ایرانی صدر کے بیان پر واک آؤٹ
’کچھ ممالک کے نزدیک جوہری توانائی اور جوہری بم ایک جیسی چیزیں ہیں‘
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ایرانی صدر کی جانب سے نائن الیون حملوں کو امریکی سازش کا حصہ قرار دیے جانے پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا ہے۔
جنرل اسمبلی کے پینسٹھویں اجلاس کے پہلے دن اپنی تقریر کے دوران ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ کچھ لوگ گیارہ ستمبر کے حملوں کو اسرائیل کو بچانے کی امریکی سازش کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکہ نے ایرانی صدر کے اس بیان کو گھٹیا اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ایرانی صدر کی تقریر کے دوران واک آؤٹ میں امریکہ کا ساتھ بتیس دیگر ممالک نے بھی دیا جن میں یورپی یونین کے تمام ارکان، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کوسٹریکا شامل ہیں۔
ایرانی عوام کے جذبۂ خیرسگالی کی نمائندگی کی بجائے محمود احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر سازشی نظریات کا پرچار کیا ہے جو کہ گمراہ کن اور گھٹیا ہیں۔
مارک کورنبلاؤ
ایرانی صدر نے اس احتجاج کا ذرا بھی اثر قبول نہیں کیا اور اپنی تقریر میں اسرائیل اور صیہونیت کو نشانہ بناتے رہے۔
ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ان کا ملک آئندہ برس دہشتگردی کے موضوع پر ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کو جوہری عدم پھیلاؤ کے سال کے طور پر منایا جانا چاہیے۔
محمود احمدی نژاد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کچھ ارکان کے نزدیک ’جوہری توانائی اور جوہری بم ایک جیسی چیزیں ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اقوامِ متحدہ کے جوہری عدم پھیلاؤ کے ادارے کے غیر ضروری دباؤ میں نہیں آئے گا۔
اس تقریر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے ایلچی مارک کورنبلاؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایرانی عوام کے جذبۂ خیرسگالی کی نمائندگی کی بجائے محمود احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر سازشی نظریات کا پرچار کیا ہے جو کہ گمراہ کن اور گھٹیا ہیں‘۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں