بدھ، 27 اکتوبر، 2010


موت کا عدد - - - سچ تو یہ ہے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

چائینیز کمیونٹی میں چار کے عدد کو موت کا عدد سمجھا جاتا ہے کیونکہ چائینیز زبان میں چار کو سیئی (سے ئی)بولا جاتا ہے جب کہ چائینیز لوگ مغرب (ویسٹ )اور موت (ڈیتھ) کو بھی کچھ زیر زبر یا پیش کے فرق کے ساتھ سیئی ہی بولتے ہیں یوں وہ چار یعنی کہ سیئی کو موت ہی سمجھتے ہیں اور اس عددکو اتنا منحوس گردانتے ہیں کہ چائینیز کمیونٹی کے افراد اس عدد سے ہمیشہ ہی دور ہی رہتے ہیں اسی لئے آپ کو ملک چین اور چینی کمیونٹی کی اکثر بلڈنگز میں چوتھا فلور نہیں ملے گا اور ہر فلور پر چوتھا فلیٹ بھی نہیں ملے گا۔ بلکہ کچھ بلڈنگز میں چودہ چوبیس چونتیس علیٰ ہذاالقیاس چار سے جڑا ہوا کوئی بھی عدد نہیں ملے گا۔

عیسائی بھی تیرہ کے عدد کو منحوس قرار دیتے ہیں اور دل چسپی کی بات تو یہ ہے کہ علم الاعداد والے (نیومرالوجی) تیرہ کے عدد کو بھی چار گردانتے ہیں وہ ایسے کہ تیرہ کے تین کو تیرہ کے ایک میں جمع کریں تو چار کا عدد بنتا ہے دراصل علم الاعداد والوں کے نزدیک بنیادی اعداد صرف نو ہیں یعنی کہ وہ ایک سے لے کر نو عدد کو ہی اصل اعداد قرار دیتے ہیں یوں وہ ہر عدد کو خواہ وہ اکیلا ہو یا پھر سیکنڑوں اعداد پر مشتمل ہو اس کو آپس میں جمع کرتے جاتے ہیں کہ وہ کثیر عددی عدد جمع ہوتے ہوتے ایک عدد یعنی کہ اکائی کا روپ دھار لیتا ہے۔

اس قسم کے تواہم وسوسے اور واہیات خیالات آپ کو ہر ملک اور ہر کمیونٹی میں ملیں گے اگر نہیں ملیں گے تو پکے سچے مسلم افراد میں نہیں ملیں گے مسلمین کے نزدیک کوئی بھی عدد منحوس یا سعد نہیں ہے سارے اعداد صرف گنتی کے لئے ہیں یا پھر کسی خاص عدد کی تصدیق یا تردید قرآن کریم یا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوتی ہے تو وہ عدد ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے وہ بھی صرف خاص خاص مواقع کے لئے ہے ان مواقع کی وضاحت اور صراحت قرآن کریم یا احادیث مبارکہ میں کر دی گئی ہے ورنہ ہم مسلمین ہر عدد کو کسی تعصب کے بغیر صرف گنتی کے لئے ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی مسلمانوں میں بھی تواہمات اور واہمات کثرت سے پائے جاتے ہیں جو کہ ہندو کلچر سے قربت کا نتیجہ ہیں۔

بہت ساری کمیونٹیز میںیہ واہمات اور تواہمات نسل در نسل چلتے ہیں جیسے کہ چینی نسل کے لوگوں کی اکثریت تاؤ ازم یا تھاؤ ازم کی پیرو کار تھی مگر جب ماؤ زے تنگ کی کیمونسٹ حکومت بر سر اقتدار آئی تھی تب کیمونسٹ حکومت کے زیر اثر چینوں نے کسی اللہ، گاڈ ،ایشور، بھگوان کے وجود سے تو انکار کردیا تھا مگر ان تواہم کو وہ اپنے اذہان سے کھرچ نہ سکے تھے جو کہ نسل در نسل ان میں چلے آرہے تھے انہی تواہم کا اثر یہ ہے کہ ہن یا ہان نسل کا چینا خواہ کرسچیئن ہو جائے یا یہودی بن جائے۔

وہ سکھی اختیار کرلے یا پھر ہندو مت میں غرق ہوجائے ۔وہ خود کو مسلم کہلوانا شروع کردے یا پھر اپنے آپ کو بے دین تصور کرے وہ چینا(چائینیز) ہی رہتا ہے ۔ یعنی کہ پہلے اور بنیادی طور پر وہ ایک چینا ہے اور پھر اس کے بعد ہی وہ کچھ اور ہے۔
ملک ِچین کی اکثریت بے دین تصور کی جاتی ہے اور وہ کسی بھی مالک اور خالق کے منکر ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے ۔ان کا یہ دعویٰ محض دعوے کی حد تک ہی ہے ورنہ اندر سے تو ہر ہن یاہان نسل کا مرد اور عورت تاؤ ازم کا قائل ہے کوئی شعوری طور پر اور کوئی غیر شعوری طور پر۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ چینی نسل کے امرا اورملکِ چین کے اعلیٰ عہدے دار بشمول کیمونسٹ پارٹی کے لیڈرز فنگ شی کے دل سے قائل ہیں اور انہوں نے جب بھی کوئی اہم کام کرنا ہوتا ہے یہ لوگ لاکھوں ڈالرز فنگ شی کے ماہرین کی نذر کرتے ہیں اور ان کے علم سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ۔

ان استفادہ کرنے والوں میں ہر عقیدے کے چینی نسل کے لوگ شامل ہوتے ہیں ایک خالق اور مالک کے قائل بھی اور متعدد خداؤں کو ماننے والے بھی یہاں تک کے کسی خالق کی ذات کے منکر بھی۔

یہ فنگ سی یا فونگ شی کیا ہے؟ یوں سمجھیں کی جس طرح سے ہندو بچاری یا برہمن نجس یا سعد بتاتے ہیں چینی نسل کے تھا ؤ ازم کے پروہت بھی یہی کام کرتے ہیں ۔ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ چین ایک کیمونسٹ ملک ہے اور کیمونسٹ تو مذہب کو افیون قرار دیتے ہیں اور کسی خالق کے قائل بھی نہیں ہیں ایسے بے دین یا ایتھیسٹ لوگوں کو تو سعد اور نجس کا قائل ہی نہیں ہونا چاہئے مگر دل چسپی کی بات تو یہ ہے کہ چین کے چھوٹے ہی نہیں کیمونسٹ پارٹی کے بڑے بڑے عہدے دار بھی کسی نہ کسی وہم اور وسوسے کا شکار رہتے ہیں اس لئے وہ کوئی بھی بڑا یا چھوٹا کام کرنے سے قبل فنگ شی کے ماہرین سے رائے ضرور طلب کرتے ہیں۔

یہاں ہانگ کانگ میں وفاقی حکومت یعنی کہ بیجنگ والوں کی بے شمار بلڈنگز ہیں اور ہر بلڈنگ کی تعمیر سے قبل کیمونسٹ چین کے اعلیٰ عہدیدارو ں نے فنگ شی(فونگ شوئی) کے ماہرین سے رائے ضرور طلب کی ہے ۔ان دو تین صفحات میں ان سبھی بلڈنگز کی مثالیں دینا تو ناممکن ہے اس لئے ایک ہی بلڈنگ کی مثال دینا ہی مناسب ہے اور یہ عمل درست بھی ہے کیونکہ سیانے کے آدمی کے لئے ایک مثال ہی کافی ہوتی ہے جب کہ بے وقوف کے سامنے توا گر آپ ساری کی ساری ہیر وارث شاہ پڑھ بھی ڈالیں گے تو ہیر وارث شاہ کے خاتمے کے بعد بے وقوف آپ سے یہ سوال ضرور بہ ضرور کرے گا کہ ہیر مرد تھی کہ عورت تھی ؟ میری یہ تحریر ویسے بھی بے وقوف لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میرا مخاطب تو ہمیشہ ہی سیانے اور سمجھدار لوگ ہی ہوتے ہیں۔

ہر ملک میں بنک اور بنکاری نظام اس ملک کی معیشت اور اقتصادی نظام کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔چین میں بھی بنکاری نظام دنیا کے دیگر ممالک کے بنکوں کی طرح سے جدید ترین ہی ہے بنک آف چائنا چین کا ایک اہم بنک ہے اس نے ملک کے تمام بڑے شہروں بشمول ہانگ کانگ میں بڑی بڑی اور بلند وبالا عمارات تعمیر کروائیں ہیں ۔ہانگ کانگ میں بنک آف چائنا کا ریجنل ہیڈ کوارٹر ہے جو کہ فارایسٹ کے علاقے کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس ریجنل ہیڈ کوارٹر کی عمارت دنیا کے دیگر بڑے بڑے بنکوں کی عمارات کے درمیان ہی سینٹرل میں بنائی گئی ہے جو کہ ہانگ کانگ آئی لینڈ کی سب سے مشہور اور مہنگی ترین جگہ ہے اور یہیں پر ہی دیگر عالمی اداروں اور بنکوں کے ہیڈ کورٹرز اور ان کی ذاتی عمارتیں بھی ہیں۔

جب اس بنک کو تعمیر کرنے کا مرحلہ آیا تھا تو اس بنک کے کرتا دھرتا لوگوں اور ڈائریکٹرز نے تعمیر سے قبل فنگ شی کے ماہرین سے مشورہ کیا تھا انہوں نے جو مشورہ دیا تھا اس مشورے کی روشنی میں بنک آف چائنا کی جو عمارت تعمیر کی گئی ہے اس کی شکل تلوار نما ہے اس عمارت کے چار کونوں کی بجائے تین کونے ہیں اس طرح سے فنگ شی والوں نے اس طرز تعمیر سے دو مقاصد حاصل کئے ہیں پہلا تو یہ کہ عمارت چارکونوں والی نہیں ہے یعنی کہ سیئی کوک (چکور)نہیں ہے بالفاظ دیگر چار کے عدد یعنی کہ موت سے اجتناب کیا گیا ہے دوسرا یہ کہ اس عمارت کے ہر کونے کو کسی دوسری اہم عمارت کی طرف یوں رکھا گیا ہے کہ اگر ہم بنک آف چائنا کی اس عمارت کو دور سے اور کسی بلند مقام سے دیکھیں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایک عظیم اور تیز دھاری تلوار ہے جو کہ ارد گرد کی عمارتوں کو اپنی تیز دھار سے کاٹنے کو تیارکھڑی ہے ۔فنگ شی کے ایک ماہر کے مطابق اس طرح سے یہ اپنے خزانے کی حفاظت کر رہی ہے۔

پس چینی قوم کے لوگو ں کی اکثریت دنیا کی دوسری کافر اقوام کی طرح سے وہمی ہی ہے ان کی اس وہمی طبیعت اور عادت کا مجھے علم ہے اسی لئے میں عام چائینیز تو ایک طرف رہے فنگ شی کے ایک ماہر کو بھی دہلائے رکھتا ہوں جیسے چائنیز لوگ آٹھ کے عدد کو بہت لکی سمجھتے ہیں اس لئے وہ ایسی گاڑی جائداد یا کوئی اور ایسی ہی چیز پسند کرتے ہیں جس میں ایک آدھ آٹھ کا عدد ضرور آتا ہو ۔میں ایسے چینوں کو یوں ڈراتا ہوتا ہوں کہ اگر ہم آٹھ کو سپلٹ کر دیں تو دو چار یعنی کہ دو سیئی ( دو اموات ) ہوتے ہیں ۔اب جب کہ دوہزار گیارہ قریب ہی ہے تو میں کئی چینوں بشمول ایک فنگ شی کے ماہر کو یہ کہتا ہوتا ہوں کہ ٹو تھاؤزنڈ الیون (2011) 1+1+0+2 =4کا سنگل ڈجٹ چار بنتا ہے یہ سال تمہاری قوم کے لئے بہت سخت ثابت ہوگا تو ان کے چہرے اتر جاتے ہیں۔

میری اپنی قوم میں بھی وہمی لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ہمارے ملک میں وہمی لوگوں کی جتنی اوسط متوسط طبقے کے افراد میں ہے غربا میں یہ اوسط متوسط طبقے سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے اور غربا میں جتنے لوگ وہمی ہیں وہ تو ان لوگوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہےں جتنے لوگ ہمارے امر اءاور حکمران طبقات میں پائے ۔سچ تو یہ ہے کہ ناجائز حربوں سے ترقی پانے والے اور دوسرے انسانوں کا حق مار کر زرو دولت اکھٹی کرنے والے سبھی لوگ وہمی اور کمزور اعصاب کے مالک ہوتے ہیں ان کو دولت مندی اور اعلیٰ رتبوں کی بلندی سے نیچے گرنے کا وہم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ہر سچے جھوٹے پیر فقیر کے پاس جاتے ہیں اور ہر دربار اور آستانے پر سجدے کرتے نظر آتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر طبقے کی خواتین اپنے ہی طبقے کے مردوں کی بہ نسبت بہت ہی زیادہ وہمی اور کمزور ایمان والی ہوتی ہیں اور ایسی کمزور ایمان والی عورتوں سے نام نہاد جعلی اور دنیا دار پیر فقیر اور مرشد بڑا کچھ حاصل کر لیتے ہیں جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

کچھ نوجوان میرے سے یہ سوال بھی کیا کرتے ہیں کہ کفار کی دعائیں بھی قبول ہو جاتی ہیں اور مشرکین کی منتیں بھی با مراد ہوتی ہیں ؟ تو میں ان کویوں سمجھاتا ہوتا ہوں کہ رب کو کسی بھی بشر نے نہیں دیکھا اس لئے ہر شخص کو رب اپنے گمان جیسا ہی دکھائی دیتا ہے اور اللہ رازق کل جہاں کے رب ہیں اس لئے وہ کو ہر شخص کو اس کے ایمان اور عقیدے کے مطابق ہی عطا فرماتے ہیں۔ خواہ و ہ شخص ایمان لے آئے یا کفر و شرک کرے عطا کرنا رب کریم کی ربی صفت ہے اور یہی شان ربوبیت ہے۔

ہمارے ملک میں جیسے جیسے معاشرتی اور معاشی تفاوت بڑھتی جارہی ہے ویسے ویسے درمیانہ طبقہ معدوم ہوتا جا رہا ہے یوں لگتا ہے کہ جلد ہی ہمارے ملک سے درمیانہ طبقہ ختم ہو جائے گا اور پھر پاکستان میں صرف اور صرف دوطبقات یعنی کہ انتہائی غریب اور انتہائی امیر رہ جائیں گے تب ہمارے ملک میں اخلاقیات کا کیا حشر ہوگا ؟ اس کے تصور سے ڈر لگتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک یا معاشرے میں درمیانے طبقے کے لوگ ہی اخلاقی اور مذہبی قدروں کے پابند ہوتے ہیں اور وہی اپنی قوم و ملت کی اخلاقی اقدار کے محافظ بھی ہوتے ہیں اگر ہمارے ملک میں درمیانہ طبقہ ہی نہ رہا تو ان مذہبی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت نہ تو امرا کریں گے اور نہ ہی وہ لوگ کریں گے جن کے تن پر پوراکپڑا نہ ہوگا اور نہ ہی پیٹ میں پوری روٹی ہوگی۔

ہمارے موجودہ حکمران اس وقت صہیونیوں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے درمیانے طبقے کو نیست ونابود کرنے پر تلے ہوئے ہوئے ہیں اور ہمارے ملک میں مہنگائی بدامنی اور لاقانونیت حکومتی کاروبار بن گئی ہے ایسے میں درمیانے طبقے کے لوگ بھی مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں اور امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے ہیں ۔میرا تعلق بھی درمیانے طبقے سے ہی ہے اس لئے میں اپنے طبقے کی مایوسی رنج وغم اور صدمے کی حالت کو محسوس کر سکتا ہوں جو کہ اصلاح معاشرہ کے قائل درمیانے طبقے کے لوگ محسوس کر رہے ہیں میں ان کو مایوسی سے نکالنے کے لئے کہتا ہوتا ہوں کہ دیکھو ! انسانوں اور قوموں کی زندگی میں چالیس کا عدد بہت اہم ہو تا ہے جیسے کہ ہمارے دین میں بھی ہے وہ یوں کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی چالیس سال کی عمر میں نازل ہوئی تھی اور جب بنی اسرائیل نے اللہ مالک کے حکم کو نہ مان کر موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں جہاد کرنے سے صریحاً انکار کر دیا تھا تو اللہ قہار نے اس بھٹکی ہوئی قوم کو مزید چالیس سال تک صحراؤں میں بھٹکائے رکھا تھا۔ میں درمیانے طبقے کے اصلاح پسندوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کرتا ہوں کہ دوہزار گیارہ میں سقوط ڈھاکہ کو چالیس سال مکمل ہو جائیں گے یوں ہماری جدوجہد کا چلہ مکمل ہو جائے گا ۔

(دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ چالیس اور دوہزار گیارہ کا حاصل واحد عدد چار ہی بنتا ہے جو کہ کفار کے نزدیک موت کا عدد ہی ہے ۔یہ بات میں ایمانی کمزوری کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کہتا ہوتا ہوں) اگر ہم مایوسی کا شکار نہ ہوں اور امید کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی ذاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فلاح کا کام بھی کرتے رہیں گے تو ہوسکتا ہے اور یہ عین ممکن بھی ہے کہ اللہ مسبب الاسباب ہماری نیک نیتی اور خلوص دیکھ کر ہماری مدد کو آسمان سے فرشتے نازل فرمائیں اور ہمیں مکمل فتح عطاءفرمائیں اور مسلمین کے دشمنوں کو موت سے ہم کنار کردیں کیونکہ دوہزار گیارہ کمزور ایمان اور منافقین کے عقیدے کامطابق موت کا سال ہے اور اللّٰہ عالم الغیب ہر شخص کو اس کے عقیدے اور ایمان کے مطابق ہی عطاءفرماتے ہیں۔
یہودیت کی سیاہ کاریاں اور مہذب دنیا کی ڈیوٹی

یہودیت کی سیاہ کاریاں اور مہذب دنیا کی ڈیوٹی
صہیونیوں و یہودیوں نے اپنی مرکرنیوں و شاطریوں سے ایک طرف امریکہ سمیت مغرب کے زرائع ابلاغ، اقتصادیات صنعت و حرفت اور مالیاتی اداروں پر دادا گیری قائم کررکھی ہے تو دوسری طرف روئے ارض پر ہونے والے غیر قانونی کاروبار، انسانی اعضاوں کی تجارت و منشیات کی اسمگلنگ کا مذموم و غیر انسانی دھندے کا کریڈٹ بھی صہیونیوں کو حاصل ہے۔حال ہی میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے اور گلوبل اقتصادی نظام کو چلانے والے ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔امریکہ میں انسانی اعضاوں کی سمگلنگ کے الزام میں دھر لئے جانے والے یہودیوں نے انکشاف کیا کہ اسلحے منشیات اور منی لانڈرنگ کے کاروبار میں امریکہ کے کئی بنک شریک کار ہیں۔ منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے جانیوالے کالے دھن کو صہیونیوں کے بنک تحفظ دیتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اور اٍسرائیل نے دوسرے ممالک پر جارہیت کے لئے ہمیشہ کالے دھن کو استعمال کیا۔افغان جنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے امریکہ اور روس کے صہیونیوں نے منشیات سے کمائی جانے والی دولت کو خوب استعمال کیا۔ افغان سوویت جنگ کے زمانے میں سی ائی اے کے سربراہ کیسی نے اپنی سوانح عمری میں تسلیم کیا ہے کہ افغان وار کے بے بہا اخراجات منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے گئے۔طالبان نے اپنے دور میں ڈرگز و پوست کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تو امریکہ کے صہیونی مافیا پر سکتہ طاری ہوگیا۔مغربی تجزیہ نگاروں نے افغانستان پر امریکی حملے کو صہیونی مافیا کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے صہیونی تاجروں نے افغانستان کو دوبارہ پوست کی کاشت کا گڑھ بنانے کے لئے بش انتظامیہ کو کابل پر جنگی شب خون مارنے کے لئے اکسایا۔کابل میں کرزئی کے سربراہ سلطنت ہونے کے بعد پورے دیس میں پوشت کی کاشت و منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار زوروں پر ہے۔کرزئی کے بھائی کے ساتھ ساتھ افغان پارلیمنٹ کے اسی فیصد ممبران اور وزرا منشیات کے سمگلر ہیں۔منشیات کے تاجر جنگوں میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں یہ ایسا سوال ہے جس پر بحث ہونی چاہیے۔امریکی ریاست میکسیکو کو مغرب میں منشیات مافیا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں حالات اٍتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ منشیات مافیا اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان آئے روز مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔میکسیکو کو منشیات کے کاروبار کا ہیڈ کوارٹر کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہاں کے ڈرگ مافیاز کے تانے بانے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نیٹ ورکس سے جا ملتے ہیں۔میکسیکو کی ریاستی حکومت تو منشیات کے اسمگلروں کو زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہے مگر امریکہ کو اٍس سے کوئی دلچسپی نہیں۔میکسیکو کے صدر فلپ تو پچھلے تین سالوں سے منشیات کی تجارت کا قلع قمع کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں مگر اسے کامیابی نہ مل سکی۔میکسیکو کی سرحدوں پر خانہ جنگی ہورہی ہے۔میکسیکو میں منشیات کا کاروبار پچھلے چالیس برسوں سے جاری ہے جسکی بنیاد امریکن میڈیا میں گاڈ فادر کے نام سے شہرت پانے والے صہیونی غنڈے میر لین سکائی نے رکھی تھی۔میکسیکو کے صدر فلپ نے حال ہی میں اوبامہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومتی کیمپ میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نکالا جائے جو ڈرگ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں۔فلپ نے وائٹ ہاوس کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی ڈرگز مافیا کے اٍعانت کندگان و بہی خواہ موجود ہیں۔صدر فلپ نے اوبامہ سے ملاقات کے دوران آہ و فغاں کرتے ہوئے پشین گوئی کی کہ اگر امریکہ نے اپنے قوانین تبدیل نہ کئے تو میکسیکو ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گا اور اٍس جہنم پر ڈرگ مافیاز کے ایجنٹ حکومتی دربان کا کردار نبھائیں گے۔صہیونی ڈرگ مافیاز کی قوت کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں امریکی انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں نے ڈرگ مافیا اور میکسیکو حکومت کے درمیان ڈیل کی کوششیں کیں جو صدر فلپ نے پائے حقارت سے مسترد کردیں۔صدر فلپ کی داستانٍ غم سے یہ بات اشکار ہوتی ہے کہ منشیات کے بے نکیل اسمگلروں اور وائٹ ہاوس میں براجمان صہیونی سرمایہ کار وں و بینکرز کے درمیان چولی دامن کی رشتہ داری و قربت موجود ہے۔میکسیکو کے ایک فوجی کرنل نوفل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منشیات مافیا عالمی تنظیم کا روپ دھار گئی ہے جس میں لاکھوں ایجنٹ شامل ہیں جنہیں حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔پاکستان میں میکسیکو کی طرح سوات میں پاک فوج کے ساتھ لڑنے والے انتہاپسندوں کو بھی بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں منشیات فروشی کے نیٹ ورکس پر سی ائی اے و موساد کا اہنی کنٹرول ہے۔ڈرگ مافیاز کی مدد سے ہی ویت نام، عراق و افغان جنگ لڑی گئی۔عراق ایران جنگ میں روس امریکہ اور تل ابیب کے ڈرگ مافیاز نے اہم کردار ادا کیا۔ڈرگز، منشیات،منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اسلحے کی سمگلنگ کو صرف ایک ہی عنصر تقویت دیتا ہے اور وہ ہے بنکنگ و مالیاتی نظام و انتصرام۔کالے دھن سے کمائی گئی دولت کو صہیونیوں کے بنک و اٍدارے مطلوبہ اہداف تک بااسانی پہنچاتے ہیں۔امریکی فیڈرل ریزرو بنک کے درجنوں سیکنڈلز میڈیا کی زینت بنے جن میں ڈرگ مافیاز بھی شامل تھے۔یہ ڈرگ مافیاز ہی ہیں جنکے کرتے دھرتے امریکی حکومت گرانے کی طاقت رکھتے ہیں اور اٍن ڈرگ مافیاز کو صہیونیوں نے قابو کررکھا ہے۔سی ائی اے دنیا اور خاص طور پر امریکی قوم کو دھوکہ دینے کے لئے گاہے بگاہے ہالی وڈ کو استعمال کرتی رہتی ہے ۔فلموںمیں باور کروایا جاتا ہے کہ امریکی ریاستوں میں ہونے والی گڑ بڑ میں دوسرے ملکوں کے ڈرگ مافیاز ملوث ہیں۔1939 سے ہی انڈر ورلڈ کی ڈوریں صہیونیوں کے سپرد ہیں۔نومبر2002 میں امریکی اخبار ابزرور نے اپنی رپورٹ میں صہیونیوں کی ابلیسیت کو عیاں کرکے تہلکہ مچادیا کہ یہودی و صہیونی اقوام میں قابل عزت سمجھے جانے والے تلموزی یہودی ڈرگ مافیاز کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ابزرور نے ہی لکھا تھا کہ صہیونی بنکار ڈرگ مافیاز کی دولت کو اسرائیل منتقل کردیتے ہیں۔امریکی مصنف سیلے دیتون نے اپنی کتاب BLUE GRASS CONCIPIRACY میں صہیونی ڈرگ مافیاز کی بد اعمالیوں کو اجاگر کیا تو سیلے کو ڈرگ مافیاز کی سفاکیت کا صدمہ سہنا پڑا اور وہ قتل ہوگئے۔امریکی مصنف سالویڈر کی کتابopium lords میں درج ہے کہ تل ابیب ڈرگ مافیا کا ہیڈ کوارٹر ہے اور امریکی صدر کینڈی کو بھی صہیونی ڈرگ مافیا نے ہلاک کروایا۔یروشلم پوسٹ نے اگست کی اشاعت میں لکھا کہ دنیا میں جتنے بھی ڈرگ مافیاز کے ڈان ہیں وہ عبرانی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور اٍس کرہ ارض پر جتنے ملک ہیں وہاں کے ڈرگ مافیاز کو ایف بی ائی کنٹرول کرتی ہے اور ایف بی ائی کو موساد ہدایات جاری کرتی ہے۔یاد رہے کہ سی ائی اے کے دو سرخیلوں wilium j kasi کو1986 جبکہ edegar hover کو1972ء میں صہیونی ڈرگ مافیا مرواچکا ہے۔اسرائیل اسلحے سے لیکر منشیات اور انسانی اعضاوں سے لیکر عورتوں کی سمگلنگ کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔دنیا بھر میں ہونے والے تمام غیر قانونی بزنس اور جرائم کو اسرائیل میں تحفظ ملتا ہے۔امریکہ کا کوئی صدر صہیونیوں کی معاونت کے بغیر وائٹ ہاوس میں داخل نہیں ہوسکتا اور یہ وہی صہیونی لابی ہے جو ایک طرف ڈرگ مافیا کی دادا گیر ہے تو دوسری طرف یہی لابی انٹرنیشنل اور امریکن اقتصادیات و مالیات کو اپنے بنکوں کے ذریعے اپنے خونخوار جبڑوں میں جکڑے ہوئے ہے۔دنیا میں اس وقت تک جرائم، جنگوں، دنگوں اور اسلحے کی سمگلنگ کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک صہیونی سرمایہ داروں کا تخلیق کردہ مالیاتی نظام ختم نہیں ہوجاتا۔یہودی دولت کے حصول کے لئے دنیا کا کوئی مکروہ ترین کاروبار کرنے سے نہیں چوکتے۔صہیونی ڈرگ و مالیاتی مافیاز کو ختم کئے بغیر اللہ کی زمین پر امن قائم نہیں ہوسکتا۔مہذب دنیا جس میں چاہے گورے ہوں یا کالے یورپین ہوں یا ایشیائی وہ فلپ کی شکل میں میکسیکو کا صدر ہو یا ایران کے احمد نژاد کے روپ میں وہ پاکستان کا شہری ہو یا سعودی عرب کا مسلمان۔صہیونیوں کی فتنہ گریوں کو روکنے کے لئے ساروں کو متحد ہونا پڑے گا ورنہ ایک طرف منشیات انسانیت کو سسکا سسکا کر مارتی رہے گی تو دوسری طرف دنیا کے کونے کونے میں خون کے سمندر بہتے رہیں گے۔کیا یہ ساری دنیا کی بد نصیبی نہیں کہ روئے ارض پر موجود چھ ارب سے زائد انسانوں کو کل ابادی میں س صرف0.2 کا حصہ رکھنے والے یہودیوں و صہیونیوں نے یر غمال بنا رکھا ہے۔

پیر، 11 اکتوبر، 2010

منگل، 5 اکتوبر، 2010

نیٹو کے ٹینکروں پر مشکوک حملے

جلتے ہوئے ٹینکر

پاکستان میں آئل ٹینکر مالکان نیٹو کو رسد فراہم کرنے والے قافلوں پر حملوں میں سے بعض کو مشکوک قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹھیکیداروں نے خود ان ٹینکروں میں بم لگائے ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ کی پولیس بھی ایسے دو واقعات کی تصدیق کرتی ہے۔

ایک ٹینکر مالک دوست محمد نے جن کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے بتایا کہ پچھلے دنوں نوشہرہ کے علاقے پبی میں ایک ٹھیکیدار کا منشی ٹینکر کے نیچے بم رکھتے ہوئے پکڑا گیا، اس دوران ایک کار سے فائرنگ بھی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ منشی نے پولیس کو بتایا کہ ٹھیکیدار کا حکم ہے کہ ٹینکر کے نیچے بم رکھو کیونکہ وہ تیل بیچ چکے ہیں۔ دوست محمد کے مطابق ٹھیکیدار پچاس ہزار لیٹر تیل بیچ دیتے ہیں صرف دو تین ہزار لیٹر چھوڑ کر اس میں بم یا آگ لگا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار کا ہر طرف سے ہی فائدہ ہے، اگر پرانی گاڑی جل جائے تو نیٹو کی جانب سے نئی گاڑی کی رقم فراہم کی جاتی ہے اور جو تیل جل جاتا ہے اس کی بھی پوری ادا ئیگی ہوتی ہے۔

دوسری جانب نیٹو کو تیل فراہم کرنے والے ایک کانٹریکٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا نیٹو کی جانب سے رسد کی انشورنس کی جاتی ہے اور پریمیم کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی نیٹو پر عائد ہوتی ہے، یہ انشورنس مقامی کمپنیاں کرتی ہیں اور بعد میں ٹرانسپورٹر ٹینکر مالکان کو ان کے حقیقی نقصان کی ادائیگی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صرف پاکستان کی حدود میں نقصان کی صورت میں انشورنس ملتی ہے۔

نوشہرہ کے ضلعی پولیس افسر نثار تنولی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے علاقے میں ایسے دو واقعات ہوئے ہیں جن میں آئل ٹینکروں کو دیسی ساخت کے دھماکہ خیز مادے سے اڑانے کی کوشش کی گئی۔

بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ واقعات پبی اور اکوڑہ خٹک کے قریب واقع وتک کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہاں ایک دو روز ٹینکر کھڑا رکھا گیا، اس کے بعد گھروں میں جو دھماکہ خیز مادہ بنایا جاتا ہے اسے استعمال کیا، بعد میں انہیں ایف آئی آر کی کاپی حاصل کرنے کی جلدی ہوتی تھی، تفتیش سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، دوسرے روز انشورنس کمپنی والے آجاتے تھے۔

ضلعی پولیس افسر نثار تنولی نے بتایا کہ تفتیش میں حقیقت سامنے آنے کےبعد کچھ ڈرائیور اور کلینر گرفتار کیے گئے ہیں۔ کچھ ملزم ان کے ضلع کے نہیں جنہیں اشتھاری قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جن میں جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے تیل کو انہوں نے بیچ دیا بعد میں کہا کہ تیل بہہ گیا یا اس میں آگ لگ گئی۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم احمد قریشی نے ٹینکر مالکان کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ نیٹو کے ٹھیکیدار خود ہی گاڑیوں کو آگ لگواتے ہیں یا بم لگاتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں کبھی کسی نے کوئی شکایت بھی نہیں کی۔

جمعہ، 1 اکتوبر، 2010

ترابی قتل کیس، تین کو سزائے موت

ترابی قتل کیس، تین کو سزائے موت

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی اور ان کے بھتیجے کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں تین ملزمان کو سزائے موت اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج آنند رام ہوتوانی نے جمعرات کو یہ فیصلہ سنایا جو ایک ہفتہ قبل محفوظ کیا گیا تھا۔

چھ ملزمان سلطان محمود عرف سیف اللہ، محمد امین عرف خالد شاہین، محمد اکبر خان، محمد رحمان، آفاق قریشی اور رحمت اللہ عرف علی حسن پر الزام تھا کہ انہوں نے متحدہ مجلس عمل سندھ کے نائب صدر اور تحریک اسلامی کے سربراہ علامہ حسن ترابی پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

علامہ حسن ترابی اور ان کے بھتیجے چودہ جولائی دو ہزار چھ کو گلشن اقبال میں اپنے گھر کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے حملہ آور کی شناخت عبدالکریم کے نام سے کی تھی۔

سماعت کے دوران چشم دید گواہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ واقعے والے دن فقیر کے بھیس میں ایک نوجوان نے علامہ حسن ترابی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی اور جب ان کے بھتیجے نے اسے روکنے کی کوشش کی تو حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔

گواہوں نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے ملزمان سلطان محمود عرف سیف اللہ، محمد امین عرف خالد شاہین اور محمد رحمان کو علامہ حسن ترابی کے گھر کے باہر دیکھا تھا جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔

تاہم ملزمان کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکلوں کے خلاف واحد شہادت ان کا اقبال جرم ہے جو حلف پر لایا گیا ہے، مگر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 164 کے تحت ملزمان کا اقبال جرم حلف پر نہیں لیا جاسکتا۔

ایک دوسرے مقدمے کے مطابق خودکش حملے سے قبل چھ اپریل کو علامہ حسن ترابی اپنی گاڑی میں ابوالحسن اصفہانی روڈ سے گذر رہے تھے کہ ایک ریڑھے میں بم نصب کرکے دھماکہ کیا گیا جس سے علامہ حسن ترابی زخمی ہوگئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق اس منصوبہ بندی میں بھی یہ ہی ملزمان ملوث تھے۔

عدالت نے اس مقدمے میں تمام ملزمان کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ رپے جرمانے کی سزا سنائی۔

اٹھارہویں ترمیم مقدمہ، فیصلہ محفوظ

اٹھارہویں ترمیم مقدمہ، فیصلہ محفوظ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی چند شقوں کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سترہ رکنی بینچ نے جمعرات کو سماعت کے دوران فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تاہم عدالت نے فیصلہ سنانے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے اٹھارہویں ترمیم کے تحت آئین میں شامل کی گئی شق 175 اے کے کچھ حصوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب پارلیمنٹ موجود ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ جن دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے ان کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ ان دفعات پر دوبارہ کام کیا جائے کیونکہ عدالت قانون نہیں بنا سکتی۔

آئین میں متعارف کرائی گئی اس نئی شق 175 اے کے تحت اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیشن کے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس شق میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اختیارات بھی دیے گئے ہیں جس کے تحت وہ مخصوص نشستوں پر خواتین کو نامزد کر سکتے ہیں۔ پارٹی کا سربراہ کسی بھی رکن کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

ایک درخواست گزار کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کا مستقبل صرف ایک آٹھ رکنی پارلیمنٹ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُس ادارے کو تباہ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے جس کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی نے قربانیاں دی ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے عبدالحفیظ پیرزادہ سے استفسار کیا کہ کیا عدالت کے پاس اُن ترامیم کی نظرثانی کا اختیار ہے جو پارلیمنٹ نے آئین میں کی ہوں اور کیا عدالت اپنے اختیار سے تجاوز نہیں کر جائے گی۔

عدالتی نظرثانی متنازعہ نہیں ہے اور آئین کی شق سات اور آٹھ کے تحت سپریم کورٹ کسی بھی ایسی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتی ہو۔

جسٹس رمدے

انہوں نے کہا کہ عدالتی نظرثانی متنازعہ نہیں ہے اور آئین کی شق سات اور آٹھ کے تحت سپریم کورٹ کسی بھی ایسی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتی ہو۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اگر وفاق کسی صوبے کے معاملات میں مداخلت کرے تو عدالت اُس اقدام کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں کوئلے کے بےشمار ذخائر ہیں لیکن اُن کی تلاش اس لیے نہیں ہوسکتی کیونکہ وفاقی حکومت نے ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سندھ سے منتخب ہونے والے نمائندے اپنے حقوق سے خود ہی دستبردار ہوئے ہیں۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی چند شقوں کی وجہ سے جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہیں کیونکہ اس میں خواتین کی منتخب نشستوں پر نامزدگی کے اختیارات پارٹی کے سربراہان کو دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ کسی بھی رکن کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن کے مکمل طور پر ختم کردے یا پھر اس کو رکھے کیونکہ کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔

وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ستونوں کے اختیارات کے حوالے سے آئین کی دفعہ 239 کے تحت عدالت پارلیمنٹ کی کسی ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی ہے۔

نیٹو کے ’حملے‘، تین پاکستانی اہلکار ہلاک

نیٹو کے ’حملے‘، تین پاکستانی اہلکار ہلاک

یہ رواں ماہ نیٹو ہیلی کاپٹرز کی پاکستانی حدود میں چوتھی کارروائی ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی دو کارروائیوں میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دونوں کارروائیاں جمعرات کی صبح قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ تازہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے خلاف نیٹو کے ساتھ شدید احتجاج پر یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نیٹو اور ایساف اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کی پاسداری کریں گے اور پاکستان کی خود مختاری پامال نہیں کریں گے۔

’ہم ہر حال میں پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔ ہم اپنی خود مختاری کی پامالی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

فرنیٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق پہلا حملہ اپر کرم ایجنسی کے علاقے منداتہ کنڈاؤ میں صبح پانچ بجے ہوا جبکہ دوسری کارروائی اسی ایجنسی میں مٹہ سنگر کے مقام پر صبح ساڑھے نو بجے کی گئی ہے۔

مٹہ سنگر میں ستائیس ستمبر کو بھی نیٹو کے ہیلی کاپٹرز کی کارروائی میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

نیٹو حکام کے مطابق پاکستانی فوجی حکام نے ایساف کو بتایا ہے کہ ان کی کارروائی کے دوران پاکستانی فوجی نشانہ بنے ہیں اور وہ یہ جاننے کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔

پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹر جمعرات کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور پاک افغان سرحد کے قریب واقع نیم فوجی دستے کی دو شناختی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

ترجمان نے بتایا کہ پہلی کارروائی میں نیٹو فورسز کے دو گن شپ ہیلی کاپٹرز شریک تھے جنہوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر شیلنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

دوسرے حملے میں بھی ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر ہیلی کاپٹر سے میزائل فائر کیے گئے تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

افغانستان میں نیٹو حکام نے سرحدی علاقے میں کارروائی کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغان سرحد کے نزدیک پکتیا صوبے کے ڈنڈ پتن ضلع میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کی گئی تھی۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران نیٹو ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوئے۔

تاہم نیٹو حکام کے مطابق پاکستانی فوجی حکام نے ایساف کو بتایا ہے کہ ان کی کارروائی کے دوران پاکستانی فوجی نشانہ بنے ہیں اور وہ یہ جاننے کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔

رواں ماہ میں پانچ بار نیٹو افواج کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کرنے کی خبر سامنے آئی ہے اور پچیس، چھبیس، ستائیس اور تیس ستمبر کو شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی میں نیٹو کارروائیوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری طرف اس واقعہ کے بعد حکومتِ پاکستان نے پاکستان سے اتحادی افواج کو سامان اور تیل کی سپلائی سکیورٹی خدشات کے باعث معطل کر دی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق جمعرات کی صبح نیٹو اور اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے کنٹینروں اور آئل ٹینکروں کو خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گاڑیوں پر حملوں کے خدشے کے باعث کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں نیٹو کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر کئی بار حملے کئے گئے ہیں جس میں سینکڑوں گاڑیوں کے تباہ ہونے کے علاوہ ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

خیال رہے کہ یہ رواں ماہ پانچ مرتبہ نیٹو افواج کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کرنے کی بات سامنے آ چکی ہے۔ اس سے قبل پچیس ستمبر کو نیٹو کے دو ہیلی کاپٹرز شدت پسندوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوگئے تھے اور ان کی فائرنگ اور بمباری سے تیس افراد مارے گئے تھے۔ اگلے ہی دن نیٹو ہیلی کاپٹرز نے دوبارہ اس علاقے میں کارروائی کی جس میں چار افراد مارے گئے۔

ستائیس ستمبر کو کرم ایجنسی میں اپر کرم کے علاقے مٹہ سنگر میں پاک افغان سرحد کے قریب غزگئی کے مقام پر افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ہیلی کاپٹرز نے بمباری کی تھی جس میں پانچ مقامی افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کی جانب سے ان واقعات پر نیٹو حکام سے احتجاج کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے جس منشور کے تحت اتحادی افواج افغانستان میں تعینات کی گئی ہیں اسے توڑا گیا ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم عناصر کے تعاقب کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہے اور اس بارے میں کوئی بھی رائے درست نہیں ہو گی۔