جمعرات، 18 نومبر، 2010


ضربِ کلیم

علاّمہ محمّد اقبال



اعلیٰ حضرت نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں!
زمانہ با امم ایشیا چہ کرد و iiکند
کسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو iiخواند

تو صاحب نظری آنچہ در ضمیر من است
دل تو بیند و اندیشۂ تو می داند

بگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از iiمن
'کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر iiماند'
ناظرین سے
جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو iiنظر
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے مقام
میدان جنگ میں نہ طلب کر نوائے iiچنگ

خون دل و جگر سے ہے سرمایۂ iiحیات
فطرت ، لہو ترنگ ہے غافل! نہ ، جل ترنگ
تمہید
(1)

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی iiبیداری
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح iiتریاکی

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے iiہنگامے
بری ہے مستئ اندیشہ ہائے iiافلاکی

تری نجات غم مرگ سے نہیں iiممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر iiخاکی

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی iiناپاکی

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ iiکو
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے iiباکی!



(2)

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس iiآرائی
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم iiپیوند

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں iiکو
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے iiبلند

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند

تری سزا ہے نوائے سحر سے iiمحرومی
مقام شوق و سرور و نظر سے iiمحرومی

اسلام اور مسلمان

صبح
(1)
نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی iiبیداری
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح iiتریاکی

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے iiہنگامے
بری ہے مستئ اندیشہ ہائے iiافلاکی

تری نجات غم مرگ سے نہیں iiممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر iiخاکی

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی iiناپاکی

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ iiکو
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے iiباکی!



(2)


ترا گناہ ہے اقبال! مجلس iiآرائی
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم iiپیوند

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں iiکو
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے iiبلند

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند

تری سزا ہے نوائے سحر سے iiمحرومی
مقام شوق و سرور و نظر سے iiمحرومی
لا الہ الا اللہ
خودی کا سر نہاں لا الہ الا iiاللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا iiاللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں iiہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا iiاللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا iiسودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا iiاللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و iiپیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا iiاللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی iiزناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا iiاللہ

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں iiپابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا iiاللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا iiاللہ
تن بہ تقدیر
اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی iiتعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا iiامیر

'تن بہ تقدیر' ہے آج ان کے عمل کا iiانداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی iiتقدیر

تھا جو 'ناخوب، بتدریج وہی ' خوب' iiہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
معراج
دے ولولۂ شوق جسے لذت iiپرواز
کر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو iiتاراج

مشکل نہیں یاران چمن ! معرکہ iiباز
پر سوز اگر ہو نفس سینۂ iiدراج

ناوک ہے مسلماں ، ہدف اس کا ہے iiثریا
ہے سر سرا پردۂ جاں نکتہ iiمعراج

تو معنیِ و النجم ، نہ سمجھا تو عجب کیا
ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا iiمحتاج
ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام
تو اپنی خودی اگر نہ iiکھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا

ہیگل کا صدف گہر سے iiخالی
ہے اس کا طلسم سب iiخیالی

محکم کیسے ہو iiزندگانی
کس طرح خودی ہو iiلازمانی!

آدم کو ثبات کی طلب iiہے
دستور حیات کی طلب ہے

دنیا کی عشا ہو جس سے iiاشراق
مومن کی اذاں ندائے آفاق

میں اصل کا خاص سومناتی
آبا مرے لاتی و iiمناتی

تو سید ہاشمی کی iiاولاد
میری کف خاک برہمن iiزاد

ہے فلسفہ میرے آب و گل iiمیں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل iiمیں

اقبال اگرچہ بے ہنر iiہے
اس کی رگ رگ سے باخبر iiہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے یہ نکتۂ دل iiافروز

انجام خرد ہے بے iiحضوری
ہے فلسفۂ زندگی سے iiدوری

افکار کے نغمہ ہائے بے iiصوت
ہیں ذوق عمل کے واسطے iiموت

دیں مسلک زندگی کی iiتقویم
دیں سر محمد و iiبراہیم

''دل در سخن محمدی iiبند
اے پور علی ز بو علی iiچند!

چوں دیدۂ راہ بیں iiنداری
قاید قرشی بہ از بخاری ''
-------------
فارسی اشعار حکیم خاقانی کی 'تحفۃ العراقین' سے ہیں


زمین و آسماں
ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں iiکا

ہے سلسلۂ احوال کا ہر لحظہ iiدگرگوں
اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا

شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں iiکی
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں iiکا!
مسلمان کا زوال
اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر، تو نگری سے iiنہیں

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے iiنہیں

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار iiہوا
قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے iiنہیں
علم و عشق
علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ iiپن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن

بندۂ تخمین و ظن! کرم کتابی نہ iiبن
عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب!

عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ iiکائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے iiذات

عشق سکون و ثبات، عشق حیات و iiممات
علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں iiجواب!

عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و iiدیں
عشق کے ادنی غلام صاحب تاج و نگیں

عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتح iiباب!

شرع محبت میں ہے عشرت منزل iiحرام
شورش طوفاں حلال، لذت ساحل iiحرام

عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل iiحرام
علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام iiالکتاب!
اجتہاد

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے iiسیکھے
نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار iiعمیق

حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے iiتوفیق!

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے iiطریق!
شکر و شکایت
میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تیرا
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہوت سے iiپیوند

اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں iiکو
لاہور سے تا خاک بخارا و iiسمرقند

تاثیر ہے یہ میرے نفس کی کہ خزاں میں
مرغان سحر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند

لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو iiنے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا iiمند!
ذکر و فکر
یہ ہیں سب ایک ہی سالک کی جستجو کے مقام
وہ جس کی شان میں آیا ہے 'علم iiالاسما'

مقام ذکر، کمالات رومی و iiعطار
مقام فکر، مقالات iiبوعلیسینا

مقام فکر ہے پیمائش زمان و iiمکاں
مقام ذکر ہے سبحان ربی iiالاعلی
ملائے حرم
عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی iiہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا iiمقام

تری نماز میں باقی جلال ہے، نہ iiجمال
تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
تقدیر
نااہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت
ہے خوار زمانے میں کبھی جوہر iiذاتی

شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں
تقدیر نہیں تابع منطق نظر iiآتی

ہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب iiکو
تاریخ امم جس کو نہیں ہم سے iiچھپاتی

'ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی
براں صفت تیغ دو پیکر نظر اس iiکی!'
توحید
زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید iiکبھی
آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ علم iiکلام

روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ iiہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

میں نے اے میر سپہ! تیری سپہ دیکھی iiہے
'قل ھو اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں iiنیام

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ iiفقیہ
وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے iiخام

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا iiہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
علم اور دین
وہ علم اپنے بتوں کا ہے آپ iiابراہیم
کیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا iiندیم

زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات بھی ایک
دلیل کم نظری، قصۂ جدید و iiقدیم

چمن میں تربیت غنچہ ہو نہیں iiسکتی
نہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریک نسیم

وہ علم، کم بصری جس میں ہمکنار iiنہیں
تجلیات کلیم و مشاہدات iiحکیم!
ہندی مسلمان

غدار وطن اس کو بتاتے ہیں iiبرہمن
انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر

پنجاب کے ارباب نبوت کی iiشریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے iiکافر

آوازۂ حق اٹھتا ہے کب اور کدھر iiسے
'مسکیں ولکم ماندہ دریں کشمکش اندر'!
آزادی شمشیر کے اعلان پر
سوچا بھی ہے اے مرد مسلماں کبھی تو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگر دار

اس بیت کا یہ مصرع اول ہے کہ جس iiمیں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے iiاسرار

ہے فکر مجھے مصرع ثانی کی iiزیادہ
اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار

قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن
یا خالد جانباز ہے یا حیدر iiکرار
جہاد
فتوی ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا iiہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار iiکارگر

لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا iiنہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے iiاثر

تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے iiکہاں
ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے iiخبر

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا iiدل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد iiکی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو iiخطر

باطل کی فال و فر کی حفاظت کے iiواسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا iiکمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز iiسے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ iiبات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے iiدرگزر!
قوت اور دین
اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں iiمیں
سو بار ہوئی حضرت انساں کی قبا چاک

تاریخ امم کا یہ پیام ازلی iiہے
'صاحب نظراں! نشۂ قوت ہے iiخطرناک،

اس سیل سبک سیر و زمیں گیر کے iiآگے
عقل و نظر و علم و ہنر ہیں خس و iiخاشاک

لا دیں ہو تو ہے زہر ہلاہل سے بھی بڑھ کر
ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا iiتریاک
فقر و ملوکیت
فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا iiہے
ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلب سلیم

اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی iiسے
تازہ ہر عہد میں ہے قصۂ فرعون و iiکلیم

اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقر iiغیور
کھا گئی روح فرنگی کو ہوائے iiزروسیم

عشق و مستی نے کیا ضبط نفس مجھ پہ iiحرام
کہ گرہ غنچے کی کھلتی نہیں بے موج iiنسیم
اسلام

روح اسلام کی ہے نور خودی ، نار iiخودی
زندگانی کے لیے نار خودی نور و iiحضور

یہی ہر چیز کی تقویم ، یہی اصل نمود
گرچہ اس روح کو فطرت نے رکھا ہے مستور

لفظ 'اسلام، سے یورپ کو اگر کد ہے تو iiخیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے 'فقر iiغیور
حیات ابدی
زندگانی ہے صدف، قرۂ نیساں ہے iiخودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ iiسکے

ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر iiخودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
سلطانی
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا iiہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح iiقرآنی

خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو iiسلطانی

یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا iiعیار
اسی مقام سے آدم ہے ظل iiسبحانی

یہ جبر و قہر نہیں ہے ، یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں iiبانی

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ iiکو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ iiمسلمانی

ہوا حریف مہ و آفتاب تو جس iiسے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ iiدرخشانی
------------------------
ریاض منزل (دولت کد ہ سرراس مسعود)بھوپال میں لکھے گئے

صوفی سے

تری نگاہ میں ہے معجزات کی iiدنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا

تخیلات کی دنیا غریب ہے، iiلیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی iiدنیا

عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی iiدنیا
افرنگ زدہ
(1)


ترا وجود سراپا تجلی iiافرنگ
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر

مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے iiخالی
فقط نیام ہے تو، زرنگار و بے iiشمشیر!




(2)


تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا iiوجود
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود iiترا

وجود کیا ہے، فقط جوہر خودی کی iiنمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا
تصوف
یہ حکمت ملکوتی، یہ علم iiلاہوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی iiنہیں

یہ ذکر نیم شبی ، یہ مراقبے ، یہ iiسرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے iiشکار
شریک شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی iiنہیں

خرد نے کہہ بھی دیا 'لا الہ' تو کیا iiحاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی iiنہیں

عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو iiمیری
فروغ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی iiنہیں
***
ریاض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے

ہندی اسلام
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے iiملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی iiالحاد

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت iiبازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا iiداد

اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر iiیاد

مسکینی و محکومی و نومیدی iiجاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی iiاجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے iiآزاد!
غزل
دل مردہ دل نہیں ہے،اسے زندہ کر iiدوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا iiچارہ

ترا بحر پر سکوں ہے، یہ سکوں ہے یا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابی iiکنارہ!

تو ضمیر آسماں سے ابھی آشنا نہیں iiہے
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ

ترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحر iiنے
مری خاک پے سپر میں جو نہاں تھا اک iiشرارہ

نظر آئے گا اسی کو یہ جہان دوش و فردا
جسے آ گئی میسر مری شوخی نظارہ
دنیا
مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ iiبوقلمونی
وہ چاند، یہ تارا ہے، وہ پتھر، یہ نگیں iiہے

دیتی ہے مری چشم بصیرت بھی یہ iiفتوی
وہ کوہ ، یہ دریا ہے ، وہ گردوں ، یہ زمیں ہے

حق بات کو لیکن میں چھپا کر نہیں iiرکھتا
تو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے، نہیں iiہے!
نماز
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہیں آدم، جواں ہیں لات و منات

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا iiہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو iiنجات!
وحی
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار iiنہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کار iiحیات

فکر بے نور ترا، جذب عمل بے iiبنیاد
سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شب تار حیات

خوب و ناخوب عمل کی ہو گرہ وا iiکیونکر
گر حیات آپ نہ ہو شارح اسرار iiحیات!
شکست
مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی iiمیں
بہانہ بے عملی کا بنی شراب iiالست

فقیہ شہر بھی رہبانیت پہ ہے iiمجبور
کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست

گریز کشمکش زندگی سے، مردوں iiکی
اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے iiشکست!
---------------------------
ریاض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے

عقل و دل

ہر خاکی و نوری پہ حکومت ہے خرد iiکی
باہر نہیں کچھ عقل خدا داد کی زد iiسے

عالم ہے غلام اس کے جلال ازلی iiکا
اک دل ہے کہ ہر لحظہ الجھتا ہے خرد سے
مستی کردار
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی iiگفتار

شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے iiذوق
افکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ iiبیدار

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ iiکو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار
قبر
مرقد کا شبستاں بھی اسے راس نہ آیا
آرام قلندر کو تہ خاک نہیں iiہے

خاموشی افلاک تو ہے قبر میں لیکن
بے قیدی و پہنائی افلاک نہیں ہے
قلندر کی پہچان
کہتا ہے زمانے سے یہ درویش جواں iiمرد
جاتا ہے جدھر بندۂ حق، تو بھی ادھر iiجا!

ہنگامے ہیں میرے تری طاقت سے iiزیادہ
بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا

میں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں iiگا
چڑھتا ہوا دریا ہے اگر تو تو اتر iiجا

توڑا نہیں جادو مری تکبیر نے iiتیرا؟
ہے تجھ میں مکر جانے کی جرأت تو مکر جا!

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے iiقلندر
ایام کا مرکب نہیں، راکب ہے iiقلندر
فلسفہ
افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی iiہوں
پوشیدہ نہیں مرد قلندر کی نظر iiسے

معلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں iiبھی
مدت ہوئی گزرا تھا اسی راہ گزر iiسے

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں iiدانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے!

پیدا ہے فقط حلقۂ ارباب جنوں میں
وہ عقل کہ پا جاتی ہے شعلے کو شرر iiسے

جس معنی پیچیدہ کی تصدیق کرے iiدل
قیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر iiسے

یا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں iiگرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر iiسے
مردان خدا
وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے iiکاری
نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام iiعیاری

ازل سے فطرت احرار میں ہیں دوش بدوش
قلندری و قبا پوشی و کلہ iiداری

زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انھی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ iiچنگاری

وجود انھی کا طواف بتاں سے ہے آزاد
یہ تیرے مومن و کافر ، تمام iiزناری!


کافر و مومن

کل ساحل دریا پہ کہا مجھ سے خضر iiنے
تو ڈھونڈ رہا ہے سم افرنگ کا iiتریاق؟

اک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی iiمانند
برندہ و صیقل زدہ و روشن و براق

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم iiہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!
مہدی برحق
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار

پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے، نے جدت iiکردار

ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں iiگرفتار

دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی iiضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم iiافکار
مومن


(دنیامیں)


ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح iiنرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے iiمومن

افلاک سے ہے اس کی حریفانہ iiکشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے iiمومن

جچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میں
جبریل و سرافیل کا صیاد ہے iiمومن



(جنت.میں)
کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے iiمومن
حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے iiمومن
---------------------
بھوپال(شیش محل) میں لکھے گئے

محمد علی باب
تھی خوب حضور علما باب کی iiتقریر
بیچارہ غلط پڑھتا تھا اعراب iiسموات

اس کی غلطی پر علما تھے iiمتبسم
بولا ، تمہیں معلوم نہیں میرے iiمقامات

اب میری امامت کے تصدق میں ہیں iiآزاد
محبوس تھے اعراب میں قرآن کے آیات!
تقدیر
(ابلیس.و.یزداں)

ابلیس

اے خدائے کن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بیر
آہ ! وہ زندانی نزدیک و دور و دیر و iiزود

حرف 'استکبار' تیرے سامنے ممکن نہ iiتھا
ہاں، مگر تیری مشیت میں نہ تھا میرا iiسجود



یزداں
کب کھلا تجھ پر یہ راز، انکار سے پہلے کہ بعد؟

ابلیس
بعد ! اے تیری تجلی سے کمالات iiوجود!


یزداں
(فرشتوں کی طرف دیکھ iiکر)


پستی فطرت نے سکھلائی ہے یہ حجت iiاسے
کہتا ہے 'تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود،

دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا iiنام
ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے iiدود!
(ماخوذ از محی الدین ابن عربی)

اے روح محمد
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا iiابتر
اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر iiجائے!

وہ لذت آشوب نہیں بحر عرب iiمیں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کدھر جائے

ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و iiزاد
اس کوہ و بیاباں سے حدی خوان کدھر iiجائے

اس راز کو اب فاش کر اے روح iiمحمد
آیات الہی کا نگہبان کدھر iiجائے!
مدنیت اسلام
بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا iiہے
یہ ہے نہایت اندیشہ و کمال iiجنوں

طلوع ہے صفت آفتاب اس کا iiغروب
یگانہ اور مثال زمانہ گو نا iiگوں!

نہ اس میں عصر رواں کی حیا سے بیزاری
نہ اس میں عہد کہن کے فسانہ و iiافسوں

حقائق ابدی پر اساس ہے اس iiکی
یہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسم iiافلاطوں!

عناصر اس کے ہیں روح القدس کا ذوق جمال
عجم کا حسن طبیعت ، عرب کا سوز iiدروں!
امامت
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ iiسے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار iiکرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امام iiبرحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار iiکرے

موت کے آئنے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار iiکرے

دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما iiدے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس iiکی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار iiکرے
فقر و راہبی
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی
تری نگاہ میں ہے ایک ، فقر و iiرہبانی

سکوں پرستی راہب سے فقر ہے iiبیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ iiطوفانی

پسند روح و بدن کی ہے وا نمود اس iiکو
کہ ہے نہایت مومن خودی کی عریانی

وجود صیرفی کائنات ہے اس کا
اسے خبر ہے، یہ باقی ہے اور وہ iiفانی

اسی سے پوچھ کہ پیش نگاہ ہے جو iiکچھ
جہاں ہے یا کہ فقط رنگ و بو کی طغیانی

یہ فقر مرد مسلماں نے کھو دیا جب iiسے
رہی نہ دولت سلمانی و iiسلیمانی
غزل
تیری متاع حیات، علم و ہنر کا سرور
میری متاع حیات ایک دل iiناصبور!

معجزۂ اہل فکر، فلسفۂ پیچ iiپیچ
معجزۂ اہل ذکر، موسی و فرعون و iiطور

مصلحتاً کہہ دیا میں نے مسلماں iiتجھے
تیرے نفس میں نہیں، گرمی یوم iiالنشور

ایک زمانے سے ہے چاک گریباں iiمرا
تو ہے ابھی ہوش میں، میرے جنوں کا قصور

فیض نظر کے لیے ضبط سخن iiچاہیے
حرف پریشاں نہ کہہ اہل نظر کے iiحضور

خوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم
عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیور
تسلیم و رضا
ہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے iiپیدا
پودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا

ظلمت کدۂ خاک پہ شاکر نہیں iiرہتا
ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما iiکا

فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند
مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا iiکا

جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے
نکتۂ توحید
بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا iiہے
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا iiکہیے

وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لا الٰہ میں iiہے
طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا iiکہیے

سرور جو حق و باطل کی کارزار میں iiہے
تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

جہاں میں بندۂ حر کے مشاہدات ہیں iiکیا
تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے

مقام فقر ہے کتنا بلند شاہی iiسے
روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا iiکہیے!
الہام اور آزادیِ جان و تن
عقل مدت سے ہے اس پیچاک میں الجھی ہوئی
روح کس جوہر سے، خاک تیرہ کس جوہر سے iiہے

میری مشکل، مستی و شور و سرور و درد و iiداغ
تیری مشکل، مے سے ہے ساغر کہ مے ساغر سے ہے

ارتباط حرف و معنی، اختلاط جان و iiتن
جس طرح اخگر قبا پوش اپنی خاکستر سے iiہے!
لاہور و کراچی
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا iiسفر

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ iiمانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد iiنہیں
حرف 'لا تدع مع اللہ الھاً iiآخر'
نبوت
میں نہ عارف ، نہ مجدد، نہ محدث ،نہ iiفقیہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا iiمقام

ہاں، مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں iiنظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی iiفام

عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ iiتمام

''وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ iiحشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا iiپیام''
آدم

طلسم بود و عدم، جس کا نام ہے iiآدم
خدا کا راز ہے، قادر نہیں ہے جس پہ iiسخن

زمانہ صبح ازل سے رہا ہے محو سفر
مگر یہ اس کی تگ و دو سے ہو سکا نہ کہن

اگر نہ ہو تجھے الجھن تو کھول کر کہہ iiدوں
'وجود حضرت انساں نہ روح ہے نہ بدن،!
مکہ اور جنیوا

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت iiآدم

تفریق ملل حکمت افرنگ کا iiمقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت iiآدم

مکے نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام کہ جمعیت iiآدم!
اے پیر حرم
اے پیر حرم! رسم و رہ خانقہی iiچھوڑ
مقصود سمجھ میری نوائے سحری iiکا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو iiسلامت!
دے ان کو سبق خود شکنی ، خود نگری iiکا

تو ان کو سکھا خارا شگافی کے iiطریقے
مغرب نے سکھایا انھیں فن شیشہ گری کا

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی iiغلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری iiکا

کہہ جاتا ہوں میں زور جنوں میں ترے اسرار
مجھ کو بھی صلہ دے مری آشفتہ سری iiکا!
مہدی
قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن iiکو

مجذوب فرنگی نے بہ انداز فرنگی
مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن iiکو

اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے iiبیزار
نومیدۂ کر آہوئے مشکیں سے ختن iiکو

ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے iiسمجھیں
یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن iiکو؟
مرد مسلمان
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی iiآن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی iiبرہان!

قہاری و غفاری و قدوسی و iiجبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے iiمسلمان

ہمسایۂ جبریل امیں بندۂ iiخاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ iiبدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ iiمومن
قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے iiقرآن!

قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی iiمیزان

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ iiشبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان

فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و iiروز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ iiرحمن

بنتے ہیں مری کار گہ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان
پنجابی مسلمان
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی iiطبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت iiجلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
آزادی
ہے کس کی یہ جرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
حریت افکار کی نعمت ہے خدا iiداد

چاہے تو کرے کعبے کو آتش کدہ iiپارس
چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد

قرآن کو بازیچۂ تاویل بنا iiکر
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے iiایجاد

ہے مملکت ہند میں اک طرفہ تماشا
اسلام ہے محبوس ، مسلمان ہے iiآزاد
اشاعت اسلام فرنگستان میں

ضمیر اس مدنیت کا دیں سے ہے iiخالی
فرنگیوں میں اخوت کا ہے نسب پہ iiقیام

بلند تر نہیں انگریز کی نگاہوں iiمیں
قبول دین مسیحی سے برہمن کا iiمقام

اگر قبول کرے، دین مصطفی ، iiانگریز
سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام
لا و الا
فضائے نور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر iiپیدا
سفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ

نہاد زندگی میں ابتدا 'لا' ، انتہا ii'الا'
پیام موت ہے جب 'لا ہوا الا' سے iiبیگانہ

وہ ملت روح جس کی 'لا 'سے آگے بڑھ نہیں سکتی
یقیں جانو، ہوا لبریز اس ملت کا iiپیمانہ
امرائے عرب سے
کرے یہ کافر ہندی بھی جرأت iiگفتار
اگر نہ ہو امرائے عرب کی بے iiادبی!

یہ نکتہ پہلے سکھایا گیا کس امت کو؟
وصال مصطفوی ، افتراق iiبولہبی!

نہیں وجود حدود و ثغور سے اس iiکا
محمد عربی سے ہے عالم iiعربی
------------------------
بھوپال شیش محل میں لکھے گئے

احکام الہی
پابندی تقدیر کہ پابندی iiاحکام!
یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مرد خرد iiمند

اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے iiتقدیر
ہے اس کا مقلد ابھی ناخوش ، ابھی خورسند

تقدیر کے پابند نباتات و iiجمادات
مومن فقط احکام الہی کا ہے iiپابند
موت
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل ناصبور رہتا iiہے

مہ و ستارہ ، مثال شرارہ یک دو iiنفس
مے خودی کا ابد تک سرور رہتا iiہے

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن iiتیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا iiہے!
قم باذن اللہ
جہاں اگرچہ دگر گوں ہے ، قم باذن اللہ
وہی زمیں ، وہی گردوں ہے ، قم باذن iiاللہ

کیا نوائے 'انا الحق' کو آتشیں جس iiنے
تری رگوں میں وہی خوں ہے ، قم باذن اللہ

غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور iiترا
فرنگیوں کا یہ افسوں ہے ، قم باذن iiاللہ
تعلیم و تربیت
مقصود

(سپنوزا)

نظر حیات پہ رکھتا ہے مرد دانش iiمند
حیات کیا ہے ، حضور و سرور و نور و وجود


(فلاطوں)

نگاہ موت پہ رکھتا ہے مرد دانش iiمند
حیات ہے شب تاریک میں شرر کی نمود

حیات و موت نہیں التفات کے iiلائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا iiمقصود
-------------------------
ریاض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے

زمانۂ حاضر کا انسان

'عشق ناپید و خرد میگزدش صورت iiمار'
عقل کو تابع فرمان نظر کر نہ iiسکا

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں iiکا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ iiسکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ iiسکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ iiسکا!
اقوام مشرق
نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے iiکور

زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لب iiگور!
آگاہی
نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس
نہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے iiآگاہ

خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
وہی ہے مملکت صبح و شام سے آگاہ

وہی نگاہ کے ناخوب و خوب سے iiمحرم
وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ
مصلحین مشرق

میں ہوں نومید تیرے ساقیان سامری فن iiسے
کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں iiخالی

نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن iiمیں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی!
مغربی تہذیب
فساد قلب و نظر ہے فرنگ کی iiتہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف

رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے iiناپید
ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق iiلطیف
اسرار پیدا
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں iiرہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت iiفولاد

ناچیز جہان مہ و پرویں ترے iiآگے
وہ عالم مجبور ہے ، تو عالم iiآزاد

موجوں کی تپش کیا ہے ، فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے ، وہ دولت ہے خدا داد

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں iiگرتا
پر دم ہے اگر تو تو نہیں خطرۂ iiافتاد
سلطان ٹیپو کی وصیت
تو رہ نورد شوق ہے ، منزل نہ کر iiقبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر iiقبول

اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر iiقبول

کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات iiمیں
محفل گداز ! گرمی محفل نہ کر iiقبول

صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل iiنے
جو عقل کا غلام ہو ، وہ دل نہ کر قبول

باطل دوئی پسند ہے ، حق لا شریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر iiقبول!
غزل
نہ میں اعجمی نہ ہندی ، نہ عراقی و iiحجازی
کہ خودی سے میں نے سیکھی دوجہاں سے بے نیازی

تو مری نظر میں کافر ، میں تری نظر میں کافر
ترا دیں نفس شماری ، مرا دیں نفس iiگدازی

تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی iiشریعت
کہ موافق تدرواں نہیں دین iiشاہبازی

ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم iiکارسازی

نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگی iiسے
کہ ہلاکی امم ہے یہ طریق نے iiنوازی
بیداری

جس بندۂ حق بیں کی خودی ہو گئی iiبیدار
شمشیر کی مانند ہے برندہ و iiبراق

اس کی نگہ شوخ پہ ہوتی ہے iiنمودار
ہر ذرے میں پوشیدہ ہے جو قوت iiاشراق

اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ iiکو
تو بندۂ آفاق ہے ، وہ صاحب iiآفاق

تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
وہ پاکی فطرت سے ہوا محرم iiاعماق
خودی کی تربیت
خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے iiموقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ iiسوز

یہی ہے سر کلیمی ہر اک زمانے iiمیں
ہوائے دشت و شعیب و شبانی شب و روز!
آزادی فکر
آزادی افکار سے ہے ان کی iiتباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہو فکر اگر خام تو آزادی iiافکار
انسان کو حیوان بنانے کا iiطریقہ!
خودی کی زندگی

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہ فقیر

خودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں iiپایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیان و iiحریر

نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں iiآزاد
نہنگ مردہ کو موج سراب بھی iiزنجیر!
حکومت
ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی iiبات

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع iiکردار
بحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و iiصفات

گرچہ اس دیر کہن کا ہے یہ دستور iiقدیم
کہ نہیں مے کدہ و ساقی و مینا کو iiثبات

قسمت بادہ مگر حق ہے اسی ملت iiکا
انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حیات!
--------------
ریاض منزل (دولت کد ہ سرراس مسعود)بھوپال میں لکھے گئے

ہندی مکتب
اقبال! یہاں نام نہ لے علم خودی iiکا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے iiمقالات

بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر iiسے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک iiسال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات!

آزاد کا ہر لحظہ پیام iiابدیت
محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگ iiمفاجات

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے iiمنور
محکوم کا اندیشہ گرفتار iiخرافات

محکوم کو پیروں کی کرامات کا iiسودا
ہے بندۂ آزاد خود اک زندہ iiکرامات

محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علم iiنباتات
تربیت
زندگی کچھ اور شے ہے ، علم ہے کچھ اور iiشے
زندگی سوز جگر ہے ، علم ہے سوز iiدماغ

علم میں دولت بھی ہے ، قدرت بھی ہے ، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا iiسراغ

اہل دانش عام ہیں ، کم یاب ہیں اہل iiنظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا iiایاغ!

شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل iiکہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا iiچراغ!
خوب و زشت
ستارگان فضا ہائے نیلگوں کی iiطرح
تخیلات بھی ہیں تابع طلوع و غروب

جہاں خودی کا بھی ہے صاحب فراز و نشیب
یہاں بھی معرکہ آرا ہے خوب سے iiناخوب

نمود جس کی فراز خودی سے ہو ، وہ iiجمیل
جو ہو نشیب میں پیدا ، قبیح و نا iiمحبوب!
مرگ خودی

خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے iiنور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام

خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب
بدن عراق و عجم کا ہے بے عروق و iiعظام

خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں iiپر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ iiحرام!

خودی کی موت سے پیر حرم ہوا iiمجبور
کہ بیچ کھائے مسلماں کا جامۂ iiاحرام!
مہمان عزیز
پر ہے افکار سے ان مدرسے والوں کا ضمیر
خوب و ناخوب کی اس دور میں ہے کس کو تمیز!

چاہیے خانۂ دل کی کوئی منزل iiخالی
شاید آ جائے کہیں سے کوئی مہمان عزیز
عصر حاضر
پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے iiکوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے iiمگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و iiنظام

مردہ ، 'لا دینی افکار سے افرنگ میں iiعشق
عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں iiغلام!
طالب علم
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر iiدے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ iiتو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب iiنہیں
امتحان
کہا پہاڑ کی ندی نے سنگ ریزے iiسے
فتادگی و سر افگندگی تری iiمعراج!

ترا یہ حال کہ پامال و درد مند ہے iiتو
مری یہ شان کہ دریا بھی ہے مرا iiمحتاج

جہاں میں تو کسی دیوار سے نہ iiٹکرایا
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ یا کہ زجاج
مدرسہ
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا ، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر iiمعاش

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے iiترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ iiکیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ iiتراش

فیض فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں iiبخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ iiخفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن iiکو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں iiفاش
حکیم نطشہ
حریف نکتۂ توحید ہو سکا نہ حکیم
نگاہ چاہیے اسرار 'لا الہ' کے iiلیے

خدنگ سینۂ گردوں ہے اس کا فکر iiبلند
کمند اس کا تخیل ہے مہرو مہ کے iiلیے

اگرچہ پاک ہے طینت میں راہبی اس کی
ترس رہی ہے مگر لذت گنہ کے لیے
اساتذہ
مقصد ہو اگر تربیت لعل iiبدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر iiتو

دنیا ہے روایات کے پھندوں میں iiگرفتار
کیا مدرسہ ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دو!

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی iiامامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں iiپیرو
غزل
ملے گا منزل مقصود کا اسی کو iiسراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں iiکو
نہیں ہے بندۂ حر کے لیے جہاں میں iiفراغ

فروغ مغربیاں خیرہ کر رہا ہے iiتجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب ii'مازاغ'

وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو iiنفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے iiایاغ

کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق iiاتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا iiسراغ
دین و تعلیم
مجھ کو معلوم ہیں پیران حرم کے iiانداز
ہو نہ اخلاص تو دعوئے نظر لاف و iiگزاف

اور یہ اہل کلیسا کا نظام iiتعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی iiہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے iiانصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

جاوید سے
(1)


غارت گر دیں ہے یہ iiزمانہ
ہے اس کی نہاد iiکافرانہ

دربار شہنشہی سے iiخوشتر
مردان خدا کا آستانہ

لیکن یہ دور ساحری iiہے
انداز ہیں سب کے iiجاودانہ

سرچشمۂ زندگی ہوا iiخشک
باقی ہے کہاں م ے iiشبانہ!

خالی ان سے ہوا iiدبستاں
تھی جن کی نگاہ iiتازیانہ

جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق iiعارفانہ

جوہر میں ہو 'لاالہ' تو کیا خوف
تعلیم ہو گو iiفرنگیانہ

شاخ گل پر چہک ولیکن
کر اپنی خودی میں iiآشیانہ!

وہ بحر ہے آدمی کہ جس iiکا
ہر قطرہ ہے بحر iiبیکرانہ

دہقان اگر نہ ہو تن iiآساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ

''غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقت ہنر است و کارسازی iiست''



(2)


سینے میں اگر نہ ہو دل iiگرم
رہ جاتی ہے زندگی میں iiخامی

نخچیر اگر ہو زیرک و چست
آتی نہیں کام کہنہ iiدامی

ہے آب حیات اسی جہاں iiمیں
شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی

غیرت ہے طریقت iiحقیقی
غیرت سے ہے فقر کی iiتمامی

اے جان پدر! نہیں ہے iiممکن
شاہیں سے تدرو کی iiغلامی

نایاب نہیں متاع iiگفتار
صد انوری و ہزار iiجامی!

ہے میری بساط کیا جہاں iiمیں
بس ایک فغان زیر iiبامی

اک صدق مقال ہے کہ جس iiسے
میں چشم جہاں میں ہوں iiگرامی

اللہ کی دین ہے ، جسے دے
میراث نہیں بلند نامی

اپنے نور نظر سے کیا iiخوب
فرماتے ہیں حضرت نظامی

''جاے کہ بزرگ بایدت بود
فرزندی من نداردت iiسود''



(3)


مومن پہ گراں ہیں یہ شب و iiروز
دین و دولت ، قمار iiبازی!

ناپید ہے بندۂ عمل iiمست
باقی ہے فقط نفس درازی

ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ iiفقر
جس فقر کی اصل ہے iiحجازی

اس فقر سے آدمی میں iiپیدا
اللہ کی شان بے iiنیازی

کنجشک و حمام کے لیے iiموت
ہے اس کا مقام شاہبازی

روشن اس سے خرد کی iiآنکھیں
بے سرمۂ بو علی و iiرازی

حاصل اس کا شکوۂ محمود
فطرت میں اگر نہ ہو iiایازی

تیری دنیا کا یہ سرافیل
رکھتا نہیں ذوق نے iiنوازی

ہے اس کی نگاہ عالم آشوب
درپردہ تمام کارسازی

یہ فقر غیور جس نے پایا
بے تیغ و سناں ہے مرد iiغازی

مومن کی اسی میں ہے iiامیری
اللہ سے مانگ یہ iiفقیری

مرد فرنگ
ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
مگر یہ مسئلۂ زن رہا وہیں کا iiوہیں

قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و iiپرویں

فساد کا ہے فرنگی معاشرت پہ iiظہور
کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں
ایک سوال
کوئی پوچھے حکیم یورپ iiسے
ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش

کیا یہی ہے معاشرت کا iiکمال
مرد بے کار و زن تہی iiآغوش!
پردہ
بہت رنگ بدلے سپہر بریں iiنے
خدایا یہ دنیا جہاں تھی ، وہیں ہے

تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں iiنے
وہ خلوت نشیں ہے ، یہ خلوت نشیں ہے

ابھی تک ہے پردے میں اولاد iiآدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں iiہے
خلوت
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس iiنے
روشن ہے نگہ ، آئنۂ دل ہے iiمکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں iiسے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر

آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں iiہے
وہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر

خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر ، و لیکن
خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی iiمیسر
عورت
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز iiدروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در iiمکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی ، iiلیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار iiافلاطوں
آزادیِ نسواں

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں iiسکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند

کیا فائدہ ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھی iiمعتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے iiفرزند

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں ، معذور ہیں ، مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں iiزیادہ
آزادیِ نسواں کہ زمرد کا گلو iiبند!
عورت کی حفاظت
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے iiمستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد

نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ iiپرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط iiمرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ iiپایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا iiزرد
عورت

جوہر مرد عیاں ہوتا ہے بے منت iiغیر
غیر کے ہاتھ میں ہے جوہر عورت کی iiنمود

راز ہے اس کے تپ غم کا یہی نکتۂ شوق
آتشیں ، لذت تخلیق سے ہے اس کا iiوجود

کھلتے جاتے ہیں اسی آگ سے اسرار iiحیات
گرم اسی آگ سے ہے معرکۂ بود و iiنبود

میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غم ناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی iiکشود!
عورت

جوہر مرد عیاں ہوتا ہے بے منت iiغیر
غیر کے ہاتھ میں ہے جوہر عورت کی iiنمود

راز ہے اس کے تپ غم کا یہی نکتۂ شوق
آتشیں ، لذت تخلیق سے ہے اس کا iiوجود

کھلتے جاتے ہیں اسی آگ سے اسرار iiحیات
گرم اسی آگ سے ہے معرکۂ بود و iiنبود

میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غم ناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی iiکشود!
دین و ہنر
سرود و شعر و سیاست ، کتاب و دین و iiہنر
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک iiدانہ

ضمیر بندۂ خاکی سے ہے نمود ان iiکی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

اگر خودی کی حفاظت کریں تو عین iiحیات
نہ کر سکیں تو سراپا فسون و iiافسانہ

ہوئی ہے زیر فلک امتوں کی iiرسوائی
خودی سے جب ادب و دیں ہوئے ہیں بیگانہ
تخلیق

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے iiنمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

خودی میں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت iiنے
اس آبجو سے کیے بحر بے کراں پیدا

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا iiہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں iiپیدا

خودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میں
ہوا نہ کوئی خدائی کا راز داں iiپیدا

ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتی iiہے
عجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا
جنوں
زجاج گر کی دکاں شاعری و iiملائی
ستم ہے ، خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ!

کسے خبر کہ جنوں میں کمال اور بھی iiہیں
کریں اگر اسے کوہ و کمر سے iiبیگانہ

ہجوم مدرسہ بھی سازگار ہے اس iiکو
کہ اس کے واسطے لازم نہیں ہے iiویرانہ
اپنے شعر سے

ہے گلہ مجھ کو تری لذت پیدائی iiکا
تو ہوا فاش تو ہیں اب مرے اسرار بھی فاش

شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوارہ نہ رہ
کر کسی سینۂ پر سوز میں خلوت کی تلاش!
پیرس کی مسجد

مری نگاہ کمال ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرم مغربی ہے iiبیگانہ

حرم نہیں ہے ، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپا دی ہے روح بت iiخانہ

یہ بت کدہ انھی غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہوا ہے iiویرانہ
ادبیات
عشق اب پیروی عقل خدا داد کرے
آبرو کوچۂ جاناں میں نہ برباد کرے

کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے
یا کہن روح کو تقلید سے آزاد iiکرے
نگاہ
بہار و قافلۂ لالہ ہائے صحرائی
شباب و مستی و ذوق و سرود و iiرعنائی!

اندھیری رات میں یہ چشمکیں ستاروں کی
یہ بحر ، یہ فلک نیلگوں کی iiپہنائی!

سفر عروس قمر کا عماری شب میں
طلوع مہر و سکوت سپہر iiمینائی!

نگاہ ہو تو بہائے نظارہ کچھ بھی نہیں
کہ بیچتی نہیں فطرت جمال و iiزیبائی
----------------------
ریاض منزل(دولت کدۂ سرراس مسعود ) بھوپال میں لکھے گئے

مسجد قوت الاسلام
ہے مرے سینۂ بے نور میں اب کیا iiباقی
'لا الہ' مردہ و افسردہ و بے ذوق iiنمود

چشم فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ iiکو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقام iiمحمود

کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی iiسے
کہ غلامی سے ہوا مثل زجاج اس کا iiوجود

ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی iiنماز
جس کی تکبیر میں ہو معرکۂ بود و iiنبود

اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت ، وہ گداز
بے تب و تاب دروں میری صلوٰۃ اور iiدرود

ہے مری بانگ اذاں میں نہ بلندی ، نہ iiشکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟
تیاتر
تری خودی سے ہے روشن ترا حریم وجود
حیات کیا ہے ، اسی کا سرور و سوز و iiثبات

بلند تر مہ و پرویں سے ہے اسی کا iiمقام
اسی کے نور سے پیدا ہیں تیرے ذات و صفات

حریم تیرا ، خودی غیر کی ! iiمعاذاللہ
دوبارہ زندہ نہ کر کاروبار لات و iiمنات

یہی کمال ہے تمثیل کا کہ تو نہ iiرہے
رہا نہ تو تو نہ سوز خودی ، نہ ساز iiحیات
شعاع امید
(1)


سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ iiپیغام
دنیا ہے عجب چیز ، کبھی صبح کبھی iiشام

مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہری ایام

نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے iiراحت
نے مثل صبا طوف گل و لالہ میں iiآرام

پھر میرے تجلی کدۂ دل میں سما iiجاؤ
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و iiبام



(2)


آفاق کے ہر گوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم iiآغوش

اک شور ہے ، مغرب میں اجالا نہیں iiممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ iiپوش

مشرق نہیں گو لذت نظارہ سے iiمحروم
لیکن صفت عالم لاہوت ہے iiخاموش

پھر ہم کو اسی سینۂ روشن میں چھپا لے
اے مہر جہاں تاب ! نہ کر ہم کو فراموش



(3)


اک شوخ کرن ، شوخ مثال نگہ iiحور
آرام سے فارغ ، صفت جوہر iiسیماب

بولی کہ مجھے رخصت تنویر عطا iiہو
جب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں iiتاب

چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا iiکو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردان گراں خواب

خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے iiسیراب

چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے iiروشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزۂ iiدرناب

اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواص iiمعانی
جن کے لیے ہر بحر پر آشوب ہے iiپایاب

جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں iiمیں
محفل کا وہی ساز ہے بیگانۂ iiمضراب

بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے iiبرہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ iiمحراب

مشرق سے ہو بیزار ، نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر iiکر

امید
مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا iiہوں
اگرچہ میں نہ سپاہی ہوں نے امیر iiجنود

مجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ iiاور
عطا ہوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود

جبین بندۂ حق میں نمود ہے جس کی
اسی جلال سے لبریز ہے ضمیر iiوجود

یہ کافری تو نہیں ، کافری سے کم بھی iiنہیں
کہ مرد حق ہو گرفتار حاضر و iiموجود

غمیں نہ ہو کہ بہت دور ہیں ابھی iiباقی
نئے ستاروں سے خالی نہیں سپہر iiکبود
----------------------
ریاض منزل (دولت کدئہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے
نگاہ شوق
یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر iiاپنا
کہ ذرے ذرے میں ہے ذوق iiآشکارائی

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبار iiجہاں
نگاہ شوق اگر ہو شریک iiبینائی

اسی نگاہ سے محکوم قوم کے iiفرزند
ہوئے جہاں میں سزاوار کار iiفرمائی

اسی نگاہ میں ہے قاہری و iiجباری
اسی نگاہ میں ہے دلبری و iiرعنائی

اسی نگاہ سے ہر ذرے کو ، جنوں میرا
سکھا رہا ہے رہ و رسم دشت iiپیمائی

نگاہ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی iiرسوائی
اہل ہنر سے
مہر و مہ و مشتری ، چند نفس کا iiفروغ
عشق سے ہے پائدار تیری خودی کا iiوجود

تیرے حرم کا ضمیر اسود و احمر سے پاک
ننگ ہے تیرے لیے سرخ و سپید و iiکبود

تیری خودی کا غیاب معرکۂ ذکر و فکر
تیری خودی کا حضور عالم شعر و سرود

روح اگر ہے تری رنج غلامی سے iiزار
تیرے ہنر کا جہاں دیر و طواف و سجود

اور اگر باخبر اپنی شرافت سے iiہو
تیری سپہ انس و جن ، تو ہے امیر iiجنود
غزل
دریا میں موتی ، اے موج بے iiباک
ساحل کی سوغات ! خاروخس و خاک

میرے شرر میں بجلی کے iiجوہر
لیکن نیستاں تیرا ہے نم iiناک

تیرا زمانہ ، تاثیر iiتیری
ناداں ! نہیں یہ تاثیر iiافلاک

ایسا جنوں بھی دیکھا ہے میں نے
جس نے سیے ہیں تقدیر کے iiچاک

کامل وہی ہے رندی کے فن میں
مستی ہے جس کی بے منت iiتاک

رکھتا ہے اب تک میخانۂ iiشرق
وہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراک

اہل نظر ہیں یورپ سے iiنومید
ان امتوں کے باطن نہیں iiپاک
وجود

اے کہ ہے زیر فلک مثل شرر تیری iiنمود
کون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقامات iiوجود!

گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا iiجوہر
وائے صورت گری و شاعری و ناے و سرود!

مکتب و مے کدہ جز درس نبودن iiندہند
بودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی iiبود
سرود
آیا کہاں سے نالۂ نے میں سرود iiمے
اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوب iiنے

دل کیا ہے ، اس کی مستی و قوت کہاں سے ہے
کیوں اس کی اک نگاہ الٹتی ہے تخت کے

کیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام میں iiحیات
کیوں اس کے واردات بدلتے ہیں پے بہ iiپے

کیا بات ہے کہ صاحب دل کی نگاہ iiمیں
جچتی نہیں ہے سلطنت روم و شام و iiرے

جس روز دل کی رمز مغنی سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں iiطے
نسیم و شبنم
نسیم

انجم کی فضا تک نہ ہوئی میری رسائی
کرتی رہی میں پیرہن لالہ و گل iiچاک

مجبور ہوئی جاتی ہوں میں ترک وطن iiپر
بے ذوق ہیں بلبل کی نوا ہائے طرب iiناک

دونوں سے کیا ہے تجھے تقدیر نے iiمحرم
خاک چمن اچھی کہ سرا پردۂ iiافلاک!


شبنم

کھینچیں نہ اگر تجھ کو چمن کے خس و خاشاک
گلشن بھی ہے اک سر سرا پردۂ iiافلاک
اہرام مصر
اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا iiمیں
فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر

اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک
کس ہاتھ نے کھینچی ابدیت کی یہ iiتصویر!

فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ iiنخچیر
مخلوقات ہنر
ہے یہ فردوس نظر اہل ہنر کی iiتعمیر
فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانۂ iiذات

نہ خودی ہے ، نہ جہان سحر و شام کے iiدور
زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے iiنجات

آہ ، وہ کافر بیچارہ کہ ہیں اس کے iiصنم
عصر رفتہ کے وہی ٹوٹے ہوئے لات و منات!

تو ہے میت ، یہ ہنر تیرے جنازے کا iiامام
نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں iiحیات!
اقبال
فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی
مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش

حلاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ iiآخر
اک مرد قلندر نے کیا راز خودی iiفاش!
فنون لطیفہ
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے iiلیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے ، وہ نظر کیا

مقصود ہنر سوز حیات ابدی iiہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا

جس سے دل دریا متلاطم نہیں iiہوتا
اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا ، وہ گہر iiکیا

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر iiکیا

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں iiقومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر iiکیا!
صبح چمن
پھول


شاید تو سمجھتی تھی وطن دور ہے میرا
اے قاصد افلاک! نہیں ، دور نہیں iiہے


شبنم


ہوتا ہے مگر محنت پرواز سے iiروشن
یہ نکتہ کہ گردوں سے زمیں دور نہیں ہے


صبح


مانند سحر صحن گلستاں میں قدم iiرکھ
آئے تہ پا گوہر شبنم تو نہ ٹوٹے

ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش ، و iiلیکن
ہاتھوں سے ترے دامن افلاک نہ چھوٹے!
خاقانی
وہ صاحب 'تحفۃ iiالعراقین،
ارباب نظر کا قرۃالعین

ہے پردہ شگاف اس کا iiادراک
پردے ہیں تمام چاک در iiچاک

خاموش ہے عالم iiمعانی
کہتا نہیں حرف 'لن iiترانی'!

پوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیز
ہنگامۂ این و آں ہے کیا iiچیز

وہ محرم عالم iiمکافات
اک بات میں کہہ گیا ہے سو بات

''خود بوے چنیں جہاں تواں iiبرد
کابلیس بماند و بوالبشر iiمرد!''
رومی
غلط نگر ہے تری چشم نیم باز اب iiتک
ترا وجود ترے واسطے ہے راز اب iiتک

ترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب iiتک
کہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب iiتک

گسستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب iiتک
کہ تو ہے نغمۂ رومی سے بے نیاز اب تک!
جدت
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر iiسے
افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے

خورشید کرے کسب ضیا تیرے شرر سے
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر iiسے

دریا متلاطم ہوں تری موج گہر iiسے
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر iiسے

اغیار کے افکار و تخیل کی iiگدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
مرزا بیدل
ہے حقیقت یا مری چشم غلط بیں کا iiفساد
یہ زمیں، یہ دشت ، یہ کہسار ، یہ چرخ iiکبود

کوئی کہتا ہے نہیں ہے ، کوئی کہتاہے کہ iiہے
کیا خبر ، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود!

میرزا بیدل نے کس خوبی سے کھولی یہ iiگرہ
اہل حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی iiکشود!

''دل اگر میداشت وسعت بے نشاں بود ایں iiچمن
رنگ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود''
جلال و جمال
مرے لیے ہے فقط زور حیدری iiکافی
ترے نصیب فلاطوں کی تیزی iiادراک

مری نظر میں یہی ہے جمال و iiزیبائی
کہ سر بسجدہ ہیں قوت کے سامنے iiافلاک

نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے iiتاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش iiناک

مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ iiآگ
کہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک!
مصور
کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ iiتخیل
ہندی بھی فرنگی کا مقلد ، عجمی بھی ii!

مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد
کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی

معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے iiکمالات
صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی ، نئی iiبھی

فطرت کو دکھایا بھی ہے ، دیکھا بھی ہے تو نے
آئینۂ فطرت میں دکھا اپنی خودی iiبھی!
سرود حلال

کھل تو جاتا ہے مغنی کے بم و زیر سے iiدل
نہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود!

ہے ابھی سینۂ افلاک میں پنہاں وہ iiنوا
جس کی گرمی سے پگھل جائے ستاروں کا وجود

جس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف سے iiپاک
اور پیدا ہو ایازی سے مقام محمود

مہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ iiرہے
تو رہے اور ترا زمزمۂ لا iiموجود

جس کو مشروع سمجھتے ہیں فقیہان iiخودی
منتظر ہے کسی مطرب کا ابھی تک وہ iiسرود!
سرود حرام

نہ میرے ذکر میں ہے صوفیوں کا سوز و سرور
نہ میرا فکر ہے پیمانۂ ثواب و iiعذاب

خدا کرے کہ اسے اتفاق ہو مجھ iiسے
فقیہ شہر کہ ہے محرم حدیث و کتاب

اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا iiپیغام
حرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و iiرباب!

فوارہ
یہ آبجو کی روانی ، یہ ہمکناری iiخاک
مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ iiنظارہ

ادھر نہ دیکھ ، ادھر دیکھ اے جوان عزیز
بلند زور دروں سے ہوا ہے iiفوارہ
شاعر
مشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس iiنے
شاعر ! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہے

تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم
اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی iiلے

شیشے کی صراحی ہو کہ مٹی کا سبو iiہو
شمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری iiمے

ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے iiنیچے
بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و iiکے

ہر لحظہ نیا طور ، نئی برق iiتجلی
اللہ کرے مرحلۂشوق نہ ہو iiطے!
شعر عجم
ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک و دل iiآویز
اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز

افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں
بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز

وہ ضرب اگر کوہ شکن بھی ہو تو کیا ہے
جس سے متزلزل نہ ہوئی دولت iiپرویز

اقبال یہ ہے خارہ تراشی کا iiزمانہ
'از ہر چہ بآئینہ نمایند بہ iiپرہیز'
ہنروران ہند
عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
ان کے اندیشۂ تاریک میں قوموں کے iiمزار

موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں iiمیں
زندگی سے ہنر ان برہمنوں کا iiبیزار

چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات iiبلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ ، بدن کو iiبیدار

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ iiنویس
آہ ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!
مرد بزرگ
اس کی نفرت بھی عمیق ، اس کی محبت بھی عمیق
قہر بھی اس کا ہے اللہ کے بندوں پہ iiشفیق

پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی iiمیں
ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا iiتخلیق

انجمن میں بھی میسر رہی خلوت اس کو
شمع محفل کی طرح سب سے جدا ، سب کا iiرفیق

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی iiمیں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں iiدقیق

اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
اس کے احوال سے محرم نہیں پیران iiطریق
عالم نو

زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر iiتقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی iiتصویر

اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار iiاسے
کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر

بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کف خاک
روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی iiتکبیر
ایجاد معانی
ہر چند کہ ایجاد معانی ہے خدا iiداد
کوشش سے کہاں مرد ہنر مند ہے آزاد!

خون رگ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
میخانۂ حافظ ہو کہ بتخانۂ بہزاد

بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں iiکھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانۂ iiفرہاد!
موسیقی
وہ نغمہ سردی خون غزل سرا کی دلیل
کہ جس کو سن کے ترا چہرہ تاب ناک iiنہیں

نوا کو کرتا ہے موج نفس سے زہر آلود
وہ نے نواز کہ جس کا ضمیر پاک iiنہیں

پھرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میں
کسی چمن میں گریبان لالہ چاک iiنہیں
ذوق نظر

خودی بلند تھی اس خوں گرفتہ چینی کی
کہا غریب نے جلاد سے دم تعزیر

ٹھہر ٹھہر کہ بہت دل کشا ہے یہ منظر
ذرا میں دیکھ تو لوں تاب ناکی iiشمشیر!
شعر
میں شعر کے اسرار سے محرم نہیں iiلیکن
یہ نکتہ ہے ، تاریخ امم جس کی ہے تفصیل

وہ شعر کہ پیغام حیات ابدی ہے
یا نغمۂ جبریل ہے یا بانگ iiسرافیل
رقص و موسیقی
شعر سے روشن ہے جان جبرئیل و iiاہرمن
رقص و موسیقی سے ہے سوز و سرور iiانجمن

فاش یوں کرتا ہے اک چینی حکیم اسرار iiفن
شعر گویا روح موسیقی ہے ، رقص اس کا بدن
ضبط
طریق اہل دنیا ہے گلہ شکوہ زمانے iiکا
نہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شان iiدرویشی

یہ نکتہ پیر دانا نے مجھے خلوت میں iiسمجھایا
کہ ہے ضبط فغاں شیری ، فغاں روباہی و میشی!
رقص
چھوڑ یورپ کے لیے رقص بدن کے خم و پیچ
روح کے رقص میں ہے ضرب کلیم اللہی!

صلہ اس رقص کا ہے تشنگی کام و iiدہن
صلہ اس رقص کا درویشی و iiشاہنشاہی
سیاسیاست مشرق و مغرب
اشتراکیت

قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتار

اندیشہ ہوا شوخی افکار پہ iiمجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا iiبیزار

انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا iiکر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ iiاسرار

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد iiمسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

جو حرف 'قل العفو' میں پوشیدہ ہے اب iiتک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو iiنمودار!
کارل مارکس کی آواز
یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی ، یہ بحث و تکرار کی iiنمائش
نہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی iiنمائش

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے iiآخر
خطوط خم دار کی نمائش ، مریز و کج دار کی نمائش

جہان مغرب کے بت کدوں میں ، کلیسیاؤں میں ، مدرسوں میں
ہوس کی خون ریزیاں چھپاتی ہے عقل عیار کی iiنمائش
انقلاب
نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز iiحیات
خودی کی موت ہے یہ ، اور وہ ضمیر کی موت

دلوں میں ولولۂ انقلاب ہے iiپیدا
قریب آگئی شاید جہان پیر کی iiموت!
خوشامد

میں کار جہاں سے نہیں آگاہ ، iiولیکن
ارباب نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی iiراز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد
دستور نیا ، اور نئے دور کا آغاز

معلوم نہیں ، ہے یہ خوشامد کہ iiحقیقت
کہہ دے کوئی الو کو اگر 'رات کا iiشہباز
مناصب
ہوا ہے بندۂ مومن فسونی iiافرنگ
اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم iiناک

ترے بلند مناصب کی خیر ہو iiیارب
کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک

مگر یہ بات چھپائے سے چھپ نہیں iiسکتی
سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت iiچالاک

شریک حکم غلاموں کو کر نہیں iiسکتے
خریدتے ہیں فقط ان کا جوہر iiادراک!
یورپ اور یہود
یہ عیش فراواں ، یہ حکومت ، یہ iiتجارت
دل سینۂ بے نور میں محروم تسلی

تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے
یہ وادی ایمن نہیں شایان تجلی

ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ
شاید ہوں کلیسا کے یہودی iiمتولی!
نفسیات غلامی

شاعر بھی ہیں پیدا ، علما بھی ، حکما بھی
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا iiزمانہ

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر iiایک
ہر ایک ہے گو شرح معانی میں iiیگانہ

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا iiفسانہ،

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویل مسائل کو بناتے ہیں iiبہانہ
غلاموں کے لیے
حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے iiاکسیر

دین ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطانی iiہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنا پر iiتعمیر

حرف اس قوم کا بے سوز ، عمل زار و iiزبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا iiضمیر!
اہل مصر سے
خود ابوالہول نے یہ نکتہ سکھایا مجھ iiکو
وہ ابوالہول کہ ہے صاحب اسرار قدیم

دفعتہً جس سے بدل جاتی ہے تقدیر iiامم
ہے وہ قوت کہ حریف اس کی نہیں عقل حکیم

ہر زمانے میں دگر گوں ہے طبیعت اس کی
کبھی شمشیر محمد ہے ، کبھی چوب iiکلیم!
ابی سینیا
(18اگست1935)

یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر
ہے کتنی زہر ناک ابی سینیا کی iiلاش

ہونے کو ہے یہ مردۂ دیرینہ قاش iiقاش!
تہذیب کا کمال شرافت کا ہے iiزوال

غارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش
ہر گرگ کو ہے برہ معصوم کی iiتلاش!

اے وائے آبروئے کلیسا کا iiآئنہ
روما نے کر دیا سر بازار پاش iiپاش

پیر کلیسیا ! یہ حقیقت ہے دلخراش!
جمعیت اقوام مشرق

پانی بھی مسخر ہے ، ہوا بھی ہے iiمسخر
کیا ہو جو نگاہ فلک پیر بدل iiجائے

دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو iiخواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے

طہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
----------------
بھوپال(شیش محل) میں لکھے گئے

سلطانی جاوید
غواص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی
لیکن مجھے اعماق سیاست سے ہے پرہیز

فطرت کو گوارا نہیں سلطانی جاوید
ہر چند کہ یہ شعبدہ بازی ہے دل iiآویز

فرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب iiتک
باقی نہیں دنیا میں ملوکیت iiپرویز
جمہوریت
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا iiفاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں iiکرتے

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں iiکرتے
----------------
استاں دال


یورپ اور سوریا
فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے iiکیا
نبی عفت و غم خواری و کم iiآزاری

صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے
مے و قمار و ہجوم زنان iiبازاری
مسولینی
(اپنےمشرقی.اورمغربی.حریفوں.سے)


کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم!
بے محل بگڑا ہے معصومان یورپ کا iiمزاج

میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے iiکیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار ! تو چھلنی ، میں چھاج

میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو iiتم
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج؟

یہ عجائب شعبدے کس کی ملوکیت کے ہیں
راجدھانی ہے ، مگر باقی نہ راجا ہے نہ iiراج

آل سیزر چوب نے کی آبیاری میں iiرہے
اور تم دنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے iiخراج!

تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے iiخیام
تم نے لوٹی کشت دہقاں ، تم نے لوٹے تخت و تاج

پردۂ تہذیب میں غارت گری ، آدم iiکشی
کل روا رکھی تھی تم نے ، میں روا رکھتا ہوں iiآج
----------------
ــ 22 اگست 1935 ء کو بھوپال (شیش محل) میں لکھے گئے
گلہ
معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب iiتک
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں iiہے

دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا iiمردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں iiہے

جاں بھی گرو غیر ، بدن بھی گرو iiغیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں iiہے

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا iiتو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے ، یورپ سے نہیں ہے
انتداب
کہاں فرشتۂ تہذیب کی ضرورت iiہے
نہیں زمانۂ حاضر کو اس میں iiدشواری

جہاں قمار نہیں ، زن تنک لباس iiنہیں
جہاں حرام بتاتے ہیں شغل مے iiخواری

بدن میں گرچہ ہے اک روح ناشکیب و عمیق
طریقۂ اب و جد سے نہیں ہے iiبیزاری

جسور و زیرک و پردم ہے بچۂ iiبدوی
نہیں ہے فیض مکاتب کا چشمۂ جاری

نظروران فرنگی کا ہے یہی iiفتوی
وہ سرزمیں مدنیت سے ہے ابھی عاری
لادین سیاست
جو بات حق ہو ، وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی
خدا نے مجھ کو دیا ہے دل خبیر و بصیر

مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لا iiدیں
کنیز اہرمن و دوں نہاد و مردہ iiضمیر

ہوئی ہے ترک کلیسا سے حاکمی iiآزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے iiزنجیر

متاع غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اس iiکی
تو ہیں ہراول لشکر کلیسیا کے iiسفیر
دام تہذیب
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے iiخریدار

یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کیے iiافکار

جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا iiدل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدۂ iiدشوار

ترکان 'جفا پیشہ' کے پنجے سے نکل iiکر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں iiگرفتار
نصیحت
اک لرد فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو iiسیر

بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
برے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ iiشیر

سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی iiزیر

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی iiکو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک iiڈھیر
ایک بحری قزاق اور سکندر
سکندر


صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے iiمیری
کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی iiپہنائی


قزاق

سکندر ! حیف ، تو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے
گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی iiرسوائی؟

ترا پیشہ ہے سفاکی ، مرا پیشہ ہے iiسفاکی
کہ ہم قزاق ہیں دونوں ، تو میدانی ، میں iiدریائی
جمعیت اقوام

بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے
ڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل iiجائے

تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے iiولیکن
پیران کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل iiجائے

ممکن ہے کہ یہ داشتۂ پیرک iiافرنگ
ابلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے
شام و فلسطین
رندان فرانسیس کا میخانہ سلامت
پر ہے مۓ گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا

ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر iiحق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب iiکا

مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب iiکا
سیاسی پیشوا
امید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں iiسے
یہ خاک باز ہیں ، رکھتے ہیں خاک سے پیوند

ہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان iiکی
جہاں میں صفت عنکبوت ان کی کمند

خوشا وہ قافلہ ، جس کے امیر کی ہے iiمتاع
تخیل ملکوتی و جذبہ ہائے iiبلند
نفسیات غلامی
سخت باریک ہیں امراض امم کے iiاسباب
کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی

دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ iiروباہی

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ iiمرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی
نفسیات غلامی
(ترکی.وفدہلال.احمرلاہورمیں)


کہا مجاہد ترکی نے مجھ سے بعد iiنماز
طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے iiامام

وہ سادہ مرد مجاہد ، وہ مومن iiآزاد
خبر نہ تھی اسے کیا چیز ہے نماز iiغلام

ہزار کام ہیں مردان حر کو دنیا iiمیں
انھی کے ذوق عمل سے ہیں امتوں کے iiنظام

بدن غلام کا سوز عمل سے ہے iiمحروم
کہ ہے مرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام

طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجب iiہے
ورائے سجدہ غریبوں کو اور کیا ہے iiکام

خدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام
فلسطینی عرب سے
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے iiفارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں iiہے

تری دوا نہ جنیوا میں ہے ، نہ لندن iiمیں
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں iiہے

سنا ہے میں نے ، غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے
مشرق و مغرب
یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و iiتقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظام iiجمہوری

نہ مشرق اس سے بری ہے ، نہ مغرب اس سے بری
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی iiرنجوری
نفسیات حاکمی
(اصلاحات)


یہ مہر ہے بے مہری صیاد کا iiپردہ
آئی نہ مرے کام مری تازہ iiصفیری

رکھنے لگا مرجھائے ہوئے پھول قفس iiمیں
شاید کہ اسیروں کو گوارا ہو iiاسیری



محراب.گل.افغان.کے.افکار
(1)

میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں iiکہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی iiخاک

روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و iiچرغ
لالہ و گل سے تہی ، نغمۂ بلبل سے iiپاک

تیرے خم و پیچ میں میری بہشت بریں
خاک تری عنبریں ، آب ترا تاب iiناک

باز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و iiحمام
حفظ بدن کے لیے روح کو کر دوں iiہلاک!

اے مرے فقر غیور ! فیصلہ تیرا ہے iiکیا
خلعت انگریز یا پیرہن چاک iiچاک!


(2)


حقیقت ازلی ہے رقابت iiاقوام
نگاہ پیر فلک میں نہ میں عزیز ، نہ iiتو

خودی میں ڈوب ، زمانے سے نا امید نہ iiہو
کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمام iiرفو

رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و iiیکتا
اتر گیا جو ترے دل میں 'لاشریک iiلہ'



(3)


تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل iiجائے

تری خودی میں اگر انقلاب ہو iiپیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے

وہی شراب ، وہی ہاے و ہو رہے iiباقی
طریق ساقی و رسم کدو بدل iiجائے

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو iiپوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل iiجائے!



(4)


کیا چرخ کج رو ، کیا مہر ، کیا ماہ
سب راہرو ہیں واماندۂ iiراہ

کڑکا سکندر بجلی کی مانند
تجھ کو خبر ہے اے مرگ iiناگاہ

نادر نے لوٹی دلی کی iiدولت
اک ضرب شمشیر ، افسانۂ iiکوتاہ

افغان باقی ، کہسار باقی
الحکم للہ ! الملک للہ !

حاجت سے مجبور مردان iiآزاد
کرتی ہے حاجت شیروں کو iiروباہ

محرم خودی سے جس دم ہوا فقر
تو بھی شہنشاہ ، میں بھی iiشہنشاہ!

قوموں کی تقدیر وہ مرد iiدرویش
جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ


(5)


یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے iiروارو
اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم iiنو

وہ علم نہیں ، زہر ہے احرار کے حق iiمیں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف iiجو

ناداں ! ادب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہے
اسباب ہنر کے لیے لازم ہے تگ و دو

فطرت کے نوامیس پہ غالب ہے ہنر مند
شام اس کی ہے مانند سحر صاحب iiپرتو

وہ صاحب فن چاہے تو فن کی برکت سے
ٹپکے بدن مہر سے شبنم کی طرح iiضو!


(6)
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب iiایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا iiزمانہ

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی iiکو
کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے iiیگانہ

اس قوم کو تجدید کا پیغام iiمبارک!
ہے جس کے تصور میں فقط بزم iiشبانہ

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ iiتجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ


(7)

رومی بدلے ، شامی بدلے، بدلا iiہندستان
تو بھی اے فرزند کہستاں! اپنی خودی iiپہچان

اپنی خودی iiپہچان
او غافل افغان!

موسم اچھا ، پانی وافر ، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا ، وہ کیسا iiدہقان

اپنی خودی iiپہچان
او غافل افغان!

اونچی جس کی لہر نہیں ہے ، وہ کیسا iiدریا
جس کی ہوائیں تند نہیں ہیں ، وہ کیسا iiطوفان

اپنی خودی iiپہچان
او غافل افغان!

ڈھونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ
اس بندے کی دہقانی پر سلطانی قربان

اپنی خودی iiپہچان
او غافل افغان!

تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی iiلاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان

اپنی خودی iiپہچان
او غافل افغان!



(8)


زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے iiپر
شپرک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہنر

لیکن اے شہباز! یہ مرغان صحرا کے iiاچھوت
ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر

ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و iiمقام
روح ہے جس کی دم پرواز سر تا پا نظر!



(9)


عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل iiہوس
پر شہباز سے ممکن نہیں پرواز iiمگس

یوں بھی دستور گلستاں کو بدل سکتے iiہیں
کہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثل iiقفس

سفر آمادہ نہیں منتظر بانگ iiرحیل
ہے کہاں قافلۂ موج کو پروائے iiجرس!

گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا iiہے
مردہ ہے ، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے iiنفس

پرورش دل کی اگر مد نظر ہے تجھ iiکو
مرد مومن کی نگاہ غلط انداز ہے iiبس!


(10)


وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاری

اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ iiکر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال iiتاتاری

عجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ iiسوز
کہ نیستاں کے لیے بس ہے ایک چنگاری

خدا نے اس کو دیا ہے شکوہ iiسلطانی
کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و iiکراری

نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی iiکو
یہ بے کلاہ ہے سرمایۂ کلہ iiداری


(11)


جس کے پرتو سے منور رہی تیری شب iiدوش
پھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغ iiخاموش

مرد بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا iiگلہ
بندۂ حر کے لیے نشتر تقدیر ہے iiنوش

نہیں ہنگامہ پیکار کے لائق وہ iiجواں
جو ہوا نالۂ مرغان سحر سے iiمدہوش

مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت iiتیری
اور عیار ہیں یورپ کے شکر پارہ iiفروش!



(12)


لا دینی و لاطینی ، کس پیچ میں الجھا iiتو
دارو ہے ضعیفوں کا 'لاغالب الا iiھو'

صیاد معانی کو یورپ سے ہے iiنومیدی
دلکش ہے فضا ، لیکن بے نافہ تمام iiآہو

بے اشک سحر گاہی تقویم خودی iiمشکل
یہ لالۂ پیکانی خوشتر ہے کنار iiجو

صیاد ہے کافر کا ، نخچیر ہے مومن iiکا
یہ دیر کہن یعنی بتخانۂ رنگ و بو

اے شیخ ، امیروں کو مسجد سے نکلوا iiدے
ہے ان کی نمازوں سے محراب ترش iiابرو


(13)


مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے iiدگرگوں
معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر iiکیا

ہر سینے میں اک صبح قیامت ہے iiنمودار
افکار جوانوں کے ہوئے زیر و زبر کیا

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی iiتلافی
اے پیر حرم تیری مناجات سحر iiکیا

ممکن نہیں تخلیق خودی خانقہوں iiسے
اس شعلۂ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر iiکیا!



(14)


بے جرأت رندانہ ہر عشق ہے iiروباہی
بازو ہے قوی جس کا ، وہ عشق ید iiاللہی

جو سختی منزل کو سامان سفر iiسمجھے
اے وائے تن آسانی ! ناپید ہے وہ iiراہی

وحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک iiمیدانی!
کہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہی

دنیا ہے روایاتی ، عقبی ہے iiمناجاتی
در باز دو عالم را ، این است iiشہنشاہی!



(15)


آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے iiشاہد
مشکل نہیں اے سالک رہ ! علم iiفقیری

فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے iiلائق
پیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں iiحریری

خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہر iiالہی
ہو صاحب غیرت تو ہے تمہید iiامیری

افرنگ ز خود بے خبرت کرد iiوگرنہ
اے بندۂ مومن ! تو بشیری ، تو iiنذیری!



(16)


قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے iiجدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے ، خدائی!

جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ iiمند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے iiگدائی

اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے iiمیسر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے iiرائی

در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں iiیافت
اے بندۂ مومن تو کجائی ، تو iiکجائی

خورشید ! سرا پردۂ مشرق سے نکل iiکر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی


(17)


آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحب iiیقیں

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی
وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے iiنگیں

تو اپنی سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
خالی رکھی ہے خامۂ حق نے تری iiجبیں

یہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں
ہمت ہو پر کشا تو حقیقت میں کچھ iiنہیں

بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا iiآسماں
زیر پر آگیا تو یہی آسماں ، iiزمیں!


(18)


یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری iiنے
کہ امتیاز قبائل تمام تر iiخواری

عزیز ہے انھیں نام وزیری و iiمحسود
ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں iiعاری

ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی
کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا iiزناری

وہی حرم ہے ، وہی اعتبار لات و iiمنات
خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت iiکاری!



(19)


نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد iiپہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ iiنہیں

فرنگ سے بہت آگے ہے منزل iiمومن
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ iiنہیں

کھلے ہیں سب کے لیے غریبوں کے iiمیخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ iiنہیں

اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے iiتری
ترے بدن میں اگر سوز 'لا الہ' iiنہیں

سنیں گے میری صدا خانزاد گان iiکبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ iiنہیں!


(20)


فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے iiنگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مرد iiکہستانی

دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر iiکا
ہے اس کی فقیری میں سرمایۂ iiسلطانی

یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی ، شہباز iiبیابانی!

اے شیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا ، iiلیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی

صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں