ترابی قتل کیس، تین کو سزائے موت
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی اور ان کے بھتیجے کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں تین ملزمان کو سزائے موت اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج آنند رام ہوتوانی نے جمعرات کو یہ فیصلہ سنایا جو ایک ہفتہ قبل محفوظ کیا گیا تھا۔
چھ ملزمان سلطان محمود عرف سیف اللہ، محمد امین عرف خالد شاہین، محمد اکبر خان، محمد رحمان، آفاق قریشی اور رحمت اللہ عرف علی حسن پر الزام تھا کہ انہوں نے متحدہ مجلس عمل سندھ کے نائب صدر اور تحریک اسلامی کے سربراہ علامہ حسن ترابی پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
علامہ حسن ترابی اور ان کے بھتیجے چودہ جولائی دو ہزار چھ کو گلشن اقبال میں اپنے گھر کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے حملہ آور کی شناخت عبدالکریم کے نام سے کی تھی۔
سماعت کے دوران چشم دید گواہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ واقعے والے دن فقیر کے بھیس میں ایک نوجوان نے علامہ حسن ترابی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی اور جب ان کے بھتیجے نے اسے روکنے کی کوشش کی تو حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔
گواہوں نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے ملزمان سلطان محمود عرف سیف اللہ، محمد امین عرف خالد شاہین اور محمد رحمان کو علامہ حسن ترابی کے گھر کے باہر دیکھا تھا جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔
تاہم ملزمان کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکلوں کے خلاف واحد شہادت ان کا اقبال جرم ہے جو حلف پر لایا گیا ہے، مگر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 164 کے تحت ملزمان کا اقبال جرم حلف پر نہیں لیا جاسکتا۔
ایک دوسرے مقدمے کے مطابق خودکش حملے سے قبل چھ اپریل کو علامہ حسن ترابی اپنی گاڑی میں ابوالحسن اصفہانی روڈ سے گذر رہے تھے کہ ایک ریڑھے میں بم نصب کرکے دھماکہ کیا گیا جس سے علامہ حسن ترابی زخمی ہوگئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق اس منصوبہ بندی میں بھی یہ ہی ملزمان ملوث تھے۔
عدالت نے اس مقدمے میں تمام ملزمان کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ رپے جرمانے کی سزا سنائی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں