بیتاب کر رہی ہے تمنّائے iiکربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے iiکربلا
ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی iiبہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے iiکربلا
روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ iiحیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے iiکربلا
جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں iiاُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے iiکربلا
مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات iiسے ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے iiکربلا
جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ iiچیز اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں