جمعہ، 24 ستمبر، 2010

عدنان خواجہ کی ضمانت پر رہائی

سپریم کورٹ نے عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا چیئرمین مقرر کرنے کا از خودنوٹس لیا تھا

سپریم کورٹ کے حکم پرگرفتار کیے جانے والے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹیڈ کے سابق چیئرمین عدنان خواجہ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق عدنان خواجہ کی رہائی پانچ پانچ لاکھ کے مچلکے عدالت میں جمع کروانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

عدنان خواجہ اور انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر(ر) امتیاز کو اکیس ستمبر کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کی بناء پر سپریم کورٹ نے جیل بھیج دیا تھا۔

عدنان خواجہ کو بدعنوانی کے مقدمات میں قومی احتساب بیورو کی متعلقہ عدالت نے مُجرم قرار دیتے ہوئے دو سال کی قید اور دو لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سُنائی تھی تاہم جب کالعدم قرار دیے جانے والے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے تحت انہیں دی جانے والی سزا ختم کی گئی تو سزا پوری ہونے میں دس ماہ اور بائیس دن کا عرصہ باقی تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی تو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ عدنان خواجہ کی سزا باقی ہے جس پر عدالت نے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

قومی احتساب بیورو کی متعلقہ عدالت نے عدنان خواجہ کو بدعنوانی کا مُجرم قرار دیتے ہوئے دو سال کی قید اور دو لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سُنائی تھی تاہم جب کالعدم قرار دیے جانے والے قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت ان کی سزا ختم کی گئی تو سزا پوری ہونے میں دس ماہ اور بائیس دن کا عرصہ باقی تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی طرف سے پہلے سے دائر کیے گئے ضمانتی مچلکے این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کالعدم ہوچکے ہیں لہذا اُنہیں نئے ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہوں گے اور عدنان خواجہ کو مچلکے جمع کروانے کے لیے تین دن کی مہلت بھی دی گئی تھی۔

عدنان خواجہ کے وکیل نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ چونکہ ان کے موکل کو سپریم کورٹ نے ہی ضمانت دی تھی اس لیے مچلکے سپریم کورٹ میں ہی جمع کروائے گئے ہیں۔

عدنان خواجہ کے ساتھ جیل بھیجے جانے والے انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر(ر) امتیاز کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی ہے کیونکہ ان کی ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کی تھی اور اس لیے ان کے ضمانتی مچلکے وہیں داخل کروانے ہوں گے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا چیئرمین مقرر کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے اس کا از خودنوٹس لیا تھا کہ سزا یافتہ شخص کو کیسے اتنے اہم عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ بعد ازاں حکومت نے عدنان خواجہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں