یزید پلید
قرآن پاک
ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ الخ
جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت
احادیث مبارکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری سنت کو بدلنے والا پہلا شخص بنو امیہ سے ہو گا جو یزید ہو گا ۔
تاریخ الخلفاء ص 149 ۔ البدایہ والنھایۃ ج8 ص231 ۔ صواعق المحرقہ 219 ۔
میری امت کا امر(حکومت)عدل سے قائم رہے گا ، جوشخص سب سے پہلے اسے تباہ کریگا وہ بنو امیہ میں سے یزید ہو گا ۔
البدایہ والنھایۃ ج8 ص 231۔ صواعق المحرقہ 219 ۔حجۃ اللہ علی العالمین 529۔تاریخ الخلفاء 142 ۔
یزید کا کردار
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید راگ ورنگ کا متوالا تھا، شراب پیتا تھا ، خوبصورت لڑ کیوں اور لڑ کوں کو اپنے پاس رکھتا تھا ، گانے والی عورتیں اس کے دربار میں موجود ہوتیں ، شراب کے نشے میں مست ہوتا ، کتوں کا شکاری تھا ۔ بندروں کے سروں پرسونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا ، جب ان میں سے کوئی مرجاتا تو افسوس کرتا تھا ۔البدایہ والنھایۃ ج8 ص335
یزید شراب کے بارے میں شعر کہا کرتا تھا
ترجمہ : کہ اگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں شراب حرام ہے ۔ تو عیسائی بن کر شراب پئے جا ۔صواعق المحرقہ ص134
حضرت حنظلہ غسل الملائکہ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں کہ یزید پر ہم نے اس وقت حملہ کی تیاری کی اور اس کی بیعت توڑ ی جب ہم لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی ، اس لئے کہ یزید کے فسق و فجور کا یہ عالم تھا کہ وہ ماؤں ، بہنوں بیٹیوں سے زنا کرتا تھا ، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑ دیتا ۔ تاریخ الخلفاء 209 ، طبقات الکبریٰ ص66ج5 ۔
یزید کی موت کے اسباب میں ایک سبب یہ تھا کہ وہ ایک بندر سے شرارتیں کر رہا تھا کہ بندر نے اسے کاٹ لیا ، البدایہ والنھایۃ ص231 ج8
یزید کا کردار اس کے بیٹے کی زبانی
یزید کے بیٹے نے چند دن حکومت میں رہ کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے باپ یزید نے حکومت سنبھالی حالانکہ وہ اس قابل نہ تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین سے اس نے جنگ کی اور اس کی عمر کم ہوگئی ، اور وہ اپنے گنا ہوں کو لیکر قبر میں جاپھنسا ، پھر یزید کا بیٹا روپڑ ا، کہا ہمارے لئے بڑ ا صدمہ یزید کے برے انجام کا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قتل کیا ، شراب کو حلال کیا ، کعبہ کو تباہ کیا ۔صواعق المحرقہ 224
امام حسین کی شہادت اور ملعون یزید
یزید نے سید الشہدا امام حسین کے قتل کا حکم دیا اور شہادت پر رضامندی کا اظہارکیا ۔
ارشاد الساری ص104 ج5، تیسیر الباری ص128ج3، شرح عقائد ص113، فتاویٰ عزیزیہ ص253 ، تکمیل الایمان ص97، تفسیر مظہری ص21ج 5، سالبدایہ والنھایۃ ص230ج8، صواعق المحرقہ ص124۔
ابن زیاد نے کہ اکہ یزید نے مجھ سے کہا تھا کہ امام حسین کو قتل کر دیا جائے گا ۔
کامل ابن اثیر ص45ج4
یزید کے سامنے امام حسین کا سر انور لایا گیا تو یزید نے امام کے لبوں پر چھڑ ی مارنا شروع کی ۔
البدایہ والنھایہ ص194ج۸، اسعاف الراغبین ص207، شہید کربلا از مفتی شفیع دیوبندی ص94، شہید کربلا اور یزید ص127۔
جب یزید کے سامنے امام حسین کا سر انور لایا گیا تو یہ خوش ہوا اور شعر پڑ ھے ، کہنے لگا کہ آج میں نے اپنے باپ دادا کا بدلہ لے لیا ، جو بدر میں مارے گئے تھے اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ یہ دیکھ کر خوش ہوجاتے ، منہاج السنہ از ابن تیمیہ ص274ج2، مظہری ص21ج5، روح المعانی ص73ج26، البدایہ والنھایہ ص232ج8۔
یزید کا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی توہین کروانا اور قتل وغارت ، عام زنا کی اجازت
یزید کے حکم سے اس کے لشکر نے مدینہ منورہ پر چڑ ھائی کی ، قتل و غارت کی صحابہ تابعین تبع تابعین حفاظ کو شہید کیا گیا ، حضرت ابو سعید خدری کی داڑ ھی مبارک کو نوچا گیا ، مسجد نبوی میں تین دن اذان و اقامت نہ ہونے دی گئی ، زنا عام ہوا ، حتی کہ ہزار عورت نے ناجائز بچے جنے ، مسجد نبوی شریف میں گھوڑ ے باندھے گئے جہاں ان کی گندگی پیشاب وغیرہ مسجد کے اندرہوتے تھے بعد میں اسی یزیدی لشکر نے مکہ معظمہ پر چڑ ھائی قتل و غارت کا بازار گرم کیا ، پتھراؤ کیا ، کعبہ شریف کو آگ لگائی ، غلاف مبارک جل گیا ، کعبے کی چھت میں حضرت اسماعیل کی خاطر آنے والے دنبے کے سینگ محفوظ تھے وہ بھی جل گئے ، کعبہ کی چھت اور عمارت کو کافی نقصان پہنچا کعبہ کے جلانے کا ذکر مسلم ص430ج۱پر بھی موجود ہے ۔اس ساری جنگ میں تقریبا 1700مہاجرین انصار علماء تابعین ، عوام الناس 10000 حفاظ700قریش97افراد قتل کئے گئے ۔حضرت عبد اللہ بن زبیر کو شہید کیا گیا یہ واقعہ خلاصہ کے طور پر پیش کیا گیا باقی درج ذیل کتب میں تفصیل ملاحظہ ہو تاریخ الخلفاء ص209، البدایہ والنھایہ ص230ج8، جذب القلوب ص52تا57، دول الاسلام ص31، الاصابہ ص370ج3، فتح الباری ص70ج13، حاشیہ بخاری ص1053ج2، کمال اکمال المعلم ص427ج3، وفاء الوفاء ص126ج2، تیسیر الباری ص128ج3۔
لمحہ فکریہ
حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے کسی نے یزید کو امیر المومنین کہا ، آپ نے بیس کوڑ ے لگوائے ، تاریخ الخلفاء ص209، 361
یزید کے حامیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ اللہ ان کو بھی ہدایت عطا فرمائے
جمعہ، 19 نومبر، 2010
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل پر احادیث تحریر کی جا رہی ہیں، پڑھیے اور اپنے دل میں اہلبیت اطہارخصوصاً نوجوانانِ جنت کے سرداروں کی محبت کی شمع فروزاں کیجیے۔
پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف ضلع خوشاب
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما''۔ (بخاری، مسلم)
کیجیے۔
۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما''۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں دن کے ایک حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلا ،آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، کیا بچہ یہاں ہے؟ یعنی حسن رضی اللہ تعالی عنہ ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آگئے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے گلے سے لپٹ گئے۔ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے''۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ،جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (فضائل الصحابۃ للنسائی)
حضرت ایاس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر میرے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت حسن و حضرت حسین سوار تھے یہانتک کہ وہ نبی کریم کے حجرہ مبارکہ میں داخل ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے سوار تھے اور حسنین کریمین آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔(مسلم)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوا تو اس کا نام جعفر رکھا۔ مجھے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا کر فرمایا، مجھے انکے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میں نے عرض کی، اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔ تو حضور نے ان کے نام حسن اور حسین رکھے۔ (مسند احمد، حاکم)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے اور حسن رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے پہلو میں تھے کبھی آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے اور کبھی ان کی طرف ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا،'' میرا یہ بیٹا حقیقی سردار ہے اور اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بہت بڑے گروہوں میں صلح کروادے گا''۔ (بخاری، ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماموں اور خالہ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں۔ان کے نانا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، انکی نانی خدیجہ بنت خویلد،ان کی والدہ فاطمہ بنت رسولُ اللہ، انکے والد علی بن ابی طالب، انکے چچا جعفر بن ابی طالب، انکی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، انکے ماموں قاسم بن رسولُ اللہ اور انکی خالہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین۔ ان کے نانا، نانی، والد، والدہ،چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ سب جنت میں ہونگے اور وہ دونوں یعنی حسن و حسین بھی جنت میں ہونگے۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کی پیدائش کے ساتویں دن اُن کی طرف دو دو بکریاں عقیقہ میں ذبح کیں۔ (مصنف عبدالرزاق،ابن حبان)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ (بخاری، ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سینے سے سر تک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں اورحضرت حسین سینہ سے نیچے (پاؤں تک)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔(ترمذی)
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا مجدد بریلوی رحمہ اللہ نے خوب فرمایا،
معدوم نہ تھا سایہئ شاہِ ثقلین
اس نور کی جلوہ گہ تھی ذاتِ حسنین
تمثیل نے اس سائے کے دو حصے کیے
آدھے سے حسن بنے آدھے سے حسین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضُ الوصال کے دوران آپ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو پکڑا اور فرمایا، اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھالیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دوسری رانِ مبارک پر۔ پھر یہ کہتے، اے اﷲ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں بھی ان پر مہربانی کرتا ہوں۔ (بخاری)
۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اِن دونوں یعنی حسن وحسین سے بھی محبت کرے۔ (فضائل الصحابۃ للنسائی، صحیح ابن خزیمہ، مجمع الزوائد)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا تو ایک آدمی نے کہا ،اے لڑکے ! کیا خوب سواری پر سوار ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سوار بھی تو بہت خوب ہے۔ (ترمذی)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن و حسین کو آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کندھوں پر سوار دیکھا تو اُن سے کہا، آپ کی سواری کتنی اچھی ہے!نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے اچھے ہیں۔ (مسند بزار،مجمع الزوائد)
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز عصر پڑھی پھر باہر نکلے اور ان کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو اسے اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا ، میرا باپ قربان ! تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہو اور علی سے مشابہت نہیں رکھتے جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہنس رہے تھے ۔(بخاری)
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، حسن اور حسین دونوں جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔(ترمذی،مسند احمد، صحیح ابن حبان)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسن اور حسین دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں ۔ (ترمذی،مسند احمد، صحیح ابن حبان)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں کسی کام سے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ نے چادر میںکوئی چیزلی ہوئی تھی اور مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ وہ چیز کیا ہے ۔جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو عرض گزار ہوا،میرے آقا!آپ نے کس چیز پر چادر لپیٹی ہوئی ہے؟ آپ نے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ آپ کی دونوں رانوں پر حسن اور حسین موجود ہیں۔ فرمایا، یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۔ اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں پس تو بھی اِن سے محبت رکھ اور اُن سے بھی محبت رکھ جو ِان دونوں سے محبت رکھیں۔ (ترمذی، صحیح ابن حبان)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اپنے اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا ، حسن اور حسین۔ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے ، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ دونوں کو سونگھا کرتے اور انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے ۔ (ترمذی،مسند ابویعلیٰ)
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران حسن اور حسین آگئے۔ ان کے اوپر سرخ قمیضیں تھیں اور وہ گرتے پڑتے چلے آرہے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے، دونوں کو اٹھایا اور سامنے بٹھالیا ۔ پھر فرمایا، اﷲ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے،انما اموالکم واولادکم فتنۃ۔'' بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں''۔ (٨:٢٨) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ گرتے پڑتے آرہے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا اور اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کو اٹھالیا۔ (ترمذی، ابو داؤد، نسائی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین کے لیے (خاص طور پر ) کلماتِ تعوذ کے ساتھ دَم فرماتے۔ آپ نے یہ ارشاد فرمایا، تمہارے جدِ امجد یعنی ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے صاحبزادوں اسماعیلں و اسحاق علیہم السلام کے لیے اِن کلمات کے ساتھ دَم کرتے تھے۔
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ وَّھَّامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَّمَّۃٍ۔ ''میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان اور بلا سے اور ہر نظرِ بد سے پناہ مانگتا ہوں''۔ (بخاری، ابن ماجہ)
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔اﷲ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔ حسین میری اولاد میں سے ایک فرزند ہے۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے بغض رکھا۔ (ابن ماجہ،فضائل الصحابۃ للنسائی، طبرانی فی الکبیر)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی،اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی،اُس سے اللہ تعالیٰ نے محبت کی اور جس سے اللہ نے محبت کی ،اُس نے اسے جنت میں داخل کردیا۔ اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا،اُس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا،وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہو گیا اور جو اللہ کے نزدیک مبغوض ہوا ، اللہ تعالیٰ نے اسے آگ میں داخل کردیا۔ (المستدرک للحاکم)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا،جس نے مجھ سے اور اِن دونوں سے محبت کی اور اِن کے والد اوراِنکی والدہ سے محبت کی، وہ قیامت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا،جو تم سے لڑے گا میں اُس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا یعنی جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ سجدے میں گئے تو حسن اور حسین آپ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دونوں شہزادوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو وہ پھر کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ یہانتک کہ آپ نے نماز مکمل کر لی۔پھر آپ نے دونوں کو اپنے مبارک زانوؤں پر بٹھا لیا۔ (مسند احمد، المستدرک للحاکم، طبرانی فی الکبیر)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن اور حضرت حسین آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ان کو منع کیا تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اِن کو چھوڑ دو، اِن پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے سجدے میں ہوتے تو حسن یا حسین آکر آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے اوراس وجہ سے آپ سجدوں کو طویل کر دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیاآپ نے سجدے طویل کر دیے ہیں؟ ارشاد فرمایا، مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ میں سجدوں سے اٹھنے میں جلدی کروں۔ (مسند ابویعلیٰ، مجمع الزوائد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے مبارک شانوں پر حضرت حسن اور حضرت حسین سوار تھے۔ آپ دونوں شہزادوں کو باری باری چومنے لگے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حسنین کریمین کشتی لڑ رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے، حسن! جلدی کرو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صرف حسن ہی کو ایسے کیوں فرما رہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیونکہ جبریل امین، حسین کو ایسا کہہ کر حوصلہ دلا رہے ہیں۔ (اسدُ الغابہ، الاصابہ)
حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ ہم آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں آپ نے حسنین کریمین کے رونے کی آواز سنی تو آپ انکے پاس تشریف لے گئے اور رونے کا سبب پوچھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے بتایا کہ انہیں سخت پیاس لگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے لیے مشکیزے کی طرف بڑھے تو پانی ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے لوگوں سے دریافت کیا مگر (گرمی کی وجہ سے زیادہ استعمال کے باعث) کسی کے پاس پانی موجود نہ تھا۔ آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، ایک صاحبزادہ مجھے دیدو۔ انہوں نے پردے کے نیچے سے ایک شہزادہ دے دیا۔ آپ نے اسے سینے سے لگا لیا لیکن وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ پس آپ انے اُس کے منہ میں اپنی مبارک زبان ڈال دی۔ وہ اسے چوسنے لگا یہانتک کہ سیراب ہو گیا۔ پھر میں اسکے دوبارہ رونے کی آواز نہ سنی جبکہ دوسرا ابھی تک رورہا تھا۔ حضور نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاسے دوسرا صاحبزادہ لے کر اس کے منہ میں بھی اسی طرح اپنی مبارک زبان ڈال دی تو وہ بھی سیراب ہو کر خاموش ہو گیا۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد، خصائص کبرٰی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،الہٰی ! میں اِن دونوں (یعنی حسن وحسین)سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اِن سے محبت فرما۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول ُاﷲ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں ،یا رسول اﷲ! آج رات میں نے برا خواب دیکھا ہے۔ فرمایا، وہ کیا ہے؟ عرض کیا، آپ کے جسم انور کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ۔ انشاء اﷲ فاطمہ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو گی جو تمہاری گود میں ہوگا ۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسین رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں تھے جیسے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک روز میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں عرض گزار ہوئی، یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا بات ہے؟ فرمایا، جبرئیل میرے پاس آئے تھے اور مجھے بتایا کہ عنقریب میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا، اِنہیں (یعنی حسین کو)؟ فرمایا، ہاں! اور وہ میرے پاس اس جگہ کی مٹی لائے جو سرخ ہے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، مشکوٰۃ)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ عبیداﷲ بن زیاد کے پاس حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سرِ اقدس لاکر طشت میں رکھا گیا تو وہ اسے چھیڑنے لگا اوراُس نے آپ کے حسن وجمال پر نکتہ چینی کی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، میں نے کہا ،'' خدا کی قسم !یہ رسول ُاﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہیں''۔ امامِ عالی مقام نے وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا ۔ (بخاری)
دوسری روایت میں ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا جب امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سرمبارک لایاگیا تو وہ ایک چھڑی ان کی ناک پر مارنے لگا اورطنزاً بولا، میں نے ایسا حسن والا نہیں دیکھا تو پھر انکا ذکر کیوں ہوتا ہے۔ میں نے کہا، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رسول ُاﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ (ترمذی)
عبدالرحمٰن بن ابو نعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے احرام کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ شعبہ نے کہا ، میرے خیال میں مکھی مارنے کے متعلق پوچھا تھا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا،یہ عراق والے مجھ سے مکھی مارنے کے متعلق مسئلہ پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو شہید کردیا تھا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے کہ یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (بخاری)
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ رو رہی تھیں ۔میں نے عرض کی، آپ کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ سرِ اقدس اور داڑھی مبارک گرد آلود ہے۔ میں عرض گزار ہوئی ،یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو کیا ہوا؟ تو آپ نے فرمایا، میں ابھی حسین کی شہادت گاہ میں گیا تھا۔(ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ گیسوئے مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور دست مبارک میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔ میں عرض گذارہوا، میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہے؟ فرمایا ،یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں ۔ میں نے وہ وقت یاد رکھا تو معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اسی وقت شہید کیے گئے تھے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، مسند احمد
پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف ضلع خوشاب
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما''۔ (بخاری، مسلم)
کیجیے۔
۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما''۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں دن کے ایک حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلا ،آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، کیا بچہ یہاں ہے؟ یعنی حسن رضی اللہ تعالی عنہ ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آگئے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے گلے سے لپٹ گئے۔ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اے اﷲ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے''۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ،جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (فضائل الصحابۃ للنسائی)
حضرت ایاس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر میرے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت حسن و حضرت حسین سوار تھے یہانتک کہ وہ نبی کریم کے حجرہ مبارکہ میں داخل ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے سوار تھے اور حسنین کریمین آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔(مسلم)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوا تو اس کا نام جعفر رکھا۔ مجھے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا کر فرمایا، مجھے انکے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میں نے عرض کی، اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔ تو حضور نے ان کے نام حسن اور حسین رکھے۔ (مسند احمد، حاکم)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے اور حسن رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے پہلو میں تھے کبھی آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے اور کبھی ان کی طرف ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا،'' میرا یہ بیٹا حقیقی سردار ہے اور اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بہت بڑے گروہوں میں صلح کروادے گا''۔ (بخاری، ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماموں اور خالہ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں۔ان کے نانا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، انکی نانی خدیجہ بنت خویلد،ان کی والدہ فاطمہ بنت رسولُ اللہ، انکے والد علی بن ابی طالب، انکے چچا جعفر بن ابی طالب، انکی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، انکے ماموں قاسم بن رسولُ اللہ اور انکی خالہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین۔ ان کے نانا، نانی، والد، والدہ،چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ سب جنت میں ہونگے اور وہ دونوں یعنی حسن و حسین بھی جنت میں ہونگے۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کی پیدائش کے ساتویں دن اُن کی طرف دو دو بکریاں عقیقہ میں ذبح کیں۔ (مصنف عبدالرزاق،ابن حبان)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ (بخاری، ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سینے سے سر تک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں اورحضرت حسین سینہ سے نیچے (پاؤں تک)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔(ترمذی)
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا مجدد بریلوی رحمہ اللہ نے خوب فرمایا،
معدوم نہ تھا سایہئ شاہِ ثقلین
اس نور کی جلوہ گہ تھی ذاتِ حسنین
تمثیل نے اس سائے کے دو حصے کیے
آدھے سے حسن بنے آدھے سے حسین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضُ الوصال کے دوران آپ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو پکڑا اور فرمایا، اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھالیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دوسری رانِ مبارک پر۔ پھر یہ کہتے، اے اﷲ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں بھی ان پر مہربانی کرتا ہوں۔ (بخاری)
۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اِن دونوں یعنی حسن وحسین سے بھی محبت کرے۔ (فضائل الصحابۃ للنسائی، صحیح ابن خزیمہ، مجمع الزوائد)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا تو ایک آدمی نے کہا ،اے لڑکے ! کیا خوب سواری پر سوار ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سوار بھی تو بہت خوب ہے۔ (ترمذی)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن و حسین کو آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کندھوں پر سوار دیکھا تو اُن سے کہا، آپ کی سواری کتنی اچھی ہے!نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے اچھے ہیں۔ (مسند بزار،مجمع الزوائد)
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز عصر پڑھی پھر باہر نکلے اور ان کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو اسے اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا ، میرا باپ قربان ! تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہو اور علی سے مشابہت نہیں رکھتے جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہنس رہے تھے ۔(بخاری)
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، حسن اور حسین دونوں جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔(ترمذی،مسند احمد، صحیح ابن حبان)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسن اور حسین دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں ۔ (ترمذی،مسند احمد، صحیح ابن حبان)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں کسی کام سے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ نے چادر میںکوئی چیزلی ہوئی تھی اور مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ وہ چیز کیا ہے ۔جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو عرض گزار ہوا،میرے آقا!آپ نے کس چیز پر چادر لپیٹی ہوئی ہے؟ آپ نے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ آپ کی دونوں رانوں پر حسن اور حسین موجود ہیں۔ فرمایا، یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۔ اے اﷲ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں پس تو بھی اِن سے محبت رکھ اور اُن سے بھی محبت رکھ جو ِان دونوں سے محبت رکھیں۔ (ترمذی، صحیح ابن حبان)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اپنے اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا ، حسن اور حسین۔ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے ، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ دونوں کو سونگھا کرتے اور انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے ۔ (ترمذی،مسند ابویعلیٰ)
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران حسن اور حسین آگئے۔ ان کے اوپر سرخ قمیضیں تھیں اور وہ گرتے پڑتے چلے آرہے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے، دونوں کو اٹھایا اور سامنے بٹھالیا ۔ پھر فرمایا، اﷲ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے،انما اموالکم واولادکم فتنۃ۔'' بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں''۔ (٨:٢٨) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ گرتے پڑتے آرہے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا اور اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کو اٹھالیا۔ (ترمذی، ابو داؤد، نسائی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین کے لیے (خاص طور پر ) کلماتِ تعوذ کے ساتھ دَم فرماتے۔ آپ نے یہ ارشاد فرمایا، تمہارے جدِ امجد یعنی ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے صاحبزادوں اسماعیلں و اسحاق علیہم السلام کے لیے اِن کلمات کے ساتھ دَم کرتے تھے۔
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ وَّھَّامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَّمَّۃٍ۔ ''میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان اور بلا سے اور ہر نظرِ بد سے پناہ مانگتا ہوں''۔ (بخاری، ابن ماجہ)
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔اﷲ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔ حسین میری اولاد میں سے ایک فرزند ہے۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے بغض رکھا۔ (ابن ماجہ،فضائل الصحابۃ للنسائی، طبرانی فی الکبیر)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، جس نے حسن اور حسین سے محبت کی،اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی،اُس سے اللہ تعالیٰ نے محبت کی اور جس سے اللہ نے محبت کی ،اُس نے اسے جنت میں داخل کردیا۔ اورجس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا،اُس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا،وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہو گیا اور جو اللہ کے نزدیک مبغوض ہوا ، اللہ تعالیٰ نے اسے آگ میں داخل کردیا۔ (المستدرک للحاکم)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا،جس نے مجھ سے اور اِن دونوں سے محبت کی اور اِن کے والد اوراِنکی والدہ سے محبت کی، وہ قیامت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا،جو تم سے لڑے گا میں اُس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا یعنی جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ سجدے میں گئے تو حسن اور حسین آپ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دونوں شہزادوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو وہ پھر کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ یہانتک کہ آپ نے نماز مکمل کر لی۔پھر آپ نے دونوں کو اپنے مبارک زانوؤں پر بٹھا لیا۔ (مسند احمد، المستدرک للحاکم، طبرانی فی الکبیر)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن اور حضرت حسین آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ان کو منع کیا تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اِن کو چھوڑ دو، اِن پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے سجدے میں ہوتے تو حسن یا حسین آکر آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے اوراس وجہ سے آپ سجدوں کو طویل کر دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیاآپ نے سجدے طویل کر دیے ہیں؟ ارشاد فرمایا، مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ میں سجدوں سے اٹھنے میں جلدی کروں۔ (مسند ابویعلیٰ، مجمع الزوائد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے مبارک شانوں پر حضرت حسن اور حضرت حسین سوار تھے۔ آپ دونوں شہزادوں کو باری باری چومنے لگے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حسنین کریمین کشتی لڑ رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے، حسن! جلدی کرو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صرف حسن ہی کو ایسے کیوں فرما رہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیونکہ جبریل امین، حسین کو ایسا کہہ کر حوصلہ دلا رہے ہیں۔ (اسدُ الغابہ، الاصابہ)
حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ ہم آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں آپ نے حسنین کریمین کے رونے کی آواز سنی تو آپ انکے پاس تشریف لے گئے اور رونے کا سبب پوچھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے بتایا کہ انہیں سخت پیاس لگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے لیے مشکیزے کی طرف بڑھے تو پانی ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے لوگوں سے دریافت کیا مگر (گرمی کی وجہ سے زیادہ استعمال کے باعث) کسی کے پاس پانی موجود نہ تھا۔ آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، ایک صاحبزادہ مجھے دیدو۔ انہوں نے پردے کے نیچے سے ایک شہزادہ دے دیا۔ آپ نے اسے سینے سے لگا لیا لیکن وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ پس آپ انے اُس کے منہ میں اپنی مبارک زبان ڈال دی۔ وہ اسے چوسنے لگا یہانتک کہ سیراب ہو گیا۔ پھر میں اسکے دوبارہ رونے کی آواز نہ سنی جبکہ دوسرا ابھی تک رورہا تھا۔ حضور نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاسے دوسرا صاحبزادہ لے کر اس کے منہ میں بھی اسی طرح اپنی مبارک زبان ڈال دی تو وہ بھی سیراب ہو کر خاموش ہو گیا۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد، خصائص کبرٰی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،الہٰی ! میں اِن دونوں (یعنی حسن وحسین)سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اِن سے محبت فرما۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول ُاﷲ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں ،یا رسول اﷲ! آج رات میں نے برا خواب دیکھا ہے۔ فرمایا، وہ کیا ہے؟ عرض کیا، آپ کے جسم انور کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ۔ انشاء اﷲ فاطمہ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہو گی جو تمہاری گود میں ہوگا ۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسین رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں تھے جیسے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک روز میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں عرض گزار ہوئی، یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا بات ہے؟ فرمایا، جبرئیل میرے پاس آئے تھے اور مجھے بتایا کہ عنقریب میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا، اِنہیں (یعنی حسین کو)؟ فرمایا، ہاں! اور وہ میرے پاس اس جگہ کی مٹی لائے جو سرخ ہے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، مشکوٰۃ)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ عبیداﷲ بن زیاد کے پاس حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سرِ اقدس لاکر طشت میں رکھا گیا تو وہ اسے چھیڑنے لگا اوراُس نے آپ کے حسن وجمال پر نکتہ چینی کی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، میں نے کہا ،'' خدا کی قسم !یہ رسول ُاﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہیں''۔ امامِ عالی مقام نے وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا ۔ (بخاری)
دوسری روایت میں ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا جب امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سرمبارک لایاگیا تو وہ ایک چھڑی ان کی ناک پر مارنے لگا اورطنزاً بولا، میں نے ایسا حسن والا نہیں دیکھا تو پھر انکا ذکر کیوں ہوتا ہے۔ میں نے کہا، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رسول ُاﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ (ترمذی)
عبدالرحمٰن بن ابو نعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے احرام کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ شعبہ نے کہا ، میرے خیال میں مکھی مارنے کے متعلق پوچھا تھا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا،یہ عراق والے مجھ سے مکھی مارنے کے متعلق مسئلہ پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو شہید کردیا تھا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے کہ یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (بخاری)
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ رو رہی تھیں ۔میں نے عرض کی، آپ کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ سرِ اقدس اور داڑھی مبارک گرد آلود ہے۔ میں عرض گزار ہوئی ،یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو کیا ہوا؟ تو آپ نے فرمایا، میں ابھی حسین کی شہادت گاہ میں گیا تھا۔(ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ گیسوئے مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور دست مبارک میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔ میں عرض گذارہوا، میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہے؟ فرمایا ،یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں ۔ میں نے وہ وقت یاد رکھا تو معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اسی وقت شہید کیے گئے تھے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، مسند احمد
جمعرات، 18 نومبر، 2010
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)