جمعرات، 18 نومبر، 2010

دعا
اے خالقِ کل سامنے اک بندہ ترا ہے
تو کر دے عطا تجھ سے یہ کچھ مانگ رہا iiہے

تو مالک و معبود بھی مسجود بھی تو iiہے
میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں سب تجھ کو پتا ہے

احباب مرے کتنے ترے پاس گئے iiہیں
تو بخش دے ان سب کی خطائیں یہ دعا iiہے

ہم مانتے ہیں حد سے بھی بڑھ کر ہیں iiگنہگار
تو پاک ہے کر معاف ہوئی جو بھی خطا iiہے

تو پاک ہے ہر عیب سے اے مالک و iiمولا
بندہ ترا ہر عیب کی حد سے بھی بڑھا iiہے

سرکارِ دو عالم کی میں امت سے ہوں iiمولا
میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں تو دیکھ رہا iiہے

مالک مرے تو سیدھا عطا کر مجھے iiرستہ
وہ رستہ کہ جس پر ترا اکرام ہوا iiہے

میں اور میری اولاد ہو اسلام کی iiداعی
اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی یہ دعا ہے

سرکار دو عالم کی عطا کر مجھے iiالفت
وہ کام کریں جس کے لیے تو نے کہا iiہے

اسلام کی دولت سے منور مجھے کرنا
ہر وقت یہ ہر لمحہ مری تجھ سے دعا iiہے

محروم ہیں جو ان کو بھی صالح ملے iiاولاد
اولاد ہو نیک ان کی کرم جن پہ ترا iiہے

مقروض ہیں بے کار ہیں معذور ہیں جو iiبھی
ان پر بھی کرم کر دے کہ تو سب کا خدا iiہے

یا رب مرے اس ملک میں نافذ ہو iiشریعت
ہر صاحب ایمان کی یہ تجھ سے دعا iiہے

یا رب ہمیں اسلام کا وہ داعی بنا iiدے
جس میں ترے محبوب کی اور تیری رضا iiہے

یا رب مجھے شیطان کے ہر شر سے بچانا
تو ظاہر و باطن کو مرے دیکھ رہا iiہے

ہم سے بھی وہی کام لے اے مالک و مولا
جو کام ترے نبیوں نے ولیوں نے کیا iiہے

ہم چاہنے والے ترے محبوب کے iiمولا!
وہ بھی ہو عطا جس کا نہیں ہم نے کہا iiہے

جو بیٹیاں بیٹھی ہیں جواں رشتوں کی iiخاطر
تو نیک سبب کر کہ تو ان کا بھی خدا iiہے

غافل ہیں ہدایت سے تری جو بھی iiمسلماں
تو ان کو ہدایت دے کہ تو راہ نما iiہے

مظلوم جہاں پر بھی مسلمان ہیں iiمولا
ان پر بھی کرم ہو کہ یہ دل ان سے جڑا iiہے

سرکار کے صدقے میں نہ رد ہوں یہ iiدعائیں
ہر شخص کا تو دستِ طلب دیکھ رہا ہے

اے مالک و مولا ہو دعا آس کی iiمقبول
یہ بھی ترے محبوب کا اک مدح سرا iiہے
آمین یا رب العالمین
سلام
شانِ محبوبِ وحدت پہ لاکھوں سلام
نازِ ختم رسالت پہ لاکھوں iiسلام

تاجدارِ نبوت پہ لاکھوں iiسلام
عدل، تقویٰ، صداقت پہ لاکھوں iiسلام

یا نبی(ص) تیری سیرت پہ لاکھوں iiسلام



ہر طرف تیرے انوار سے iiچاندنی
ہر طرف تیرے کردار سے iiروشنی

ہر طرف تیری گفتار سے دل iiکشی
ہر طرف تیری سرکار سے زندگی

تیری پر نور صورت پہ لاکھوں iiسلام



ہر سحر میں ترے اسم سے iiرونقیں
ہر نظر میں ترے اسم سے iiرفعتیں

ہر زباں پر ترے اسم سے iiلذتیں
ہر بدن میں ترے اسم سے نکہتیں

اسم اقدس کی حرمت پہ لاکھوں iiسلام



تیرے اعجاز کیا کیا کروں میں iiبیاں
تیری مٹھی نے دی کنکروں کو iiزباں

تیری تحریم سے ہے زمیں، iiآسماں
تیری تجسیم ہے باعثِ دو iiجہاں

تیری عظمت پہ رفعت پہ لاکھوں iiسلام



سب رسولوں نے کی ہے تیری آرزو
دشمنوں نے بھی کی ہے تیری iiجستجو

تجھ سے دونوں جہانوں میں ہے رنگ و بو
میرا بھی آسمانِ محبت ہے تو

تیری رحمت پہ رافت پہ لاکھوں iiسلام



تو ہی بحرِ کرم دستِ جود و iiسخا
کوئی ثانی ترا ہے نہ سایہ iiترا

اس نے پایا خدا جس کو تو مل iiگیا
لائقِ وصف ہے تو ہی بعد از iiخدا

تیری عظمت پہ رفعت پہ پہ لاکھوں iiسلام



اے حبیبِ خدا خاتمِ iiمرسلاں
اتنی بے انتہا ہیں تری خوبیاں

کر سکا ہے بیاں کوئی اب تک iiکہاں
اک نظر آس پر، کر سکے کچھ iiبیاں

تیری چشمِ عنایت پہ لاکھوں iiسلام
نعتیں
عشق بس عشق مصطفےٰ مانگوں
عشق س عشق مصطفےٰ iiمانگوں
اور تجھ سے نہ کچھ خدا iiمانگوں

اس دعا سے ڑی دعا کیا iiہے
اس سے ڑھ کر میں کیا دعا iiمانگوں

میرے سوزِ جگر کے چارہ iiرساں!
تجھ سے ہر زخم کی دوا iiمانگوں

زندگی مجھ کو خشنے والے ii!
زندگی کا میں مدعا iiمانگوں

اپنے آپے سے ہو کے اہر iiآج
تجھ سے میں تیرا دل را مانگوں

لوگ کہتے ہیں جن کو ے iiسایہ
ان کے سائے کا آسرا iiمانگوں

جاں ھی جائے تو آس دے کر میں
ان کے کوچے کی خاک پا iiمانگوں


پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا


پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے iiرکھنا
اپنی ہر سانس کو خوشو میں سائے iiرکھنا

ان کے ارشاد دل و جاں سے مقدم iiرکھنا
ان کی سیرت پہ سدا سر کو جھکائے iiرکھنا

جانے کس پہر دے پاؤں وہ اتریں دل iiمیں
اشک پلکوں پہ سرِ شام سجائے iiرکھنا

چاہتے ہو تمہیں آقا کی غلامی مل iiجائے
فصل سینے میں محت کی اگائے iiرکھنا

روشنی اتنی ہے منزل ھی دھواں لگتی iiہے
آپ رہر ہیں مجھے راہ دکھائے iiرکھنا

آرزو ہے! مرا خطہ یونہی آاد iiرہے
ار رحمت کے سدا اس پر جھکائے iiرکھنا

آس ہو جائے گی آقا کی زیارت ھی iiنصی
ان کی راہوں میں نگاہوں کو چھائے رکھنا



زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن


زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں iiروشن
ظہورِ مصطفےٰ سے ہو گئے دونوں جہاں iiروشن

گئی جن راستوں سے تھی سواری کملی والے iiکی
انہی رستوں کا ا تک ہے غار کارواں iiروشن

نصیوں پر میں اپنے ناز جتنا ھی کروں کم iiہے
ہر اک سینے میں ہوتا ہے تمہارا غم، کہاں روشن؟

ستاروں سے پرے کے ھی مناظر دیکھ لیتی iiہیں
جن آنکھوں میں نی کے پیار کی ہیں جلیاں روشن

خدا سے آشنائی کا کسے معلوم تھا iiرستہ
وہ آئے تو ہوئے ہیں راستوں کے س نشاں iiروشن

خدا نے خش دی ج سے سعادت نعت گوئی iiکی
ہوئیں اس دن سے میرے دل کی ساری ستیاں روشن

مقدر کے اندھیرے آس اس کا کیا گاڑیں iiگے
ہے جس کے پاس یادِ مصطفےٰ کی کہکشاں iiروشن





فضا میں خوشبو بکھر گئی ہے لبوں پہ میرے سلام آیا


فضا میں خوشو کھر گئی ہے لوں پہ میرے سلام iiآیا
مناؤ خوشیاں زمین والو! فلک سے خیر الانام آیا

تمام راہیں ہوئیں وہ روشن جہاں سیرے تھے تیرگی iiکے
جھکے ہیں کیا کیا اٹھے ہوئے سر یہ کون ذی احترام iiآیا

جو زم ہو شاہِ دوسرا کی وہاں اد کا لحاظ iiرکھنا
لند اپنی صدا نہ کرنا کلامِ حق میں پیام iiآیا

نہ کوئی پانی پہ قتل ہوگا نہ کوئی زندہ گڑے گی iiیٹی
جہالتوں کو مٹانے والا شفیق ہر خاص و عام iiآیا

درود کی ڈالیاں اترنے لگی ہیں مکہ کی وادیوں iiمیں
لاسِ خاکی میں نورِ یزداں مثالِ ماہِ تمام iiآیا

ولی ولی کی نی نی کی وہ پیاس ھی ہے وہ آس ھی ہے
ولی ولی کا قرار آیا نی نی کا امام iiآیا
حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے



حقیقت میں وہی ذکرِ خدا iiہے
کہ جس کے ساتھ یادِ مصطفےٰ iiہے

مدینے جا نہیں سکتا تو کیا iiغم
مرے دل میں مدینہ س رہا iiہے

نظر جس پہ شہِ کونین کی iiہو
دیا وہ ک کسی سے جھ سکا iiہے

نگاہوں میں ستارے iiجھلملائے
نی(ص) کا تذکرہ ج چھڑ گیا ہے

مٹائے گا اسے کیسے زمانہ
نی کے نام پر جو مر مٹا iiہے

وہ رستے سجدہ گاہِ دل نے ہیں
نی کا نقش پا جن پر پڑا iiہے

کھی اپنی محت کم نہ iiکرنا
یہ میری آس ، میرا مدعا iiہے




چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی


چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی
ادشاہوں میں وری نشینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

کون سی آنکھ میں آپ کا غم نہیں کس کا سر آپ کے سامنے خم iiنہیں
دل سمندر کے پنہاں خزینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی

مثل قرآن ہے آپ کی زندگی جزو ایمان ہے آپ کی iiپیروی
صادقوں غازیوں اور امینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی

آپ لطف و عنایت کی معراج ہیں غمزدوں ے سہاروں کے سرتاج iiہیں
چاہتوں کے مقدس قرینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی

نور ہر اک نظر کو ملا آپ سے گلشن زندگانی کھلا آپ iiسے
میرے احساس کے آگینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

جن کی کرتا ہے مدحت خدا ہر گھڑی ان کی عظمت میں کیا ہو سکے گی iiکمی
س کے ہونٹوں پہ ھی س کے سینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی

جو قلم آپ کے پیار میں جھک گئے ان کی تحریر پر وقت ھی رک iiگئے
آس ایسے قلم کی جینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی iiروشنی




جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں



جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا iiنہیں
ایسا تو کائنات میں پھول کہیں کھلا iiنہیں

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا کا نام لے
ان کی گلی کا راستہ کعہ سے تو جدا نہیں

دامن ہی جس کا تنگ ہو اس کا گلہ فضول iiہے
ورنہ درِ رسول سے کس کو سوا ملا نہیں

سینے میں ان کی یاد ہو آنکھوں میں ان کی iiروشنی
اِس آرزو کے عد تو کوئی ھی التجا نہیں

ھیجے خدا نے ان گنت زم جہاں میں iiانیاء
لیکن مرے حضور(ص) سا کوئی ھی دوسرا iiنہیں

اپنے کرم کی ھیک سے مجھ کو ھی سرفراز iiکر
تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا iiنہیں

یوں تو کھلے تھے آس کے سینے میں پھول iiسینکڑوں
آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں





رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی


رات ھر چاندنی رقص کرتی رہی رات ھر آنکھ موتی لٹاتی iiرہی
رات ھر دل کی دنیا مہکتی رہی رات ھر یاد آقا کی آتی iiرہی

ہر طرف نور ہی نور تھا جلوہ گر میں تو اپنی خر سے ھی تھا ے iiخر
کتنا مسحور تھا ش کا پچھلا پہر صح تک رات جادو جگاتی رہی

میرے دامن میں تارے اترتے رہے زندگی میں مری رنگ ھرتے iiرہے
عکس کیا کیا جنوں کے نکھرتے رہے نعت ج تک زاں گنگناتی iiرہی

کتنی الجھی ہوئی تھی مری زندگی کر رہی تھی تعاق میرا تیرگی
آپ کے پیار کی ج پڑی روشنی ہر خوشی میرے قدموں میں آتی iiرہی

آس کتنی ہوئی ان کی چشم کرم ج کھی ڈگمگائے ہیں میرے قدم
رکھ لیا میرے آقا نے میرا ھرم راستہ خود ہی منزل دکھاتی رہی





حل ہے ہر اک مشکل کا


حل ہے ہر اک مشکل iiکا
یاد نی اور ذکر iiخدا

صرف مری ہی ات iiنہیں
دنیا نے تسلیم کیا ii!

اے ھولے ھالے انساں
جس کا کھا اس کے گن گا

دل ہے تیرا گر iiتاریک
ذکر خدا کا دیپ iiجلا

روح تیری گر سونی iiہے
صل علیٰ کو ورد iiنا

صرف نہیں میرا iiدعویٰ
ولی پیمر س نے iiکہا

جس نے اطاعت کی ان iiکی
آس امر وہ شخص iiہوا

زندگی کا ہراک ہے سلسلہ مدینے سے


زندگی کا ہر اک ہے سلسلہ مدینے سے
دھڑکنوں کا سانسوں کا راطہ مدینے iiسے

تم نے کچھ نہ پایا ہو تو تمہاری قسمت ہے
ہم کو تو ملا ر کا ھی پتا مدینے iiسے

ارمغاں جو ملتے ہیں خاص خاص ندوں iiکو
ان سھی کا ہوتا ہے فیصلہ مدینے سے

ہم کو اپنی ہستی سے ھی عزیز تر ہے iiوہ
دور سے ھی ہے جس کا واسطہ مدینے iiسے

ظلمتِ زمانہ کو جس نے پاش کر ڈالا
مرحا وہی پایا رہنما مدینے سے

ان کی مہرانی سے ار ہا ہوا یوں iiھی
چل دیا مدینے کو آگیا مدینے iiسے

جن حسین سوچوں سے زندگی مہکتی iiہے
آس ان کا ہو تا ہے راطہ مدینے iiسے





وصف سرکار کے بیاں کیجئے


وصف سرکار کے یاں iiکیجئے
اپنی تحریر جاوداں iiکیجئے

مشعلیں جھلملائیں آنکھوں iiکی
مدحتِ شاہِ مرسلاں کیجئے

ھیج کر ان پہ ار ار iiدرود
اپنے سینے کو ضو فشاں iiکیجئے

ج ھی مرجھائیں پھول ہونٹوں iiکے
۔"نام نامی کو حرزِ جاں iiکیجئے"

انکے صدقے میں کیا نہیں ملتا
ڈھنگ سے مدعا یاں iiکیجئے

ان کی رحمت وہاں وہاں iiہوگی
یاد ان کو جہاں جہاں iiکیجئے

ڈو کر آس ان کی الفت iiمیں
ذہن کو حر یکراں کیجئے





تیرا ذکر صبح کا نور ہے تیری یاد رات کی چاندنی

تیرا ذکر صح کا نور ہے تیری یاد رات کی iiچاندنی
تیری نعت اے شہ دوسرا دل یقرار کی iiراگنی

مجھے تیری یاد سے واسطہ تیرا پیار ہے میرا iiراستہ
تیرا نام میری اساس ہے تیرا تذکرہ مری iiندگی

میں تو داس ہوں تیرے نام کا میں غلام تیرے غلام کا
مری ات ات کا حسن تو میرا ناز ہے تیری iiشاعری

جو نی کو میرے قول ہوں وہی کاش میرے اصول iiہوں
وہی صر ہو وہی گفتگو وہی عاجزی وہی iiسادگی

مری آس ھی تیری آس ہو میرا شوق ھی تیرا شوق iiہو
میں نفس نفس میں لا شہ کروں تیری ذات کی iiپیروی






اے شہ عرب شہ انبیاء تیری سب صفات میں چاندنی


اے شہ عر شہ انیاء تیری س صفات میں iiچاندنی
تو خدا کا پیار ا رسول ہے تیری ات ات میں iiچاندنی

تیرا پیار جس کا نصی ہے وہ خدا کے کتنا قری iiہے
وہ جہاں کہیں ھی چلا گیا رہی اسکی گھات میں iiچاندنی

تیری یاد کا جو گزرا ہوا میرا دل ھی رشک قمر iiہوا
تیری یاد ہی کا ہے معجزہ کھلی مری ذات میں چاندنی

مرے دل کے دشت میں ہر گھڑی تیرا ذکر ہے تیرا فکر iiہے
تیرے ذکروفکر نے کی عطا مجھے مشکلات میں چاندنی

جو کھی ھی آس نہ ڈھل سکے جو نہ تیرگی میں دل سکے
در مصطفےٰ کے سوا کہیں وہ نہ آئے ہات میں iiچاندنی




نظر میں گنبد خضرا بسا کے لے آنا

نظر میں گند خضرا سا کے لے iiآنا
درِ رسول کی یادیں سجا کے لے iiآنا

جو مل سکے نہ تمہیں دو جہاں کی وسعت iiسے
وہ حاجیو! مرے آقا سے جا کے لے iiآنا

جہاں جہاں پہ تمہاری نظر کرے iiسجدے
وہاں وہاں کے مناظر سما کے لے iiآنا

میرا سلام ھی جا کر حضور سے iiکہنا
جو ا جو ملے اسکو چھپا کے لے iiآنا

تمہارے ہاتھ جو طیہ کی خاک لگ iiجائے
اسے ہر ایک نظر سے چا کے لے iiآنا

یہاں میں نعت کہوں اور وہاں سنی iiجائے
مرے نصی میں ایسا لکھا کے لے iiآنا

تڑپ میں ان کی ہے مسرور زندگی iiکتنی
ذرا سی اور تڑپ آس جا کے لے iiآنا





یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں



یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے ر کی جان سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں
یہ جو میرے کپڑے ہیں جو چھنی ہے ی ی سے اس ردا کا صدقہ iiہیں

یہ جو میرے آنسو ہیں شام کے شہیدوں کی ہر دعا کا صدقہ iiہیں
ہونٹ اور زاں میری کرلا کے پیاسوں کی التجا کا صدقہ iiہیں

یہ جو دست و ازو ہیں مرتضیٰ کے یٹے کی ہر وفا کا صدقہ iiہیں
یہ جو میرے چے ہیں اصغر و علی اکر کی صدا کا صدقہ iiہیں

پھول چاند تاروں میں دلنشیں نظاروں میں روپ یوں نہیں آیا
ر کے خاص ندوں کی لاڈلے رسولوں کی س ضیا کا صدقہ iiہیں

آس نعمتیں ر کی، میرے ر کی جان سے جو جہاں میں اتری iiہیں
میں نے تو یہ جانا ہے پنج تنی گھرانے کی س سخا کا صدقہ iiہیں





یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے


یہ لوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی ے کلی iiہے
ترے پیار کی دولت مجھے میرے ر نے دی iiہے

تیری یاد کے تصدق تیرے پیار کے میں قراں
تیری ندہ پروری سے مری آنکھ شنمی iiہے

مہہ و مہر کو ھی اتنی نہ ہوئی نصی iiشاید
جو تیری ضیا سے ہر سو مرے چاندنی کھلی iiہے

تیرا نام لے کے سونا تجھے یاد کر کے iiرونا
یہی مری زندگی ہے یہی مری ندگی iiہے

تیری نعت کے کرم نے اسے معتر کیا iiہے
کہاں آس ہے وگرنہ کہاں اس کی شاعری iiہے





ملے جس سے قلب کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے


ملے جس سے قل کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول iiہے
نہیں جس میں یاد حضور(ص) کی وہ تمام عمر فضول iiہے

