منگل، 16 نومبر، 2010

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)
محمد علی جوہر
بیتاب کر رہی ہے تمنّائے iiکربلا
یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے iiکربلا

ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی iiبہار
ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے iiکربلا

روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ iiحیات
جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے iiکربلا

جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں iiاُسے
سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے iiکربلا

مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات iiسے
ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے iiکربلا

جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ iiچیز
اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں