منگل، 16 نومبر، 2010

اوراد و وظائف سورہ الھمزہ تحریر:پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ سون ضلع خوشاب

اوراد و وظائف سورہ الھمزہ تحریر:پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ سون ضلع خوشاب

5 تبصرے:

  1. حطمہ ایٹمی جہنم اور قران حکیم
    تحریر: علامہ محمد یوسف جبریل
    ’’حطمہ‘‘ جو اس بیان کا بنیادی لفظ ہے، ایک جہنم کی حیثیت میں ہمیشہ سے دوسری دنیا کا ایک جہنم ہی تصور کیا جاتا رہا ہے اور وہ درست ہے مگر اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے’’ حطمہ‘‘ کاایک عارضی دنیوی مظہر ہے ،بعینہ اسی طرح جس طرح کہ آگ دوزخ کا اور باغ بہشت کا ایک عارضی دنیوی مظہر ہے، وہ وجوہات جوقران حکیم کے مطابق اگلی دنیا کے حطمہ کی سزا کے وجوب کا سبب ہیں وہی وجوہات اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کاموجب ہیں اور جو سائنسی تشریح حطمہ کی قران حکیم نے کی ہے وہی تشریح حطمہ کے اس دنیوی مظہر ایٹمی جہنم کی ہے ۔حطمہ کی سزا اور اسی طرح ایٹمی جہنم کی سزا کے لئے ایمان اور کفر کی کوئی شرط نہیں، قران حکیم کا دعوی ہے کہ اس میں انسان کے ہر مسئلے کاذکر ہے تو پھر جب کہ عاداور ثمود جیسی بستیوں کی تباہی کاتذکرہ قران حکیم میں موجود ہے تو پھرایٹمی جہنم جیسی جہاں سوز تباہی کاذکر کیوںکر نہ ہو جبکہ عاد و ثمود کی بستیاںتو کسی شہر کے محلے یا کسی ایک شہر سے بڑھ کر نہ تھیں جب کہ ایٹمی تباہی کا شکار تو روئے زمین کی انسانیت ہی نہیں بلکہ جملہ حیوانیات اور نباتات بھی ہو سکتے ہیں ۔ایٹمی جہنم اس زمین سے زندگی کو کلیتہً ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔قران حکیم کی یہ پیشین گوئی آخری تنبیہ ہے اور قران حکیم اس ایٹمی تباہی سے دوچار ہونے کی وجوہات بیان کرتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. سورۃ الھمزہ اور حطمہ جناب علامہ عنایت اللہ المشر قی اور مولانا فتح محمد جالندھری کی نظر میں
    تفسیر احسن میں سورۃ الھمزہ کی تفسیر موجود ہے ۔ لکھتے ہیں :۰
    حیف ہے ہر غیبت کرنے والے اور طعنے دینے والے شخص پر، جو صرف مال پر مال جمع کرتا رہتا ہے اور پھر اس کو گنتا اور خوش ہوتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہی اس کو ہمیشہ رکھے گا۔ ہر گز نہیں وہ ضرور کسی نہ کسی دن اسی مال جمع کرنے اور اس کو قوم کی بہتری کے لئے خرچ نہ کرنے کی بدبختی اور بدکرداری کے باعث جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اے محمد ﷺ تو کیا سمجھتا ہے کہ یہ جہنم کیا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے قوم کے دلوں میں ناکامی، مایوسی اور شکت کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو آہوں اور کراہوں سے جو دلوں سے اس وقت اٹھتی ہیں دلوں پر چڑھ چڑھ کر ان کے جذبوں اور ارادوں کو بھسم کر دیتی ہے ۔ بے شک وہ آگ چاروں طرف سے ان کو گھیر لے گی۔ لمبے لمبے ستونوں کے ذریعے سے‘‘۔
    تفسیر :۔
    سورۃ الھمزہ میں کیفیت اس نابکار قوم کی پیش کی گئی ہے جس کے لوگوں کا واحد منشا مال جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا ہے۔ ایسی قوم لامحالہ محکومیت اور مغلوبیت کے جہنم میں ہے اور چونکہ حطمہ کے معنی چکنا چور ہوئی ہوئی شے ہے، مقصد یہ ہے کہ وہ قوم شکست و ریخت، انتشار و تشتت کے گڑھے میں گری ہوئی ہے اور اس کے افراد چاروں طرف سے ایک ایسی آگ میںگھرے ہوئے ہیں جو دلوں پر چڑھ چڑھ کر ان کو کباب کر دیتی ہے۔ گویا وہ لوگ محکومیت، ذلت اور غلامی کی آہوں اور کراہوں میں جل بھن کر حسرتیں کرتے رہتے ہیں کہ اے کاش ہم بھی آزادی اور غلبے کی ہوا کھاتے ۔وہ اس ماحول سے اس لئے نہیں نکل سکتے کہ ان میں قربانی مال کا جذبہ نہیں۔
    (تفسیر احسن صفحہ ۹۸۳)

    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    www.oqasa.org

    جواب دیںحذف کریں
  3. سورۃ الھمزہ اور حطمہ جناب علامہ عنایت اللہ المشر قی اور مولانا فتح محمد جالندھری کی نظر میں
    تفسیر احسن میں سورۃ الھمزہ کی تفسیر موجود ہے ۔ لکھتے ہیں :۰
    حیف ہے ہر غیبت کرنے والے اور طعنے دینے والے شخص پر، جو صرف مال پر مال جمع کرتا رہتا ہے اور پھر اس کو گنتا اور خوش ہوتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہی اس کو ہمیشہ رکھے گا۔ ہر گز نہیں وہ ضرور کسی نہ کسی دن اسی مال جمع کرنے اور اس کو قوم کی بہتری کے لئے خرچ نہ کرنے کی بدبختی اور بدکرداری کے باعث جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اے محمد ﷺ تو کیا سمجھتا ہے کہ یہ جہنم کیا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے قوم کے دلوں میں ناکامی، مایوسی اور شکت کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو آہوں اور کراہوں سے جو دلوں سے اس وقت اٹھتی ہیں دلوں پر چڑھ چڑھ کر ان کے جذبوں اور ارادوں کو بھسم کر دیتی ہے ۔ بے شک وہ آگ چاروں طرف سے ان کو گھیر لے گی۔ لمبے لمبے ستونوں کے ذریعے سے‘‘۔
    تفسیر :۔
    سورۃ الھمزہ میں کیفیت اس نابکار قوم کی پیش کی گئی ہے جس کے لوگوں کا واحد منشا مال جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا ہے۔ ایسی قوم لامحالہ محکومیت اور مغلوبیت کے جہنم میں ہے اور چونکہ حطمہ کے معنی چکنا چور ہوئی ہوئی شے ہے، مقصد یہ ہے کہ وہ قوم شکست و ریخت، انتشار و تشتت کے گڑھے میں گری ہوئی ہے اور اس کے افراد چاروں طرف سے ایک ایسی آگ میںگھرے ہوئے ہیں جو دلوں پر چڑھ چڑھ کر ان کو کباب کر دیتی ہے۔ گویا وہ لوگ محکومیت، ذلت اور غلامی کی آہوں اور کراہوں میں جل بھن کر حسرتیں کرتے رہتے ہیں کہ اے کاش ہم بھی آزادی اور غلبے کی ہوا کھاتے ۔وہ اس ماحول سے اس لئے نہیں نکل سکتے کہ ان میں قربانی مال کا جذبہ نہیں۔
    (تفسیر احسن صفحہ ۹۸۳)

    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    www.oqasa.org

    جواب دیںحذف کریں
  4. آنحضور ﷺ نے ایٹمی جہنم کی منظر کشی کی
    فرمایا :۔ 146146 اللہ تعالیٰ فرشتوں کو آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون دے کربھیجے گا۔ وہ جہنمیوں کو آگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور ان کو آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے پھران کے اوپر آگ کے ستون کھینچ دیں گے ۔سارا ماحول اس قدر بند ہو گا کہ نہ توفرحت کی کوئی مقدار باہر سے اندر آ سکے گی۔ نہ ہی دکھ کی کوئی رمق اندر سے باہر جا سکے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ان لوگوں کو فراموش کردے گا۔ اور اپنی رحمت سے ان کو دور کر دے گا۔ جنت کے مکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوناشروع کردیں گے۔ جہنم کے مکین مددکے لئے پکارنا بند کردیں گے۔ اور بات چیت ختم ہو جائے گی اوران کی بات چیت اس طرح ہوگی ۔ جس طرح سانس کو اندر باہر کھینچا جاتاہے145145۔ (تفسیر الجلالین)
    اب ایٹمی دھماکے کی اس سے بہتر تصویر تصور میں نہیں آ سکتی۔ ایٹمی بم کا دھماکہ ایک الٹی دیگ کی طرح ہوتا ہے۔ اور بدنصیب لوگوں کو اوپر سے ڈھانپ دیتا ہے۔ تابکاری شعاعیں آگ کی میخیں ہیں۔ جن سے ان بدنصیبوں کو جڑ دیا جاتا ہے۔ اور ایٹمی دھماکے کا کھچا ہوا ستون آگ کاستون ہوتا ہے۔ جو ان کے اوپر کھینچ دیاجاتاہے۔
    (علامہ محمد یوسف جبریل)
    یوسف جبریلؒ فاؤنڈیشن پاکستان، قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
    ایم اویس پرنٹر منی مغل مارکیٹ دوکان نمبر ۵، مین بازار نواب آباد واہ کینٹ ملک ناصر محمود
    www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

    جواب دیںحذف کریں
  5. بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ویل لکل ھمزہ لمزہ الذی جمع مالا و عددہ یحسب ان مالہ اخلدہ۔ کلا لینبذن فی الحطمہ۔ وما ادراک ماا لحطم۔ نارا للہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ۔ انہا علیھم موصد ۃ فی عمد ممددۃ۔ (الھمزہ104
    (خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی جس نے مال سمیٹا اور گِن گِن کر رکھا خیال کرتا ہے کہ اُ س کا مال اُ س کے ساتھ ہمیشہ رہے گا ہرگز نہیں بلکہ وہ حُطَمَہ میں پھینکا جائے گا اور تُو کیا سمجھا وہ حُطَمَہ کون ہے ایک آگ ہے اللہ کی سُلگائی ہوئی وہ جھانکتی ہے دلوں کو وہ آگ ہے بند کی ہوئی لمبے لمبے ستونوں میں“۔ (سورۃالھمزہ )
    ظ (۷) ایٹمی تباہی کے بعد انسانیت کے مزار پر نمودار ہونے والا کتبہ
    ”ان برباد کھنڈروں کے نیچے ایک کُہڑ ی ناسور زدہ عفریت نما اور عجیب الخلقت انسانی نسل کی بوسیدہ اور تہہ بہ تہہ ہڈیاں اور راکھ کے ڈھیر دبے پڑے ہیں۔ یہ کبھی انسان تھے۔ جو خُدا کی اس زمین پر خُدا کے خلیفہ کی حیثیت سے بستے تھے۔ خُدا کی پسندیدہ ترین مخلوق کی حیثیت میں خالق کے لامحدود انعام و اکرام سے نوازے ہوئے یہ لوگ اللہ کی صفات کا پَرتو تھے۔اُ ن پر کسی نے ظلم نہ کیا مگر خود اپنے ہی ہاتھوں یہ لوگ یہ سب کچھ اپنے سروں پر لائے حرص کی آگ سے بے قابو ہو کر اس زمین پر اپنی زندگی کا مقصود اور آخرت میں اپنا گھر بھلا بیٹھے اور غضبناک ہو کر ایک دوسرے پر پل پڑے اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ تمام روئے زمین پر بکھرے ہوئے شہروں کی ویرانی زبانِ حال سے آہیں بھرتے ہوئے شسدر ستاروں کو ایک المناک داستان سنانے کیلئے باقی ہے“۔
    ظ (۸) ککی پیش بینی
    ظ ک کا ارشاد ہے۔
    ’کم ترکوا من جنت و عیون و زروع و مقام کریم و نعمتہ کانوا فیھا فکھین کذ لک و اورثنہا قوما ا خرین فما بکت علیھم السماء و الارض وما کانوا منظرین“۔
    ترجمہ ”بہت سے چھوڑ گئے باغ اور چشمے اور کھیتیاں اور گھر خاصے اور آرام کا سامان جس میں باتیں بنایا کرتے تھے۔ یوں ہی ہوا اور وہ سب ہاتھ لگا دیا۔ ہم نے ایک دوسری قوم کے پھر نہ رویا اُ ن پر آسمان اور زمین اور نہ ملی اُ ن کو ڈھیل“
    (ک پارہ الیہ یرد۔سورۃ الدخان 44 آیت 25 تا 29)
    YOUSUF GABRIEL

    جواب دیںحذف کریں