منگل، 16 نومبر، 2010

ہم جیسے
احمد فراز
حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم iiجیسے
کہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم iiجیسے

برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ iiجیسا
تو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم iiجیسے

وہ اپنی ذات کی پہچان کو ترستے ہیں
جو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم iiجیسے

یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیں
یہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے

بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم iiپہنچے
سبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے

خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ iiسلطاں
ترے لہو کو کریں گے سلام ہم iiجیسے

تُو سر بریدہ ہوا شہرِ نا سپاساں iiمیں
زباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے

پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فراز
بغاوتوں کے علم تھے مدام ہم iiجیسے


(مجموعہ۔"نابیناشہرمیںآئینہ")

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں