| نظم طباطبائی |
| چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں پھیلی شعاع ہند میں چین و تتار میں پہنچا ستارہ اوج پہ دینِ حُسین کا اب تک تھا گردشِ فلکِ کج مدار میں چونکیں ذرا یہود و نصاریٰ تو خواب سے آئی نسیم صبحِ شبِ انتظار میں وردِ زبانِ پاک صحیفہ ہے نور کا اترا تھا جو خلیل پہ گلزارِ نار میں ہے یاد دشت میں گہر افشانیِ کلیم اور موعظ مسیح کا وہ کوہسار میں موسیٰ کی رات کی مناجات طُور پر داؤد کا وظیفہ وہ صبح بہار میں بت ہو گیا ہے سنگ سرِ بت پرست پر سرکہ بنی شراب کہن بادہ خوار میں وہ جام پی کے اٹھ گئے پردے نگاہ سے دریائے علم و نور کو پایا کنار میں |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں