منگل، 16 نومبر، 2010

انور مسعود
شعر

شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ iiکربلا
لاکھ مضموں باندھ لیجیے تشنگی رہ جائے گی


مسدس

سوارِ دوشِ محمد (ص) کا رتبۂ iiعالی
حدیثِ عجز ہے میرا بیانِ iiاجمالی

کھلی ہے آج تخیل کی بے پر و iiبالی
دکھائی دیتی ہیں لفظوں کی جھولیاں iiخالی

یہاں ضعیف ہر اظہار کا وسیلہ iiہے
بس ایک دیدۂ خوں بار کا وسیلہ iiہے



مثیلِ شاہِ شہیدِ شہیر نا iiممکن
کوئی غریب ہو ایسا امیر نا iiممکن

حسین سا کوئی روشن ضمیر نا ممکن
جہانِ عشق میں اس کی نظیر نا iiممکن

وہ جاں نثار عجب اک مثال چھوڑ iiگیا
کہ اس کا صبر ستم کا غرور توڑ iiگیا



چھپی ہے اس کے تدبّر میں معرفت کیسی
کہ مصلحت کی جنوں سے مناسبت iiکیسی

ہوس کے ساتھ وفا کی مفاہمت کیسی
ستم گروں کے ستم سے مصالحت iiکیسی

اسی کی دین ہے یہ سوچ کا قرینہ iiبھی
کہ ایک جرم ہے ظالم کے ساتھ جینا iiبھی



مثالِ مہرِ جہاں تاب ضو فشاں ہے iiحسین
ہمہ خلوص ہے ایثارِ بے کراں ہے iiحسین

حیات راز ہے اور اس کا راز داں ہے iiحسین
ریاضِ دہر میں خوشبوئے جاوداں ہے iiحسین

وہ ظالموں کو ہمیشہ کا انتباہ بھی iiہے
وہ اپنی ذات میں تفسیرِ لا الہ بھی iiہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں