بدھ، 22 ستمبر، 2010

فائل فوٹو، کشمیر میں احتجاج

’حد یہ ہے کہ جب جب یہاں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں تو ارباب اختیار توقع کرتے ہیں کی عوامی مزاحمت دبانے کے لیے مقامی میڈیا ان کی ’فریب کاری‘ کی سیاست کا ہم نوا بنے۔

’ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی۔‘ اس نعرے کی گونج اجنبی یا نئی نہیں اور ایک کشمیری صحافی کے کانوں میں اس وقت بھی سنائی دیتی ہے جب وہ محوِ خواب ہوتا ہے۔۔۔

اس سال گیارہ جولائی کو صحافیوں نے دن ڈھلے یہ نعرہ خود لگا کر اپنی ’آزادی‘ کا مطالبہ کیا۔

اس سے اس ماہ قبل گیارہ جون کو جب سری نگر کی گنجان آبادی والے راجوری کدل کے علاقے میں پولیس نے ایک سترہ سالہ نوجوان کو ہلاک کیا تو کشمیر میں ایک عوامی انقلاب برپا ہوا۔

ہلاکتیں پہلے بھی ہوئی ہیں، پر اس بار یہ ہنگامہ کیوں برپا ہے؟ دراصل گیارہ جون کو پولیس نے ایک نہیں دو قتل کیے۔

پولیس نے اس دن پہلے سترہ سالہ طفیل مٹو کو ہلاک کیا پھر الزام ان لوگوں کے سر تھوپ دینے کی کوشش کی جنھوں نے اس نوجوان کی جان بچانے کی خاطر اسے ہسپتال پہنچا کر انسانیت نامی چیز کی لاج رکھ لی تھی۔ ایک انسان کا قتل اور دوسرا سچائی کا۔

میرے نزدیک اس انقلاب کا اصل محرک اتنا پہلا نہیں جتنا دوسرا قتل ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات ان واقعات کا بس تسلسل ہے جن سے کشمیری قوم گزشتہ اکیس سال سے لہو لہان ہے۔

یہ تلخ حقیقت ماننی پڑےگی کہ کشمیری میڈیا جو گزشتہ بیس سالو ں میں پروان تو چڑھا لیکن آزاد ہرگزنہیں ہوا۔

اور یہ بھی صحیح ہے کہ یہ تو سلگتی چنگاری تھی جو بس بھڑک اٹھی۔ یہ اس گھٹن سے نکلنے کی جستجو ہے جس میں یہ قوم اپنے آپ کو جکڑی ہوئی پاتی ہے۔

ایسے میں کشمیری میڈیا کتنی اپنی قوم کی طاقت کا پاس کر پاتا ہے، یہ سوال مجھے ہمیشہ گھورتا رہتا ہے۔

یہ تلخ حقیقت ماننی پڑےگی کہ کشمیری میڈیا جو گزشتہ بیس سال میں پروان تو چڑھا لیکن مکمل طور پر آزاد ہرگز نہیں ہوا۔

نجی کاروبار کی عدم موجودگی میں سرکاری اشتہارات پر انحصار، سرکاری معلومات کے بہاؤ پر اجارہ داری، اور پھر حق بات پر طرح طرح کے ہتھکنڈوں کا سامنا، ایسی چیزیں ہیں جس نے اصل میں کشمیری میڈیا کی کمر توڑ رکھی ہے۔

حد یہ ہے کہ جب جب یہاں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں تو ارباب اختیار توقع کرتے ہیں کی عوامی مزاحمت دبانے کے لیے مقامی میڈیا ان کی ’فریب کاری‘ کی سیاست کا ہم نوا بنے۔

ایسے میں مقامی میڈیا جب جب ایسے واقعات کی عکاسی کرتا ہے تو سچ کے ساتھ ساتھ ’پروپیگنڈا‘ کو بھی تقریباً مساوی مقام دینا ہی پڑتا ہے۔ اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا پروفیشنل زور آوری، حقیقت سے انکار نہیں۔

ایسے میں جب ایک کشمیری کو اجنبی ٹی وی چینلز اور طاقتور میڈیا کی یلغار کا سامنا ہے تو اس کی نظر بجا طور پر اس میڈیا پر رکتی ہے جو خود کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے۔

ادھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ کشمیر میں اگرچہ اس وقت اندازاً پچیس نیوز چینلز رات دن میسر ہیں لیکن ان میں ایک بھی کشمیری نہیں ہے۔ کشمیری میڈیا بس جو بھی ہے وہ یا تو اخبارات کی شکل میں ہے یا پھر کیبل کے ذریعے گنتی کے چند چینلز محدود پیمانے پر دیکھائے جاتے ہیں۔

اور اس پر طرہ یہ کہ سرکار ان کی رہی سہی آزادی سے بھی خائف ہے۔ تین ماہ پہلے اشتہارات کی عدم موجودگی سے پیدا شدہ بحران جھیل رہے یہ اخبارات بلاآخر گزشتہ دو ہفتوں سے بلکل بند پڑے ہیں۔ اشتہارات در کنار اخبارات کی ترسیل ایسے میں کس طرح ممکن ہے جب چار قدم چلنے پھرنے پر مکمل قدغن ہو۔

ادھر یہ حقیقت تو دوسری طرف احساس محرومی کی شکار قوم کی اس میڈیا سے حقیقی توقعات۔

میں اپنے گزشتہ بیس سال کے تجربات کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر میں آزادانہ طور پر پر فرض نبھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

پس بجائے میرے ساتھیوں نے گیارہ جولائی کو ’ہم کیا چاہتے؟ آزادی’ کا نعرہ تازہ سرکاری قدغن سے آزاد ہونے کے لیے دیا ہو، میں نے تو یہ نعرہ ہر اس بندش سے نکلنے کے لیے دیا جس نے میرے ہاتھوں اور قلم کو تعزیر میں جکڑ رکھا ہے۔)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں