منگل، 16 نومبر، 2010

نظم طباطبائی
چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں
پھیلی شعاع ہند میں چین و تتار iiمیں


پہنچا ستارہ اوج پہ دینِ حُسین کا
اب تک تھا گردشِ فلکِ کج مدار iiمیں


چونکیں ذرا یہود و نصاریٰ تو خواب سے
آئی نسیم صبحِ شبِ انتظار iiمیں


وردِ زبانِ پاک صحیفہ ہے نور iiکا
اترا تھا جو خلیل پہ گلزارِ نار میں


ہے یاد دشت میں گہر افشانیِ کلیم
اور موعظ مسیح کا وہ کوہسار iiمیں



موسیٰ کی رات کی مناجات طُور پر
داؤد کا وظیفہ وہ صبح بہار iiمیں


بت ہو گیا ہے سنگ سرِ بت پرست iiپر
سرکہ بنی شراب کہن بادہ خوار iiمیں


وہ جام پی کے اٹھ گئے پردے نگاہ iiسے
دریائے علم و نور کو پایا کنار iiمیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں