جمعہ، 24 ستمبر، 2010

مشرف ہانگ کانگ میں

مشرف ہانگ کانگ میں

پرویز مشرف

جنرل (ر) مشرف کئی مہینوں سے نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کے اعلانات کرتے آرہے ہیں

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ہانگ کانگ میں جاری ایک انیویسٹرز کانفرنس میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ میں ہیں جہاں انہوں نے صحافیوں سے ایک بار پھر اپنا پاکستان لوٹ کر سیاسی میدان میں اترنے کا ارادہ دہرایا ہے۔

جنرل مشرف کو ’سی ایل ایس اے‘ کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ سی ایل ایس اے ہانگ کانگ میں مقیم ایک بڑی بین الاقوامی بروکریج کمپنی ہے۔

کانفرنس کے اجلاس کے بعد جنرل مشرف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ یکم اکتوبر کو اپنی سیاسی جماعت قائم کریں گے جس کا نام ’آل پاکستان مسلم لیگ‘ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان جا کر سیاست میں جائیں گے اور 2013 کے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

پاکستان کے سابق صدر کئی مرتبہ ایسے اعلانات کر چکے ہیں اور کئی ماہ پہلے بھی ان کی سیاسی جماعت قائم کرنے کی لندن میں تقریب کی تاریخ کا بھی اعلان ہوا تھا۔ تاہم اسے مؤحر کر دیا گیا تھا۔

جنرل مشرف نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے دیگر امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا جن میں کرکٹ نو بالز سکینڈل، افغانستان کی صورتحال اور جنرل پیٹرئیس کی تعریفیں شامل تھیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کو پاکستان جا کر کئی مقدمات کا سمنا کرنا ہوگا تاہم یہ مقدمات ’سیاسی عناصر نے ان کے خلاف بنائے ہیں۔‘ انہوں نے پاکستان میں خاندانی سیاست کے رواج کو بھی غیر جمہوری قرار دیا۔

جنرل مشرف نے 1999 میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور وہ 2008 تک پاکستان کے سربراہ رہے۔وہ پچھلے دو سال سے لندن میں رہتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں