جمعہ، 24 ستمبر، 2010

پانچ برس میں پہلی عورت کو سزائے موت

ٹیریسا لویس

امریکہ میں عام طور پر خواتین کو سزائےموت نہیں دی جاتی

امریکی ریاست ورجینیا میں ایک عورت کو اپنے شوہر اور سوتیلے بیٹے کے قتل کی سازش کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

اکتالیس سالہ ٹیریسا لوئیس ورجینیا میں سنہ انیس سو بارہ کے بعد اور امریکہ میں گزشتہ پانچ سال میں سزائے موت پانے والی پہلی عورت ہیں۔

لوئیس نے دو مردوں کے ساتھ مل کر اپنے خاوند اور سوتیلے بیٹے کے قتل کا منصوبہ بنایا، قاتلوں کے لیے اسلحہ خریدا اور ان کے لیےگھر کے دروازے کھلے چھوڑ دیے تھے۔

ان کے شریکِ جرم مردوں میتھیو شیلنبرگر اور راڈنی فلر کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔

اکتالیس سالہ ٹیریسا لوئیس ورجینیا میں سنہ انیس سو بارہ کے بعد اور امریکہ میں گزشتہ پانچ سال میں سزائے موت پانے والی پہلی عورت ہیں۔

ٹیریسا کے وکلاء اور سزائے موت کی مخالفت کرنے والے افراد ان کے کم ’آئی کیو‘ کو بنیاد بنا کر کہا تھا کہ ٹیریسا اس طرح کا منصوبہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ اور ورجینیا کے گورنر نے ٹیریسا کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے سزائے موت دے دی گئی۔

ٹیریسا کے وکلاء شیلنبرگر پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے قتل کا منصوبہ بنایا اور ٹیریسا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جس کے ساتھ ان کےتعلقات تھے۔ شیلنبرگر نے حراست کے دوران خودکشی کر لی تھی۔

امریکہ میں یکم جنوری انیس سو تہتر سے تیس جون دو ہزار آٹھ کے درمیان آٹھ ہزار ایک سو اٹھارہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں صرف ایک سو پینسٹھ خواتین تھیں۔ اسی عرصے میں ایک ہزار ایک سو اڑسٹھ لوگوں کو سزائے موت دی گئی جن میں صرف گیارہ خواتین تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں