منگل، 16 نومبر، 2010

عبدالحمید عدم
تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین


دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق
کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین


وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند
درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ iiحسین


کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے iiکے
نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ iiحسین


وفا سرشت بہتّر نفوس کی iiٹولی
گئی تھی جوڑنے تاریخِ زر نگارِ حسین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں