جمعہ، 24 ستمبر، 2010

’وزیرِاعظم کو گمراہ کیا جا رہا ہے‘

سپریم کورٹ نے وزارت قانون کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی سمری کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سمری سے تو ایسا لگتا ہے کہ وزارت قانون وزیرِاعظم کو گمراہ کر رہی ہے۔

یہ ریمارکس جمعہ کے روز جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

سپریم کورٹ بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز نے وزارت قانون کے قائم مقام سیکرٹری سلطان شاہ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی سمری کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس سمری سے تو ایسا لگتا ہے کہ وزارت قانون وزیر اعظم کو گمراہ کر رہی ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس میں کہا کہ یہ سمری تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرامد نہ کرنے والی سمری ہے۔

سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے کہ وزارت قانون این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے سمری دوبارہ وزیر اعظم بھجوائے اور سمری کی ہدایات سپریم کورٹ دے گی۔

سپریم کورٹ بینچ نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک میں بدعنوانی کے تمام مقدمات دوبارہ کھولے جائیں اور سوئٹزرلینڈ میں جو چھ کروڑ ڈالر پڑے ہیں اس رقم کو واپس پاکستان لانے کے لیے وفاقی حکومت اقدامات کرے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ اور دیگر ملکوں کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدوں کو فروغ دیا جائے تاکہ مقدمات دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مدد مل سکے۔

بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے اور حکومتی کی طرف سے ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔

بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ جس طرف حالات جارہے ہیں اُس سے ہوسکتا ہے کہ ججوں اور اقتدار میں بیھٹے ہوئے لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن نظام تباہ ہوجائے گا۔

عدالت نے قائمقام سیکرٹری قانون سے کہا کہ وزیر اعظم کو این آر او پر عمل درآمد کے حوالے سے جو نئی سمری بھیجی جائے گی تو عدالت کو بھی اس ضمن میں آگاہ کیا جائے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں