کراچی میں سات طالبان گرفتار
کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بتایا ہے کہ پولیس نے جمعرات کو گلستانِ جوہر کے علاقے سے سات مشتبہ عسکریت پسندوں کو بھاری تعداد میں دھماکا خیز مواد اور اسلحے سمیت گرفتار کیا ہے۔
اُنھوں نے یہ انکشاف جمعرات کے دِن ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔
اُن کے الفاظ میں،‘شہر میں موجود ایک اور بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اُس سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ سات دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ کراچی میں اہم تنصیبات اورسرکاری املاک کو نشانہ بنا کر معصوم شہریوں کی جانیں لے کر شہر میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے تھے۔’
کراچی پولیس سربراہ کے مطابق ملزمان کا تعلق تحریکِ طالبان حکیم اللہ محسود سے ہے۔
اُنھوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کراچی پولیس نے ملک کے شمال مغربی حصوں سے تعلق رکھنے والے 80 دہشت گردوں کو گرفتار جب کہ چھ کو ہلاک کیا۔
واضح رہے کہ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے اور تازہ لڑائی میں حکام نے مزید 27جنگ جوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اِن جھڑپوں میں پانچ فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ‘راہِ نجات’ میں حکام نے اب تک 500سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور 50 سے زائد فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر جاری کیے گئے اِن اعداد و شمار کی تصدیق آزاد ذرائع سے تقریباً ناممکن ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں