منگل، 16 نومبر، 2010

سبط علی صبا
جمود ذہن پہ طاری تھا انقلاب نہ iiتھا
سکونِ قلب کہیں سے بھی دستیاب نہ iiتھا


حصارِ ظلم کی بنیاد کو اکھاڑ iiدیا
جہاں میں تجھ سا کوئی بھی تو فتح یاب نہ تھا


کچھ اس لیے بھی ترے نام کے ہوئے iiدشمن
تو وہ سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا


کچھ اس طرح سے بہتر کا انتخاب iiکیا
کسی رسول کا بھی ایسا انتخاب نہ iiتھا


حسین ابنِ علی کو نہ آفتاب iiکہو
وہ جب تھا جب کہ کہیں نامِ آفتاب نہ iiتھا


حُسین مصدرِ اُمّ الکتاب کیا iiکہنا
بجز تمھارے کوئی وارثِ کتاب نہ iiتھا


حُسین باعثِ تخلیقِ کائنات ہے iiتُو
غضب ہے تیرے لیے کربلا میں آب نہ iiتھا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں