قرآن پاک کی ترتیب اور اس کا جمع ہونا
پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا۔ قرآن کریم فرماتا ہے قرآن مجید فی لوح محفوظ پھر وہاں سے پہلے آسمان پر لایا گیا۔ پھر وہاں سے تیئس سال میں آہستہ آہستہ حضور علیہ السلام پر نازل ہوتا رہا۔ مگر یہ نازل ہونا اس لکھے ہوئے کی ترتیب کے موافق نہ تھا۔ کیونکہ یہ نزول بندوں کی ضرورت کے مطابق ہوتا تھا جس آیت کی ضرورت ہوئی وہی آگئی۔ مثلا اگر اول ہی سے شراب کے حرام ہونے کی آیتیں اتر آتیں تو یقینا عرب کے نئے مسلمانوں کو دشواری واقع ہوتی کیونکہ وہاں عام طور پر شراب پی جاتی تھی۔ اس طرح سارے احکام کو سمجھ لو لیکن چونکہ حضور علیہ السلام کی کی نگاہ پاک لوح محفوظ وغیرہ پر تھی اس لئے آپ ہر آیت کے نزول کے وقت اس کو ترتیب سے جمع کرادیتے تھے اس طرح کہ جو حضرات کاتب وحی مقرر تھے ان کو فرمادیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھو اور یہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق تھی۔ اور طریقہ اس وقت یہ تھا کہ حضرت زید بن ثابت و دیگر بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اس خدمت کو انجام دینے کےلئے مقرر تھے۔
جس وقت جو آیت اترتی حضور علیہ السلام کے حکم کے مطابق اونٹ کی ہڈیوں پر کجھور کے پٹھوں پر اور مختلف کاغذوں پر لکھ لیتے تھے۔ اور یہ چیزیں متفرق طور پر لوگوں کے پاس رہیں لیکن ان حضرات کو زیادہ اعتماد حفیظ پر تھا۔ یعنی عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پورے قرآن کے حافظ تھے جیسا کہ آج حافظ ہیں۔ بلکہ اس سے زیادہ تو یوں سمجھو کہ قرآن پاک کی ترتیب خود حضور علیہ السلام نے دے دی تھی۔ لیکن ایک جگہ کتابی شکل میں جمع نہ فرمایا تھا۔ اس کی تین و جلدیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ چونکہ صدہا حافظ اس کو اسی ترتیب سے یاد کرچکے تھے جو آج تک چلی آرہی ہے اور نماز میں پڑھنا فرض تھا۔ اور نماز کے علاوہ بھی صحابہ کرام برکت کےلئے اس کو کثرت اوقات پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اس لئے اس کے ضائع ہونے کا کچھ اندیشہ نہ تھا اور دوسرے یہ کہ جہاد اور دیگر ضروریات زندگی کی وجہ سے اتنا موقعہ نہ مل سکا کہ اس کو ایک جگہ جمع کیا جاتا۔ اور تیسرے یہ کہ جب تک کہ پورا قرآن پاک نہ آجاتا۔ اس کو جمع کرنا غیر ممکن تھا کیونکہ ہر سورت کی کچھ آیات اترچکی تھیں کچھ اترنے والی تھیں حضور کی وفات سے کچھ روز پہلے نزول قرآن کی تکمیل ہوئی۔ غرضیکہ حضور علیہ السلام کی زندگی پاک میں قرآن کریم کتابی شکل میں ایک جگہ جمع نہ ہوسکا۔ البتہ مرتب ہوگیا اللہ کی شان کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے زمانے میں یعنی حضور علیہ السلام کی وفات ہی کے سال ملک یمانہ کے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے صحابہ کرام کو سخت جنگ کرنی پڑی اور اس جنگ میں تقریبا سات سو حافظ قرآن بھی شہید ہوگئے تب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بارگاہ صدیقی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر اسی طرح حافظ اور قرآء شہید ہوتے رہے تو بہت جلد قرآن پاک ضائع ہوجائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا جنہوں نے حضور علیہ السلام کے زمانہ پاک میں وحی لکھنے کی خدمت انجام دی تھی اور اس کا مہتمم حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قرار دیا کہ تم تمام جگہ سے قرآن پاک کی آیات جمع کرکے کتابی شکل میں تیار کرو۔ زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے۔ آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام نے نہ کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے۔
(نوٹ) اس سے بدعت حسنہ کا ثبوت ہوا۔ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت محنت اور جانفشانی سے ان تمام آیتوں کو یکجا جمع کیا جو کہ لوگوں کے سینوں کجھور کے پٹھوں اور ہڈیوں میں لکھی ہوئی تھیں اور ترتیب وہی رہی جو حضور علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ یہ قرآن کا نسخہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حیات میں ان کے پاس رہا۔ پھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس رہا۔ پھر ان کے بعد فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیٹی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ آرمینیہ اور آذربایجان کے کفار سے جنگ فرمارہے تھے۔ وہاں کی مہم سے فارغ ہوکر حاضر بارگاہ ہوئے اور عرض کیا کہ "اے امیر المومنین لوگوں میں قرآن پاک کے متعلق اختلاف شروع ہوگئے ہیں اگر یہ اختلاف بڑھتے رہے تو مسلمانوں کا حال یہود و نصارٰی کی طرح ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کا جلد کوئی انتظام کیجئے۔ وجہ اختلاف یہ تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے نسخوں میں حضور علیہ السلام کے وہ الفاظ بھی لکھے تھے جو آپ نے بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے اور وہ حضرات اس کو قرآن ہی کا جزو سمجھ لیتے تھے۔ حالانکہ وہ الفاظ قرآن نہ تھے۔ جیسے کہ مصحف ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ نیز ایک نسخہ تمام ملک کے مسلمانوں کےلئے اب کافی نہ تھا۔ نیز حافظ صحابہ کرام کو جو لقمہ قرآن مجید میں لگتا تھا اس کے نکالنے میں بہت دشواری ہوتی تھی۔ ان وجوہ کی بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پھر زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم فرمایا اور ان کی مدد کےلئے عبداللہ ابن زبیر اور سعید ابن عاص اور عبداللہ ابن حارث ابن ہشام کو مقرر کیا۔ ان حضرات نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس سے پہلے جمع کئے ہوئے قرآن کو منگایا اور پھر اس کا مقابلہ حفاظ کے حفظ قرآن سے نہایت تحقیق سے کرکے چھ یا سات نسخے نقل کئے۔ اور یہ نسخے عراق، شام، مصر وغیرہ اسلام ممالک میں بھیج دئیے اور اصل نسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو واپس کردیا اور جن صحابہ کرام کے پاس تفسیر سے ملے ہوئے قرآن کے نسخے تھے اور وہ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھے تھے ان کو منگواکر جلوادیا گیا کیونکہ ان نسخوں کا باقی رہنا آئندہ بڑے فتنوں کا دروادہ کھول دیتا کہ آئندہ لوگ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھتے۔ الحمداللہ اب تک قرآن پاک اسی طرح بلا کم و کاست مسلمانوں میں چلا آرہا ہے۔ ناظرین ہماری اس تقریر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کی ترتیب نزول قرآن کے مطابق ہوسکتی ہی نہیں تھی۔ کیونکہ موجود ہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے مطابق ہے اور قرآن پاک کا نزول ضرورت کے مطابق ہوا۔ اور یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کو ترتیب دینے والے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں لیکن اس کو کتابی شکل میں ترتیب دینے والے اولا "صدیق اکبر اور دوسرے عثمان غنی ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین اس لئے آپ کا لقب ہے عثمان جامع قرآن۔ نکتہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کہ صحابہ کرام نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جس بیعت کا نام بیعت الرضوان ہے۔ اس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ موجود نہ تھے۔ کیونکہ ان کو حضور کی طرف سے مکہ مغطمہ بھیجا گیا تھا۔ تو حضور علیہ السلام نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور خود ان کی طرف سے بیعت فرمائی ع
خود کو زد ہ د خود کو زہ گرد خود گل کو زہ !
تو حضور علیہ السلام کا ہاتھ گویا عثمان غنی کا ہاتھ ہوا۔ اور حق تعالٰی نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرمایا۔یداللہ فوق ایدیھم تو گویا اس واسطے سے عثمان غنی کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے اور قرآن کریم اللہ کا کلام۔ تو یوں کہ کلام اللہ، ید اللہ نے جمع فرمایا۔ اس لئے عثمان غنی کو جمع قرآن کےلئے منتخب فرمایا گیا۔ (نوٹ ضروری) قرآن پاک کی تقسیم اس زمانہ پاک میں دو طریقے سے ہوچکی تھی۔ ایک سورتوں سے، دوسری منزلوں سے یعنی قرآن پاک کی سات منزلیں کی گئی تھیں کہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے ختم کرسکے سات دن میں ان منزلوں کو فمی شرق میں جمع کیا گیا ہے یعنی پہلی منزل سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری مائدہ سے۔ تیسری سورۃ یونس سے، چوتھی سورۃ بنی اسرائیل سے۔ پانچویں سورۃ شعراء سے چھٹی سورۃ والصفت سے اور ساتویں سورۃ ق سے پھر اس کے بعد قرآن پاک کے تیس حصے برابر کئے گئے جس کا نام رکھا گیا تیس سیپارے تاکہ تلاوت کرنے والا ایک سیپارہ روز کے حسابب سے ایک مہنہ میں قرآن پاک ختم کرسکے۔ پھر قرآن پاک میں زیر و زبر نہ ہونے کی وجہ سے اس کے تلاوت کرنے میں سخت دشواری محسوس ہوتی تھی کیونکہ غیر عربی لوگ تو پڑھ ہی نہ سکتے تھے اور عربی حضرات بھی بعض بعض موقعوں پر دشواری محسوس کرتے تھے۔ لہٰذا اس میں زیر و زبر لگائے گئے اور نون قطنی ظاہر کئے گئے۔ مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے کیا۔ اسی حجاج بن یوسف نے سورتوں کے نام قرآن میں لکھے۔ اس سے پہلے یہ نام قرآن میں نہ لکھے تھے (تفسیر خزائن العرفان) پھر اس میں تفسیر روح البیان آخر سورۃ حضرات میں مصحف عثمانی میں نہ نقطے تھے نہ اعراب نہ رکوع نہ سیپارے۔ نقطے لگانے والے اعراب لگانے والے ابوا سودہ بلی تابعی ہیں جنہوں نے حجاج ابن یوسف کے حکم سے یہ کام کیا۔ پھر خلیل ابن احمد فرامیدی نے مد اور وقف وغیرہ کی علامات قرآن میں لگائیں اور یعرب ابن قحطان نے قرآن کو عربی خط یعنی نسخ میں لکھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قرآن کے تیس پارے اور اس میں نصف، ربع، ثلث کے نشانات مامون عباسی کے زمانے میں لگائے گئے رکوع بنائے گئے۔ یعنی حضرت عثمان غنی رمضان شریف کی تراویح کی نماز میں جس قدر قرآن پاک پڑھ کر رکوع فرماتے تھے۔ اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا۔ اس لئے اس کے نشان پر قرآن مجید کے حاشیے پر ع لگادیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے بعض کہتے ہیں کہ عثمان کے نام کاعین۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ رکوع کا عین ہے تو حقیقت میں یہ تمام کام تلاوت کرنے والے کی آسانی کےلئے کئے گئے لطیفہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح بیس رکعت ہونی چاہئیے نہ کہ آٹھ رکعت، اس لئے کہ حضرت عثمان روازنہ بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ہر رکعت میں قرآن پاک ایک رکوع پڑھتے اور ستائیسویں رمضان المبارک ختم قرآن پاک فرماتے۔ اس حساب سے کل پانچ سو چالیس رکوع بنتے ہیں اور کل رکوع قرآن پاک کے پانچ سو چھپن ہیں۔ چونکہ بعض سورتیں بہت چھوٹی ہیں اس لئے بعض رکعتوں میں دو سورتیں پڑھ لی جاتی ہیں۔ اگر تراویح آٹھ رکعت ہوئی جیسے وہابی کہتے ہیں تو قرآن پاک کے رکوع کو دو سو سولہ ہونے چاہئیے تھے۔ اس کی مزید تحقیق کےلئے ہماری کتاب لمعات المصابیح علی الرکعات التراویح دیکھو۔ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں کہ ان کو بھی آیتوں کی طرح حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے ہی ترتیب دیا تھا۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ نہیں بلکہ صحابہ کرام کے اجہتاد سے یہ ترتیب ہوئی لیکن تفسیر عزیزی نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے بہت سی سورتوں کی ترتیب اشارۃ خود ہی فرمادی تھی جیسے کہ ساتھ طویل سورتیں اور حم والی اور مفصل کی سورتیں۔ ان کو حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے نمازوں یا اپنے وظیفوں میں ترتیب وار پڑھ کر بتلادیا تھا۔ اور بعض سورتوں کی ترتیب حضور کے بعد صحابہ کرام کے اجتہاد سے مضامین کی مناسبت سے واقع ہوئی جیسے کہ کسی بڑے شاعر کے کلام کو ہم ترتیب دیں تو اس کو ردیف کے حرفوں کے مطابق اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ بڑی بڑی غزلیں اور قصیدے پہلے اور مثنوی اس کے بعد اور قطعے اور رباعیاں اس کے بعد۔ تو ترتیب میں کلام کی موزونیت کا لحاظ رکھا جاتا ہے نہ کہ اس نے یہ کلام کب کہا۔ اسی لئے مدنی بڑی بڑی سورتیں قرآن پاک میں اول ہیں اور مکی سورتیں بعد میں۔
پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا۔ قرآن کریم فرماتا ہے قرآن مجید فی لوح محفوظ پھر وہاں سے پہلے آسمان پر لایا گیا۔ پھر وہاں سے تیئس سال میں آہستہ آہستہ حضور علیہ السلام پر نازل ہوتا رہا۔ مگر یہ نازل ہونا اس لکھے ہوئے کی ترتیب کے موافق نہ تھا۔ کیونکہ یہ نزول بندوں کی ضرورت کے مطابق ہوتا تھا جس آیت کی ضرورت ہوئی وہی آگئی۔ مثلا اگر اول ہی سے شراب کے حرام ہونے کی آیتیں اتر آتیں تو یقینا عرب کے نئے مسلمانوں کو دشواری واقع ہوتی کیونکہ وہاں عام طور پر شراب پی جاتی تھی۔ اس طرح سارے احکام کو سمجھ لو لیکن چونکہ حضور علیہ السلام کی کی نگاہ پاک لوح محفوظ وغیرہ پر تھی اس لئے آپ ہر آیت کے نزول کے وقت اس کو ترتیب سے جمع کرادیتے تھے اس طرح کہ جو حضرات کاتب وحی مقرر تھے ان کو فرمادیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھو اور یہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق تھی۔ اور طریقہ اس وقت یہ تھا کہ حضرت زید بن ثابت و دیگر بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اس خدمت کو انجام دینے کےلئے مقرر تھے۔
جس وقت جو آیت اترتی حضور علیہ السلام کے حکم کے مطابق اونٹ کی ہڈیوں پر کجھور کے پٹھوں پر اور مختلف کاغذوں پر لکھ لیتے تھے۔ اور یہ چیزیں متفرق طور پر لوگوں کے پاس رہیں لیکن ان حضرات کو زیادہ اعتماد حفیظ پر تھا۔ یعنی عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پورے قرآن کے حافظ تھے جیسا کہ آج حافظ ہیں۔ بلکہ اس سے زیادہ تو یوں سمجھو کہ قرآن پاک کی ترتیب خود حضور علیہ السلام نے دے دی تھی۔ لیکن ایک جگہ کتابی شکل میں جمع نہ فرمایا تھا۔ اس کی تین و جلدیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ چونکہ صدہا حافظ اس کو اسی ترتیب سے یاد کرچکے تھے جو آج تک چلی آرہی ہے اور نماز میں پڑھنا فرض تھا۔ اور نماز کے علاوہ بھی صحابہ کرام برکت کےلئے اس کو کثرت اوقات پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اس لئے اس کے ضائع ہونے کا کچھ اندیشہ نہ تھا اور دوسرے یہ کہ جہاد اور دیگر ضروریات زندگی کی وجہ سے اتنا موقعہ نہ مل سکا کہ اس کو ایک جگہ جمع کیا جاتا۔ اور تیسرے یہ کہ جب تک کہ پورا قرآن پاک نہ آجاتا۔ اس کو جمع کرنا غیر ممکن تھا کیونکہ ہر سورت کی کچھ آیات اترچکی تھیں کچھ اترنے والی تھیں حضور کی وفات سے کچھ روز پہلے نزول قرآن کی تکمیل ہوئی۔ غرضیکہ حضور علیہ السلام کی زندگی پاک میں قرآن کریم کتابی شکل میں ایک جگہ جمع نہ ہوسکا۔ البتہ مرتب ہوگیا اللہ کی شان کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے زمانے میں یعنی حضور علیہ السلام کی وفات ہی کے سال ملک یمانہ کے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے صحابہ کرام کو سخت جنگ کرنی پڑی اور اس جنگ میں تقریبا سات سو حافظ قرآن بھی شہید ہوگئے تب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بارگاہ صدیقی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر اسی طرح حافظ اور قرآء شہید ہوتے رہے تو بہت جلد قرآن پاک ضائع ہوجائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا جنہوں نے حضور علیہ السلام کے زمانہ پاک میں وحی لکھنے کی خدمت انجام دی تھی اور اس کا مہتمم حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قرار دیا کہ تم تمام جگہ سے قرآن پاک کی آیات جمع کرکے کتابی شکل میں تیار کرو۔ زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے۔ آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام نے نہ کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے۔
(نوٹ) اس سے بدعت حسنہ کا ثبوت ہوا۔ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہایت محنت اور جانفشانی سے ان تمام آیتوں کو یکجا جمع کیا جو کہ لوگوں کے سینوں کجھور کے پٹھوں اور ہڈیوں میں لکھی ہوئی تھیں اور ترتیب وہی رہی جو حضور علیہ السلام نے فرمائی تھی۔ یہ قرآن کا نسخہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حیات میں ان کے پاس رہا۔ پھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس رہا۔ پھر ان کے بعد فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیٹی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ آرمینیہ اور آذربایجان کے کفار سے جنگ فرمارہے تھے۔ وہاں کی مہم سے فارغ ہوکر حاضر بارگاہ ہوئے اور عرض کیا کہ "اے امیر المومنین لوگوں میں قرآن پاک کے متعلق اختلاف شروع ہوگئے ہیں اگر یہ اختلاف بڑھتے رہے تو مسلمانوں کا حال یہود و نصارٰی کی طرح ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کا جلد کوئی انتظام کیجئے۔ وجہ اختلاف یہ تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے نسخوں میں حضور علیہ السلام کے وہ الفاظ بھی لکھے تھے جو آپ نے بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے اور وہ حضرات اس کو قرآن ہی کا جزو سمجھ لیتے تھے۔ حالانکہ وہ الفاظ قرآن نہ تھے۔ جیسے کہ مصحف ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ نیز ایک نسخہ تمام ملک کے مسلمانوں کےلئے اب کافی نہ تھا۔ نیز حافظ صحابہ کرام کو جو لقمہ قرآن مجید میں لگتا تھا اس کے نکالنے میں بہت دشواری ہوتی تھی۔ ان وجوہ کی بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پھر زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم فرمایا اور ان کی مدد کےلئے عبداللہ ابن زبیر اور سعید ابن عاص اور عبداللہ ابن حارث ابن ہشام کو مقرر کیا۔ ان حضرات نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس سے پہلے جمع کئے ہوئے قرآن کو منگایا اور پھر اس کا مقابلہ حفاظ کے حفظ قرآن سے نہایت تحقیق سے کرکے چھ یا سات نسخے نقل کئے۔ اور یہ نسخے عراق، شام، مصر وغیرہ اسلام ممالک میں بھیج دئیے اور اصل نسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو واپس کردیا اور جن صحابہ کرام کے پاس تفسیر سے ملے ہوئے قرآن کے نسخے تھے اور وہ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھے تھے ان کو منگواکر جلوادیا گیا کیونکہ ان نسخوں کا باقی رہنا آئندہ بڑے فتنوں کا دروادہ کھول دیتا کہ آئندہ لوگ اس کو قرآن پاک ہی سمجھ بیٹھتے۔ الحمداللہ اب تک قرآن پاک اسی طرح بلا کم و کاست مسلمانوں میں چلا آرہا ہے۔ ناظرین ہماری اس تقریر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کی ترتیب نزول قرآن کے مطابق ہوسکتی ہی نہیں تھی۔ کیونکہ موجود ہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے مطابق ہے اور قرآن پاک کا نزول ضرورت کے مطابق ہوا۔ اور یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن پاک کو ترتیب دینے والے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں لیکن اس کو کتابی شکل میں ترتیب دینے والے اولا "صدیق اکبر اور دوسرے عثمان غنی ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین اس لئے آپ کا لقب ہے عثمان جامع قرآن۔ نکتہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کہ صحابہ کرام نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جس بیعت کا نام بیعت الرضوان ہے۔ اس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ موجود نہ تھے۔ کیونکہ ان کو حضور کی طرف سے مکہ مغطمہ بھیجا گیا تھا۔ تو حضور علیہ السلام نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور خود ان کی طرف سے بیعت فرمائی ع
خود کو زد ہ د خود کو زہ گرد خود گل کو زہ !
تو حضور علیہ السلام کا ہاتھ گویا عثمان غنی کا ہاتھ ہوا۔ اور حق تعالٰی نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرمایا۔یداللہ فوق ایدیھم تو گویا اس واسطے سے عثمان غنی کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے اور قرآن کریم اللہ کا کلام۔ تو یوں کہ کلام اللہ، ید اللہ نے جمع فرمایا۔ اس لئے عثمان غنی کو جمع قرآن کےلئے منتخب فرمایا گیا۔ (نوٹ ضروری) قرآن پاک کی تقسیم اس زمانہ پاک میں دو طریقے سے ہوچکی تھی۔ ایک سورتوں سے، دوسری منزلوں سے یعنی قرآن پاک کی سات منزلیں کی گئی تھیں کہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے ختم کرسکے سات دن میں ان منزلوں کو فمی شرق میں جمع کیا گیا ہے یعنی پہلی منزل سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری مائدہ سے۔ تیسری سورۃ یونس سے، چوتھی سورۃ بنی اسرائیل سے۔ پانچویں سورۃ شعراء سے چھٹی سورۃ والصفت سے اور ساتویں سورۃ ق سے پھر اس کے بعد قرآن پاک کے تیس حصے برابر کئے گئے جس کا نام رکھا گیا تیس سیپارے تاکہ تلاوت کرنے والا ایک سیپارہ روز کے حسابب سے ایک مہنہ میں قرآن پاک ختم کرسکے۔ پھر قرآن پاک میں زیر و زبر نہ ہونے کی وجہ سے اس کے تلاوت کرنے میں سخت دشواری محسوس ہوتی تھی کیونکہ غیر عربی لوگ تو پڑھ ہی نہ سکتے تھے اور عربی حضرات بھی بعض بعض موقعوں پر دشواری محسوس کرتے تھے۔ لہٰذا اس میں زیر و زبر لگائے گئے اور نون قطنی ظاہر کئے گئے۔ مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے کیا۔ اسی حجاج بن یوسف نے سورتوں کے نام قرآن میں لکھے۔ اس سے پہلے یہ نام قرآن میں نہ لکھے تھے (تفسیر خزائن العرفان) پھر اس میں تفسیر روح البیان آخر سورۃ حضرات میں مصحف عثمانی میں نہ نقطے تھے نہ اعراب نہ رکوع نہ سیپارے۔ نقطے لگانے والے اعراب لگانے والے ابوا سودہ بلی تابعی ہیں جنہوں نے حجاج ابن یوسف کے حکم سے یہ کام کیا۔ پھر خلیل ابن احمد فرامیدی نے مد اور وقف وغیرہ کی علامات قرآن میں لگائیں اور یعرب ابن قحطان نے قرآن کو عربی خط یعنی نسخ میں لکھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قرآن کے تیس پارے اور اس میں نصف، ربع، ثلث کے نشانات مامون عباسی کے زمانے میں لگائے گئے رکوع بنائے گئے۔ یعنی حضرت عثمان غنی رمضان شریف کی تراویح کی نماز میں جس قدر قرآن پاک پڑھ کر رکوع فرماتے تھے۔ اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا۔ اس لئے اس کے نشان پر قرآن مجید کے حاشیے پر ع لگادیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے بعض کہتے ہیں کہ عثمان کے نام کاعین۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ رکوع کا عین ہے تو حقیقت میں یہ تمام کام تلاوت کرنے والے کی آسانی کےلئے کئے گئے لطیفہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح بیس رکعت ہونی چاہئیے نہ کہ آٹھ رکعت، اس لئے کہ حضرت عثمان روازنہ بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ہر رکعت میں قرآن پاک ایک رکوع پڑھتے اور ستائیسویں رمضان المبارک ختم قرآن پاک فرماتے۔ اس حساب سے کل پانچ سو چالیس رکوع بنتے ہیں اور کل رکوع قرآن پاک کے پانچ سو چھپن ہیں۔ چونکہ بعض سورتیں بہت چھوٹی ہیں اس لئے بعض رکعتوں میں دو سورتیں پڑھ لی جاتی ہیں۔ اگر تراویح آٹھ رکعت ہوئی جیسے وہابی کہتے ہیں تو قرآن پاک کے رکوع کو دو سو سولہ ہونے چاہئیے تھے۔ اس کی مزید تحقیق کےلئے ہماری کتاب لمعات المصابیح علی الرکعات التراویح دیکھو۔ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں کہ ان کو بھی آیتوں کی طرح حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے ہی ترتیب دیا تھا۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ نہیں بلکہ صحابہ کرام کے اجہتاد سے یہ ترتیب ہوئی لیکن تفسیر عزیزی نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے بہت سی سورتوں کی ترتیب اشارۃ خود ہی فرمادی تھی جیسے کہ ساتھ طویل سورتیں اور حم والی اور مفصل کی سورتیں۔ ان کو حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے نمازوں یا اپنے وظیفوں میں ترتیب وار پڑھ کر بتلادیا تھا۔ اور بعض سورتوں کی ترتیب حضور کے بعد صحابہ کرام کے اجتہاد سے مضامین کی مناسبت سے واقع ہوئی جیسے کہ کسی بڑے شاعر کے کلام کو ہم ترتیب دیں تو اس کو ردیف کے حرفوں کے مطابق اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ بڑی بڑی غزلیں اور قصیدے پہلے اور مثنوی اس کے بعد اور قطعے اور رباعیاں اس کے بعد۔ تو ترتیب میں کلام کی موزونیت کا لحاظ رکھا جاتا ہے نہ کہ اس نے یہ کلام کب کہا۔ اسی لئے مدنی بڑی بڑی سورتیں قرآن پاک میں اول ہیں اور مکی سورتیں بعد میں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں