بدھ، 6 جون، 2012

حضرت قدوة الاولیاء ، زبدة الاصفیاء ، امام الاتقیاء ، سلطان الاسفیاء ، نقیب الاشراف ، عارف باﷲ پیر سید محبوب علی شاہ (محبوب آبادی) کاظمی ، مشہدی ، حنفی ، چشتی ، نظامی المعروف شاہ جہاں قدس سرہ العزیز






حضرت قدوة الاولیاء ، زبدة الاصفیاء ، امام الاتقیاء ، سلطان الاسفیاء ، نقیب الاشراف ، عارف باﷲ
پیر سید محبوب علی شاہ (محبوب آبادی)
کاظمی ، مشہدی ، حنفی ، چشتی ، نظامی  المعروف شاہ جہاں قدس سرہ العزیز


ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان قادری چشتی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان مشائخ کونسل
سجادہ نشین دربار عالیہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادی سون خوشاب
فیضان حدیث حق سے صورت نقش قدم کو حسن لازوال بخشنے کیلئے جو وجود پیکر سعادت ،مجسم علم ،ناطق حق اور حسن خط تقویٰ قرار پائے وہی وارث انبیاء معلمین کتاب و سنت ہیں ۔ جن کے علم و تقوی کی دلربا بہاریں ان کی پردہ پوشیوں کے بعد بھی عالم میں اپنے فیضان کو نسیم عرفان بنا کر بکھیر رہی ہیں ۔ کائنات انسانی کے ہدایت یافتہ طبقات ایسے نفوس مسعودہ کو ولی ، غوث ، قطب و ابدال ، مرشد و ہادی ، راہنما ، پیر ، درویش حق اور مرد حق آگاہ کے پر اثر القابات سے یاد رکھتے ہیں ۔ یہ کارآمد شخصیات اپنے وجود میں ذکر و تعلق حق سے ایسی تاثیر پیدا کرلیتی ہیں جو حیات جاوداں کی ضمانت قرار پاتی ہے ۔ دنیائے آزمائش کا جب کوئی بھی فرد ان کے آستان الفت کی طرف رجوع کرتا ہے تو اسے خانقاہی نظام سے تین چیزیں تحفتاً ملا کرتی ہیں۔
1 - تاکید ذکر الٰہی 2 - ترغیب توبہ   3 - فکرو عمل رد فرقہ
یہ تینوں حکمت و ہدایت افروز اسرار رشد و قرب حق سے جہان عمل خیر میں موسم گل مراد بپا کردیتی ہیں ۔ جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قطرہ کو دریا سے رشتہ حاصل ہونے کے بعد نصیب ہوا کرتا ہے ۔ اسی طاقت کو ہدایت اور معرفت کے نام کے طور پر بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔ در حقیقت خانقاہی نظام اسی طاقت کے فروغ اور ترویج کیلئے قائم ہے ۔ سیدنا امام حسن نے اسی فکر کی بنیاد ڈالی اور طبقات صحابہ میں ایسے نفوس قدسیہ موجود تھے جو صفائے باطنی کیلئے اپنی زندگیاں شروع سے ہی وقف فرما تھے ۔ ایسے افراد انوار میں جناب ابوذر غفاری ، سعید ابن جبیر ، ابی ابن کعب  جیسے افراد قابل ذکر ہیں ۔ یہ جاننا اور سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیائے فکر و عمل و ریاضت و جہد و چلہ میں قادریت ، چشتیت ، سہروردیت اور نقشبندیت کے جداگانہ نام معروف ہیں مگر ان کی تاثیر ،جوہر ، منزل مراد اوران سے تعلق کی افادیت یکسر ایک جیسی ہے ۔ گویا ایک ہی عمل ومنزل کے مطلق فہم و ادراک اور تعلق کیلئے متعدد نام سہولت و اصالت کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔جبکہ مقصود میں اختلاف اور فرق ہرگز نہیں ۔ جس ماحول میں ایسی شائستگی ، الفت ، اپنائیت اور سراسر ہدایت موجود ہو وہی اہل اسلام میں راہ طریقت کے طور پر جانا جاتا ہے اور خانقاہی ماحول کا تعارفی اور ادراکی نقشہ و خاکہ یہی ہے ۔ دنیا بھر میں ایسی لا تعداد خانقاہیں مصروف تعلیم و تبلیغ و تربیت ہیں کہ جن سے حقیقی غیر متفرق فکرو طرز فروغ دین حق ترقی پارہا ہے ۔ان میں خانقاہ محبوب آباد شریف حویلیاں ضلع ایبٹ آباد مانند ابر بہار شریعت ہے ۔ جس میں گزرنے والا ایک ایک لمحہ گلدستہ عنایت باغ رضوان ہے ۔علم و تقوی ، حکمت و تبلیغ ، ادب و عشق حق ، تربیت وابستگاں ارشاد و اصلاح اور ترجمانی حق یہاں کا لازوال شیوہ و وطیرہ ہے ۔ خانقاہ معلی محبوبیہ محمودیہ میں علم و فضل و تقوی کی ایسی یکتائے روزگار شخصیات جلوہ آراء ہیں جو آشنائے منزل عشق اور راہنمائے سالکان طریقت و مانند  ماہ شب چہار دہم ہیں ۔ ان زمانہ ساز حق آگاہ انقلابی شخصیات میں حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی ، حنفی ، کاظمی  قدس سرہ العزیز ایک چمکتا ہوا آفتاب شریعت و ماہتاب طریقت ہیں ۔ آپ کے علم و معرفت فیوض و تصرف سے ایک عالم فیضیاب ہوا ۔ آپ کی صدائے دل نواز طالبوں کے دلوں کو شگفتگی اور عارفوں کی روح کو تازگی بخشنے والی ہے جن کا خاندان شریعت و طریقت میں امام و سلطان مقتداء و مرشد تسلیم کیا گیا ۔ جن کے اسلاف عالی تبار کے اسماء فیض بخش کا ذکر اگر شجرہ جات طریقت میں آجائے تو سلسلة الذھب قرار پائے ۔
نور شریعت اور ضیاء طریقت کا ایسا ہی ایک پاکیزہ جہان حضور والا صفات پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی کے وجود کمال میں بسا ہوا تھا ۔ آپ کی ولادت با سعادت ١١٧٠ھ میں موضع نڑوکہ اور بروایت ثانی موضع سربھنہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی حافظ پیر سید فقیر شاہ ولی محدث بائیں گوجری قدس سرہ العزیز علم و فقر میں فرید العصر تھے  آپ کی خانقاہ قدس سے مخلوق خدا نے علم حدیث اور علم تفسیر میں خوب استفادہ کیا ۔ آپ اپنے زمانے کے علم حدیث کے جید ،ماہر اور قدآور نفوس علمیہ سے ہوئے ہیں ۔ آپ کا مزار موضع بائیں گوجری براستہ شملہ پہاڑی مرجع انام ہے ۔
شجرہ نسب : حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی  کا شجرہ نسب معتبر کتب اور ذرائع انساب سے جو محقق تک پہنچا اور جامع الخیرات ، تاریخ فرشتہ ، بستان ولایت و روح المعارف و عظمت رفتہ اور تذکرہ علماء مشائخ سرحد سے مقتبس وماخوذہے ۔ سید محبوب علی شاہ کاظمی بن سید فقیر شاہ ولی محدث  بن سید نواب شاہ  بن سید عمر شاہ  بن سید محبوب شاہ  بن سید کبیر شاہ  بن سید معمور شاہ بن سید عالم شاہ  بن سید شاہ یار محمد  بن سید فقیر محمد  بن سید رحمت اﷲ  بن سید محمود  بن سید زین العابدین بن سید نصیر الدین  بن سید علی شیر بن سید وجیہہ الدین  بن سید ولی الدین بن سید محمد الغازی بن سید سلطان  رضا الدین بن سید صدر الدین بن سید محمد احمد سابق بن سید حسین المشہدی بن سید سلطان علی بن عبداﷲ بن سید عبدالرحمن عرف بلبل شاہ بن سید اسحاق ثانی بن سید موسی زاہد بن سید عباس بن سید مصطفی  بن سید محمد عالم بن سید عبداﷲ قاسم بن سید محمد اول بن سید اسحاق الموفق بن سید امام موسی کاظم بن سید امام جعفر صادق بن سید امام محمد الباقر  بن سید امام علی زین العابدین بن سید امام حسین شہید کربلا بن سیدہ طیبہ فاطمة الزہرا بنت سید الانبیاء حضرت محمدمصطفی ۖ۔ حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی نجیب الطرفین حسنی حسینی سید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب سادات مشہدیہ کاظمیہ سے جاملتا ہے ۔ آپ مذہبا حنفی ، مشربا چشتی نظامی تھے۔ حضرت سید شاہ عبداللطیف المعروف امام بری اور حضرت سید شاہ چن چراغ راولپنڈی سے آپ کا شجرہ نسب جا ملتا ہے ۔ حضرت خواجہ خواجگان قطب زمان سید وجیہ الدین مشہدی حنفی خسر حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری  آپ کے اجداد میں سے ہیں ۔ آپ حضرت امام موسی کاظم  کی اولادمیں کاظمی سادات سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ٣٨ واسطوں سے جدالسادات سید العالمین خاتم النبیین ۖ سے جاملتا ہے ۔
حضرت پیر سید محبوب علی شاہ نے علوم دینیہ کی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت حافظ سید فقیر شاہ ولی محدث بائیں گوجری قدس سرہ العزیز سے حاصل کی اور مزید علوم میں دسترس و مہارت کیلئے افغانستان ، بلخ، بخارا ، ثمرقند ، خراسان اورماوراء النہر کے جید علماء ، فقہاء اور صوفیاء سے استفادہ فرمایا ۔ علوم و فنون میں پختگی و دسترس پیدا ہوجانے کے بعد آپ اپنے آبائی علاقے کی طرف لوٹے اور تشنگان علم کو فیضیاب فرمانے لگے ۔ آپ نے بغداد عراق میں کئی سال تک حدیث و تفسیر کا درس دیا ۔ آپ لوگوں میں شاہ جہاں ،سوہنے سید اور باجی صاحب کے القابات سے مشہور و معروف تھے ۔ آپ طبعا غایت درجہ کے سخی و غریب پرور تھے ۔ عموما گھوڑے کی سواری فرماتے اور تبلیغ کیلئے اسی کو بروئے کار لاتے ۔ سفید رنگ کی گھوڑیاں آپ عموما اپنی ذاتی سواری کے طور پر رکھتے ۔ آپ لوگوں میں نہایت سادگی وفصاحت سے خطاب فرماتے ۔ معتبر راویان کی روایت سے یہ حقیقت حصہ تاریخ ہے کہ آپ کے خطاب کی برکت اور آواز کی شیرنی سے غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو جایا کرتے ۔ آپ کا عمامہ مبارک بہت بڑا ہوا کرتا ۔ کسی موقع پر کسی کے استفسار پر آپ نے فرمایا یہ میرا  عمامہ بھی ہے اور کفن بھی ۔ آپ کی صحبت و ہم نشینی سے اہل محفل کو روحانی و دینی فیض نصیب ہوتا ۔ آپ کے معاصرین آپ کے تبحر علمی اور تموج فضل کے قائل و معترف تھے ۔ آپ یقینا بیک وقت امیر شریعت ، راہنمائے راہ سلوک ، مقتدائے منازل معرفت ،شیخ کامل طریقت اور امام العصر تھے ۔ رب تعالی کے ایسے انعام یافتگان کا باطنی لمعان اپنی پرحکمت ضیاء پاشیوںکے باعث چشم طالبان سے محجوب نہیں رہ پاتا کہ مستنیرین حق ، تلذذ کاسات وصال کیلئے ان معنوی انہار کوثر کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ۔
بیعت و خلافت : آپ حضرت خواجہ خواجگان سلطان الاولیاء شاہ سلیمان تونسوی کے خلیفہ خواجہ اﷲ بخش تونسوی  سے جو ایک جلیل القدر ولی اﷲ تھے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے بعد میں اجازت سلسلہ و خلافت طریقت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کو اپنے شیخ و مرشد سے از حد لگاؤتھا۔ عرصہ تک سفر و حضر میں ان کے ساتھ رہے اور ان کی مجالس سے فیضیاب ہوئے ۔
حضرت پیشوائے صالحاں پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی کی ذات سراسر کرامت و برکت کے حوالے سے بہت سے مصنفین و مؤرخین نے قلم اٹھایا ۔ جن میں علامہ محقق سید امیر شاہ گیلانی یکہ توت پشاور  تذکرہ علماء و مشائخ سرحد میں لکھتے ہیں کہ آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شہباز طریقت ، خواجہ اﷲ بخش تونسوی کے خلیفہ اعظم تھے
علامہ محقق فرزند علی قادری اپنی کتاب بستان ولایت میں لکھتے ہیں کہ آپ اپنے معمولات میں محبت رسول کو ہر چیز پر غالب رکھتے اور آنحضرت ۖ کا ادب و عشق اور آپ کی اہلبیت اطہار سے عقیدت ہی آپ کا دائمی درس ہوا کرتا ۔ علامہ فرزند علی نقل کرتے ہیں کہ حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی کے خلیفہ حضرت بابا جی میخ بند جن کا وصال 160برس کی عمر میں سوات میں ہوا ۔ وہ فرماتے تھے کہ میں کئی سال تک آپ کے ساتھ بغداد شریف میں مقیم رہا اور آپ کی گفتار ،کردار ، وضع قطع و لباس سے نقشہ نبوی ۖکا تصور قائم ہو جاتا اور جب آپ درس حدیث دے رہے ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا سننے والے بارگاہ رسالت میں بیٹھنے کا تصور کرکے الفاظ کے توسل سے صاحب حدیث کے حضور پہنچ چکے ہیں ۔ علمی دسترس کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی سائل کسی بھی سوال کو آپ کے روبرو پیش کرتا آپ نہایت متانت ،محبت اور سادگی سے اسے اسطرح برجستہ جواب دیتے کہ گویا آپ اسی ہی کی تیاری میں بیٹھے تھے اور اسی مضمون پر کتاب و سنت سے آپ نے دلائل کثیرہ گویا کہ پہلے سے اکٹھے فرما رکھے تھے ۔ دور جدید کے مصنف آل احمد رضوی مرحوم عظمت رفتہ میں لکھتے ہیں کہ آپ سالکان طریقت کیلئے ایک رہبر منزل شناس اسرار حقیقت جاننے والوں کیلئے مرشد حقیقت شناس تھے ۔ در کفے جام شریعت در کفے سندان عشق
ہر ہوسناکے نداند جام و سنداں باختن
کرامات: آپ کی لاتعداد کرامات ہیں جو کہ محض تقویت عقائد صحیحہ و اظہار دین و ایمان کی خاطر درج کی جاتی ہیں ۔ مولانا کریم بخش ملک ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر ساہیوال اپنے چند ہمراہیوںکے ساتھ خانقاہ محبوب آباد شریف ١٣فروری ١٩٨٤ء کو سلام کیلئے وارد ہوئے باقرار صالح بیان کیا کہ خطیب جامع مسجد شاہانی ساہیوال ضلع سرگودھا سید منظور حسین شاہ صاحب کا دھاری دار رومال دوران سفر کندھے سے گر گیا ۔ خانقاہ شریف کے اندر فاتحہ خوانی کرتے ذہن میں خیال گزرا کہ اولیاء خانقاہ محبوب آباد کی سلامی کے سفر میں رومال ہی گم ہوگیا معا سب کے سامنے روضہ کی چھت سے وہی رومال گرا اور گم ہونے سے پہلے جس طرح کندھے پر تھا اسی طرح ڈالا گیا اس پر مجھے انتہائی ندامت ہوئی کہ دنیاوی چیز کا خیال کیوں آیا مگر اس پر میرا عقیدہ مزید مضبوط اور درست ہوگیا ۔ حضرت خواجہ محبوب آبادی کے مرقد شریف کے سرہانے جگہ کھلی رکھی گئی ہے جس میں حفظ قرآن کرنے والے طلبہ حیران کن مختصر عرصہ میں قرآن کریم پڑھ کر حفظ کر لیتے ہیں ۔
آپ کے خلفاء و تلامذہ نے نہ صرف ہندوستان میں پیغام حق سنایا بلکہ ایران ، عراق ، افغانستان ، مشرق وسطی اور کشمیر میں بھی دین کی ترویج و اشاعت کیلئے زبر دست کوششیں کیں ۔ حضرت محبوب علی شاہ  حکیم حاذق تھے مگر جب کبھی طبیعت میں ضعف و بیماری کا احساس فرماتے تو آپ اپنے شاگردوں اور مریدین کو حکم فرماتے کہ میرے گرد کھڑے ہوکر ذکر الہی کرو۔ چنانچہ اس وظیفہ پاک سے حضور اعلی فرحت ، طمانیت اور شفا حاصل کرتے ۔ یہی اولیاء کاملین کی نشانی ہے کہ ذکر الہی ان کے قلوب میں راحت پیدا کرتے ہوئے جان کی تسکین بنتا ہے ۔ جس کی بدولت حضور قدس سے ان پر غیث رضوان نازل ہوا کرتی ہے
اﷲ اﷲ کن کہ اﷲ می شوی
ایں سخن حق است باﷲ می شوی
شادی اور اولاد :    حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی ، حنفی ، کاظمی  نے دوشادیاں کیں ۔ پہلی شادی سے آپ کے ہاں دو صاحبزادے متولد ہوئے ۔ بعد ازاں درویش ربانی مرد حق آگاہ سلطان العصر حضرت سید ابراہیم بلخی قندوزی کی خواب میں بشارت و ہدایت پر عقد ثانی فرمایا ۔ جن سے چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں بفضل خاص عطا ہوئے ۔ حضور قبلہ مائی صاحبہ حد درجہ کی پرہیزگار ، شب بیدار، تہجد گزار اور قاریہ قرآن تھیں  آپ نہایت مستجابة الدعوات  تھیں  تبلیغ دین میں حضور قبلہ کی آپ نے درون خانہ رہ کر خواتین کے معاملات میں بہترین مدد فرمائی اور لا تعداد خواتین آپ کے طرز زندگی سے حلقہ بگوش ذکر و ادب حق ہوئیں ۔ آپ کے جن چھ صاحبزادوں کا ذکر کیا گیا ان کے اسماء گرامی ذیل ہیں ۔
١۔ حضرت علامہ پیر سید علی اکبر شاہ حنفی کاظمی چشتی
٢۔ حضرت علامہ پیر سید احمد شاہ حنفی کاظمی چشتی
٣۔ حضرت ابو نعیم پیر سید عبدالقاضی محدث ہزاروی چشتی قادری سہروردی٤۔ حضرت علامہ پیر سید محرم شاہ حنفی کاظمی نقشبندی
٥۔ حضرت علامہ پیر سید غازی شاہ چشتی کاظمی حنفی
٦۔ حضرت پیر سید محمود شاہ محدث ہزاروی حنفی چشتی قادری سہروردی نقشبندی اشرفی جماعتی رفاعی شاذلی
آپ کے صاحبزادگان آپ کا بہترین نمونہ تھے ۔ حضور خواجہ قطب دوراں سید محمود شاہ محدث ہزاروی کی علمی ، روحانی ، دینی عالمی ، تحریکی فتوحات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے والد حضور کس قدر علمی ،روحانی مرتبہ و مقام رکھتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ جب کسی چیز کی اصل پاک عمدہ ہو اس کی فرع ، جزو اور اولاد بھی پاکیزہ عمدہ اور بہترین ہوگی ۔ آپ کے آستانہ عالیہ کے موجودہ سجادہ نشین حضرت پیر سید محبوب علی چشتی نظامی حنفی کاظمیکے پوتے داعی حق و ہدایت مفکر اسلام ابوزین پیر سید محی الدین محبوب حنفی قادری بن سید محمود محدث ہزاروی ہیں ۔ آپ نے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فروغ دین حق کیلئے اپنی حیات وقف فرما رکھی ہے ۔ اور کئی کتابوں کے آپ مصنف ہیں خانقاہ میں قائم شدہ جامعہ میں درس نظامی کے اسباق بھی آپ طلاب کو پڑھاتے ہیں اور دینی و دنیاوی علوم سے بکمال بہرہ مند رہتے ہوئے اہل عالم کو علم و حکمت سے نواز رہے ہیں ۔ دنیا کی کئی مشہور یونیورسٹیز میں آپ تقابل ادیان اور تصوف پر مدلل خطابات کرچکے ہیں ۔ آپ کے پانچ سو سے زائد دینی و روحانی عنوانات پر خطابات ہوچکے ہیں ۔ دنیا کے 58 ممالک کا علمی ، دینی ، روحانی آپ دورہ فرما چکے ہیں اور اس وقت پاکستان میں آپ کے زیر انتظام 12 مدارس قائم ہیں۔ آپ نے طریقت قادریہ کو ممالک اسلامیہ سمیت ممالک یورپ میں بھی فروغ دیا اور بہترین نمونہ اسلاف ہیں
عمر مبارک:  حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی نے طویل عمر مبارک پائی ۔ آپ کے خلیفہ اور مرید خاص حضرت میخ بند بابا سواتی نے حضرت محدث ہزاروی کو علاقہ میخ بند سوات کے دورے کے موقع پر دوران ملاقات بتایا کہ آپ کے والد حضور کی عمر مبارک 200 سال ہوئی ہے ۔ اور میں ان کے ہمراہ بارہ برس بغداد (عراق) خانقاہ غوثیہ مدرسہ قادریہ میں رہا ۔ آپ حافظ القرآن اور حافظ الحدیث تھے ۔ خاندان میں معروف تھا کہ حضرت کی عمر مبارک 180برس ہے
وصال : ٨ رمضان المبارک بروز دوشنبہ بوقت ظہر ١٣٥٦ ھ لفظ اﷲ پر حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی بعمر 200 برس واصل باﷲ ہوئے تاریخ المغفور سے برآمد ہوتی ہے ۔
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہء عالم دوام ما
عرس مبارک: آپ کا مزار پر انوار خانقاہ محبوب آباد شریف حویلیاں شہر میں مرجع خاص و عام ہے ۔ اور آپ کا سالانہ عرس مبارک ماہ جون میں منعقد ہوتا ہے ۔ عرس مبارک 10,09,08 جون کی تاریخوں میں اہل اسلام کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ اسلام کی غرض سے منعقد کرکے اتحاد عالم اسلام کی خاطر دنیا بھر سے وابستگان سلسلہ عالیہ قادریہ محمودیہ اور علماء و مشائخ خانقاہ محبوب آباد شریف میں جمع ہوکر کتاب و سنت کے اسباق سے موقع اکتساب فیض عوام کو مہیا کرتے ہیں ۔


جمعرات، 24 مئی، 2012

منگل، 15 مئی، 2012

پیر، 2 اپریل، 2012

قرآن پاک کے فضائل و فوائد

قرآن پاک کے فضائل و فوائد
انسان میں کیا طاقت ہے جو رب کے کلام کے فضائل اور اس کے فوائد کو پورے طور پر بیان کرسکے۔ مسلمانوں کی واقفیت کےلئے چند باتیں اس کے فضائل کے متعلق اور چند فائدے بیان کئے جاتے ہیں۔ کلام کی عظمت کلام کرنے والے کی عظمت سے ہوتی ہے۔ ایک بات فقیر بے نوا کے منہ سے نکلتی ہے۔ اس کی طرف کوئی دھیان بھی نہیں دیتا۔ اور ایک بات کسی بادشاہ یا حکیم کےمنہ سے نکلتی ہے۔ تو اس کو دنیا میں شائع کیا جاتا ہے۔ اخباروں اور رسالوں میں اس کی اشاعت ہوتی ہے غرض یہ ہے کہ کلام کی عظمت کا پتہ کلام والے کی عظمت سے لگتا ہے۔ اسی قاعدے کی بنا پر اندازہ لگالو کہ قرآن پاک ایسا معظم کلام ہے کہ اس کے مثل کسی کا کلام نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ خالق کا کلام ہے مثل مشہور ہے۔ کلام الملک ملک الکلام یعنی بادشاہ کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہے۔ اس کلام زبانی میں سارے علوم اور ساری حکمتیں موجود ہیں جس میں سے ہر شخص اپنی لیاقت کے موافق حاصل کرتا ہے۔ اس کا پتہ عقل سے لگتا ہے اور تفسیریں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مفسرین جیسی قابلیت ہے اسی قسم کے وہ بیش بہاموتی اس قرآن سے نکالتا ہے۔ منطقی مفسر کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں از اول تا اخر منطق ہی منطق ہے۔ نحوی اور صرفی مفسر کی تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں صرف اور نحو ہی ہے۔ فصیح اور بلیغ مفسر کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں فصاحت و بلاغت کا دریا موجیں مار رہا ہے صوفیاء کرام کی تفسیروں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عظیم میں علوم باطنی کے بیش قیمت موتی بھرے ہوئے ہیں۔ اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ ہے۔ لیکن جیسا کہ اس کا شناور، ویسی اس کی تحصیل۔ پھر جہاں تک سمجھنے والے کی سمجھ کی پہنچ وہاں تک اس کی تحقیق۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ ایک جہاز سواریوں سے بھرا ہوا سمندر کے سفر سے آکر کنارے لگا۔ اس جہاز میں کپتان سے لے کر مسافروں تک ہر قسم کے لوگوں نے سفر کیا۔ لیکن اگر کسی مسافر سے سمندر کے کچھ حالات دریافت کئے جائیں تو وہ کچھ نہ بتاسکے گا کیونکہ اس کی نظر فقط پانی کی ظاہری سطح پر تھی۔ اور اگر خلاصی سے کچھ تحقیق کی جائے وہ وہاں کے حالات کا کچھ پتہ دے گا۔ اور اگر کپتان سے معلومات حاصل کی جائیں تو وہ اول سے آخر تک کے سمندر کے تقریبا سارے اندرونی حالات بیان کرسکے گا کہ فلاں جگہ اس کی گہرائی اتنے میل تھی اور فلاں مقام پر پانی میں اس قسم کا پہاڑ تھا۔ میں اپنے جہاز کو اس طرح سے بچا کے لایا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح قرآن کریم ہم بھی پڑھتے ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی پڑھتے تھے اور صحابہ کرام بھی اسی قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نبی کریم صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی اسی قرآن پاک کو پڑھا۔ کتاب تو ایک ہی ہے لیکن پڑھنے والوں کے ذہن کی رسائی کی انتہائیں الگ الگ۔ ہماری نگاہ وہ فقط ظاہری الفاظ تک ہی بمشکل پہنچتی ہے۔ یہ حضرات بقدر وسعت علمی اس کی تہہ تک پہنچ کر مسائل اور فوائد کو نکال لیتے ہیں بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ السلام سے بارہ سال میں سورۃ بقرہ پڑھی۔ اب بتاو پڑھنے والے فاروق اعظم جیسے صاحب کمال، پڑھانے والے خود صاحب قرآن صلے اللہ علیہ وسلم اور بارہ سال کی مدت بتاؤ کہ آقا نے کیا کیا نہ دیا ہوگا اور ان کے نیاز مند خادم عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیا کیا نہ لیا ہوگا۔ پھر ذرا اس پر بھی غور کرتے چلو کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں۔ الرحمن علم القرآن اپنے محبوب علیہ السلام کو رحمٰن نے قرآن سکھایا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام تو فقط پہنچانے والے ہیں۔ سوچو تو کہ سکھانے والا الرحمٰن اور سیکھنے والا سید الانس والجان۔ اور کیا سکھایا۔ قرآن نہ معلوم رب نے کیا دیا اورمحبوب علیہ السلام نے کیا کیا لیا۔ اسی لئے تفسیر روح البیان شریف نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل قرآن کی آیت الم لے کر آئے۔ عرض کیا۔ الف۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ "میں نے جان لیا۔" عرض کیا۔ میم۔ تو فرمایا۔ "اس کا کرم ہے۔" جبریل امین کہنے لگے کہ حضور آپ نے کیا سمجھا اور کیا جانا۔ میں تو کچھ بھی نہ سمجھا۔ فرمایا یہ میرے اور رب کے درمیان راز ہیں۔
میان خالق و محبوب رمزے است
کراما کاتبین راہم خبر نیست

ہمارے اس عرض کرنے کا مدعا یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم اور بڑے سے بڑا زبان دان قرآن پاک کے متعلق یہ خیال نہ کرے کہ میں نے اس کی حقیقت کو پالیا۔ قرآن پاک ایک سمندر ناپید کنار ہے۔ جتنا جس کا برتن، اتنا وہاں سے وہ پانی لے سکتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میرے کوزے میں سارا سمندر آگیا۔ غرض کہ قرآن حکیم حق تعالٰی کی عظمت کا مظہر ہے۔ جیسے اس کی عظمت کی انتہا نہیں ویسے ہی اس کی عظمت بے انتہا ہے۔ شعر
کلام اللہ بھی نام خدا کیا راحت جان ہے
عصائے پیر ہے تیغ جواں ہے حرز طفلاں ہے
خیال رہے کہ تمام انبیاء کرام کے معجزے قصے بن کر رہ گئے۔ کوئی معجزہ نہیں جو آج دیکھا جائے۔ مگر حضور کے بہت سے معجزات تاقیامت رہیں گے جنہیں دنیا آنکھوں سے دیکھے گی۔ قرآن کریم میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں ہر آیت حضور کا معجزہ ہے کہ جن کی مثل بن نہ سکا۔ ان کے پڑھنے سے دل نہیں اکتاتا۔ ایسے ہی حضور کی محبوبیت جو تقریبا ہردل میں آج بھی موجود ہے۔ ہم نے حضور کے نام پر سکھوں، ہندوؤں کو روتے دیکھا۔ ایسے آپ کا بلند ذکر ہر مجلس ہر جگہ ہر زبان پر آپ کا چرچا ہے یہ بھی زندہ جاوید معجزات ہے۔ جنہیں دنیا دیکھتی ہے اور دیکھتی رہے گی۔ فوائد قرآن کریم کے فوائد کا احاطہ کسی کی زبان، کسی کا قلم، کسی کا دل و دماغ نہیں کرسکتا۔ بس یوں سمجھو کہ یہ عالم کی تمام روحانی، جسمانی، ظاہری، باطنی ضرورتوں کا پورا فرمانے والا ہے۔ اگر ہم حدیث و فقہ کی روشنی میں قرآن کریم کے صحیح معنوں میں عامل بن جائیں تو ہم کو کبھی بھی کسی حاجت میں کسی قسم کی امداد نہ لینی پڑے ہم اس کے متعلق دو طرح گفتگو کرتے ہیں۔ ایک عقلی اور ایک نقلی۔ اگرچہ مسلمان کےلئے نقلی دلائل کے ہوتے ہوئے عقلی دلائل کی کوئی ضرورت نہیں لیکن زمانہ موجودہ میں نئی روشنی کے دلداروں کا اعتماد اپنی لولحا لنگڑی عقل پر زیادہ ہے۔ یعنی گلاب کی خوشبو کے مقابلہ میں گیندے کی بدبو سے زیادہ مانوس ہو چکے ہیں۔ اس لئے اولا "ہم ان کی تواضع کےلئے عقلی فوائد بیان کرتے ہیں۔
(1) سخی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو فقیر کو بلاکردیں۔ دوسرے وہ جو فقیر کے گھر آکر دیں۔ کنوآں بلا کردیتا ہے۔ دریا آکر دیتا ہے اور سمندر بادل بناکر عالم پر پانی برسا دیتا ہے۔ کعبہ معظمہ بھی سخی اور قرآن کریم بھی۔ مگر فرق یہ ہے کہ کعبہ معظمہ کے پاس بھکاری جائیں اور جاکر فیض لے آئیں۔ قرآن کریم کی یہ شان ہے کہ مشرق و مغرب میں گھر گھر پہنچا۔ اور اپنا فیض جاکر دیا۔ اور جو لوگ کہ باطل ان پڑھ تھے ان کےلئے علماء مثل بادل کے بنا بنا کر اپنی رحمتوں کی بارش ان پر بھی برسادی
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہو گئی دم میں کھیتی خدا کی

(2) آفتاب وہ نور ہے جو ایک وقت میں آدھی زمین کو چمکاتا ہے اور پھر ظاہر کو چمکاتا ہے اور اپنے سامنے والے کو چمکاتا ہے اور پھر بادل کی وجہ سے اس کی روشنی پھیکی پڑجاتی ہے۔ کبھی اس کو گرہن بھی لگتا ہے۔ دن بھر میں تین پلٹے کھاتا ہے صبح اور شام کو ہلکا اور دوپہر کو تیز۔ لیکن قرآن کریم آسمان ہدایت کا وہ چمکتا دمکتا سورج ہے جو بیک وقت سارے عالم کو چمکارہا ہے۔ فقط ظاہر کو نہیں بلکہ دل و دماغ کو بھی منور کر رہا ہے۔ نیز اس کی روشنی جیسے میدانوں پر پڑ رہی ہے اسی طرح پہاڑوں میں غاروں میں اور تہہ خانوں میں غرض کہ ہر جگہ پہنچ رہی ہے۔ نہ کبھی اس کو گرہن لگے نہ کوئی باد اس کی روشنی کو ڈھک سکے۔ اس کی شعائیں بڑی تاریک گھٹاؤں کو بھی پیر کر اپنا کام کرتی ہیں۔ اسی لئے رب تعالٰی نے فرمایا۔ وانزلنا الیکم نورا مبینا

(3) آج ہم لوگوں نے اپنی بے علمی کی وجہ سے قرآن کریم کے فیوض و برکات کو محدود سمجھ رکھا ہے۔ بعض لوگوں نے تو اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے کہ قرآن کریم فقط اس لئے آیا ہے کہ بیماری میں اسے پڑھ کر دم کرلو اور گھر میں برکت کے واسطے رکھ لو۔ جب کوئی مرنے لگے تو اس پر یٰسین پڑھ دو اور بعد موت اس کو پڑھوا کر ایصال ثواب کرو اور باقی رہا عمل، اس کےلئے قرآن کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کےلئے فقط انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ چنانچہ بعض جگہ کے مسلمانوں نے اپنی خوشی سے اسلامی قوانین کے مقابلہ میں ہندوؤں یا عیسائیوں کے قانونوں کو اپنے لازم کرلیا جیسے کہ پنجاب کے زمیندار کا ٹھیاداڑ کے عام مسلمان کہ انہوں نے میراث سے اپنی لڑکیوں کو قانونی طور پر محروم کردیا اور اپنی صورت سیرت طریق زندگانی، لباس وغیرہ میں یکدم غیروں سے مل گئے اور بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن فقط عمل کےلئے آیا ہے۔ اس کی تلاوت کرنا، اس سے دم کرنا تعویذ کرنا یا اس سے ایصال ثواب کرنا اس کے نزول کی حکمت کے خلاف ہے۔ قرآن عمل کےلئے اترا ہے نہ کہ طباعت، اور چھومنترکےلئے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک ایک نسخہ ہے، نسخے کے فقط پڑھتے رہنے سے شفا نہیں ملتی بلکہ اس کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہ وہ خیال فاسد ہے کہ جو پڑھے لکھوں کے دماغ میں بھی گھوم رہا ہے۔ مسٹر عنایت اللہ مشرقی اور ابو الاعلٰی مودودی اور عوام دیوبندی اسی چکر میں ہیں۔ مگر خیر سے عمل وہاں بھی غائب ہے۔ عمل کا فقط نام ہی ہے یا اگر عمل ہے تو ایسا اندھا جیسا کہ مشرقی نے اپنے خاکساروں سے کراکر صدہا کو موت کے گھاٹ اتروا دیا اور خود معافی مانگ خیریت سے گھر آبیٹھے۔ لیکن دوستو! ان لوگوں میں افراط ہے اور پہلے لوگوں میں تفریط تھی۔ جس طرح سے کہ ہم اپنے مال اور بدن کے اعضاء سے بہت سے کام لیتے ہیں کہ آنکھ سے دیکھتے بھی ہیں روتے بھی ہیں۔ اس میں سرمہ لگا کر زینت بھی حاصل کرتے ہیں ہاتھ سے پکڑتے بھی ہیں اور مار کو رونکتے بھی ہیں۔ زبان سے کھاتے بھی ہیں، بولتے بھی ہیں۔ کھانے کی لذت اور اس کی سردی گرمی بھی محسوس کرتے ہیں اور ایک ہی پھونک سے گرم چائے بھی ٹھنڈی کرتے ہیں۔ سردیوں میں انگلیاں بھی گرم کرتے ہیں۔ آگ جلاتے بھی ہیں اور چراغ بجھاتے بھی ہیں۔ اسی طرح عبادات میں صدہا ایسی مصلحتیں ہیں۔ روزہ عبادت بھی ہے قسم وغیرہ کا کفارہ بھی جو غریب نکاح نہ کرسکے اس کےلئے شہوت توڑنے کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح قرآن کریم صدہا دینی اور دنیوی فوائد لے کر اترا۔ نماز قرآن کے ذریعے سے ادا ہو، کھانا وغیرہ قرآن پڑھ کر شروع کرو۔ شاہی قوانین قرآن سے حاصل کرو۔ بیمار پر قرآن پڑھ کر دم کردیا تعویذ لکھ کر گلے میں ڈالو۔ ثواب کےلیے اس کو پڑھو، عمل اس پر کرے غرض کہ یہ قرآن بادشاہ کےلئے قانون، غازی کےلئے تلوار، یمار کےلئے شفا، غریب کا سہارا، کمزور کا عصاء، بچوں کا تعویذ، بے ایمان کےلئے ہدایت، قلب مردہ کی زندگی، قلب غافل کےلئے تنبیہہ، گمراہوں کےلئے مشعل راہ، زنگ آلود قلب کی میقل ہے۔ اگر قرآن کریم صرف احکام کےلئے ہوتا اور دیگر مقاصد اس سے حاصل نہ ہوتے تو اس میں فقط احکام کی آیتیں ہوتیں۔ ذات و صفات کی آیتیں متشابہات، انبیائے کرام کے قصے، آیات منسوختہ الالحکام ہر گز نہ ہونی چاہئیں تھیں کیونکہ ان سے احکام حاصل نہیں کئے جاتے۔ اسی طرح سے ان احکام کی آیتیں بھی نہ ہوتیں۔ جن پر عمل ناممکن ہے۔ جیسے کہ نبی کی آواز پر آواز بلند کرنے کی آیتیں یا بارگاہ نبوی میں دعوت کھانے کے آداب یا نبیوں کی بیبیوں سے حرمت نکاح کی آیتیں اور قرآن پاک یہ نہ فرماتا کہ ننزل من القرآن ما ھو شفاء رحمۃ للمومنین اسی طرح اگر قرآن کریم فقط برکت لینے اور دم دورود کےلئے ہوتا تو اس میں احکام کی آیتیں نہ ہونی چاہئیں تھیں۔ نکتہ یہ جو کہا گیا ہے کہ قرآن ایک نسخہ ہے اور نسخہ کا پڑھنا مفید نہیں ہوتا، یہ مثال غلط ہے۔ بعض چیزوں کے نام میں اور پڑھنے میں تاثیر ہوتی ہے پردیسی آدمی کے پاس گھر سے خط آئے تو فقط پڑھ کر ہی اس کا دل خوش ہوجاتا ہے۔ بیماری ہلکی پڑجاتی ہے۔ کسی شخص کو مصیبت کی خبر سناؤ فقط سن کر دل کا حال بدل جاتا ہے۔ کسی کو الو گدھا کہہ دو تو آپے سےباہر ہوجاتا ہے۔ کسی کے سامنے کسی کھٹی چیز کا نام لے دو تو منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ اگر روزہ کی حالت میں کسی کا منہ خشک ہوجائے تو اس کو دکھا کر لیموں کاٹو تو اس کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔ اور دوا پلائی ہی نہیں جاتی بلکہ کبھی دکھائی سنائی اور سنگھائی بھی جاتی ہے۔ تو جب مخلوق کے نامہ و پیام میں اور ناموں میں اتنا اثر ہے تو خالق کے پیام میں کس قدر اثر ہونا چاہئیے خود غور کرلو۔

اب ہم قرآن پاک کے دو فوائد بیان کرتے ہیں جو احادیث سے ثابت
(1) حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں روزانہ سورہ بقرہ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔ لہٰذا جنات کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہے گا۔
(2) قیامت کے دن سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ان لوگوں پر سایہ کریں گی اور ان کی شفاعت کریں گی۔ جو دنیا میں قرآن پاک کی تلاوت کے عادی تھے۔
(3) جو شخص آیۃ الکرسی صبح و شام اور سوتے وقت پڑھ لیا کرے تو اس کا گھر انشاءاللہ آگ کے لگنے اور چوری ہونے سے محفوب رہے گا۔
(4) سورہ اخلاص کا ثواب تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسی لئے ختم و فاتحہ میں اس کو تین بار پرھتے ہیں۔
(5) حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کو دس نیکیوں کے برابر نیکی ملتی ہے۔ خیال رہے کہ الم ایک حرف نہیں بلکہ الف، لام، میم تین حروف ہیں۔ لہٰذا فقط اتنا پڑھنے سے تیس نیکیاں ملیں گے۔ خیا ل رہے کہ الم متشابہات میں سے ہے جس کے معنی ہم تو کیا جبریل بھی نہیں جانتے۔ مگر اس کے پڑھنے پر ثواب ہے۔ معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کا ثواب اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں بغیر سمجھے تلاوت پر ثواب ہے ولایتی مرکب دوائیں مریض کو شفادیتی ہیں۔ ان کے اجزاء معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ یوں ہی قرآن کریم شفا اور ثواب ہے معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ دیکھو بھینس دودھ کےلئے، بیل کھیتی باری کے لئے، گھوڑے، اونٹ سواری اور بوجھ اٹھانے کےلئے پالے جاتے ہیں۔ مگر طوطی مینا صرف اس لئے پالے جاتے ہیں کہ وہ ہماری سی بولی بولتے ہیں اگرچہ بغیر سمجھے سہی۔ مینا طوطی تمہاری بولی بولیں تو تمہیں پیاری لگے، اگر تم جناب مصطفٰی کی بولی بولو تو رب کو پیارے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ بغیر معنی سمجھے قرآن بیکار ہے اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(6) جو شخص قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک آفتاب سے بڑھ کر ہوگی۔
(7) قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے میں دوہرا ثواب ملتا ہے اور بغیر دیکھ کر پڑھنے میں ایک ثواب ہے۔ نوٹ:۔ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے۔ قرآن کعبہ، کعبہ معظمہ، ماں باپ کا چہرہ محبت سے اور عالم دین کی شکل دیکھنا عقیدت سے وغیرہ وغیرہ
(8) قرآن پاک کی تلاوت اور موت کی یاد دل کو اس طرح صاف کردیتی ہے جیسے کہ زنگ آلود لوہے کو صیقل۔
(9)جو شخص کہ قرآن پاک کی تلاوت میں اتنا مشغول ہو کہ کوئی دعا نہ مانگ سکے تو خداوند تعالٰی اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہے۔
(10) جو شخص ہر رات سورہ واقعہ پڑھا کرے، انشاءاللہ اسے کبھی فاقہ نہ ہو گا۔
(11) سورہ الم تنزیل پڑھنے والا جب قبر میں پہنچتا ہے تو یہ سورہ اس طرح اس کی شفاعت کرتی ہے کہ اے اللہ اگر میں تیرا کلام ہوں تو اس کو بخش دے ورنہ تو مجھے اپنی کتاب سے نکالدے اور میت کو اس طرح ڈھک لیتی ہے جیسے چڑیا اپنے پروں سے اپنے بچوں کو اور اسے عذاب سے بچاتی ہے۔
(12) جو شخص کہ سورہ یٰسین اول دن میں (دوپہر سے پہلے) پڑھنے کا عادی ہو تو اس کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔
(13) سورہ یٰسین شرہف پرھنے سے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں اور مشکلیں آسان ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس کو بیماروں پر پڑھو۔
(14) سوتے وقت قل یا ایھا الکٰفرون پڑھنے والا انشاءاللہ تعالٰی کفر سے محفوظ رہے گا۔ یعنی س کا خاتمہ بالخیر ہوگا۔
(15) سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھنے سے آندھی اور اندھیری دور ہوتی ہے۔ اور اس کا پابندی سے پڑھنے والا انشاءاللہ جادو سے محفوظ رہے گا۔
(16) سورہ فاتحہ جسمانی اور روحانی بیماروں کی دوا ہے۔ (ہر سورت کے فوائد ہم انشاءاللہ تعالٰی اس سورۃ کے ساتھ بھی لکھیں گے۔
واضح رہے کہ قرآن کریم کے فائدے فقط پڑھنے والے پر ہی ختم نہیں ہوجاتے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مثلا جہاں تک اس کی آواز پہنچے وہاں تک ملائکہ رحمت کا اجتماع ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت اسید ابن خصر رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک شب تلاوت قرآن کر رہے تھے اور ان کے پاس ایک گھوڑا بندھا تھا۔ وہ اچانک اچھلنے کودنے لگا۔ آپ باہر تشریف لائے اور نگاہ اٹھاکر دیکھا ایک سائبان تھا جس میں قندیلیں روشن تھیں۔ اس سے گھوڑا ڈر کر کودتا تھا۔ صبح کو آکر بارگاہ نبوت میں یہ واقعہ عرض کیا۔ ارشاد ہوا کہ رحمت کے فرشتے تھے جو تمہارا قرآن پاک سننے آئے تھے اسی طرح جہاں تک اس کی آواز پہنچے وہاں تک کی ہر ایک چیز درخت، گھاس، بیل، بوٹے، حتٰی کہ در و دیوار اس کے ایمان کی قیامت میں انشاءاللہ تعالٰی گوواہی دیں گے۔ اسی طرح اگر تلاوت کرنے والا کچھ آیتیں پڑھ کر بیمار پر دم کرے تو انشاءاللہ تعالٰی صحت ہوگی۔ دیکھو اگر تم کسی باغ کے پاس سے گزرو تو وہاں کے پھولوں کی مہک دور تک محسوس ہوتی ہے جس سے دماغ معطر اور دل خوش ہوجاتا ہے۔ آخر یہ کیوں؟ صرف اس لئے کہ ہوا پھولوں سے لگ کر ہر چہار طرف پھیلتی ہے۔ اس ہوا کی تاثیر ہوتی ہے کہ گزرنے والوں کو خوش کردیتی ہے۔ تو جس زبان سے قرآن پاک پڑھا جائے اس سے لگ کر جو پھونک نکلے وہ کیوں نہ دافع ہر بلا ہو۔ صحابہ کرام نے سانپ کے کاٹے ہوؤں کا سورۃ فاتحہ دم کرکے علاج کیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی آیتوں کو لکھ کر تعویذی شکل میں بیمار کے ساتھ رکھا جائے تو اس کو شفا ہوتی ہے۔ آنکھ میں سرمہ لگانے سے نظر قائم رہتی ہے جب یہ معمولی دوائیں کچھ دیر ہمارے ساتھ رہ کر اپنا اثر دکھاویں تو قرآن حکیم کی آیتیں اس سے کہیں زیادہ شفا بخش کیوں نہ ثابت ہوں گے؟ صحابہ کرام نے قرآن کریم سے ،قرآن شریف کی آیتوں سے بیماروں کا علاج کیا ہے۔ جس تعویذ گنڈر اور دم سے حدیث پاک میں منع فرمایا گیا ہے وہ زمانہ جاہلیت کے شرکیہ منتر تھے۔ جن میں بتوں سے مدد مانگنے کے الفاظ تھے، قرآن پاک کی آیتوں سے ان کو کیا نسبت؟ اسی طرح اگر قرآن پاک کی تلاوت کرکے کسی کو ثواب بخش دیا جائے تو وہ ضرور اس کو پہنچے گا۔ اگر میں اپنا کمایا ہوا روپیہ کسی کو دوں تو دے سکتا ہوں۔ اسی طرح اپنے کمائے ہوئے ثواب کو دینے کا اختیار بھی رکھتا ہوں۔ ہاں فرق یہ ہے کہ اگر مال چند اشخاص پر تقسیم کیا جائے تو وہ بٹ کر تھوڑا تھوڑا ملے گا۔ اور دینے والے کے پاس نہ رہے گا۔ اگر ثواب صدہا آدمیوں کو بخش دی جائے تو سب کو پورا پورا ملے گا اور بخشنے والے کو ان سب کے برابر جیسے کوئی عالم یا حافظ صدہا آدمیوں کو عالم یا حافظ بنائے تو وہ علم تقسیم ہوکر نہ ملے گا۔ بلکہ سب کو برابر ملے گا اور پڑھانے والے کو علم میں اور ترقی ہوگی ایصال ثواب کی پوری بحث اور اس کے متعلق تمام اعتراضات اور جوابات انشاءاللہ تعالٰی ہم اس آیت کے ماتحت لکھیں گے۔ لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت

خواص سورہء مائدہ

خواص سورہء مائدہ

جو شخص اس سورہ کو روزانہ پڑھے گا۔ وہ قحط اور فاقہ سے محفوظ رہے گا۔ اور غیب سے اس کو روزی کا انتظام ہو جایا کرے گا اس سورہ کو لکھ کر استسقاء کے مریض کو پلا دیں تو آرام ہو جائے گا۔

قرآن پاک کی ترتیب اور اس کا جمع ہونا

قرآن پاک کی ترتیب اور اس کا جمع ہونا
پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا۔ قرآن کریم فرماتا ہے قرآن مجید فی لوح محفوظ پھر وہاں سے پہلے آسمان پر لایا گیا۔ پھر وہاں سے تیئس سال میں آہستہ آہستہ حضور علیہ السلام پر نازل ہوتا رہا۔ مگر یہ نازل ہونا اس لکھے ہوئے کی ترتیب کے موافق نہ تھا۔ کیونکہ یہ نزول بندوں کی ضرورت کے مطابق ہوتا تھا جس آیت کی ضرورت ہوئی وہی آگئی۔ مثلا اگر اول ہی سے شراب کے حرام ہونے کی آیتیں اتر آتیں تو یقینا عرب کے نئے مسلمانوں کو دشواری واقع ہوتی کیونکہ وہاں عام طور پر شراب پی جاتی تھی۔ اس طرح سارے احکام کو سمجھ لو لیکن چونکہ حضور علیہ السلام کی کی نگاہ پاک لوح محفوظ وغیرہ پر تھی اس لئے آپ ہر آیت کے نزول کے وقت اس کو ترتیب سے جمع کرادیتے تھے اس طرح کہ جو حضرات کاتب وحی مقرر تھے ان کو فرمادیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھو اور یہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق تھی۔ اور طریقہ اس وقت یہ تھا کہ حضرت زید بن ثابت و دیگر بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اس خدمت کو انجام دینے کےلئے مقرر تھے۔
جس وقت جو آیت اترتی حضور علیہ السلام کے حکم کے مطابق اونٹ کی ہڈیوں پر کجھور کے پٹھوں پر اور مختلف کاغذوں پر لکھ لیتے تھے۔ اور یہ چیزیں متفرق طور پر لوگوں کے پاس رہیں لیکن ان حضرات کو زیادہ اعتماد حفیظ پر تھا۔ یعنی عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پورے قرآن کے حافظ تھے جیسا کہ آج حافظ ہیں۔ بلکہ اس سے زیادہ تو یوں سمجھو کہ قرآن پاک کی ترتیب خود حضور علیہ السلام نے دے دی تھی۔ لیکن ایک جگہ کتابی شکل میں جمع نہ فرمایا تھا۔ اس کی تین و جلدیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ چونکہ صدہا حافظ اس کو اسی ترتیب سے یاد کرچکے تھے جو آج تک چلی آرہی ہے اور نماز میں پڑھنا فرض تھا۔ اور نماز کے علاوہ بھی صحابہ کرام برکت کےلئے اس کو کثرت اوقات پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اس لئے اس کے ضائع ہونے کا کچھ اندیشہ نہ تھا اور دوسرے یہ کہ جہاد اور دیگر ضروریات زندگی کی وجہ سے اتنا موقعہ نہ مل سکا کہ اس کو ایک جگہ جمع کیا جاتا۔ اور تیسرے یہ کہ جب تک کہ پورا قرآن پاک نہ آجاتا۔ اس کو جمع کرنا غیر ممکن تھا کیونکہ ہر سورت کی کچھ آیات اترچکی تھیں کچھ اترنے والی تھیں حضور کی وفات سے کچھ روز پہلے نزول قرآن کی تکمیل ہوئی۔ غرضیکہ حضور علیہ السلام کی زندگی پاک میں قرآن کریم کتابی شکل میں ایک جگہ جمع نہ ہوسکا۔ البتہ مرتب ہوگیا اللہ کی شان کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے زمانے میں یعنی حضور علیہ السلام کی وفات ہی کے سال ملک یمانہ کے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے صحابہ کرام کو سخت جنگ کرنی پڑی اور اس جنگ میں تقریبا سات سو حافظ قرآن بھی شہید ہوگئے تب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بارگاہ صدیقی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر اسی طرح حافظ اور قرآء شہید ہوتے رہے تو بہت جلد قرآن پاک ضائع ہوجائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا جنہوں نے حضور علیہ السلام کے زمانہ پاک میں وحی لکھنے کی خدمت انجام دی تھی اور اس کا مہتمم حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قرار دیا کہ تم تمام جگہ سے قرآن پاک کی آیات جمع کرکے کتابی شکل میں تیار کرو۔ زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے۔ آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام نے نہ کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے۔
(نوٹ) اس سے بدعت حسنہ کا ثبوت ہوا۔ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت محنت اور جانفشانی سے ان تمام آیتوں کو یکجا جمع کیا جو کہ لوگوں کے سینوں کجھور کے پٹھوں اور ہڈیوں میں لکھی ہوئی تھیں اور ترتیب وہی رہی جو حضور علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ یہ قرآن کا نسخہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حیات میں ان کے پاس رہا۔ پھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس رہا۔ پھر ان کے بعد فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیٹی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ آرمینیہ اور آذربایجان کے کفار سے جنگ فرمارہے تھے۔ وہاں کی مہم سے فارغ ہوکر حاضر بارگاہ ہوئے اور عرض کیا کہ "اے امیر المومنین لوگوں میں قرآن پاک کے متعلق اختلاف شروع ہوگئے ہیں اگر یہ اختلاف بڑھتے رہے تو مسلمانوں کا حال یہود و نصارٰی کی طرح ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کا جلد کوئی انتظام کیجئے۔ وجہ اختلاف یہ تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے نسخوں میں حضور علیہ السلام کے وہ الفاظ بھی لکھے تھے جو آپ نے بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے اور وہ حضرات اس کو قرآن ہی کا جزو سمجھ لیتے تھے۔ حالانکہ وہ الفاظ قرآن نہ تھے۔ جیسے کہ مصحف ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ نیز ایک نسخہ تمام ملک کے مسلمانوں کےلئے اب کافی نہ تھا۔ نیز حافظ صحابہ کرام کو جو لقمہ قرآن مجید میں لگتا تھا اس کے نکالنے میں بہت دشواری ہوتی تھی۔ ان وجوہ کی بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پھر زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم فرمایا اور ان کی مدد کےلئے عبداللہ ابن زبیر اور سعید ابن عاص اور عبداللہ ابن حارث ابن ہشام کو مقرر کیا۔ ان حضرات نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس سے پہلے جمع کئے ہوئے قرآن کو منگایا اور پھر اس کا مقابلہ حفاظ کے حفظ قرآن سے نہایت تحقیق سے کرکے چھ یا سات نسخے نقل کئے۔ اور یہ نسخے عراق، شام، مصر وغیرہ اسلام ممالک میں بھیج دئیے اور اصل نسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو واپس کردیا اور جن صحابہ کرام کے پاس تفسیر سے ملے ہوئے قرآن کے نسخے تھے اور وہ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھے تھے ان کو منگواکر جلوادیا گیا کیونکہ ان نسخوں کا باقی رہنا آئندہ بڑے فتنوں کا دروادہ کھول دیتا کہ آئندہ لوگ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھتے۔ الحمداللہ اب تک قرآن پاک اسی طرح بلا کم و کاست مسلمانوں میں چلا آرہا ہے۔ ناظرین ہماری اس تقریر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کی ترتیب نزول قرآن کے مطابق ہوسکتی ہی نہیں تھی۔ کیونکہ موجود ہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے مطابق ہے اور قرآن پاک کا نزول ضرورت کے مطابق ہوا۔ اور یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کو ترتیب دینے والے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں لیکن اس کو کتابی شکل میں ترتیب دینے والے اولا "صدیق اکبر اور دوسرے عثمان غنی ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین اس لئے آپ کا لقب ہے عثمان جامع قرآن۔ نکتہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کہ صحابہ کرام نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جس بیعت کا نام بیعت الرضوان ہے۔ اس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ موجود نہ تھے۔ کیونکہ ان کو حضور کی طرف سے مکہ مغطمہ بھیجا گیا تھا۔ تو حضور علیہ السلام نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور خود ان کی طرف سے بیعت فرمائی ع
خود کو زد ہ د خود کو زہ گرد خود گل کو زہ !
تو حضور علیہ السلام کا ہاتھ گویا عثمان غنی کا ہاتھ ہوا۔ اور حق تعالٰی نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرمایا۔یداللہ فوق ایدیھم تو گویا اس واسطے سے عثمان غنی کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے اور قرآن کریم اللہ کا کلام۔ تو یوں کہ کلام اللہ، ید اللہ نے جمع فرمایا۔ اس لئے عثمان غنی کو جمع قرآن کےلئے منتخب فرمایا گیا۔ (نوٹ ضروری) قرآن پاک کی تقسیم اس زمانہ پاک میں دو طریقے سے ہوچکی تھی۔ ایک سورتوں سے، دوسری منزلوں سے یعنی قرآن پاک کی سات منزلیں کی گئی تھیں کہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے ختم کرسکے سات دن میں ان منزلوں کو فمی شرق میں جمع کیا گیا ہے یعنی پہلی منزل سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری مائدہ سے۔ تیسری سورۃ یونس سے، چوتھی سورۃ بنی اسرائیل سے۔ پانچویں سورۃ شعراء سے چھٹی سورۃ والصفت سے اور ساتویں سورۃ ق سے پھر اس کے بعد قرآن پاک کے تیس حصے برابر کئے گئے جس کا نام رکھا گیا تیس سیپارے تاکہ تلاوت کرنے والا ایک سیپارہ روز کے حسابب سے ایک مہنہ میں قرآن پاک ختم کرسکے۔ پھر قرآن پاک میں زیر و زبر نہ ہونے کی وجہ سے اس کے تلاوت کرنے میں سخت دشواری محسوس ہوتی تھی کیونکہ غیر عربی لوگ تو پڑھ ہی نہ سکتے تھے اور عربی حضرات بھی بعض بعض موقعوں پر دشواری محسوس کرتے تھے۔ لہٰذا اس میں زیر و زبر لگائے گئے اور نون قطنی ظاہر کئے گئے۔ مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے کیا۔ اسی حجاج بن یوسف نے سورتوں کے نام قرآن میں لکھے۔ اس سے پہلے یہ نام قرآن میں نہ لکھے تھے (تفسیر خزائن العرفان) پھر اس میں تفسیر روح البیان آخر سورۃ حضرات میں مصحف عثمانی میں نہ نقطے تھے نہ اعراب نہ رکوع نہ سیپارے۔ نقطے لگانے والے اعراب لگانے والے ابوا سودہ بلی تابعی ہیں جنہوں نے حجاج ابن یوسف کے حکم سے یہ کام کیا۔ پھر خلیل ابن احمد فرامیدی نے مد اور وقف وغیرہ کی علامات قرآن میں لگائیں اور یعرب ابن قحطان نے قرآن کو عربی خط یعنی نسخ میں لکھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قرآن کے تیس پارے اور اس میں نصف، ربع، ثلث کے نشانات مامون عباسی کے زمانے میں لگائے گئے رکوع بنائے گئے۔ یعنی حضرت عثمان غنی رمضان شریف کی تراویح کی نماز میں جس قدر قرآن پاک پڑھ کر رکوع فرماتے تھے۔ اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا۔ اس لئے اس کے نشان پر قرآن مجید کے حاشیے پر ع لگادیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے بعض کہتے ہیں کہ عثمان کے نام کاعین۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ رکوع کا عین ہے تو حقیقت میں یہ تمام کام تلاوت کرنے والے کی آسانی کےلئے کئے گئے لطیفہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح بیس رکعت ہونی چاہئیے نہ کہ آٹھ رکعت، اس لئے کہ حضرت عثمان روازنہ بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ہر رکعت میں قرآن پاک ایک رکوع پڑھتے اور ستائیسویں رمضان المبارک ختم قرآن پاک فرماتے۔ اس حساب سے کل پانچ سو چالیس رکوع بنتے ہیں اور کل رکوع قرآن پاک کے پانچ سو چھپن ہیں۔ چونکہ بعض سورتیں بہت چھوٹی ہیں اس لئے بعض رکعتوں میں دو سورتیں پڑھ لی جاتی ہیں۔ اگر تراویح آٹھ رکعت ہوئی جیسے وہابی کہتے ہیں تو قرآن پاک کے رکوع کو دو سو سولہ ہونے چاہئیے تھے۔ اس کی مزید تحقیق کےلئے ہماری کتاب لمعات المصابیح علی الرکعات التراویح دیکھو۔ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں کہ ان کو بھی آیتوں کی طرح حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے ہی ترتیب دیا تھا۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ نہیں بلکہ صحابہ کرام کے اجہتاد سے یہ ترتیب ہوئی لیکن تفسیر عزیزی نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے بہت سی سورتوں کی ترتیب اشارۃ خود ہی فرمادی تھی جیسے کہ ساتھ طویل سورتیں اور حم والی اور مفصل کی سورتیں۔ ان کو حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے نمازوں یا اپنے وظیفوں میں ترتیب وار پڑھ کر بتلادیا تھا۔ اور بعض سورتوں کی ترتیب حضور کے بعد صحابہ کرام کے اجتہاد سے مضامین کی مناسبت سے واقع ہوئی جیسے کہ کسی بڑے شاعر کے کلام کو ہم ترتیب دیں تو اس کو ردیف کے حرفوں کے مطابق اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ بڑی بڑی غزلیں اور قصیدے پہلے اور مثنوی اس کے بعد اور قطعے اور رباعیاں اس کے بعد۔ تو ترتیب میں کلام کی موزونیت کا لحاظ رکھا جاتا ہے نہ کہ اس نے یہ کلام کب کہا۔ اسی لئے مدنی بڑی بڑی سورتیں قرآن پاک میں اول ہیں اور مکی سورتیں بعد میں۔

تابوت سکینہ




تابوت سکینہ
یہ شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ۔ یہ آپ کی آخر زندگی تک آپ کے پاس ہی رہا ۔
پھر بطور میراث یکے بعد دیگرے آپ کی اولاد کو ملتا رہا ۔ یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو مل گیا تو آپ اس میں توراۃ شریف اور اپنا خاص خاص سامان رکھنے لگے ۔
یہ بڑا ہی مقدس اور با برکت صندوق تھا ۔ بنی اسرائیل جب کفار کے لشکروں کی کثرت اور ان کی شوکت دیکھ کر سہم جاتے اور ان کے سینوں میں دل دھڑکنے لگتے تو وہ اس صندوق کو اپنے آگے رکھ لیتے تھے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہوتا تھا کہ مجاہدین کے دلوں میں سکون و اطمینان کا سامان پیدا ہو جاتا تھا اور مجاہدین کے سینوں میں لرزتے ہوئے دل پتھر کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہیو جاتے تھے ۔ اور جس قدر صندوق آگے بڑھتا تھا آسمان سے نَصرٌ مّن اللہ و فَتحٌ قَریب کی بشارت عظمٰی نازل ہوا کرتی اور فتح مبین حاصل ہو جایا کرتی تھی ۔
بنی اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تھا تو لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے تھے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز اور فتح کی بشارت سنی جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اس صندوق کو اپنے آگے رکھ کر اور اس کو وسیلہ بنا کر دعائیں مانگتے تھے تو ان کی دعائیں مقبول ہوتی تھیں اور بلاؤں کی مصیبتیں اور وباؤں کی آفتیں ٹل جایا کرتی تھیں۔ الغرض یہ صندوق بنی اسرائیل کے لئے تابوت سکینہ، برکت و رحمت کا خزینہ اور نصرت خداوندی کے نزول کا نہایت مقدس اور بہترین ذریعہ تھا مگر جب بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں ملوث ہو گئے اور ان لوگوں میں معاضی و طغیان اور سرکشی و عصیان کا دور دورہ ہو گیا تو ان کی بداعمالیوں کی نحوست سے ان پر خدا کا یہ غضب نازل ہو گیا کہ قوم عمالقہ کے کفار نے ایک لشکر جرار کے ساتھ ان لوگوں پر حملہ کر دیا، ان کافروں نے بنی اسرائیل کا قتل عام کرکے ان کی بستیوں کو تاخت و تاراج کر ڈالا۔ عمارتوں کو توڑ پھوڑ کر سارے شہر کو تہس نہس کر ڈالا اور اس متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر لے گئے۔ اس مقدس تبرک کو نجاستوں کے کوڑے خانہ میں پھینک دیا۔ لیکن اس بےادبی کا قوم عمالقہ پر یہ وبال پڑا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں اور بلاؤں کے ہجوم میں جھنجھوڑ دئیے گئے۔ چنانچہ قوم عمالقہ کے پانچ شہر بالکل برباد اور ویران ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان کافروں کو یقین ہو گیا کہ یہ صندوق رحمت کی بےادبی کا عذاب ہم پر پڑ گیا ہے تو ان کافروں کی آنکھیں کھل گئیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس مقدس صندوق کو ایک بیل گاڑی پر لاد کر بیلوں کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہانک دیا۔
پھر اللہ تعالٰی نے چار فرشتوں کو مقرر فرما دیا جو اس مبارک صندوق کو بنی اسرائیل کے نبی حضرت شمویل علیہ السلام کی خدمت میں لائے۔ اس طرح پھر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی نعمت دوبارہ ان کو مل گئی اور یہ صندوق ٹھیک اس وقت حضرت شمویل علیہ السلام کے پاس پہنچا، جب کہ حضرت شمویل علیہ السلام نے طالوت کو بادشاہ بنا دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور یہی شرط ٹھہری تھی کہ مقدس صندوق آ جائے تو ہم طالوت کی بادشاہی تسلیم کر لیں گے۔ چنانچہ صندوق آ گیا اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی پر رضامند ہو گئے۔ ( تفسیر الصاوی، ج1، ص209۔ تفسیر روح البیان، ج1، ص385۔ پ2، البقرۃ: 247 )

تابوت سکینہ میں کیا تھا ؟
اس مقدّس صندوق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اور ان کی مقدس جوتیاں اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توراۃ کی تختیوں کے چند ٹکڑے، کچھ من و سلوٰی، اس کے علاوہ حضرات انبیاءکرام علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان تھے۔ ( تفسیر روح البیان، ج1، ص386، پ2، البقرۃ: 248 )
قرآن مجید میں خداوندقدوس نے سورہ بقرہ میں اس مقدس صندوق کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :-
وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم و بقیۃ مما ترک اٰل موسٰی وال ھرون تحملہ الملئکۃ ط ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین ہ ( پ2، البقرۃ: 248 )
ترجمہ کنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہاری پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معزز موسٰی اور معزز ہارون کے ترکہ کی، اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو۔
درس ہدایت )))
بنی اسرائیل کے صندوق کے اس واقعہ سے چند مسائل و فوائد پر روشنی پڑتی ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہیں:
(1) معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کی خداوندقدوس کے دربار میں بڑی عزت و عظمت ہے اور ان کے ذریعہ مخلوق خدا کو بڑے بڑے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں۔ دیکھ لو ! اس صندوق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی جوتیاں، آپ کا عصا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی پگڑی تھی، تو اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں یہ صندوق اس قدر مقبول اور مکرم و معظم ہو گیا کہ فرشتوں نے اس کو اپنے نورانی کندھوں پر اٹھا کر حضرت شمویل علیہ السلام کے دربار نبوت میں پہنچایا اور خداوندی قدوس نے قرآن مجید میں اس بات کی شہادت دی کہ فیہ سکینۃ من ربکم یعنی اس صندوق میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ یعنی مومنوں کے قلوب کا اطمینان اور ان کی روحوں کی تسکین کا سامان تھا۔مطلب یہ کہ اس پر رحمت الٰہی کے انوار و برکات کا نزول اور اس پر رحمتوں کی بارش ہوا کرتی تھی تو معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات جہاں اور جس جگہ بھی ہوں گے ضرور ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوگا اور اس پر نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے مومنین کو سکون قلب اور اطمینان روح کے فیوض و برکات ملتے رہیں گے۔
(2) اس صندوق میں اللہ والوں کے لباس و عصا اور جوتیاں ہوں جب اس صندوق پر اطمینان کا سکینہ اور انوار و برکات کا خزینہ خدا کی طرف سے اترنا، قرآن سے ثابت ہے تو بھلا جس قبر میں ان بزرگوں کا پورا جسم رکھا ہوگا، کیا ان قبروں پر رحمت و برکت اور سکینہ و اطمینان نہیں اترے گا ؟ ہر عاقل انسان جس کو خداوندعالم نے بصارت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت بھی عطا فرمائی ہے، وہ ضرور اس بات پر ایمان لائے گا کہ جب بزرگوں کے لباس اور ان کی جوتیوں پر سکینہ رحمت کا نزول ہوتا ہے تو ان بزرگوں کی قبروں پر بھی رحمت خداوندی کا خزینہ ضرور نازل ہو گا۔ اور جب بزرگوں کی قبروں پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تو جو مسلمان ان مقدس قبروں کے پاس حاضر ہو گا ضرور اس پر بھی بارش انوار رحمت کے چند قطرات برس ہی جائیں گے کیونکہ جو موسلا دھار بارش میں کھڑا ہوگا ضرور اس کا کپڑا اور بدن بھیگے گا، جو دریا میں غوطہ لگائے گا ضرور اس کا بدن پانی سے تر ہو گا، جو عطر کی دوکان پر بیٹھے گا ضرور اس کو خوشبو نصیب ہو گی۔ تو ثابت ہو گیا کہ جو بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیں گے ضرور وہ فیوض و برکات کی دولتوں سے مالا مال ہوں گے اور ضرور ان پر خدا کی رحمتوں کا نزول ہوگا جس سے ان کے مصائب و آلام دور ہوں گے اور دین و دنیا کے فوائد منافع حاصل ہوں گے۔
(3) یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ بزرگوں کے تبرکات یا ان کی قبروں کی اہانت و بےادبی کریں گے وہ ضرور قہر و قہار اور غضب جبار میں گرفتار ہوں گےکیونکہ قوم عمالقہ جنہوں نے اس صندوق کی بےادبی کی تھی ان پر ایسا قہر الٰہی کا پہاڑ ٹوٹا کہ وہ بلاؤں کے ہجوم سے بلبلا اٹھے اور کافر ہوتے ہوئے انہوں نے اس بات کو مان لیا کہ ہم پر بلاؤں اور وباؤں کا حملہ اسی صندوق کی بےادبی کی وجہ سے ہوا ہے۔ چنانچہ اسی لئے ان لوگوں نے اس صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر بنی اسرائیل کی بستی میں بھیج دیا تاکہ وہ لوگ غضب الٰہی کی بلاؤں کے پنجہ قہر سے نجات پا لیں۔
(4) جب اس صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل کو جہاد میں فتح مبین ملتی تھی تو ضرور بزرگوں کی قبروں سے بھی مؤمنین کی مشکلات دفع ہوں گی اور مرادیں پوری ہوں گی کیونکہ ظاہر ہے کہ بزرگوں کے لباس سے کہیں زیادہ اثر رحمت بزرگوں کے بدن میں ہوگا۔
(5) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قوم سرکشی اور عصیان کے طوفان میں پڑ کر اللہ و رسول ( عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ) کی نافرمان ہو جاتی ہے اس قوم کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے پڑھ لیا کہ جب بنی اسرائیل سرکش ہوکر خدا کے نافرمان ہو گئے اور قسم قسم کی بدکاریوں میں پڑ کر گناہوں کا بھوت ان کے سروں پر عفریت بن کر سوار ہو گیا تو ان کے جرموں کی نحوستوں نے انہیں یہ برا دن دکھایا کہ صندوق سکینہ ان کے پاس سے قوم عمالقہ کے کفار اٹھا لے گئے اور بنی اسرائیل کئی برسوں تک اس نعمت عظمٰی سے محروم ہو گئے۔

تلاوت قرآن

تلاوت قرآن
بزرگان دین کی عادتیں تلاوت قرآن پاک کے متعلق جداگانہ تھیں۔ بعض حضرات تو ایک دن رات میں آٹھ ختم کرلیتے تھے۔ چار دن میں اور چار رات میں بعض حضرات چار،، بعض دو، اور بعض ایک اور بعض لوگ دو دن میں ایک ختم اور بعض تین دن میں، بعض پانچ دن میں، بعض سات دن میں اور سات دن میں ختم کرنا اکثر صحابہ کرم کا معمول تھا۔ اس میں لوگوں کے حالات مختلف ہیں۔ بعض تو نہایت تیز پڑھنے کی صورت میں بھی حروف کو ان کے مخرجوں سے ادا کرنے اور صحیح پڑھنے پر قادر ہوتے ہیں اور بعض لوگ اکثر تیز پڑھیں تو صحیح نہیں پڑھ سکتے۔ لہٰذا تلاوت کرنے والوں کو چاہئیے کہ صحیح پڑھنے کی کوشش کریں کیونکہ ثواب صحیح پڑھنے میں ہے نہ کہ محض جلدی پڑھنے میں۔ حضرت ام سلمہ ضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح تلاوت فرماتے تھے کہ ایک ایک حرف صاف صاف معلوم ہوتا تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے تھے کہ قرآن کریم جب دل میں اترتا ہے۔ تب اس میں جمتا ہے اور نفع دیتا ہے۔ تلاوت کرنے والا جس اطمینان اور سکون کے ساتھ دنیا میں تلاوت کرتا تھا۔ اسی اطمینان کے ساتھ تلاوت کرتا ہوا جنت میں بڑھتا جائے گا اور جہاں تک اس کی تلاوت ختم ہوگی۔ وہاں تک کا سب ملک اس کو دیا جائے گا۔ بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ اگر عربی سمجھنے پر قدرت رکھتا ہو تو اس کے معانی اور مضامین پر غور کرتا جائے اور رحمت کی آیت آئے تو خوش ہو اور خدا سے رحمت مانگ لے اور جب عذاب کی آیت آئے تو ڈرے اور اس سے پناہ مانگے۔ نیز کوشش کرے کہ تلاوت کے وقت دل حاضر ہو اور خشوع اور خضوع کے ساتھ پڑھے یہاں تک کہ رقت آجائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ اور اگر معنی نہ سمجھتا ہو تو یہ سمجھ کر تلاوت کرے کہ یہ وہی الفاظ ہیں جو حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے اور حضور کے صحابہ بھی اولیاء اللہ بھی علماء دین بھی۔ جیسے ہلال عید میں تمام انسانوں کی نگاہیں جمع ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی الفاظ قرآن مجید میں سب کی تلاوتیں اور ادائیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ سمجھ کر تلاوت کی تو انشاءاللہ بہت لذت آوے گی۔ اگرچہ بے وضو بھی قرآن پڑھنا جائز ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ وضو کرکے تلاوت کرے۔ اس میں زیادہ ثواب ہے اور سنت یہ ہے کہ تلاوت پاک جگہ میں ہو مسجد میں ہو تو اور زیادہ بہتر ہے۔ یہ بھی مستحب ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے سر جھکا کر اطمینان سے پڑھے اور اگر تلاوت کرتے وقت مسواک وغیرہ سے منہ کو صاف کرے اور خوشبو بھی لگائے تو بہت ہی اچھا ہے کیونکہ جتنا ادب زیادہ اتنا ہی فیض زیادہ تلاوت سے پہلے اعوذباللہ اور بسم اللہ بھی پڑھے اور تلاوت کی حالت میں کسی سے بلا ضرورت بات کرنا مکروہ ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ تلاوت کے دوران میں کسی سے کلام نہ فرماتے تھے اور اگر کلام کرنا پڑجاوے تو کلام کے دوران میں قرآن شریف بند رکھے اور پھر بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے۔ مسئلہ جنبی حیض و نفاس والی عورتوں کا قرآن پاک کو چھونا بھی جائز نہیں۔ اگر چھونا پڑجائے تو کسی علیحدہ کپڑے سے چھوئیں۔ ادب یہ ہے کہ بے وضو آدمی بھی بغیر کپڑے کے قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگائے۔ فرق یہ ہے کہ بے وضو اپنے کرتہ کے دامن سے بھی پکڑسکتا ہے اور وہ لوگ علیحدہ کپڑے سے پکڑیں ،بہتر یہ ہے کہ جس دن قرآن پاک ختم کرے اس دن اپنے گھر والوں دوستو کو جمع کریں۔ سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی نعہ قرآن کے ختم کے وقت اپنے اہل قرابت کو جمع فرماتے اور دعا کرتے تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس وقت رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جو قرآن پاک پڑھ کر حق تعالٰی کی حمد کرے اور دورود پڑھے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو رحمت الٰہی اس کو تلاش کرتی ہے۔ تلاوت کرنے والے کو چاہئیے کہ قرآن پاک ختم کرتے ہی دوسری بار اس کو شروع کردے۔ یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر سورہ بقرہ مفلحون تک پڑھ لے۔ پھر دعا مانگے۔ مسئلہ حافظ تراویح میں جب قرآن پاک پڑھے تو ایک بار کسی نہ کسی جگہ بسم اللہ شریف بلند آواز سے ضرور پڑھے کیونکہ یہ بھی قرآن پاک کی آیت ہے اور مستحب یہ ہے کہ ہر نمازی نماز میں جب کوئی سورۃ شروع کرے تو آہستہ سے بسم اللہ پڑھ لیا کرے سوائے سورۃ توبہ کے۔ اس کی پوری بحث تفسیر خزائن العرفان کے مقدمہ میں دیکھو۔ تتمہ قرآن پاک کا چھوٹی تقطیع پر یا تعویذی طرح چھاپنا مکروہ ہے۔ چاہئیے یہ کہ بڑی تقطیع پر چھاپا جائے۔ حروف خوب کھلے ہوں اور اس کے رکوع اور آیتوں اور منزلوں کو دیدہ زیب بنانا مستحب ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن پاک کی عظمت کا اظہار ہے۔ قرآن پاک اتنی جلدی پڑھنا کہ جس سے بجز تَعلَمُونَ اور یَعلَمُونَ کچھ سمجھ میں نہ آئے، یعنی حروف کی ادائیگی پوری طرح نہ ہو، سخت برا ہے۔ حافظوں کو اس کا بہت لحاظ رکھنا چاہئیے۔ مسئلہ جس جگہ سب لوگ اپنے کاربار میں مشغول ہوں وہاں قرآن پاک بے آواز سے پڑھنا منع ہے۔ یا تو تنہائی میں بلند پڑھو یا وہاں جہاں کم سے کم ایک آدمی سننے والا ہو کیونکہ اس کا سننا فرض کفایہ ہے مسئلہ: چند شخصوں کا بیک وقت بلند آواز سے تلاوت کرنا منع ہے۔ یا تو ایک پڑھے تو باقی سب سنیں یا بہت آہستہ پڑھیں تیجے اور ختم والوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئیے۔ مکتبوں اور مدرسوں میں جو بچے مل کر پڑھتے ہیں، یہ مجبوری کی وجہ سے ہے۔ مسئلہ قرآن پاک کو خلاف ترتیب الٹا پڑھنا ممنوع ہے۔ ہاں اگر خارج نماز درمیان میں بھیڑتا جائے جس سے الگ الگ قرآیتیں معلوم ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں (شامی) اور ترتیب کے مطابق جگہ جگہ سے آیتوں کا پڑھنا جائز ہے۔ جیسا کہ فاتحہ اور ختم کے وقت کیا جاتا ہے۔

تفسیر کے معنی اور اس کی تحقیق

تفسیر کے معنی اور اس کی تحقیق
لفظ تفسیر فسر سے مشتق ہے جس کے معنی کھولنا محاورہ میں تفسیر یہ ہے کہ کلام کرنے والے کا مقصد اس طرح بیان کرنا جس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے اور مفسرین کی اصطلاح میں تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کے وہ احوال بیان کرنا جس میں عقل کو دخل نہیں بلکہ نقل کی ضرورت ہو جیسے آیات کا شان نزول یا ان کا ناسخ اور منسوخ ہونا وغیرہ تفسیر بالرائے حرام ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور ٹھیک بھی کہہ جائے جب بھی خطا کار ہے۔ تفسیر قرآن کے چند مرتبے ہیں۔
(1) تفسیر قرآن بالقرآن، یہ سب سے مقدم ہے۔
(2) تفسیر قرآن بالحدیث کیونکہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم صاحب قرآن ہیں۔ ان کی تفسیر نہایت صحیح اور اعلٰی۔
(3) قرآن کی تفسیر صحابہ کرام خصوصا فقہائے صحابہ اور خلقائے راشدین کے اقوال سے ہو۔
(4) تفسیر قرآن تابعین یا تبع تابعین کے قول سے۔ اگر روایت سے ہے تو معتبر۔ اس کی زائد تحقیق کےلئے ہماری "جاء الحق" یا کتاب "اعلائے کلمۃ اللہ" مصنف قطب الوقت حضرت شاہ قبلہ مہر علی شاہ صاحب کا مطالعہ کرو۔ لفظ تاویل اول سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں رجوع کرنا۔ اصطلاح میں تاویل یہ ہے کہ کسی کلام میں چند احتمال ہوں۔ ان میں سے کسی احتمال کو قرینوں سے اور علمی دلائل سے ترجیح دینا یا کلام میں علمی نکات وغیرہ بیان کرنا۔ اس کےلئے نقل کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عالم اپنی قوت علمی سے قرآن پاک میں سے نکات وغیرہ نکال سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ خلاف شریعت ہر گز نہ ہو۔ اسی لئے مفسرین اپنی قوت علمی سے قرآن پاک میں بڑے بڑے نکات بیان فرماتے ہیں اور ہر ایک کےلئے نقل پیش نہیں فرماتے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم شریف باب ہشتم میں فرمایا کہ قرآن پاک کے ایک ظاہری معنی ہیں اور ایک باطنی۔ ظاہری معنی کی تحقیق علمائے شریعت فرماتے ہیں اور باطنی کی صوفیائے کرام۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ستر اونٹ بھر دوں۔ مگر یہ باطنی تفسیر ظاہری معنی کے خلاف ہرگز نہ ہوگی۔ تحریف مشتق ہے حرف سے۔ حرف کے معنی ہیں علیحدگی یا کنارہ۔ اصطلاح میں تحریف یہ ہے کہ کلام کا مطلب ایسا بیان کیا جائے جو کلام کرنے والے کے مقصد کے خلاف ہو۔ مفسرین کی اصطلاح میں تحریف دو طرح کی ہے۔ تحریف لفظی اور تحریف معنوی۔ تحریف لفظی یہ ہے کہ قرآن پاک کی عبارت کو دیدہ دانستہ بدل دیا جائے۔ جیسا کہ یہودی نصارٰی نے اپنی اپنی کتابوں میں کیا۔ تحریف معنوی یہ ہے کہ قرآن پاک کے ایسے معنی اور مطلب بیان کئے جائیں جو کہ اجماع امت یا عقیدہ اسلامیہ یا اجماع مفسرین یا تفسیر قرآن کے خلاف ہوں اور وہ یہ کہے کہ آیت کے وہ معنی نہیں بلکہ یہ ہین جو میں بیان کر رہا ہوں جیسا کہ اس زمانہ میں چکڑالوی، قادیانی، اور دیوبندی وغیرہ کر رہے ہیں۔ دونوں قسم کی تحریفیں کفر ہیں۔ مفسر وہ شخص ہوسکتا ہے۔
(1) جو کہ قرآن کے مقصد کو پہچان سکے۔
(2) ناسخ و منسوخ کی پوری خبر رکھتا ہو۔
(3) آیات و احادیث میں مطابقت کرنے پر قادر ہو۔ یعنی جن آیتیوں کا آپس میں مقابلہ معلوم ہوتا ہو یا جو آیات کہ احادیث کے خلاف معلوم ہوتی ہوں ان کی ایسی توجیہہ کرسکے کہ جس سے مخالفت اٹھ جائے۔
(4) آیتوں کے شان نزول سے باخبر ہو۔
(5) آیتوں کی توجیہہ کرسکے۔ یعنی جو قرآن پاک کی آیتیں عقل کی رو سے محال معلوم ہوتی ہوں ان کو حل کرسکے۔ مثلا قرآن پاک میں آتا ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالٰی عنہا سے لوگوں نے کہا۔ یا اخت ھارون حالانکہ ہارون علیہ السلام و موسٰی علیہ السلام کے بھائی، اور حضرت مریم میں سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ تو پھر حضرت مریم ان کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے کہ سکندر ذوالقرنین نے آفتاب کو کیچڑ میں ڈوبتا ہوا پایا۔ حالانکہ آفتاب ڈوبتے وقت زمین پر نہیں آتا۔ اور نہ کیچڑ اونچی ہوکر آفتاب تک پہنچتی ہے۔ ان جیسی آیات کی توجیہیں کرسکے۔
(6) آیات میں محذوفات نکالنے پر قدرت رکھتا ہو۔ یعنی بعض جگہ آیات میں پوری کی پوری عبارتیں محذوف ہیں۔ ان کے بغیر نکالے ہوئے آیت کا ترجمہ درست نہیں ہوتا۔
(7) عرب کے محاورے سے پورے طور پر واقف ہو۔ قرآن پاک نے بہت جگہ وہاں کے خاص محاورے استعمال فرمائے ہیں۔ جیسے تبت یدا ابی لھب وتب ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں یا کہ فما بکت علیھم اسماء والارض کہ کفار کے مرنے پر زمین اور آسمان نہ روئے۔ یاذق انک انت العزیز الکریم یعنی کفار سے جہنم میں کہا جائے گا۔ تو یہ عذاب چکھ تو بڑا عزت اور کرم والا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان جیسی آیات کے مقصود کو پہچان سکے اور معلوم کرسکے کہ اس جگہ کس قسم کا محاورہ استعمال ہوا ہے۔
(8) محکم اور متشابہ آیت کو پہچانتا ہو۔
(9) قراتوں کے اختلاف سے واقف ہو۔
(10) مکی اور مدنی آیتوں کو جانتا ہو وغیرہ۔
جب اتنی صفتیں موجود ہوں تو تفسیر کرنے کی ہمت کرے اس کی زیادہ تحقیق مقصود ہو تو دیکھو تفسیر فتح البیان کا مقدمہ۔ مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ پر فتن میں تفسیر قرآن کو جتنا آسان سمجھا گیا ہے اتنا آسان اور کوئی کام نہیں سمجھا گیا۔ حق تعالٰی اس زمانے کے فتنوں سے بچائے۔

قرآن پاک کی حفاظت




قرآن پاک کی حفاظت
قرآن پاک سے پہلے کتابیں مثلا تورات، انجیل و ابور وغیرہ ایک خاص وقت تک کےلئے اور خاص خاص قوموں کےلئے دنیا میں بھیجی گئیں اس لئے حق تعالٰی نے ان کی حفاظت کا ذمہ خود نہ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پیغمبران عظام کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد وہ کتابیں بھی قریب قریب ختم ہوگئیں۔ لیکن یہ قرآن کریم سارے جہان کےلئے آیا اور ہمیشہ کےلئے آیا۔ اس لئے رب تعالٰی نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا- نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ہم نے ذکرو قرآن اتارا ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ اور سبحان اللہ! ایسی اس کی حفاظت ہوئی کہ کوئی شخص اس میں زیر اور زبر کا فرق نہ کرسکا۔ اس کی حفاظت کا ذریعہ ہوا کہ قرآن کریم فقط کاغذ پر ہی نہ رہا بلکہ مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ کیا گیا۔ صحابہ کرام نے زمانہ کی حالت تو ہم سنی سنائی بیان کرسکتے ہیں لیکن اس زمانہ میں تو مشاہدہ ہو رہا ہے کہ اگر کسی چھوٹے سے گاؤں میں بھی کسی مجمع کے سامنے کوئی تلاوت کرنے والا ایک زیر زبر کی غلطی کردے تو ہر چہار طرف سے آوازیں آتی ہیں کہ آپ نے غلط پڑھا۔ اس طرح پڑھو۔ اور ہر زمانے ہر جگہ ایک دو نہیں بلکہ صدہا حافظ پیدا ہوتے رہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جب بچو سکول میں قدم رکھتا ہے تو چونکہ اسے ابھی کتاب سنبھالنے کی لیاقت نہیں ہوتی لہٰذا، اس کے استاد چھوٹے چھوٹے قاعدے اور کتابیں اس کو خرید کردیتے ہیں وہ بچہ کتابیں پڑھتا بھی جاتا ہے اور ضائع بھی کرتا جاتا ہے۔ جب کسی قدر ہوش سنبھالتا ہے تو اب کتابیں پھاڑتا تو نہیں لیکن ان پر لکھ لکھ کر خراب کرتا رہتا ہے۔ پھر جب خوب سمجھدار ہوجاتا ہے اور کتاب کی قدر و قیمت پہچانتا ہے تو اب کتاب کو جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔ اسی طرح دنیا سب سے پہلے خدائی کتابوں اور صحیفوں کو سنبھال نہ سکی تو ان کو برباد کر ڈالا۔ پھر تورات و انجیل کو بالکل تو نہ مٹایا۔ مگر اپن طرف سے بہت کچھ اس میں غلط ملط کردیا۔ دنیا کے اخیر دور میں قرآن کریم تشریف لایا اور قدرت نے اس کو سنبھالنے کا طریقہ سکھایا۔ تورات و انجیل کسی زمانے میں بگڑی بگڑائی پائی جاتی ہوں گے۔ لیکن اب تو صفحہ ہستی سے قریبا بالکل ناپید ہوگئیں۔ یہ جو پیسے پیسے کی یوحنا اور متی رسول کی انجیلیں فروخت ہورہی ہیں۔ وہ انجیل نہیں جو آسمان سے آئی تھی بلکہ اس کے ترجمے ہوں گے کیونکہ وہ عبرانی زبان میں تھیں اور ترجمے مختلف زبانوں میں ہیں۔ جب وہ اصل کتاب ہمارے سامنے ہے ہی نہیں تو ہم کیسے معلوم کریں کہ یہ ترجمے اس کے صحیح ہیں یا نہیں۔ بخلاف قرآن کریم کے کہ وہی قرآن اسی زبان میں بعینہ موجود ہے۔ جو صاحب قرآن علیہ السلام پر اترا تھا۔ وہ کتابیں تو کیا باقی رہتیں، زبان عبرانی جس میں وہ کتابیں آئی تھیں وہی دنیا سے غائب ہوگئی۔ بلکہ مصر اور شام وغیرہ ممالک جہاں عبرانی زبان بولی جاتی تھی وہاں عربی۔ زبان نے اپنا سکہ جمالیا۔ اور اس قرآن پاک کی بدولت ہر ملک میں عربی زبان کا دور دورہ ہوگیا۔ چنانچہ الحمدللہ ہندوستان میں بھی لاکھوں کی تعداد میں عربی دان موجود ہیں۔ لیکن عبرانی جاننے والا ایک بھی نہیں ہے حتٰی کہ مشن اسکولوں میں میں انجیل تو پڑھائی جاتی ہے مگر افسوس کہ عبرانی اور سریانی زبانیں وہاں بھی غائب ہیں یہ سب قرآن پاک اور صاحب لولاک کی برکت ہے۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حیرت یہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ محفوظ اس کے پڑھنے کے طریقے۔ یعنی قرات (تجوید) محفوظ کہ س، ص، ت، ط، ک، ق، د، ذ، ز، ض، ظ، مد، شدہ وغیرہ کس طرح ادا کئے جائیں۔ طریقہ تحریر بھی محفوظ ہے۔ یعنی جس طرح کہ صاحب قرآن صلے اللہ علیہ وسلم سے تحریر منقول ہے۔ اس کے خلاف قرآن پاک نہیں لکھ سکتے۔ بسم اللہ کا سین لمبا اور میم گول لکھا جاتا ہے کہ کسی قرآن پاک میں سین چھوٹا کرکے نہ لکھا جائے۔ بئس الاسم الفسوق لکھنے میں الاسم آتا ہے جیسا کلمات نحوی میں الاسم آتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کو عربی خط میں لکھا جائے، اردو خط یا نستعلیق نہ لکھا جائے۔ بعض بعض کلمات نحوی قاعدے کے خلاف معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ پڑھے ویسے ہی جاتے ہیں جیسے کہ ثابت ہوچکے۔ مثلا علیہ اللہ ما انسانیۃ لنسفعا وغیرہ وغیرہ ان چیزوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سبحان اللہ! قرآن پاک ایسا محفوظ ہے کہ اس کے صفات تک محفوظ۔ اگر کوئی منصف ان باتوں کو نظر انصاف دیکھے تو قرآن پاک کے قبول کرنے میں تامل نہ کرے۔ ان خوبیوں کو دیکھ کر بعض پادریوں کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اولا " تو اس کوشش میں رہے کہ انجیل شریف کو محفوظ کتاب ثابت کرسکیں مگر نہ کرسکے۔ بلکہ بہت سے محققین عیسائیوں نے مان لیا کہ انجیل شریف میں لفظی اور معنوی بیشمار تحریفیں ہوئیں اور مان لیا کہ انجیل کی بہت سی آیتیں اور بہت سے باب الحاقی ہیں۔ دیکھو مسٹر ہارن اور ہنری اور اسکاٹ صاحب کی تفاسیر اور دیکھو مباحشہ دینی مطبوعہ اکبر آباد مصنفہ پادری فنڈر وغیرہ بعض عیسائی پادریوں نے یہ کوشش کی کہ قرآن پاک کو محرف ثابت کریں۔ چنانچہ عبدالمسیح اور ماسٹر رام چندر اور پادری عماء الدین نے اس بارے میں رسالے لکھ ڈالے۔ یہ لوگ جس قدر اعتراض کرسکتے ہیں ہم ان کو علیحدہ علیحدہ سوال جواب کی شکل میں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے واقف ہوں۔


(1) چنانچہ عبدالمسیح اور ماسٹر رام چندر اور پادری عماء الدین نے اس بارے میں رسالے لکھ ڈالے۔ یہ لوگ جس قدر اعتراض کرسکتے ہیں ہم ان کو علیحدہ علیحدہ سوال جواب کی شکل میں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے واقف ہوں۔

سوال -- حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب قرآن کا نسخہ تیار کیا تو پچھلے نسخوں کو جلوادیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن وہ نہیں ہے جو آسمان سے آیا تھا۔ بلکہ وہ جلایا جاچکا۔

جواب -- اس کا جواب دوسری فصل میں نہایت تفصیل سے گزرچکا کہ ان نسخوں کو جلوانا اختلاف کو مٹانے کےلئے تھا۔ کیونکہ ان میں قرآن اور تفسیری عبارات مخلوط تھیں۔ آیات کولے لیا گیا۔ اگر وہ نسخے باقی رہتے تو آئندہ بڑا اختلاف پیدا ہوجاتا۔ اس تفصیل کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اعتراض محض لغو ہے اور دھوکہ دینے کےلئے ہے۔

(2) سوال -- تفسیر اتقاق اور بخاری شریف جلد دوم باب جمع قرآن میں ہے کہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے کہ میں نے لقد جاءکم رسول والی آیت تمام جگہ تلاش کی مگر کہیں نہ ملی بجزابو خزیمہ انصاری کے کہ ان کے پاس یہ لکھی ہوئی موجود تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور آیتیں بھی اس طرح گم ہوگئی ہوں گی۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ ایک آیت لکھی ہوئی ہمارے پاس موجود تھی جسے بکری کھاگئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور آیتیں بھی اسی طرح برباد ہوگئی ہوں گی۔

جواب -- اگر ایسی ایسی دو چار سو روایتیں بھی جمع کرلی جائیں اور وہ روایتیں قابل قبول بھی ہوں اور کوئی بکری پورا قرآن بھی کھاگئی ہو تب بھی اصل قرآن کا ایک لفظ بھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ یہ تو جب ہوتا جب قرآن پاک کا دارومدار تورات و انجیل کی طرح فقط دو چار نسخوں پر ہوتا۔ یہ تو مسلمانوں کے سینوں میں موجود تھا۔ کاغذ کو بکری اور گائے بھینس کھاسکتی ہیں۔ حافظ کے سینے کو تو قبر کی مٹی بھی نہیں کھاتی۔ اسے کون کھائے گا۔ جناب وہ صحابہ کرام کا زمانہ تھا۔ اگر آج بھی دنیا سے قرآن پاک کے سارے نسخے ناپید کردئیے جائیں تو ہندوستان کے کسی معمولی گاؤں کا ایک چھوٹا حافظ بچہ بھی قرآن پاک بعینہ لکھواسکتا ہے۔

(3) سوال -- مسلمان خود مانتے ہیں کہ قرآن پاک کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں کہ سورہ یٰسین سورہ بقرہ کے برابر تھی لیکن نسخ وغیرہ ہوکر کٹ کٹا کر اتنی باقی رہی۔ معلوم ہوا کہ یہ قرآن بعینہ وہ نہیں ہے کہہ جو آسمان سے آیا تھا بلکہ اس میں بہت سی تبدیلی ہوچکی ہے۔
جواب -- تحریف کے معنی یہ ہیں کہ کتاب والے کی غیرموجودگی میں اس کی بغیر مرضی اس کی کتاب میں کمی یا زیادتی کردی جائے۔ لیکن اگر صاحب کتاب ہی اپنی مرضی سے اپنی کتاب میں کچھ کمی بیشی کرے تو اس کو کوئی بیوقوف بھی تحریف نہ کہے گا۔ ایک طبیب نسخہ لکھتا ہے۔ بیمار اپنی طرف سے اس میں دوائیں گھٹاتا بڑھاتا ہے تو وہ مریض یقینا مجرم ہے لیکن اگر طبیب ہی مریض کی حالت میں تبدیلی کی بناء پر اپنے نسخے میں کچھ تبدیلی کرتا ہے تو یہ طبیب کی قابلیت اور نسخ کے مکمل ہونے کی دلیل ہے نہ کہ نسخے کی تحریف۔ یہی قرآن پاک میں ہوا کہ بعض سورتوں میں حالات کے موافق خود قرآن بھیجنے والے خدا کی طرف سے ہی احکام بدلے گئے۔ نسخ کی پوری تحقیق ہم انشاءاللہ تعالٰی اس آیت کے ماتحت لکھیں گے کہ ماننسخ من آیۃ انتظار کریں۔

(4) سوال -- مسلمانوں کی بعض جماعتیں (جیسے کہ شیعہ) کہتی ہیں کہ قرآن میں سے دس پارے کم کردئے گئے۔ اور اس قرآن میں سورہ حسنین سورہ علی اور سورہ فاطمہ بھی تھیں۔ پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں گئیں۔ پھر آپ کس منہ سے کہتے ہیں کہ قرآن پاک محفوظ ہے۔
جواب -- کسی بیوقوف شیعہ نے گپ بانکی ہوگی۔ محققین شیعہ تو بڑے شد و مد کے ساتھ اس سے اپنی برات ثابت کرتے ہیں۔ مثلا ملاصادق، شرح کلینی میں، محمد ابن حسن آملی، شیخ صدوق ابو جعفر محمد بن علی بابویہ وغیرہ۔ اور کیوں ثابت نہ کریں، اس لئے کہ اس عقیدے سے تو اہل بیت عظام کے اسلام کی ہی خیر نہ رہے گی۔ کیونکہ پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے اس محرف قرآن کو اپنی نمازوں میں کیوں پڑھا اور اس سے احکام کیوں جاری فرمائے اور قرآن پاک کو تحریف ہوتا ہوا دیکھ کر خاموشی کیوں اختیار کی۔ کیوں نہ سربکف ہو کر میدان میں نکلے۔ اور قرآن پاک کی حفاظت فرمائی۔ اگر وہ اس کام کو کرتے تو تمام مسلمان اس کی امداد کرتے۔ اگر نہ بھی کرتے تو خدا تو امداد کرتا۔ اور خدا بھی امداد نہ کرتا اور جان جاتی تو شہید ہوتے۔ جب مسئلہ خلافت کےلئے امیر معاویہ اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جنگ ہوسکتی تھی تو حفاظت قرآن کےلئے خلفائے ثلاثہ سے بھی جنگ ہوسکتی تھی۔ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ اور اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو حضرت علی مرتضٰی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ خلافت سب کے بعد تھا۔ اس زمانہ میں خلفائے ثلاثہ پردہ فرماچکے تھے۔ کسی کا خوف نہ تھا تو اصلاح فرمانی ضروری تھی۔ شہید کربلا، سیدا شہداء امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ جہاں یزید کی بیعت کے مقابلہ میں جان دے سکتے تھے وہی شہباز اسلام پروانہ شمع رسالت رضی اللہ تعالٰی عنہ اس مسئلہ حفاظت قرآن پر بھی اپنی جان قربان کرسکتے تھے۔ ان تمام حضرات کا بلا اعتراض قرآن پاک کو قبول فرمالینا اس کی صحت کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ کون ایسا بےوقوف شیعہ ہوگا جو کہ اپنے ائمہ دین پر اس قدر اعتراض گوارا کرکے قرآن پاک کی تحریف کا قائل ہوگا۔ اس کی زیادہ تحقیقی منظور ہو تو تفسیر فتح المنان کا مطالعہ کریں باقی اور واہیات اعتراض جو کئے جاتے ہیں مثلا ایاک نعبد وایاک نستعین پر۔ یا قرآن پاک میں انبیاء کرام کے قصوں کے بار بار آنے پر۔ چونکہ ان کا تعلق حفاظت قرآن سے نہیں اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے بلکہ اس آیت کے ماتحت بیان کریں گے۔ ان کنتم فی ریب مما نزلنا النح۔ ناظرین اس کا انتظار کریں۔
تتمۃ بحث:۔ قرآن پاک کا طریقہ تحریر بھی حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہے چنانچہ خراپوتی شریف قصیدہ بردہ میں کتب معتبرہ سے نقل کیا کہ حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو کاتب وحی تھے قلم کا ہاتھ میں لینا دوات کا موقعہ پر رکھنا ب کو سیدھا کرنا۔ سین کو متفرق کرکے لکھنا م کو ٹھیڑھا نہ کرنا وغیرہ سکھاتے تھے۔ اس لئے قرآن پاک کی تحریر اس کی تلاوت ہر ایک میں سنت کا اتباع لازم ہے۔

خواص سورہء یوسف

خواص سورہء یوسف

حفظ قرآن کی سہولت کے لئے پہلے سورہء یوسف یاد کرلو۔ اس کی برکت سے پورا قرآن مجید حفظ کرنا آسان ہو جائے گا۔

جو شخص عہدہ سے معزول ہو گیا ہو وہ اس سورۃ کو تیرہ بار پڑھے عہدہ بحال ہو جائے گا اور حاکم مہربان ہوگا۔

مُفلس آدمی اسے پڑھ کر دعاء مانگے۔ انشاءاللہ تعالٰی چند روز میں غنی ہو جائے گا۔

قرآن کے معنی اور اس کی وجہ تسمیہ !!

قرآن کے معنی اور اس کی وجہ تسمیہ !!

لفظ قرآن یا تو قرء سے بنا ہے یا قرء ۃ سے یا قرن سے ( تفسیر کبیر پارہ نمبر 2)

قرء کے معنے جمع ہونے کے ہیں ، اب قرآن کو قرآن اس لئے کہتے ہیں کہ یہ بھی سارے اولین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے ( تفسیر کبیر روح البیان پارہ نمبر 2)

دین ودنیا کا کوئی ایسا علم نہیں جو قرآن میں نہ ہو ، اسی لئے حق تعالٰی نے خود فرمایا کہ نزلنا علیک الکتٰب تبیاناً لکل شئی ، نیز یہ سورتوں اور آیتوں کا مجموعہ ہے نیز یہ تمام بکھروں کو جمع کرنے والا ہے ، دیکھو ہندی ، سندھی ، عربی ، عجمی لوگ ان کے لباس ، طعام ، زبان ، طریق زندگی سب الگ الگ کوئی صورت نہ تھی کہ یہ اللہ تعالٰی کے بکھرے ہوئے بندے جمع ہوتے لیکن قرآن کریم نے ان سب کو جمع کو فرمایا اور ان کا نام رکھا مسلمان ، خود فرمایا سماکم المسلمین جیسے کہ شہد مختلف باغوں کے رنگ برنگے پھولوں کا رس ہے مگر اب ان سب رسوں کے مجموعے کا نام شہد ہے ، اسی طرح مسلمان مختلف ملکوں ، مختلف زبانوں کے لوگ ہیں ، مگر اب ان کا نام ہے مسلمان ،
تو گویا یہ کتاب اللہ کے بندوں کو جمع فرمانے والی ہے ، اسی طرح زندوں اور مردوں میں بظاہر کوئی علاقہ باقی نہ رہا تھا ، لیکن اس قرآن عظیم نے ان کو بھی خوب جمع فرمایا کہ مردے مسلمان زندوں سے فیض لینے لگے کہ اسی قرآں سے ان پر ایصال ثواب وغیرہ کیا جاتا ہے ، اور زندہ وفات شدہ لوگوں سے کہ وہ حضرات اسی قرآن کی برکت سے ولی ، قطب ، غوث بنے اور ان کا فیض بعد وفات جاری ہوا ان شاء اللہ ان کی بحث وایاک نستعین میں آئے گی ۔

اور اگر یہ قرء ۃ سے بنا ہے تو اس کے معنی ہیں پڑھی ہوئی چیز ۔

تو اب اس کو قرآں اس لئے کہتے ہیں کہ اور انبیائے کرام کو کتابیں یا صحیفے حق تعالٰی کی طرف سے لکھے ہوئے عطا فرمائے گئے ، لیکن قرآن کریم پڑھا ہوا اترا ، اسی طرح کہ جبریل امین حاضر ہوتے اور پڑھ کر سنا جاتے اور یقیناً پڑھا ہوا نازل ہونا لکھے ہوئے نازل ہونے سے افضل ہے ، جس کی بحث دوسری فصل میں آتی ہے ، نیز جس قدر قرآن کریم پڑھا گیا اور پڑھا جاتا ہے اس قدر کوئی دینی دنیوی کتاب دنیا میں نہ پڑھی گئی ۔
کیونکہ جو آدمی کوئی کتاب بناتا ہے ، وہ تھوڑے سے لوگوں کے پاس پہنچتی ہے اور وہ بھی ایک آدھ دفعہ پڑھتے ہیں ، اور پھر کچھ زمانہ بعد ختم ہو جاتی ہے اسی طرح پہلی آسمانی کتابیں بھی خاص خاص جماعتوں کے پاس آئیں اور کچھ دنوں رہ کر پہلے بگڑیں پھر ختم ہوگئیں جس کا ذکر تیسری فصل میں ان شاء اللہ آئے گا لیکن قرآن کریم کی شان ہے کہ سارے عالم کی طرف آیا اور ساری خدائی میں پہنچا ، سب نے پڑھا بار بار پڑھا اور دل نہ بھرا ، اکیلے پڑھا ، جماعتوں کے ساتھ پڑھا اگرکبھی تراویح کی جماعت یا شبینہ دیکھنے کا اتفاق ہو تو معلوم ہوگا کہ اس عظمت کے ساتھ کوئی کتاب پڑھی نہ گئی ، پر لطف بات یہ ہے کہ اس کو مسلمان نے بھی پڑھا اور کفار نے بھی پڑھا ۔

لطیفہ !
ایک بار رام چندر آریہ نے حضرت صدر الافاضل رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ مجھے قرآن کریم کے چودہ پارے یاد ہیں بتائیے آپ کو میرا وید کتنا یاد ہے ؟ حضرت موصوف نے فرمایا ۔
یہ تو میرے قرآن کا کمال ہے کہ دوست تو دوست دشمنوں کے سینوں میں بھی پہنچ گیا ۔ تو تیرے وید کی یہ کمزوری ہے کہ دوستوں کے دل میں بھی گھر نہ کرسکا اور بقول تمہارے دنیا میں وید کو آئے کروڑوں برس ہوچکے ، لیکن ہندوستان سے آگے نہ نکل سکا ۔ مگر قرآن کریم چند صدیوں میں تمام عالم میں پہنچ گیا ۔

اور اگر یہ قرن سے بنا ہے تو قرن کے معنی ہیں ملنا اور ساتھ رہنا ۔
اب اس کو قرآن اس لئے کہتے ہیں کہ حق اور ہدایت اس کے ساتھ ہے ۔
نیز اس کی سورتیں اور آیتیں ہر ایک بعض بعض کے ساتھ ہیں ، کوئی کسی کے مخالف نہیں ، نیز اس میں عقائد اور اعمال اور اعمال میں اخلاق ، سیاسیات ، عبادات ، معاملات تمام ایک ساتھ جمع ہیں ، نیز یہ مسلمان کے ہر وقت ساتھ رہتا ہے ، دل کے ساتھ ، خیال کے ساتھ ، ظاہری اعضاء کے ساتھ اور باطنی عضووں کے ساتھ دل میں پہنچا ، اس کو مسلمان بنایا ، ہاتھ پاؤں ناک کان وغیرہ کو حرام کاموں سے روک کر حلال میں مشغول کردیا ، غرضیکہ سر سے لے کر پاؤں تک کے ہر عضو پر اپنا رنگ جمادیا ، پھر زندگی میں ہر حالت میں ساتھ بچپن میں ساتھ جوانی میں ساتھ بڑھاپے میں ساتھ ۔ پھر ہر جگہ ساتھ رہا تخت پر ساتھ ، تختے پر ساتھ گھر میں ساتھ ، مسجد میں ساتھ ، آبادی میں ساتھ ، جنگل میں ساتھ ، سوتے میں ساتھ ، جاگتے میں ساتھ ، مصیبت میں ساتھ ، آرام میں ساتھ ، سفر میں ساتھ حضر میں ساتھ ، غرضیکہ ہر حال میں ساتھ ، پھر مرتے وقت ساتھ کہ پڑھتے اور سنتے ہوئے مرے ، قبر میں ساتھ کہ بعض صحابہ کرام کو ان کی وفات کے بعد قبر میں قرآن پاک پڑھتے ہوئے سنا گیا ، اور حشر میں ساتھ کہ گنہگار کو خدا سے بخشوائے ، پل صراط پر نور بن کر مسلمان کے آگے آگے چلے اور راستہ دکھائے اور بتائے اور جب مسلمان جنت میں پہنچے گا تو فرمایا جائے گا کہ پڑھتا جا اور پڑھتا جا ۔
غرضیکہ یہ مبارک چیز کبھی بھی ساتھ نہیں چھوڑتی ،

اس کا دوسرا نام فرقان بھی ہے ، یہ لفظ فرق سے بنا ہے اس کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز قرآن کو فرقان اس لئے کہتے ہیں حق و باطل ، جھوٹ اور سچ ، مومن اور کافر میں فرق فرمانے والا ہے ، قرآن بارش کی مثل ہے دیکھو کسان زمین کے مختلف حصوں میں مختلف بیج بو کر چھپا دیتا ہے ، کسی کو پتہ نہیں لگتا کہ کہاں کونسا بیج بویا ہوا ہے ، مگر بارش ہوتے ہی جو بیج دفن تھا ، وہاں وہی پودا نکل آتا ہے ، تو بارش زمین کے اندررونی تخم کو ظاہر کرتی ہے ، اسی طرح رب تعالٰی نے اپنےبندوں کے سینوں میں ہدایت ، گمراہی ، سعادت ، شقاوت ، کفر و ایمان کے مختلف تخم امانت رکھے ، نزول قرآن سے پہلے سب یکساں معلوم ہوتے تھے ، صدیق و ابوجہل ، فاروق وابولہب، میں فرق نظر نہیں آتا تھا ، قرآن نے نازل ہوکر کھرا اور کھوٹا علیحدہ کردیا ، صدیق کا ایمان زندیق کا کفر ظاہرفرمادیا ، لہٰذا اس کا نام فرقان ہوا ۔ یعنی ان میں فرق ظاہر فرمانے والا