پیر، 2 اپریل، 2012

تلاوت قرآن

تلاوت قرآن
بزرگان دین کی عادتیں تلاوت قرآن پاک کے متعلق جداگانہ تھیں۔ بعض حضرات تو ایک دن رات میں آٹھ ختم کرلیتے تھے۔ چار دن میں اور چار رات میں بعض حضرات چار،، بعض دو، اور بعض ایک اور بعض لوگ دو دن میں ایک ختم اور بعض تین دن میں، بعض پانچ دن میں، بعض سات دن میں اور سات دن میں ختم کرنا اکثر صحابہ کرم کا معمول تھا۔ اس میں لوگوں کے حالات مختلف ہیں۔ بعض تو نہایت تیز پڑھنے کی صورت میں بھی حروف کو ان کے مخرجوں سے ادا کرنے اور صحیح پڑھنے پر قادر ہوتے ہیں اور بعض لوگ اکثر تیز پڑھیں تو صحیح نہیں پڑھ سکتے۔ لہٰذا تلاوت کرنے والوں کو چاہئیے کہ صحیح پڑھنے کی کوشش کریں کیونکہ ثواب صحیح پڑھنے میں ہے نہ کہ محض جلدی پڑھنے میں۔ حضرت ام سلمہ ضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح تلاوت فرماتے تھے کہ ایک ایک حرف صاف صاف معلوم ہوتا تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے تھے کہ قرآن کریم جب دل میں اترتا ہے۔ تب اس میں جمتا ہے اور نفع دیتا ہے۔ تلاوت کرنے والا جس اطمینان اور سکون کے ساتھ دنیا میں تلاوت کرتا تھا۔ اسی اطمینان کے ساتھ تلاوت کرتا ہوا جنت میں بڑھتا جائے گا اور جہاں تک اس کی تلاوت ختم ہوگی۔ وہاں تک کا سب ملک اس کو دیا جائے گا۔ بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ اگر عربی سمجھنے پر قدرت رکھتا ہو تو اس کے معانی اور مضامین پر غور کرتا جائے اور رحمت کی آیت آئے تو خوش ہو اور خدا سے رحمت مانگ لے اور جب عذاب کی آیت آئے تو ڈرے اور اس سے پناہ مانگے۔ نیز کوشش کرے کہ تلاوت کے وقت دل حاضر ہو اور خشوع اور خضوع کے ساتھ پڑھے یہاں تک کہ رقت آجائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ اور اگر معنی نہ سمجھتا ہو تو یہ سمجھ کر تلاوت کرے کہ یہ وہی الفاظ ہیں جو حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے اور حضور کے صحابہ بھی اولیاء اللہ بھی علماء دین بھی۔ جیسے ہلال عید میں تمام انسانوں کی نگاہیں جمع ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی الفاظ قرآن مجید میں سب کی تلاوتیں اور ادائیں جمع ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ سمجھ کر تلاوت کی تو انشاءاللہ بہت لذت آوے گی۔ اگرچہ بے وضو بھی قرآن پڑھنا جائز ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ وضو کرکے تلاوت کرے۔ اس میں زیادہ ثواب ہے اور سنت یہ ہے کہ تلاوت پاک جگہ میں ہو مسجد میں ہو تو اور زیادہ بہتر ہے۔ یہ بھی مستحب ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے سر جھکا کر اطمینان سے پڑھے اور اگر تلاوت کرتے وقت مسواک وغیرہ سے منہ کو صاف کرے اور خوشبو بھی لگائے تو بہت ہی اچھا ہے کیونکہ جتنا ادب زیادہ اتنا ہی فیض زیادہ تلاوت سے پہلے اعوذباللہ اور بسم اللہ بھی پڑھے اور تلاوت کی حالت میں کسی سے بلا ضرورت بات کرنا مکروہ ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ تلاوت کے دوران میں کسی سے کلام نہ فرماتے تھے اور اگر کلام کرنا پڑجاوے تو کلام کے دوران میں قرآن شریف بند رکھے اور پھر بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے۔ مسئلہ جنبی حیض و نفاس والی عورتوں کا قرآن پاک کو چھونا بھی جائز نہیں۔ اگر چھونا پڑجائے تو کسی علیحدہ کپڑے سے چھوئیں۔ ادب یہ ہے کہ بے وضو آدمی بھی بغیر کپڑے کے قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگائے۔ فرق یہ ہے کہ بے وضو اپنے کرتہ کے دامن سے بھی پکڑسکتا ہے اور وہ لوگ علیحدہ کپڑے سے پکڑیں ،بہتر یہ ہے کہ جس دن قرآن پاک ختم کرے اس دن اپنے گھر والوں دوستو کو جمع کریں۔ سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی نعہ قرآن کے ختم کے وقت اپنے اہل قرابت کو جمع فرماتے اور دعا کرتے تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس وقت رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جو قرآن پاک پڑھ کر حق تعالٰی کی حمد کرے اور دورود پڑھے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو رحمت الٰہی اس کو تلاش کرتی ہے۔ تلاوت کرنے والے کو چاہئیے کہ قرآن پاک ختم کرتے ہی دوسری بار اس کو شروع کردے۔ یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر سورہ بقرہ مفلحون تک پڑھ لے۔ پھر دعا مانگے۔ مسئلہ حافظ تراویح میں جب قرآن پاک پڑھے تو ایک بار کسی نہ کسی جگہ بسم اللہ شریف بلند آواز سے ضرور پڑھے کیونکہ یہ بھی قرآن پاک کی آیت ہے اور مستحب یہ ہے کہ ہر نمازی نماز میں جب کوئی سورۃ شروع کرے تو آہستہ سے بسم اللہ پڑھ لیا کرے سوائے سورۃ توبہ کے۔ اس کی پوری بحث تفسیر خزائن العرفان کے مقدمہ میں دیکھو۔ تتمہ قرآن پاک کا چھوٹی تقطیع پر یا تعویذی طرح چھاپنا مکروہ ہے۔ چاہئیے یہ کہ بڑی تقطیع پر چھاپا جائے۔ حروف خوب کھلے ہوں اور اس کے رکوع اور آیتوں اور منزلوں کو دیدہ زیب بنانا مستحب ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن پاک کی عظمت کا اظہار ہے۔ قرآن پاک اتنی جلدی پڑھنا کہ جس سے بجز تَعلَمُونَ اور یَعلَمُونَ کچھ سمجھ میں نہ آئے، یعنی حروف کی ادائیگی پوری طرح نہ ہو، سخت برا ہے۔ حافظوں کو اس کا بہت لحاظ رکھنا چاہئیے۔ مسئلہ جس جگہ سب لوگ اپنے کاربار میں مشغول ہوں وہاں قرآن پاک بے آواز سے پڑھنا منع ہے۔ یا تو تنہائی میں بلند پڑھو یا وہاں جہاں کم سے کم ایک آدمی سننے والا ہو کیونکہ اس کا سننا فرض کفایہ ہے مسئلہ: چند شخصوں کا بیک وقت بلند آواز سے تلاوت کرنا منع ہے۔ یا تو ایک پڑھے تو باقی سب سنیں یا بہت آہستہ پڑھیں تیجے اور ختم والوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئیے۔ مکتبوں اور مدرسوں میں جو بچے مل کر پڑھتے ہیں، یہ مجبوری کی وجہ سے ہے۔ مسئلہ قرآن پاک کو خلاف ترتیب الٹا پڑھنا ممنوع ہے۔ ہاں اگر خارج نماز درمیان میں بھیڑتا جائے جس سے الگ الگ قرآیتیں معلوم ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں (شامی) اور ترتیب کے مطابق جگہ جگہ سے آیتوں کا پڑھنا جائز ہے۔ جیسا کہ فاتحہ اور ختم کے وقت کیا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں