ہفتہ، 24 اکتوبر، 2009

جمہوریت کدھر ہے؟



جمہوریت کدھر ہے- سچ تو یہ ہے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

ہماراملک اس لحاظ سے بہت ہی بد نصیب ملک ہے کہ اپنے قیام کے باسٹھ سال کے بعد بھی یہ اپنے مقاصد کو ایک رتی بھر حاصل نہیں کر سکا بلکہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے وقت اپنی منزل سے جتنا دور تھا آج باسٹھ قیمتی سال ضائع کرنے کے بعد اپنی حقیقی منزل سے کہیں زیادہ دور ہو چکا ہے ۔

اس ناکامی کی جتنی ذمہ داری ہمارے حکمران طبقے پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری عوام الناس پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ہر الیکشن میں عوام الناس نے صرف انہی لٹیروں کو منتخب کیا ہے جو کہ اسلامی ذہن تو رکھتے ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے مزاج جمہوری بھی نہیں ہیں ۔آپ خود ہی دیکھ لیں کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کتنی ہے ؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کی ساری کی ساری سیاسی پارٹیاں موروثیت اور ڈکٹیٹر شپ کی مکمل تصاویر ہیں ۔

ہر سیاسی پارٹی کسی ایک شخص ِواحد کی ملکیت ہے یا پھر اس سیاسی پارٹی پر ایک ہی خانوادہ نسل در نسل اس طرح سے قابض ہے جس طرح سے کوئی جاگیردار اپنی موروثی جائداد پر قابض ہوتا ہے اور پھراسی شخص واحد کا فیصلہ پوری پارٹی یا پوری لیگ کا فیصلہ متصور ہوتا ہے جبکہ عام کارکن تو ایک طرف رہے بڑوں بڑوں کو بھی اپنے لیڈر کے سامنے منہ کھولنے کی اجازت تک نہیں ہوتی ہے ۔ کیا یہ جمہوریت ہے ؟

ہم سبھی یہ دیکھتے بھی ہیں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں جمہوری عمل کے ذریعے سے رہنماوں کا انتخاب نہیں کیا جاتا مگر پھر بھی ہم عوام الناس عقل کے ایسے اندھے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی کو جمہوریت کی حامی یا جمہوریت کی محافظ پارٹی سمجھتے ہیں ۔ ہمارے سیاسی لیڈر پاکستانی عوام کی نفسیات کے ماہر ہیں اس لئے ہر الیکشن کے موقعہ پر ہمیں جمہوریت کے نام پر بےوقوف بنا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اگر تو وہ جیت سے ہم کنار ہو جاتے ہیں تو اگلے الیکشن تک نہ صرف ہمیں بلکہ جمہوریت کو بھی یکسر بھول جاتے ہیں اور اگر ان کی بدقسمتی سے وہ ہار جائیں اور اقتدار کی دیوی سے محروم رہ جائیں تو دن رات یہی دہائی دیتے رہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے پاکستان خطرے میں ہے اور عوام خطرے میں ہیں۔

اگر ان کے مفادات کا تقاضا ہو تو وہ فرینڈلی اپوزیشن کا ڈھونگ بھی رچانے سے باز نہیں آتے مگر اپنی گانٹھ کے اتنے پکے ہوتے ہیں کہ کیامجال ہے کہ اپنی پارٹی یا لیگ میں انتخابات کروانے کا بھی سوچیں ۔بلکہ یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے سیاست دان تو اتنے غیر جمہوری مزاج کے واقع ہوئے ہیں کہ وہ تو خواب میں بھی اپنی پارٹی یا لیگ میں الیکشن کروانے کا تصور تک نہیں کرسکتے ۔

پاکستانی سیاست دانوں کی اس موروثی غیر جمہوری فطرت کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو اپنے مزارعین یا پھر جدی ملازمین ہی تصور کرتے ہیں اس لئے وہ اپنے خوشامدیوں یا پھر قریبی رشتہ داروں کو ہی پارٹی ٹکٹ دیتے ہیں یوں ہر الیکشن کے بعد وہی پرانے چہرے بار بار ہماری صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں جا پہنچتے ہیں جو کہ نہ تو ملک کے وفادار ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام الناس کے بلکہ وہ صرف اور صرف اپنے اقتدار ذاتی فائدے اور خاندانی مفاد کے ہی سگے ہوتے ہیں ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ انہی غیر جمہوری ذہن رکھنے والوں کے رشتہ دار ہی سینٹ کے رکن بنتے ہیں جب کہ ہر پاکستانی یہ بھی جانتا ہے کہ فورسز اور افسر شاہی میں بھی انہی سیاست دانوں کے رشتہ داروں اور انہی کے اقرباءکا مکمل قبضہ ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں ملٹری جرنیلوں سول افسروں بڑے بڑے زمین داروں پیروں اور سرمایہ داروں کی آپس میں قریبی رشتہ داریاں ہیں ۔اس لئے یہ لوگ حزب اقتدار میں ہوں یا پھر حزب اختلاف میں ۔حکومت سول ہو یا اس کے بر عکس فوجی ڈکٹیٹر شپ ہو۔ فائدے میں ایک مخصوص کلاس ہی رہتی ہے البتہ جب بھی مالی یا جانی قربانی کی بات آتی ہے تو ان لیڈروں کو عوام کی یاد بڑی ہی شدّت سے آجاتی ہے ۔

آپ خود ہی دیکھ لیں کہ حکومت سول ہو یا پھر فوجی ہو ٹیکسوں کی مار عوام کو ہی سہنا پڑتی ہے اور مہنگائی کا برا اثر صرف اور صرف عام آدمی کے دستر خوان کو ہی متاثر کرتا ہے جب بھی کوئی نیا بجٹ آتا ہے تب ڈاکہ ہماری جیبوںپر ہی پڑتا ہے یوں ہم عام لوگ جنہوں نے ڈکٹیٹرانہ ذہن رکھنے والے سیاست دانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کی غلطی کی ہوتی ہے مہنگائی اور غربت کی چکی میں ہمیشہ ہی پستے رہتے ہیں ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے جو کہ نظام نہیں چہرے بدلتے ہیں ۔اگر ہم پاکستانی عوام نے چہرے بدلنے کی یہ بے کار مشق بر قرار رکھی توپاکستانی عوام الناس کی معاشی معاشرتی اور سماجی حالت اگلے سو برس بعد بھی ایسی ہی ہوگی یا اس سے بھی بدتر ہی ہوگی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ صرف دس برس کے بعد ہی ہمارے ملک کا شمار دنیا کے دس غریب ترین ممالک میں ہو جائے۔

کیونکہ ہمارے نام نہاد لیڈر نہ صرف ہمیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ بڑی ہی تیزی سے ہمارا قیمتی قومی سرمایہ بھی ہمارے وطن سے باہر لے جارہے ہیں ۔سرمائے کا یہ بے روک ٹوک فرارہی دراصل مہنگائی بے روزگاری اور غربت کا اصل سبب ہے جس کے مہیب سائے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ سیانا وہی ہے جو کہ بروقت ہوش میں آجائے ۔دیکھنا اب یہ ہے کہ پاکستانی عوام بروقت ہوش میں آ کر اپنے سیانے پن کا ثبوت دیتے ہیں یا پھر بے وقوف ہی بنے رہنا چاہتے ہیں؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں