اتوار، 25 اکتوبر، 2009

کوٹ کئی پر قبضہ طالبان کے خلاف اہم کامیابی ہے‘‘

جنوبی وزیرستا ن میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں کوٹکئی پر پاکستانی فوج کے قبضے کومبصرین سکیورٹی فورسز کی ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستا ن سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی افسر اورتجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام وزیر کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ حکیم اللہ محسود اور طالبان کے ایک اہم کمانڈر قاری حسین کے آبائی گاؤں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کا گڑھ تھا ۔

انعام وزیرکا کہنا ہے کہ کوٹکئی پر قبضے کے بعد فوج کوطالبان جنگجوؤں کے زیر اثر دو دوسرے اہم علاقوں مکین اور لدھا کی طرف بھی پیش قدمی میں آسانی ہو گی۔

تجزیہ نگار پروفیسر رفعت حسین بھی کوٹکئی پر فوج کے قبضے کو اہم قرار دیتے ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف برسرپیکار فوجیوں کی کوشش ہو گی کہ برفبار ی شروع ہونے سے قبل ہی زیادہ سے زیادہ علاقے کو قبضے میں لے پوزیشن مستحکم کر لی جائے۔

رفعت حسین کا کہنا ہے کہ علاقے میں پیش قدمی کے ساتھ ساتھ فوج کو یہ بات بھی مد نظر رکھنا ہو گی کہ آپریشن کے دوران عسکریت پسندجنوبی وزیرستان سے فرار نہ ہونے پائیں کیوں کہ اُن کے بقول اگرجنگجو زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہو ئے تو یہ سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی ناکامی ہو گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے شرکت کی تھی ، یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اُس میں ناکامی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں