احمدی نژاد کا بیان قابلِ نفرت ہے: اوباما
امریکی صدر نے پرشین ٹیلی ویژن کو خصوصی انٹرویو دیا ہے
امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے اس بیان کو ’ قابل نفرت‘ قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اکثر لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے پیچھے خود امریکی ہاتھ کارفرما تھا۔
امریکی صدر نے بی بی سی کے فارسی ٹیلیویژن کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ محمود احمدی نژاد نے مین ہٹن میں اس جگہ کے قریب کھڑے ہو کر یہ ’قابل نفرت بیان‘ دیا ہے جہاں ہر مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے تین ہزار کے قریب عزیز و اقارب ان سےجدا ہو گئے تھے۔
بی بی سی پرشین کی فارسی میں نشریات ایران ا ور افغانستان میں دیکھی جاتی ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ تمام عقیدوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے اسے اس نسل کی شکل تبدیل کرنے والا المناک واقعہ قرار دیتے ہیں اور ان (ایرانی صدر) کا بیان ناقابلِ معافی ہے‘۔
تمام عقیدوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے اسے اس نسل کی شکل تبدیل کرنے والا المناک واقعہ قرار دیتے ہیں اور ان (ایرانی صدر) کا بیان ناقابلِ معافی ہے
براک اوباما
یو این اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ اکثر لوگ آج بھی سمجھتے ہیں کہ نائن الیون حملوں میں امریکی حکومت کا ہاتھ تھا۔ ایرانی صدر نے کہا تھا کہ نائن الیون حملوں کا مقصد امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا اور صہیونی ریاست کو بچانے کےلیے مشرق وسطیٰ پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔‘
احمدی نژاد کی تقریر کے دوران یورپی اور امریکی نمائندوں نے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔
امریکی صدر نے محمود احمدی نژاد کے بیان کے باوجود اس اپنے اس عزم کو دہرایا اور کہا کہ ایرانی عوام نائن الیون کے بارے محمود احمدی نژاد سے مختلف موقف رکھتے ہیں اور گیارہ ستمبر کے واقع پر ایران میں بھی دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایران پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا تعلق ہے تو اِس معاملے میں صرف امریکہ ہی نہیں تھا جس نے پابندی لگائی۔
براک اوبامہ کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ہمارا معاملہ نہیں تھا کہ ہم ایرانیوں کو سزا دینے کے لیے مزید پابندیاں عائد کریں۔ یہ تو خود ایرانی اور ایرانی حکومت تھی جس نے اپنے ہی عوام کے مفادات کو ٹھیس پہنچائی اور اپنے آپ کو دنیا میں مزید تنہا کر لیا‘۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اگر نائن الیون کے واقعے کی شروع دن سے تحقیقات کرائی جاتی تو ہم آج افغانستان اور عراق میں یہ تباہی نہ دیکھ رہے ہوتے۔ آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت دنیا کو جو بتاتی ہے وہی مان بھی لیا جانا چاہیے۔
محمود احمدی نژاد
ادھر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا دفاع کیا ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت واضح اور ایک ہی نکتے پر مرکوز بحث ہے۔ ایک واقعہ ہوا، اور پھر اُس واقعے کی آڑ لے کر دو ملکوں پر حملہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں آج تک ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ حملہ کرنے کے لیے جو جواز گھڑا گیا تھا اب اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اگر نائن الیون کے واقعے کی شروع دن سے تحقیقات کرائی جاتی تو ہم آج افغانستان اور عراق میں یہ تباہی نہ دیکھ رہے ہوتے۔ آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت دنیا کو جو بتاتی ہے وہی مان بھی لیا جانا چاہیے‘۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں