جمعہ، 24 ستمبر، 2010

دنیا امن مذاکرات کی حمایت کرے:اوباما

اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی برقرار رکھے:اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے اسرائیل اور فلسطین کو تو تاریخ کی پکار کا جواب دینا ہی چاہیے لیکن خطے میں امن کے لیے دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ ان کا ساتھ دے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس بار اسرائیل اور فلسطین اس وقت تک امن مذاکرات جاری رکھیں جب تک اس کا نتیجہ نہیں نکل آتا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ اس ہال میں تشریف فرما کئی لوگ خود کو فلسطینیوں کے دوستوں میں شمار کرتے ہیں لیکن دوستی کے ان وعدوں کے ساتھ ساتھ اب عملی اقدامات بھی ہونے چاہییں۔ وہ عرب ممالک جنہوں نے خطے میں امن کی دستاویز پر دستخط کیے تھے انہیں اب اس موقع پر فائدہ اٹھاتے ہوئے امن کے لیے وہ اقدامات کرنے چاہییں جن کا انہوں نے اس دستاویز میں اسرائیل سے وعدہ کیا تھا اور وہ ممالک جو فلسطینیوں کی خودمختاری کی بات کرتے ہیں انہیں فلسطینی انتظامیہ کی سیاسی اور مالی مدد کرنی چاہیے خاص طور پر فلسطینیوں کو اپنی ریاست کے ادارے بنانے میں‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی خواہش کے تحت اسرائیل کے ٹکڑے کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متنازعہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی برقرار رکھے اور اس کی مدت میں توسیع کرے۔ تاہم ان کی یہ بات سننے کے لیے ہال میں کوئی بھی اسرائیلی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

کچھ کہتے ہیں کہ فریقین میں فاصلے بہت زیادہ ہیں اور مذاکرات کی ناکامی کا خدشہ بھی بہت بڑا ہے اور یہ کہ عشروں کی ناکامی کے بعد امن ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر امن معاہدہ نہیں ہوتا تو فلسطینی یہ کبھی جان ہی نہیں سکیں گے کہ اپنی ریاست کا فخر اور احساس کیا ہوتا ہے اور اسرائیلیوں کو بھی یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ تحفظ کس چیز کا نام ہے۔

براک اوباما

براک اوباما نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اس راستے میں امتحان آئیں گے اور ایک امتحان بہت قریب آرہا ہے۔ اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر پر جو عارضی پابندی لگائی ہے اس سے فرق پڑا ہے اور بات چیت کا ماحول بہتر ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس پابندی میں توسیع کی جائے گی اور ہمیں یہ بھی امید ہے کہ مذاکرات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا‘۔

امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے لوگ پرامید نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ کہتے ہیں کہ فریقین میں فاصلے بہت زیادہ ہیں اور مذاکرات کی ناکامی کا خدشہ بھی بہت بڑا ہے اور یہ کہ عشروں کی ناکامی کے بعد امن ممکن ہی نہیں ہے‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امن معاہدہ نہیں ہوتا تو فلسطینی یہ کبھی جان ہی نہیں سکیں گے کہ اپنی ریاست کا فخر اور احساس کیا ہوتا ہے اور اسرائیلیوں کو بھی یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ تحفظ کس چیز کا نام ہے‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو’مزید خون بہے گا اور یہ مقدس زمین ہماری مشترکہ انسانیت کی بجائے ہمارے اختلافات کی نشانی بنی رہے گی‘۔

اپنے خطاب میں صدر اوبامہ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسکا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ناکامی کی صورت میں اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں