
بدھ، 28 اکتوبر، 2009
پیر، 26 اکتوبر، 2009
اتوار، 25 اکتوبر، 2009
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے: ڈاکٹر فاروق ستار کا بیان
پاکستان میں ترقی اور خوش حالی اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ وہاں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا
ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ یہ قائدِ اعظم محمدعلی جناح کےنظریے والا ملک ہے یا یہ بیت اللہ محسود کا ملک ہے؟ آج یہ صورتِ حال ہے کہ دہشت گردی کےخطرے کےباعث ملک کے تعلیمی اداروں تک کو بند کرنا پڑا؟
کینیڈا میں سات روزہ دورے پر آئے ہوئے سمندرپار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی اور خوش حالی اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ وہاں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
ٹورنٹو میں ہفتے کے دِن پاکستان کی کئی تنظیموں کی جانب سے دیے گئے استقبالئے سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف اب جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ حکومت نے یہ عزم کرلیا ہے کہ قائدِ اعظم کے پاکستان کو دہشت گروں سے نجات دلا کر ہی دم لے گی۔
اُن کے اپنے الفاظ میں: ‘ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ یہ ملک قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نظریے کا ملک ہے یا یہ ملک بیت اللہ محسود کا ملک ہے کہ آج یہ صورتِ حال ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کے باعث ملک کے تعلیمی اداروں تک کو ہمیں بند کرنا پڑا۔’
فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں ملٹری آپریشن اُس وقت کیا جب دہشت گردوں نے مسائل کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ مسائل کے حل کے لیے حکومت نے معاہدے بھی کیے لیکن دہشت گردوں نے تخریب کاری کا عمل جاری رکھا۔
استقبالیہ کے بعد وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے فاروق ستار نے اِس تاثر کو غلط قراردیا کہ کیری لوگر بِل کے معاملے میں کسی نتیجے پر پہنےو بغیر ہی قومی بحث ختم کردی گئی۔
اِس ضمن میں اُنھوں نے کہا ‘جو پارلیمان میں بحث ہورہی تھی کیری لوگر بِل پر وہ اچانک ختم نہیں ہوئی۔ اُس میں تمام سیاسی جماعتوں کی سوچ اور فکر اور اُن کی رائے جب سامےح آئی اور شاہ محمود قریشی صاحب اُس رائے کو لے کر عوام کے جذبات کو لے کر امریکہ گئے اوروہاں پر لوگوں نے سیاسی طور پر مسئلے کو حل ہوتے ہوئے دیکھا، قانونی طور پر نہیں۔’













































