منگل، 16 نومبر، 2010

احمد ندیم قاسمی
لب پر شہدا کے تذکرے iiہیں
لفظوں کے چراغ جل رہے iiہیں

جن پہ گزری ہے ان سے iiپوچھو
ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں

میدان کا دل دہک رہا iiہے
دریاؤں کے ہونٹ جل رہے iiہیں

کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں iiنیزے
جھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں

پانی نہ ملا تو آنسوؤں iiسے
چُلو بچوں کے بھر دیئے ہیں

آثار جوان بھائیوں iiکے
بہنوں نے زمیں سے چن لیے ہیں

بیٹوں کے کٹے پھٹے ہوئے iiجسم
ماؤں نے ردا میں بھر لیے iiہیں

یہ لوگ اصولِ حق کی iiخاطر
سر دیتے ہیں، جان بیچتے iiہیں

میدان سے آ رہی ہے iiآواز
جیسے شبّیر بولتے iiہیں

جیسے غنچے چٹک رہے iiہیں
جیسے کہسار گونجتے iiہیں

"ہم نے جنہیں سر بلندیاں iiدیں"
سر کاٹتے کیسے لگ رہے iiہیں

ہیں یہ رگِ نبی کے قطرے
جو ریت میں جذب ہو رہے iiہیں

دیکھو اے ساکنانِ عالم
یوں کشتِ حیات سینچتے iiہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں