نیٹو کے ’حملے‘، تین پاکستانی اہلکار ہلاک
یہ رواں ماہ نیٹو ہیلی کاپٹرز کی پاکستانی حدود میں چوتھی کارروائی ہے
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی دو کارروائیوں میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق دونوں کارروائیاں جمعرات کی صبح قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں کی گئی ہیں۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ تازہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے خلاف نیٹو کے ساتھ شدید احتجاج پر یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نیٹو اور ایساف اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کی پاسداری کریں گے اور پاکستان کی خود مختاری پامال نہیں کریں گے۔
’ہم ہر حال میں پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔ ہم اپنی خود مختاری کی پامالی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
فرنیٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق پہلا حملہ اپر کرم ایجنسی کے علاقے منداتہ کنڈاؤ میں صبح پانچ بجے ہوا جبکہ دوسری کارروائی اسی ایجنسی میں مٹہ سنگر کے مقام پر صبح ساڑھے نو بجے کی گئی ہے۔
مٹہ سنگر میں ستائیس ستمبر کو بھی نیٹو کے ہیلی کاپٹرز کی کارروائی میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔
پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹر جمعرات کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور پاک افغان سرحد کے قریب واقع نیم فوجی دستے کی دو شناختی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے بتایا کہ پہلی کارروائی میں نیٹو فورسز کے دو گن شپ ہیلی کاپٹرز شریک تھے جنہوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر شیلنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
دوسرے حملے میں بھی ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر ہیلی کاپٹر سے میزائل فائر کیے گئے تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
افغانستان میں نیٹو حکام نے سرحدی علاقے میں کارروائی کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغان سرحد کے نزدیک پکتیا صوبے کے ڈنڈ پتن ضلع میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کی گئی تھی۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران نیٹو ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوئے۔
تاہم نیٹو حکام کے مطابق پاکستانی فوجی حکام نے ایساف کو بتایا ہے کہ ان کی کارروائی کے دوران پاکستانی فوجی نشانہ بنے ہیں اور وہ یہ جاننے کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔
دوسری طرف اس واقعہ کے بعد حکومتِ پاکستان نے پاکستان سے اتحادی افواج کو سامان اور تیل کی سپلائی سکیورٹی خدشات کے باعث معطل کر دی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق جمعرات کی صبح نیٹو اور اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کو خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گاڑیوں پر حملوں کے خدشے کے باعث کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں نیٹو کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر کئی بار حملے کئے گئے ہیں جس میں سینکڑوں گاڑیوں کے تباہ ہونے کے علاوہ ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ رواں ماہ پانچ مرتبہ نیٹو افواج کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کرنے کی بات سامنے آ چکی ہے۔ اس سے قبل پچیس ستمبر کو نیٹو کے دو ہیلی کاپٹرز شدت پسندوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوگئے تھے اور ان کی فائرنگ اور بمباری سے تیس افراد مارے گئے تھے۔ اگلے ہی دن نیٹو ہیلی کاپٹرز نے دوبارہ اس علاقے میں کارروائی کی جس میں چار افراد مارے گئے۔
ستائیس ستمبر کو کرم ایجنسی میں اپر کرم کے علاقے مٹہ سنگر میں پاک افغان سرحد کے قریب غزگئی کے مقام پر افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ہیلی کاپٹرز نے بمباری کی تھی جس میں پانچ مقامی افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان کی جانب سے ان واقعات پر نیٹو حکام سے احتجاج کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے جس منشور کے تحت اتحادی افواج افغانستان میں تعینات کی گئی ہیں اسے توڑا گیا ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم عناصر کے تعاقب کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہے اور اس بارے میں کوئی بھی رائے درست نہیں ہو گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں