جمعہ، 1 اکتوبر، 2010

اٹھارہویں ترمیم مقدمہ، فیصلہ محفوظ

اٹھارہویں ترمیم مقدمہ، فیصلہ محفوظ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی چند شقوں کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سترہ رکنی بینچ نے جمعرات کو سماعت کے دوران فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تاہم عدالت نے فیصلہ سنانے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے اٹھارہویں ترمیم کے تحت آئین میں شامل کی گئی شق 175 اے کے کچھ حصوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ جن دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے ان کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ ان دفعات پر دوبارہ کام کیا جائے کیونکہ عدالت قانون نہیں بنا سکتی۔

آئین میں متعارف کرائی گئی اس نئی شق 175 اے کے تحت اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیشن کے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس شق میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اختیارات بھی دیے گئے ہیں جس کے تحت وہ مخصوص نشستوں پر خواتین کو نامزد کر سکتے ہیں۔ پارٹی کا سربراہ کسی بھی رکن کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

ایک درخواست گزار کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کا مستقبل صرف ایک آٹھ رکنی پارلیمنٹ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُس ادارے کو تباہ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے جس کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی نے قربانیاں دی ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے عبدالحفیظ پیرزادہ سے استفسار کیا کہ کیا عدالت کے پاس اُن ترامیم کی نظرثانی کا اختیار ہے جو پارلیمنٹ نے آئین میں کی ہوں اور کیا عدالت اپنے اختیار سے تجاوز نہیں کر جائے گی۔

عدالتی نظرثانی متنازعہ نہیں ہے اور آئین کی شق سات اور آٹھ کے تحت سپریم کورٹ کسی بھی ایسی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتی ہو۔

جسٹس رمدے

انہوں نے کہا کہ عدالتی نظرثانی متنازعہ نہیں ہے اور آئین کی شق سات اور آٹھ کے تحت سپریم کورٹ کسی بھی ایسی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتی ہو۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اگر وفاق کسی صوبے کے معاملات میں مداخلت کرے تو عدالت اُس اقدام کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں کوئلے کے بےشمار ذخائر ہیں لیکن اُن کی تلاش اس لیے نہیں ہوسکتی کیونکہ وفاقی حکومت نے ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سندھ سے منتخب ہونے والے نمائندے اپنے حقوق سے خود ہی دستبردار ہوئے ہیں۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی چند شقوں کی وجہ سے جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہیں کیونکہ اس میں خواتین کی منتخب نشستوں پر نامزدگی کے اختیارات پارٹی کے سربراہان کو دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ کسی بھی رکن کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن کے مکمل طور پر ختم کردے یا پھر اس کو رکھے کیونکہ کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔

وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ستونوں کے اختیارات کے حوالے سے آئین کی دفعہ 239 کے تحت عدالت پارلیمنٹ کی کسی ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں