جمعہ، 24 ستمبر، 2010

’عدلیہ کے احکامات کو ماننا چاہیے‘

نواز شریف(فائل فوٹو)

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے تمام احکامات کو ماننا چاہیے اور صدر کو استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ہی کرے گی۔

میاں نواز شریف نے یہ بات لاہور میں جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہی جو سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کی گئی تاہم یہ پریس کانفرنس بحالی سیلاب زدگان کے موضوع سے زیادہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر رہی۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ سے این آر او کی مخالفت کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت میں جو کوئی بھی این آر او زدہ لوگ ہیں انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا چاہیے اور اگر وہ خود ایسا نہیں کرتے تو انہیں نکال دینا چاہیے۔

میاں نواز شریف سے یہ پوچھا گیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سینٹ کے اجلاس میں اپنی تقریر میں صدر کے استثنیٰ کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کرے گی اور وہ خود اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بابت ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں حکومت کے ساتھ نہیں۔ حکومت عدلیہ کو آنکھیں دکھانا بند کرے

نواز شریف

میاں نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے سخت جدو جہد کی گئی اور اس جدو جہد کے سبب آزاد ہونے والی عدلیہ کا یہ حشر کیا جائے کہ ہر قدم پر اس کی حکم عدولی ہو اور اس کے فیصلوں کا احترام نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ این آر او کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بابت وہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں حکومت کے ساتھ نہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو آنکھیں دکھانا بند کرے۔

ایک سوال پر کہ ان کی پارٹی کو سابق صدر جرنل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا تو کیا ان کی جماعت ان کے خلاف مقدمہ دائر کرے گی تو اس ضمن میں میاں نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل چھ کا حوالہ دیا کہ حکومت ہی ان کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے اور لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم وہ یہ وضاحت نہ کر سکے کہ یہ تبدیلی کیسے آئے گی۔

میاں نواز شریف نے تسلیم کیا کہ پنجاب میں کئی سیلاب زدہ اضلاع میں بحالی کا کام شروع نہیں ہوا البتہ ان کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کے دیہات میں ماڈل گاؤں بنائے جائیں گے اور ہر خاندان کو ایک لاکھ روپیہ نئے مکان کی تعمیر کے لیے دیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں