع الاول کا چاند نظر آوے اس رات کو سولہ رکعت نفل پڑھے۔ دو دو رکعت کی نیت سے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین بار پڑھے۔ جب فراغت پاوے تو کل نفلوں کے بعد یہ درود شریف ایک ہزار بار پڑھے۔ ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ انِ لنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔‘‘ اس نماز کی بہت فضیلت ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز اور درود شریف پڑھنے والے رسول اکمرﷺ کی زیارت سے فیضیاب ہوں گے لیکن اس کا خیال رکھیں کہ باوضو سوئیں۔ 20 رکعت نوافل : جواہر غیبی میں ہے کہ اس مہینہ میں بارہ روز تک روحِ مبارکﷺ پر ہدیہ اس نماز کا بھیجتا رہے کیونکہ حضرات صحابہؓ اور تابعینؒ اور تبع تابعینؒ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ان رکعتوں کا ثواب ہدیہ روح اقدسﷺ کو بھیجا کرتے تھے اور وہ بیس رکعت اس طرح پڑھنے ہیں۔ ہر رکعت میں اکیس اکیس بار سورۃ اخلاص پڑھنی ہے۔ اگر روز مرہ بارہ دن تک توفیق نہ ہو تو دوسری تاریخ اور بارہویں تاریخ کو ضرور ہی بیس رکعت بترکیب مذکورۃ الصدر پڑھ کر روح پُر فتوح حضور اقدسﷺ کو ہدیہ پہنچائے کہ اس نماز کے پڑھنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے خواب میں جنت کی بشارت دی ہے اور حضور اقدس ﷺ کا دیکھنا اور بشارت دینا عین حقیقت ہے۔ وظیفہ درود شریف: ربیع الاول کا سب سے اعلیٰ وظیفہ درود پاک کا ورد ہے لہٰذا اس ماہ میں کوشش کی جائے کہ کثرت سے درود پاک پڑھا جائے۔ کتاب المشائخ میں لکھا ہے کہ جب چاند ربیع الاول کا نظر آوے، اسی شب سے تمام مہینے تک یہ درود شریف ہمیشہ ایک ہزار پچیس بار بعد نماز عشاء کے پڑھے گا تو حضور اقدسﷺ کو خواب میں دیکھے گا۔ وہ درود شریف یہ ہے: ’’ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدُ ٗ مَّجِیْدُ ٗ ‘ ‘ ایک بزرگ کا قول ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ ربیع الاول میں سوا لاکھ مرتبہ مندرجہ ذیل درود پاک کو پڑھے گا اسے حضورﷺ کی زیارت ہوگی اور آخرت میں اسے حضورﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ وہ درود پاک یہ ہے۔ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ط وَ عَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ ط *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*

صفر

صفر


نفلی عبادات: شب اول ماہ صفر میں بعد نماز عشاء ہر مسلمان کو چاہئے کہ چار رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ پندرہ بار سورۃ کافرون اور دوسری میں سورۃ اخلاص پندرہ بار اور تیسری میں سورۃ فلق پندرہ بار اور چوتھی میں سورۃ ناس پندرہ بار پڑھے۔ بعد سلام کے ایک بار اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہے پھر ستر بار درود شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر بلا اور ہر آفت سے محفوظ رکھے گا اور ثوابِ عظیم عطا فرمائے گا۔ (راحۃ القلوب) آخری چار شنبہ کے نوافل: صفر کے آخری بدھ کو بعد غسل کرے اور چاشت کے وقت دو رکعت نماز نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد گیارہ گیارہ دفعہ قل ہو اللہ احد پڑے اور سلام پھیر کر یہ درود شریف ستر دفعہ پڑھے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ بَارَکَ وَ سَلَّمَ۔ راحۃ القلوب میں ہے کہ اس کے بعد یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمّ صَرِّفْ عَنِّیْ سُوْءَ ھٰذَا الْیَوْمِ وَاعْصِمْنِیْ سُوْءِہٖ وَنَجِّنِیْ عَمَّا اَصَابَ فِیْہِ مِنْ الشَّرُوْرِ وَمَالِکَ النَّشُوْرِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط وَصَلَّی اللّٰہْ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّ اٰلِہٖ الْاَمْجَادِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ دو رکعت نفل: آخری چہار شبنہ کو دو رکعت نفل یوں پڑھنا بھی درست ہے کہ نفل کی ہر رکعت میں سورۃ فاتھہ کے بعد تین تین بار قل ہو اللہ احد پڑھے۔ سلام کے بعد سورۃ الم نشرح، سورۃ والتین، سورۃ نصر اور سورۃ اخلاص اسی (80)مرتبہ پڑھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے دل کو غنی کردے گا۔ (جواہر غیبی) ۔۔۔۔

محرم

محرم


ماہ محرم کی دعا: پہلی محرم الحرام کو جو بھی یہ دعا پڑھے تو شیطان لعین سے محفوظ رہے گا اور سارا سال دو فرشتے اس کی حفاظت پر مقرر ہوں گے۔ دعا یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَبَدِیُّ الْقَدِیْمُ وَ ھٰذِہٖ سَنَۃ’‘جَدِیْدَۃ’‘ اَسْءَلُکَ فِیْھَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ وَ اَوْلِیَاءِ ہٖ وَالْعَوْنَ عَلٰی ھٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃَ بِالسُّوْءِ وَالْاِشْتِغَالِ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ اِلَیْکَ یَا کَرِیْمُ۔ (نزہۃ المجالس) محرم کے نفلی روزے:
1۔ حضرت ابوہرہؓ سے مروی ہے کہ جس نے عاشورہ کے دن چار رکعت نماز اس طرح پڑھی کہ ہر رکعت میں ایک دفعہ سورہ فاتحہ اور پچاس بار سورۂ اخلاص پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے پچاس برس گذشتہ کے اور پچاس برس آئندہ کے گناہ معاف فرمائے۔ ملاء اعلیٰ میں اس کیلئے نور کے ہزار محل تعمیر کرائے گا۔ ایک اور حدیث میں چار رکعتیں دو سلاموں کے ساتھ مذکور ہیں۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ، سورۂ زلزال، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص ایک ایک دفعہ اور نماز سے فراغت کے بعد ستر بار دورو شریف پڑھنا مذکور ہے۔ (نزہتہ المجالس ج۱ ص ۱۴۲)
2۔ حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ ہر روز یکم محرم سے دس محرم تک چار رکعت نفل پڑھا کرتے تھے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ ایک بار، سورۂ اخلاص پندرہ بار اور بعد سلام کے اس کا ثواب حضرت امام حسین علیہ السلام کی روح مبارک کے حضور پیش کرتے۔ تو ایک دن حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے حضرت شبلیؒ کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ حضرت شبلیؒ نے عرض کی کہ حضور مجھ سے کیا خطا سرزد ہوئی؟ فرمایا: خطا نہیں، ہماری آنکھیں تمہارے احسان سے شرمندہ ہیں۔ جب تک ہم قیامت میں اس کا بدلہ نہ دلوا لیں گے اس وقت تک ہم آنکھ ملانے کے قابل نہیں ہیں۔ اس نماز کے پڑھنے والے کی صاحبزادگان سید کونین علیہما السلام قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے۔ (جواہر غیبی)
3۔ یکم محرم شریف کے دن دو رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَبَدُ الْقَدِیْمُ وَ ھٰذِہٖ سَنَۃ’‘جَدِیْدَۃ’‘ اَسْءَلُکَ فِیْھَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَالْاَمَانَ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَابِرِ وَ مِنْ شَرٍّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَّ مِنَ الْبَلاَ وَالْاٰفَاتِ وَاَسْءَلُکَ الْعَوْنَ وَالْعَدْلَ عَلٰی ھٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِشْتِغَالِ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ اِلَیْکَ یَابَرُّ یَارَءُ وْفُ یَارَحِیْمُ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ط۔ جو شخص اس نماز کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اوپر دو فرشتے مقرر کردیگا تاکہ وہ اس کے کاروبار میں اس کی مدد کریں اور شیطان لعین کہتا ہے کہ افسوس! میں اس شخص سے تمام سال ناامید ہوا۔ (جواہر غیبی)
4۔جو کوئی چھ رکعت ایک ہی سلام سے نفل ادا کرے ہر رکعت میں بعد الحمد شریف کے چھ سورتیں پڑھے۔ والشمس، انا انزلناہ، اذا زلزلت الارض، سورہ اخلاص، سورۂ فلق اور سورہ و الناس بعد نماز سجدہ میں جا کر قل یاایہا الکافرون پڑھے تو اللہ تعالیٰ سے جو حاجت طلب کرے گا پوری ہوگی۔ (رکن دین، کتاب الصلوٰۃ)
5۔ جو کوئی عاشورہ کے روز چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں بعد الحمد شریف کے گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ سلام کے بعد کثرت سے سُبُّوْح’‘ قُدُّوْس’‘ رَبُّنَا وَ رَبُّ الْمَلآءِکَۃِ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دیتا ہے اور اس کیلئے ایک نورانی منبر بناتا ہے۔ (فضائل ایام و الشہود)
6۔ عاشورہ کی رات دو رکعت نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین دفعہ سورۂ اخلاص پڑھے جو آدمی اس رات یہ نماز پڑھے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت تک اس کی قبر روشن رکھے گا۔ (ماثبت من السنتہ ص۱۴)
7 ۔ ایک اور روایت میں چھ رکعتیں آئی ہیں۔ ان کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ اس نماز کے پڑھنے والے کو اللہ کریم بہشت میں دو ہزار محل عطا فرمائے گا اور ہر محل میں ہزار دروازے یاقوت کے ہوں گے اور ہر دروازے پر ایک تخت سبز زبرجد کا ہوگا۔ اس تخت پر ایک حور بیٹھی ہوگی اور اس کے علاوہ چھ ہزار بلائیں اس نمازی سے دور کی جاتی ہیں اور چھ ہزار نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہیں۔ (راحۃ القلوب، جواہر غیبی) عاشورہ کا روزہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! ’’رمضان کے بعد دوسرے فضیلت والے روزے ماہ محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد افضل ترین عبادت رات کے وقت کی نماز ہے۔‘‘ (مسلم شریف ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سوائے یوم عاشورہ کے روزہ کے کسی روزہ کا قصد کرتے نہیں دیکھا اور سوائے رمضان کے کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ (بخاری شریف ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! اس دن کی تو یہود و نصاریٰ عظمت کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر آئندہ سال اللہ نے باقی رکھا تو نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔ (مسلم شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا یہ تو بہت بڑا دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا تھا۔ اس موقع پر حضرت موسی علیہ السلام نے شکر الٰہی کے طور پر روزہ رکھا تھا اس لیے اس دن ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے ہم تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور صحابہؓ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف ) *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*

ذی الحجہ

ذی الحجہ


فضائل و عبادات عشرہ ذی الحجہ کے نوافل *۔۔۔حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدارضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ آجائے تو عبادت کی کوشش کرو،ذی الحجہ کے عشرہ کو اللہ تعالیٰ نے بزرگی عطا فرمائی ہے اور اس عشرہ کی راتوں کو بھی وہی عزت دی ہے جو اس کے دنوں کو حاصل ہے ،اگر کوئی شخص اس عشرہ کی کسی رات کے آخری تہائی حصہ میں چاررکعتیں اس ترتیب سے پڑھے گا تو اس کو حج بیت اللہ اور روضہ پاک کی زیارت کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ سے وہ جو مانگے گا اللہ تعالیٰ اسکو عطا فرمائیگا (نمازکی ترکیب وترتیب آیات یہ ہے )ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد تین بار آیت الکرسی ،سورۃ الاخلاص تین باراورسورۃ الفلق،سورۃ الناس ایک ایک بار پڑھے ،نما زسے فارغ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کر خشوع وخضوع سے یہ دعامانگے : ’’سبحان ذی العزۃ والجبروت ۔سبحان ذی القدرۃ والملکوت ۔سبحان الحی الذی لایموت ۔سبحان اللہ رب العباد والبلاد والحمد للہ کثیراًطیباًمبارکاًعلی کل حال۔اللہ اکبرکبیراًربناجل جلالہ وقدرتہ بکل مکان‘‘۔ ترجمۃ:’’اللہ تعالیٰ پاک ،بزرگ،جبروت کا،قدرت کا مالک ہے ،وہ مالک الملک ہے ،وہ ہمیشہ باقی رہیگا ،اسے موت نہیں ہے ،اس کے سواکوئی معبود نہیں ،وہ مومن اور مشرک دونوں کا پالنے ولاہے ۔وہی بستیوں کامالک ہے ،ہرحال میں کثیر ،پاکیزہ اور برکت والی حمد اللہ کیلئے ہے ۔اللہ بڑی بزرگی والاہے ،ہمارا رب بزرگ ہے ۔اس کی عظمت بڑی ہے اور اس کی قدرت ہر جگہ ہے ‘‘۔ اس دعاکے بعد جوچاہے دعا مانگے ،اگر ایسی نماز عشرہ کی ہر ایک رات کوپڑھے گا تو اس کواللہ تعالیٰ فردوس اعلیٰ میں جگہ دیگا اور اس کے ہر گناہ کومعاف کردیگا،پھر اس سے کہاجائیگا اب ازسرنوعمل شروع کر،اگر عرفہ کے دن کاروزہ رکھے اور عرفہ کی رات کوبھی نماز پڑھے اور یہی دعاکرے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں زیادہ سے زیادہ آہ وزاری کرے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے !اے میرے فرشتو!میں نے اس بندے کو بخش دیا اور حاجیوں میں شامل کردیا ،فرشتے اللہ تعالیٰ کی اس عطا سے بے حد مسرورہوتے ہیں اور بندہ کو بشارت دیتے ہیں ۔ (غنےۃ الطالبین ) *۔۔۔حضور نبی کریم رو ف الرحیم ﷺ نے فرمایا جوکوئی ماہ ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں(یکم تا دسویں ذی الحجہ) تک بعد نماز وتروں کے دورکعت ،ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکوثر اور سورۃ الاخلاص تین تین بارپڑھے توا للہ تعالیٰ اسکو مقام اعلیٰ علیین میں داخل فرمائیگا اور اس کے ہر بال کے بدلہ میں ہزار نیکیاں لکھے گا اور اس نے ہزاردینارصدقہ دینے کاثواب پایا۔ (فضائل الشہور) عرفہ (9ذی الحجہ )کے دن کی دعا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،عرفہ میں میری اور اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی دعایہ ہے :۔ ’’لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شئی قدیر،اللھم اجعل فی قلبی نوراًوفی سمعی نوراًوفی بصری نوراًاللھم اشرح لی صدری ویسرلی امری اللھم انی اعوذبک من وساوس الصدروفتنۃ القبروشتات الامراللھم انی اعوذبک من شرمایلج فی اللیل ومن شرمایلج فی النھارومن شرماتھب بہ الریاح ومن شربرائق الدھر‘‘۔ ترجمہ:’’اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ،وہ یکتاہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کاملک ہے اور وہی تعریف اور حمدوثناء کے لائق ہے ۔وہ ہر چیز پرقادر ہے ۔الہٰی تو میرے دل میں نورعطا فرما،میرے کانوں اور میری آنکھوں کونورسے معمور کردے ،اے اللہ !میرا سینہ کھول دے ،میرے کام آسان کردے ،میرے سینے کووسوسوں ،قبر کے فتنوں اور کام کی پراگندگی سے امن میں رکھ ،الہٰی !مجھے رات اور دن کی شرارتوں (برائیوں)سے بچا،مجھے ہواکی شرارتوں اور بدی سے امن میں رکھ ‘‘۔ نحر کے شب وروز کی عبادت ’’قربانی کے دن کو نحر کہتے ہیں ‘‘۔ شب عید کے نفل *دسویں شب نماز عشاء کے بعد چاررکعت ایک سلام سے پڑھے ،ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے سورۃ الاخلاص ایک بار،سورۃ الفلق ایک بار ،سورۃ الناس ایک بار پڑھے ،بعد سلام کے ستر(70)دفعہ سبحان اللہ اور ستر(70)مرتبہ درودشریف پڑھ کر اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ،انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس نماز پڑھنے والے کے تمام پچھلے گناہ معاف فرماکر مغفرت فرمائیگا۔ یوم نحر (قربانی کے دن)کے نوافل *ذی الحجہ کی دس تاریخ نماز عید الاضحی کے بعد چاررکعت نماز دوسلام سے پڑھے ،ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے سورۃ الکوثر پندرہ ،پندرہ(15)مرتبہ پڑھے ،انشاء اللہ اس نماز پڑھنے والے کو بارگاہ رب العزت سے قربانی کاثواب عطاکیاجائیگا۔ *ایک روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص بعد نماز عید کے اپنے گھر میں آکر دورکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکوثر تین(3)بارپڑھے ،پس اللہ تعالیٰ اس کو اونٹوں کی قربانی کاثواب عطا فرمائیگا۔ *ذی الحجہ کی دس تاریخ کونماز ظہر کے بعد بارہ (12)رکعت نماز چھ سلام سے پڑھے ،ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد آیت الکرسی ایک ایک بار ،سورۃ الاخلاص گیارہ گیارہ (11)مرتبہ ،سورۃ الفلق گیارہ گیارہ (11)مرتبہ،سورۃ الناس بھی گیارہ گیارہ (11)مرتبہ پڑھے ،اس نماز کے پڑھنے والے کو روزمحشر میں آسانی ہوگی ،اس کی برائیاں نیکیوں میں بدل جائیں گی اور اس کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرماکر اس کے سرپر نورانی تاج رکھ کر بہشت میں داخل فرمائیگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ )عید الاضحی کے دن غسل کرنے،نئے کپڑے پہننے اور خوشبولگانے کی فضیلت عید الاضحٰی کے دن غسل کرنے کا ثواب ایسا ہے گویا اس نے دریائے رحمت میں غوطہ لگایا اور تمام گناہ معاف ہوگئے اسکے ،اور فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے کہ جوکوئی عیدالاضحی کونئے کپڑے بدلے اور پرانے کپڑے کسی فقیر کوصدقہ دے دے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ستر(70)حلے نوری بہشت کے اس کو پہنائے گا اور لواء الحمد کے نیچے کھڑاہوگا اور عطر لگانے کا ثواب بہ نیت تعظیم ملائکہ جومومنین سے مصافحہ کرتے ہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکے نامہ اعمال میں غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھتاہے ۔(فضائل الشہور)

ذیقعدہ

ذیقعدہ


ذیقعدہ اسلامی سال کاگیارہواں مہینہ ’’ذیقعدہ ‘‘شریف ہے ،اس کا شمار’’ چار حرمت والے مہینوں ‘‘میں ہوتاہے جن میں اہل عرب جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے ۔’’ذیقعدہ ‘‘قعود سے بناہے جس کا معنی ’’بیٹھنا‘‘ہے چونکہ اس مہینے میں اہل عرب جنگ کرنے سے رک کربیٹھتے تھے اسلئے اس کانام ’’ذیقعدہ ‘‘پڑ گیا ،اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے’’ تورات ‘‘دینے کیلئے تیس (30)راتوں کاوعدہ فرمایا تھا ،اس کے علاوہ اسی ماہ کی پانچویں تاریخ کو حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے بیت اللہ شریف کی بنیاد رکھی تھی ۔اسی ماہ کی چودہ تاریخ کواللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا یونس علیہ السلام کومچھلی کے پیٹ سے نکالا تھا ۔ان وجوہات کی بناء پر ’’ذیقعدہ ‘‘کامہینہ اسلامی تاریخ میں بڑا قابل قدر تصور کیاجاتاہے ۔اس ماہ کی نفلی عبادت حسب ذیل ہے :۔ ذیقعدہ کی عبادا ت پہلی رات کے نوافل حدیث شریف میں ہے کہ جوکوئی ذیقعدہ کی پہلی رات میں چار رکعت نفل پڑھے اور اس کی ہررکعت میں ’’الحمد شریف ‘‘کے بعد 33مرتبہ ’’قل ھو اللہ احد ‘‘(سورہ اخلاص)پڑھے تو اس کیلئے جنت میں اللہ تعالیٰ ہزارمکان یاقوت سرخ کے بنائیگا اور ہر مکان میں جواہر کے تخت ہونگے اور ہر تخت کے اوپر ایک حور بیٹھی ہوگی جس کی پیشانی سورج سے زیادہ روشن ہوگی ۔ (رسالہ فضائل شہور) ہر رات میں دو(2)نفل ایک روایت میں ہے کہ جوآدمی اس مہینہ کی ہررات میں دورکعت نفل پڑھے اور ہررکعت میں ’’الحمد شریف ‘‘کے بعد ’’قل ھو اللہ احد‘‘تین (3)بار پڑھے تو اس کو ہر رات میں ایک شہید اور ایک حج کاثواب ملے گا ۔ (رسالہ فضائل شہور) ہر جمعہ کے نوافل ذیقعدہ کے مہینے میں ہر جمعہ کوبعد نماز جمعہ چار رکعت (4)نماز دو(2)سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اکیس اکیس (21)مرتبہ پڑھے ،اللہ پاک یہ نماز پڑھنے والے کو انشاء اللہ حج وعمرہ کاثواب عطافرمائیگا ۔ (رسالہ فضائل شہور) ایک دن کے روزے کا ثواب حدیث شریف میں ہے کہ جوشخص ذیقعدہ کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھتاہے تو اللہ کریم اس کے واسطے ہر ساعت میں ایک حج مقبول اور ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھنے کا حکم دیتاہے ۔(رسالہ فضائل شہور) ہزار سال کی عبادت کا ثواب ایک حدیث شریف میں ہے کہ اس مہینہ کے اندر ایک ساعت کی عبادت ہزار سال کی عبادت سے بہترہے اور فرمایا کہ اس مہینہ میں پیر کے دن روزہ رکھنا ہزار سال کی عبادت سے بہترہے ۔(رسالہ فضائل شہور)

شوال المکرم

شوال المکرم

شوال المکرم اسلامی سال کا دسواں مہینہ شوال المکرم ہے یہ لفظ شول سے بناہے جس کا معنی ’’اونٹنی کا دم اٹھانا ‘‘ہوتاہے کیونکہ عرب لوگ اس مہینے میں سیر وسیاحت اور شکار کھیلنے کیلئے اپنے گھروں سے باہر مختلف مقامات پر چلے جاتے تھے ،راستے میں اونٹنیاں تیزی کی وجہ سے بعض اوقات دم اٹھا لیتیں ،اس نسبت یہ یہ ماہ’’ شوال ‘‘کے نام سے منسوب ہوگیا ۔ اس مہینے کی پہلی تاریخ کوچونکہ عیدالفطر منائی جاتی ہے جو مسلمانوں کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔عید کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمت نازل فرماتاہے ،اس لئے اس دن کو ’’یوم الرحمۃ ‘‘کہتے ہیں ۔کہاجاتاہے کہ اسی دن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو منتخب فرمایا اور اسی روز اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو شہد کا چھتہ بنانے کیلئے الہام فرمایا اور اسی ماہ کی 17تاریخ کو ’’احد‘‘کی لڑائی شروع ہوئی جس میں سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ شہید ہوئے۔ان وجوہات کی بناپر شوال المکرم کو بڑی اہمیت حاصل ہے ،اس ماہ کی فضلیت کے بارے میں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس نے ماہ رمضان میں روزے رکھے ،عید الفطر کی رات میں پورا پورا اجر عطا فرمادیتاہے اورعید کی صبح فرشتوں کو حکم دیتاہے کہ زمین پر جاؤ اور ہر گلی کوچہ اور بازار میں اعلان کردو (اس آواز کو جن وانس کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے )کہ محمد ﷺ کے امتیو!اپنے رب کی طرف بڑھو ،وہ تمہاری تھوڑی نماز کو قبول فرماکر بڑا اجرعطا فرماتاہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتاہے ،پھر جب لوگ عید گاہ روانہ ہوجاتے ہیں اور نماز سے فارغ ہوکر دعامانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس وقت کسی دعا اور کسی حاجت کو رد نہیں فرماتا اورکسی گناہ کو بغیرمعاف کئے نہیں چھوڑتا اور لوگ اپنے گھروں کو مغفور ہوکرلوٹتے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب عید الفطر کا دن ہوتاہے اور لوگ عید گاہ کی طرف جاتے ہیں تو حق تعالیٰ ان پر توجہ فرماتاہے اور ارشاد فرماتاہے ،اے میرے بندو!تم نے میرے لئے روزے رکھے ،میرے لئے نمازیں پڑھیں اب تم اپنے گھروں کواس حال میں جاؤ کہ تم بخش دئیے گئے ہو۔ حضرت ابن عباسؓ کی حدیث میں ہے کہ شب عید الفطر کا نام ’’شب جائزہ (یعنی انعام کی رات)‘‘رکھا گیا ہے اور عید الفطر کی صبح کو تمام شہروں کے کوچہ وبازار میں فرشتے پھیل جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں (جس کو جن وانس کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے )کہ اے محمد ﷺکی امت !رب کریم کی طرف چلو تاکہ وہ تم کو ثواب عظیم عطا فرمائے اور تمہارے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے ،لوگ عید گاہ کونکل جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے ،اے میرے فرشتو!فرشتے لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوجاتے ہیں ،حق تعالیٰ فرماتاہے ،اس مزدور کی کیااجرت ہے جو اپنا کام پوراکرے ،فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اے ہمارے معبود !اے ہمارے آقا !اس مزدور کو پوری پوری اجرت دی جائے ،رب جلیل ارشاد فرماتاہے ،اے میرے فرشتو!میں تم کوگواہ بناتاہوں کہ میں نے ان کے روزوں اور نماز شب کااجرخوشنودی اور گناہوں کی مغفرت بنادیا ۔پھر فرماتاہے ،اے میرے بندو!مجھ سے مانگو!اپنی عزت وجلال کی قسم !آج تم جو اپنی آخرت کیلئے مجھ سے مانگو گے میں وہ تم کوضرور دونگااور جو کچھ اپنی دنیا کیلئے مانگو گے میں اس کا لحاظ رکھوں گا ۔مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم !جب تک تم میرے احکام کی حفاظت کرو گے (بجا لاؤ گے )میں تمہاری خطاؤں اور لغزشوں کی پردہ پوشی کرتارہوں گا اور تم کو ان لوگوں کے سامنے جن پر شرعی سزا واجب ہوچکی ہے رسوا نہیں کرونگا ۔جاؤ !تمہاری بخشش ہوگئی ،تم نے مجھے رضا مند کیا ،میں تم سے راضی ہوگیا ۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ فرشتے یہ مژدہ سن کو خوش ہوجاتے ہیں اورماہ رمضان کے خاتمے پر امت محمدیہ ﷺ کو یہ خوشخبری پہنچاتے ہیں ۔(غنیہ الطالبین )۔ شوال کی عبادت حضرت سیدناابوامامہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایاہے کہ جو عیدین(عید الفطر،عیدالاضحی) کی راتوں میں شب بیدای کرکے قیام کرے اس کا دل مریگا نہیں جس دن کہ سب لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے ۔(ابن ماجہ ) چار رکعت نفل:۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جوکوئی اول رات شوال میں چار رکعت پڑھے اورہررکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ اخلاص 21بار پڑھے ۔پس اللہ تعالیٰ کھولے گا واسطے اس کے آٹھوں دروازے بہشت کے اور بندکریگا واسطے اس کے ساتوں دروازے دوزخ کے اور نہیں مریگا وہ شخص جب تک اپنا مکان جنت میں نہ دیکھ لے گا ۔(فضائل الشہور ) نوافل برائے توبہ :۔ شوال کی پہلی شب بعد نماز عشا ء چار رکعت نماز دوسلام سے پڑھے ،ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سور ہ اخلاص تین ،تین دفعہ ،سورہ فلق تین ،تین دفعہ ،سورہ ناس تین تین دفعہ پڑھے ،بعد سلام کے کلمہ تمجید (تیسرا کلمہ )ستر (70)مرتبہ پڑھ کر اپنے گناہوں سے توبہ کرے ،اللہ پاک اس نماز کی برکت سے انشاء اللہ اس کے گناہ معاف فرماکر اس کی توبہ قبول فرمائیگا۔ آٹھ رکعت نوافل :۔ حضرت سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے شوال میں رات کو یا دن کو آٹھ (8)رکعتیں پڑھیں ،ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار ،سورہ اخلاص پندرہ (15)بار اور نما ز سے فارغ ہوکرستر (70)بار سبحان اللہ کہے اور ستر (70)بار درودشریف پڑھے ۔اس کی قسم جس نے مجھے سچا دین دیکر بھیجا جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ اس کیلئے حکمت کے چشمے کھولتاہے اس کے دل میں ،اور اس کیساتھ اس کی زبان چلاتاہے اور اس کی دنیاکی بیماری اور اس کی دوا دکھا دیتاہے ،اس کی قسم !جس نے مجھے سچا دین دیکر بھیجا ،جس نے یہ نماز جیسے میں نے بتائی پڑھی تو اللہ جل شانہ ،اس کو معاف کردیتاہے اور اگر مرا تو شہیدمرا ،بخشا ہوا ،اور جو بندہ اس نماز کو سفر میں پڑھتاہے ،اس پر آنا جانا آسان ہوجاتاہے اور اگر مقروض ہوتو اللہ تعالیٰ اس کاقرض اداکرتاہے اور اگر صاحب حاجت ہو تاہے تو اس کی حاجت پوری کرتاہے ،اس کی قسم جس نے مجھے سچا دین دیکر بھیجا ،جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کوہر حرف کے بدلے جنت میں ایک مخرفہ دیتاہے،عرض کیا گیا ،مخرفہ کیا ہے ؟تو حضور ﷺ نے فرمایا بہشت کے باغ ہیں ،اگر اس کے ایک درخت کے نیچے سوا ر سیر کرے تو سو (100)سال تک اسے عبور نہ کرسکے ،درودشریف یہ پڑھنا ہے :۔ اللھم صل علی محمد ن النبی الامیی وعلیٰ الہ واصحابہ وبارک وسلم (غنیہ الطالبین ) شوال کے چھ روزے :۔ شوال میں چھ دن روزے رکھنے کا بڑ اثواب ہے جس مسلمان نے رمضان المبارک اور چھ دن شوال کے روزے رکھے تو اس نے گویا سارے سال کے روزے رکھے ،یعنی پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتاہے ۔ حضرت سیدنا ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے رمضان شریف کے روزے رکھے اور پھر ان کیساتھ شوال کے چھ(6)روزے ملائے تو اس نے گویا تمام عمر روزے رکھے ۔ *......*......*

رمضان المبارک


رمضان المبارک


رمضان المبارک حضور انور سرکار کل جہاںﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ بہت ہی بابرکت اور فضیلت والا مہینہ ہے اور یہ صبر و شکر اور عبادت کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک کی عبادت کا ثواب ستر درجہ زیادہ عطا ہوتا ہے۔ جو کوئی اپنے پروردگار کی عبادت کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرے گا اس کی بڑی جزا خداوند تعالیٰ عطا فرمائے گا۔ ماہ رمضان المبارک کی پہلی شب بعد نماز عشاء ایک مرتبہ سورۂ فتح پڑھنا بہت افضل ہے۔ ماہ رمضان کی پہلی شب بعد نماز تہجد آسمان کی طرف منہ کرکے بارہ مرتبہ یہ دعا پڑھنی بہت افضل ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ الْقَآءِمُ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ ۔ ماہ رمضان المبارک میں روزانہ ہر نماز کے بعد اس دعائے مغفرت کو تین مرتبہ پڑھنا بہت افضل ہے۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ اِلَیْہِ تَوْبَۃً عَبْدٍ ظَالِمٍ لَّا یَمْلِکُ نَفْسَہٗ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوۃً وَّ لاَ نُشُوْرًا o رمضان شریف میں ہر نماز عشاء کے بعد روزانہ تین مرتبہ کلمہ طیب پڑھنے کی بہت فضیلت ہے۔ اول مرتبہ پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت ہوگی۔دوسری دفعہ پڑھنے سے دوزخ سے آزاد ہوگا۔ تیسری مرتبہ پڑھنے سے جنت کا مستحق ہوگا۔ ماہِ رمضان کی کسی بھی شب میں بعد نمازِ عشاء سات مرتبہ سورۂ قدر پڑھنا بہت افضل ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے سے ہر مصیبت سے نجات حاصل ہوگی۔ شب قدر : شب قدر ایک مبارک رات ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے بھی بہتر ہے۔ اس لیے شب قدر بہت ہی فضیلت والی رات ہے۔ لیلۃ القدر کے معنی عظیم رات کے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ شب قدر اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں رات یا انتیسویں رات میں تلاش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخری عشرہ کی پانچوں راتیں بڑی برکت اور فضیلت والی ہیں۔ اکیسویں رات: اکیسویں رات کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک بار، سورۂ اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر مرتبہ درود پاک پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے دعائے مغفرت کریں گے۔ اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک بار، سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے نماز ختم کرکے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز اور شب قدر کی برکت سے اللہ پاک اس کی بخشش فرمائے گا۔ ماہ رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو اکیس مرتبہ سورۂ قدر پڑھنا بھی بہت افضل ہے۔ تئیسویں رات: ماہ مبارک کی تئیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک بار اور سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ پھر بعد سلام کے ستر مرتبہ درود شریف پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ مغفرتِ گناہ کیلئے یہ نماز بہت افضل ہے۔ تئیسویں شب کو آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک دفعہ، سورۂ اخلاص ایک ایک بار پڑھے اور بعد سلام کے ستر مرتبہ کلم�ۂ تمجید پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما کر انشاء اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے گا۔ تئیسویں شب کو سورۂ یٰسین ٓ ایک مرتبہ، سورۂ رحمن ایک دفعہ پڑھنی بہت افضل ہے۔ پچیسویں رات: ماہ رمضان کی پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک بار، سورۂ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ ہر رکعت میں پڑھے۔ بعد سلام کے کلمہ طیب ایک سو دفعہ پڑھے۔ درگاہِ رب العزت سے انشاء اللہ بے شمار عبادت کا ثواب عطا ہوگا۔ پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر تین تین مرتبہ، سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ استغفار پڑھے۔ یہ نماز بخشش کیلئے بہت افضل ہے۔ پچیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک مرتبہ، سورۂ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ کلم�ۂ شہادت پڑھے۔ یہ نماز عذاب قبر سے نجات کیلئے بہت افضل ہے۔ ماہ رمضان کی پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورۂ دخان پڑھے۔ انشاء اللہ اس سورہ کے پڑھنے کے باعث عذاب قبر سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا۔ پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورۂ فتح پڑھنا ہر کسی کیلئے بہت ہی افضل ہے۔ ستائیسویں رات: ستائیسویں رات کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ اخلاص سات سات مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ یہ تسبیح معظم پڑھے۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کا پڑھنے والا اپنے مصلے سے نہ اٹھے گا کہ اللہ پاک اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف فرما کر انہیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کیلئے جنت آراستہ کرو اور فرمایا کہ وہ جب تک تمام بہشتی نعمتیں اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے گا اس وقت تک موت نہ آئے گی۔ مغفرت کیلئے یہ نماز بہت ہی افضل ہے۔ ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ الم نشرح ایک ایک بار سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام 27مرتبہ سورۂ قدر پڑھے۔ انشاء اللہ بے شمار عبادت کا ثواب ملے گا۔ یہ نماز بہت افضل ہے۔ جو شخص دو رکعت نماز میں ہر رکعت میں الحمد شریف، سورۂ قدر ایک بار سورۂ اخلاص تین بار پڑھے تو اس کو شب پدر کا ثواب حاصل ہوگا اور ثواب حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام، حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام جیسا عطا ہوگا اور اس کو ایک شہر جنت میں دیا جائے گا جو مشرق سے مغرب تک لمبا ہوگا۔ (فضائل ایام و الشہور) حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سات مرتبہ سورۂ اخلاص بعد سلام کے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ ستر مرتبہ پڑھے تو یہ اپنے مصلے سے نہ اٹھے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے والدین کے گناہوں کی مغفرت فرما دے گا اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کیلئے جنت میں میووں کا درخت لگاتے رہیں۔ محل تعمیر کرتے رہیں، نہریں بناتے رہیں۔ یہ پڑھنے والا ان کو جب تک اپنی آنکھ سے خواب میں نہ دیکھ لے گا اس وقت تک اس کو موت نہ آئے گی۔ (تفسیر یعقوب چرخی) جو شخص چار رکعت پڑھے۔ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد ایک بار سورۂ تکاثر اور سورۂ اخلاص تین بار پڑھے اس پر موت کی سختی آسان ہوگی۔ عذاب قبر اٹھ جائے گا۔ اس کو جنت میں چار ستون ملیں گے۔ جن کے ہر ستون پر ہزار محل ہوں گے۔ (نذہۃ الالمجالس ج ۱) جو شخص ستائیسویں شب رمضان کو چار رکعت پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد الحمد شریف کے سورۂ قدر تین بار اور سورۂ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھے اور بعد نماز کے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبْرُ پڑھے تو جو دعا مانگے قبول ہوگی۔ جو شخص ستائیسویں شب میں چار رکعت پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد الحمد شریف کے سورۂ قدر ایک بار، سورۂ اخلاص ستائیس بار پڑھے۔ وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے گویا ابھی پیدا ہوا ہے اور اس کو جنت میں ہزار محل ملیں گے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص شب قدر میں بعد نماز عشاء سات مرتبہ سورہ قدر پڑھے اسے ہر مصیبت سے نجات ملے گی۔ ہزار فرشتے اس کیلئے جنت کی دعا کرتے ہیں۔ (غنیہ الطالبین، نزہتہ المجالس، فضائل الشہور) ستائیسویں شب کو ساتوں حٰمٓ پڑھے۔ یہ ساتوں حٰمٓعذاب قبر سے نجات اور مغفرت گناہ کیلئے بہت افضل ہیں۔ ستائیسویں شب کو سورۂ ملک سات مرتبہ پڑھنا مغفرتِ گناہ کیلئے بہت فضیلت کی بات ہے۔ انتیسویں رات: انتیسویں رات کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک بار، سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے سورۂ الم نشرح ستر مرتبہ پڑھے۔ یہ نماز کامل ایمان کے واسطے بہت افضل ہے۔ انشاء اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے مکمل ایمان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ماہِ رمضان کی انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ قدر ایک ایک بار، سورۂ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے درود شریف ایک سو دفعہ پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کو دربارِ خداوندی سے بخشش و مغفرت عطا کی جائے گی۔ ماہِ رمضان کی انتیسویں شب کو سات مرتبہ سورۂ واقعہ پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ترقی رزق کیلئے بہت افضل ہے۔

شعبان

شعبان


شعبان کی عبادت پہلے جمعہ کی شب کے نوافل: ماہِ شعبان کے پہلے جمعہ کی شب بعد نماز عشاء آٹھ رکعت نماز ایک سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ اخلاص گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھے اور اس کا ثواب خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بخشے۔ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ہرگز بہشت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک کہ اس نماز پڑھنے والے کو اپنے ہمراہ داخلِ بہشت نہ کرلوں۔ چار رکعت نوافل: ماہِ شعبان کے پہلے جمعہ کی شب نماز عشاء کے بعد چار رکعت نماز ایک سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین بار پڑھے اس نماز کی بہت فضیلت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عمرے کا ثواب عطا ہوگا۔ دو رکعت نفل: شعبان کے پہلے جمعہ کو بعد نماز مغرب اور قبل نماز عشاء دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے ایک بار آیۃ الکرسی، دس بار سورۃ اخلاص ایک بار سورۃ فلق ایک بار سورۃ ناس پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ نماز ترقی ایمان کیلئے بہت زیادہ افضل ہے۔ وظیفہ: شعبان المعظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز عصر آفتاب غروب ہونے کے وقت باوضو چالیس مرتبہ یہ کلمات پڑھے: ’’لَا حَوْلَ وَ لَا قُوْۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ اس دعا کے پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ معاف فرمائے گا۔ چودہ شعبان کی نفل نماز: شعبان کی چودہ تاریخ بعد نماز مغرب دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ حشر کی آخری تین آیات ایک مرتبہ اور سورۃ اخلاص تین تین دفعہ پڑھے۔ انشاء اللہ یہ نماز واسطے مغفرتِ گناہ کے بہت افضل ہے۔ چودہ شعبان قبل نماز عشاء آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھنی چاہئے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھے۔ یہ نماز بھی بخشش گناہ میں بہت زود اثر ہے۔ شب برات ماہ شعبان اگرچہ پورا مہینہ برکتوں اور سعادتوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن خاص طور پر اس کی پندرہویں رات پورے ماہ کی باقی راتوں سے بڑی افضل ہے اس لیے سال بھر کی فضیلت والی راتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے اسے شب برات اور لیلہ مبارکہ بھی کہتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں رات کو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر جلوہ افروزی فرماتا ہے جسے آسمانِ دنیا بھی کہتے ہیں۔ وہاں سے اہل دنیا پر خصوصی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو سرانجام دینے والے فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سال بھر کے اعمالنامے پیش کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ اہل دنیا سے خطاب فرماتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کے گناہوں کو بخش دوں اور ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق دوں اور ہے کوئی مصائب و آفات میں مبتلا کہ میں اس کی مشکلات آسان کردوں تاکہ اس کے مصائب ختم ہوجائیں۔ حتی کہ یونہی لوگوں پر رحمتوں کی یہ منادی جاری رہتی ہے کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ (ابن ماجہ) شیخ ابو انصرؒ نے بالاسناد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہؓ! یہ کون سی رات ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہی بخوبی واقف ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ نصف شعبان کی رات ہے۔ اس رات میں دنیا کے اعمال ، بندوں کے اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں (ان کی پیشی اللہ رب العزت کی کی بارگاہ میں ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ اس رات بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے تو کیا تم آج کی رات مجھے عبادت کی آزادی دیتی ہو؟ میں نے عرض کیا۔ ضرور۔ پھر آپﷺ نے نماز پڑھی اور قیام میں تخفیف فرمائی، سورۃ فاتحہ اور ایک چھوٹی سورت پڑھی۔ پھر آدھی رات تک آپﷺ سجدے میں رہے پھر کھڑے ہوکر دوسری رکعت پڑھی اور پہلی رکعت کی طرح اس میں قرات فرمائی (چھوٹی سورت پڑھی) اور پھرآپﷺ سجدے میں چلے گئے۔ یہ سجدہ فجر تک رہا۔ میں دیکھتی رہی۔ مجھے یہ اندیشہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح (مبارک) قبض فرمالی ہے۔ پھر جب میرا انتظار طویل ہوا (بہت دیر ہوگئی) تو میں آپﷺ کے قریب پہنچی اور میں نے حضورﷺ کے تلووں کو چھوا تو حضورﷺ نے حرکت فرمائی۔ میں نے خود سنا کہ حضورﷺ سجدے کی حالت میں یہ الفاظ ادا فرمارہے تھے۔ اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عَقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُ بِرَحْمَتِکَ مِنْ نِّعْمَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ جَلَّ ثَنَآءُکَ لَآ اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ o ترجمہ: الٰہی! میں تیرے عذاب سے تیری عفو اور بخشش کی پناہ میں آتا ہوں، تیرے قہر سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں۔ تجھ سے ہی پناہ چاہتا ہوں۔ تیری ذات بزرگ ہے۔ میں تیری شایانِ شان ثنا بیان نہیں کرسکتا۔ تو ہی آپ اپنی ثنا کرسکتا ہے اور کوئی نہیں۔ صبح کو میں نے عرض کیا کہ آپﷺ سجدے میں ایسے کلمات ادا فرمارہے تھے۔ کہ ویسے کلمات میں نے آپﷺ کو کہتے کبھی نہیں سنا۔ حضورﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے یاد کرلیے ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! آپﷺ نے فرمایا خود بھی یاد کرلو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ کیونکہ جبریل علیہ السلام نے مجھے سجدے میں ان کلمات کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ شب برات کے نوافل: اس رات کی فضیلت اور عظمت کے پیش نظر اس رات میں ہمہ تن تلاوتِ قرآن ، نوافل اور ذکر و فکر میں مشغول رہنا چاہئے۔ اس رات میں کسی مسجد میں بیٹھ کر نوافل میں مصروف رہنا بہت ہی افضل ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو تم رات کو قیام کرو یعنی نوافل پڑھو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس لیے کہ اللہ سبحانہ اس رات میں آفتاب غروب ہونے کے بعد ہی آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی مغفرت چاہنے والا ہے تاکہ میں اس کو بخشش دوں، کوئی رزق مانگنے والا ہے میں اس کو رزق دوں، کوئی گرفتارِ بلا ہے میں اس کو عافیت دوں۔ اور ایسا فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔ (ابن ماجہ) صلوٰۃ الخیر: شب برات میں جو نماز (سلف سے منقول اور) وارد ہے اس میں سو رکعتیں ہیں، ایک ہزار مرتبہ سورۃ اخلاص کے ساتھ۔ یعنی ہر رکعت میں دس مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھی جائے اس نماز کا نام صلوٰۃ الخیر ہے۔ اس کے پڑھنے سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ سلف صالحین یہ نماز با جماعت پڑھتے تھے۔ اس نماز کی بڑئی فضیلت آئی ہے اور اس کا ثواب کثیر ہے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے سے سرور کائناتﷺ کے تیس صحابہؓ نے بیان کیا کہ اس رات کو جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر بار دیکھتا ہے اور ہر بار کے دیکھنے میں اس کی ستر حاجتیں پوری فرماتا ہے جن میں سب سے ادنیٰ حاجت اس کے گناہوں کی مغفرت ہے۔ (غنیہ الطالبین) دس رکعت نفل: ایک روایت میں ہے کہ حضوراقدسﷺ نے فرمایا کہ جو میرا نیاز مند امتی شب برات میں دس رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اس کی عمر میں برکت ہوگی۔ (نزہتہ المجالس) دو رکعت نفل: شعبان کی پندرہویں شب دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار سورۃ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ، بعد سلام کے درود شریف ایک سو دفعہ پڑھ کر ترقی رزق کی دعا کرے۔ انشاء اللہ اس نماز کے باعث رزق میں ترقی ہوجائے گی۔ آٹھ رکعت نفل: ماہ شعبان پندرہویں شب آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ قدر ایک ایک بار، سورۃ اخلاص پچیس مرتبہ پڑھے۔ مغفرتِ گناہ کے واسطے یہ نماز بہت افضل ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کی اللہ پاک بخشش فرمائے گا۔ نوافل برائے نجات عذاب قبر: پندرہویں شب کو آٹھ رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص دس دس مرتبہ پڑھے۔ اللہ پاک اس نماز کے پڑھنے والے کیلئے بے شمار فرشتے مقرر کردے گا جو اسے عذاب قبر سے نجات کی اور داخل بہشت ہونے کی خوشخبری دیں گے۔ نوافل برائے توبہ: پندرہویں شب کو آٹھ رکعت نماز دو سلام سے پڑھے پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی دس مرتبہ دوسری میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ الم نشرح دس چودہ رکعت نوافل: پندرہویں شب چودہ رکعت نماز سات سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورۃ فاتحہ کے سورۃ کافروں ایک بار سورۃ اخلاص ایک بار، سورۃ فلق ایک بار، سورۃ ناس ایک بار پڑھے۔ بعد سلام کے آیۃ الکرسی ایک دفعہ پھر سورۃ توبہ کی آخری آیات لقد جآء کم رسول تا عظیم تک ایک بار پڑھے۔ دنیاوی اور دینی مقاصد کیلئے یہ نماز بہت افضل ہے۔ وظائف: پندرہویں شب کو سورۃ بقرہ کا آخری رکوع آمن الرسول سے لے کر کافرین تک اکیس مرتبہ پڑھنا امن وسلامتی، حفاظت جان و مال کیلئے افضل ہے۔ پندرہویں شب سورۃ یٰسین تین مرتبہ پڑھنے سے حسب ذیل فائدے ہیں۔ ترق�ئ رزق، درازیِ عمر، ناگہانی آفتوں سے محفوظ رہنا، انشاء اللہ تعالیٰ۔ شعبان کی پندرہویں شب سورۃ دخان سات مرتبہ پڑھنی بہت افضل ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ پروردگار عالم ستر حاجات دنیا کی اور ستر حاجات عقبیٰ کی قبول فرمائے گا۔ نفل نماز پندرہ تاریخ: شعبان کی پندرہ تاریخ بعد نماز ظہر چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ زلزال ایک بار، سورۃ اخلاص دس مرتبہ، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ تکاثر ایک بار، سورۃ اخلاص دس مرتبہ، تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ کافرون تین بار، سورۃ اخلاص دس مرتبہ، چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی تین بار، سورۃ اخلاص پچیس مرتبہ پڑھے۔ اس نماز کی بے حد فضیلت ہے۔ اللہ پاک اس نماز کے پڑھنے والے پر خاص نظر کرم قیامت کے دن فرمائے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ اس نماز کی برکت سے دین و دنیا کی بھلائی حاصل ہوگی۔ وظائف: ماہ شعبان روزانہ نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا مغفرتِ گناہ کیلئے بہت افضل ہے۔ اَسْتَغْفِرُاللّّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ اِلَیْہِ تَوْبَۃَ عَبْدٍ ظَالِمٍ لَّا یَمْلِکُ نَفْسَہٗ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوۃً وَّ لَا نُشُوْرًا۔ رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان میں جو کوئی تین ہزار مرتبہ دور شریف پڑھ کر مجھ کو بخشے گا، بروز حشر اس کی شفاعت کرنی مجھ پر واجب ہوجائے گی۔ نفل روزہ: ماہِ شعبان کی پندرہ تاریخ کے روزہ کی بڑی فضیلت ہے جو کوئی یہ روزہ رکھے گا باری تعالیٰ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف فرمائے گا۔ بعد نماز مغرب کے چھ رکعتیں دو دو رکعت کرکے پڑھیں کہ دو رکعت نفل درازیِ عمر بالخیر ہونے کی نیت سے اور دو رکعت نفل بلائیں دفع ہونے کی نیت سے اور دو رکعت نفل مخلوق کا محتاج نہ ہونے کی نیت سے پڑھیں اور ہر دو گانہ کے بعد سورۃ یٰسین ایک بار یا سورۃ اخلاص اکیس بار اور اس کے بعد دعائے نصف شعبان المعظم پڑھے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ط اَللّٰھُمَّ یَا ذَا لْمَنِّ وَلَا یُمَنُّ عَلَیْہِ ط یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَاذَا الطَّوْلِ وَالْاِنْعَامِ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ ظَھْرُ اللَّاحِیْنَ وَجَارُالْمُسْتَجِیْرِیْنَط وَاَمَانُ الْخَآءِفِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ عِنْدَکَ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ شَقِیًّا اَوْ مَحْرُوْمًا اَوْ مَطْرُوْدًا اَوْ مُقَتَّرًا عَلَیَّ فِی الرِّزْقِ فَامْحُ اَللّٰھُمَّ بِفَضْلِکَ شَقَاوَتِیْ وَحِرْمَانِیْ وَطَرْدِیْ وَاقْتِتَارَ رِزْقِیْ وَاثْبِتْنِیْ عِنْدَکَ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ سَعِیْدًا مَّرْزُوْقًا مُّوَفَّقًا۔ لِلْخَیْرَاتِط فَاِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ فِیْ کِتَابِکَ الْمُنَزَّلِ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِط یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ o اِلٰھِیْ بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمٍط فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مَنْ شَھْرِ شَعْبَانَ الْمُکَرَّمِط اَلَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْھَا کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ وَّ یُبْرَمُط اَنْ تَکْشِفَ عَنَّا مِنْ الْبَلَآعِ وَالْبَلْوَآءِ مَانَعْلَمُ وَمَالَا نَعْلَمُط وَ اَنْتَ بِہٖٓ اَعْلَمُط اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُط وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمْط وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*