تجھے دل میں جس نے سا لیا تجھے جس نے اپنا نا iiلیا
یہ جہان اس کی نگاہ میں فقط اک سرا ہے دھول iiہے

جو ترا ہوا وہ مرا ہوا جو ترا نہیں وہ مرا iiنہیں
یہ کلام حق کا ہے فیصلہ یہ خدا کا واضح اصول iiہے

تری رفعتیں کروں کیا یاں ترے معترف سھی انس و iiجاں
ترا تذکرہ ہے جہاں جہاں وہاں رحمتوں کا نزول iiہے

کھی اس کا رنگ نہ اڑ سکا کھی اس کی اس نہ کم iiہوئی
مری شاعری کی جین پر جو تمہاری نعت کا پھول iiہے

اسے تخت و تاج سے کیا عرض اسے مال و زر سے ہے کام iiکیا
جو پڑا ہے طیہ کی خاک پر جو گدائے کوئے رسول iiہے

وہی شمعِ محفلِ کن فکاں وہی دو جہانوں کا ناز iiہے
جہاں کوئی آس نہ جا سکا وہاں ان کے قدموں کی دھول iiہے

ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا iiنام
گلشن گلشن ، صحرا صحرا ، مہکا مہکا ، آپ کا iiنام

پرت پرت ، ادل ادل ، رکھا رکھا، آپ کا iiنام
جنگل جنگل، وادی وادی، قصہ قصہ، آپ کا iiنام

تپتی زمیں پر رسی رحمت قیصر و کسریٰ خاک iiہوئے
ملک عر میں جس دن اترا اجلا اجلا آپ کا iiنام

کنکر کنکر کی دھڑکن سے سدرہ کی معراج iiتلک
سینہ سینہ، محفل محفل، جلوہ جلوہ، آپ کا iiنام

آپ کی اتیں پیاری پیاری ماشاء اللہ سحان iiاللہ
قطرہ قطرہ، چشمہ چشمہ، دریا دریا، آپ کا iiنام

نام خدا کے ساتھ ہے شامل لوح فلک سے ارض تلک
آنگن آنگن ، گوشہ گوشہ ، قریہ قریہ ، آپ کا iiنام

جھلمل جھلمل تارے چمکے میری آس کی جھیلوں پر
من کے اندر ج ج مہکا پیارا پیارا آپ کا نام





جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے

ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذات iiمیں
آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے

ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ iiہوا
دھڑکنیں مل گئیں میرے افکار کو سنگ کے درمیاں پھول کھلنے iiلگے

آپ آئے تو تہذی روشن ہوئی اور تمدن میں اک انقلا آگیا
آدمیت کو انسانیت مل گئی گلستاں گلستاں پھول کھلنے لگے

آس تاریکیوں میں ھٹکتا رہا، شکر صد شکر اے دامن iiمصطفےٰ!
تو ملا تو قلم کو ملی روشنی اس کی زیر زاں پھول کھلنے لگے




ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے

ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے
سوزِ عشق نی میری میراث ہو کاش زندہ رہوں میں اسی کے iiلیے

ان کے در سے مجھے سرفرازی ملے مال و اسا سے ے نیازی iiملے
میں جیوں تو جیوں س انہی کے لیے میں مروں تو مروں س انہی کے لیے

رشک کرتا رہے مجھ پہ سارا جہاں مجھ سے مانگیں پنہ وقت کی iiآندھیاں
میں غلامِ غلامانِ احمد (ص) رہوں اس سے ڑھ کر ہے کیا آد می کے iiلیے

کاش یوں ہی مرے دل کا موسم رہے میری آنکھوں کی ارش کھی نہ iiتھمے
زندگی میں وہ پل ھی نہ آئے کھی میں انھیں ھول جاؤں کسی کے لیے

ذات والا کا ہے مجھ پہ کتنا کرم میں کہاں اور کہاں مدحِ شاہِ iiامم
شکر تیر ا مجھے دورِ ے مہر میں ! چن لیا تو نے نعتِ نی کے iiلیے

دونوں عالم کو تخلیق ر نے کیا ان کی پہچان کا ہے یہ س iiسلسلہ
صرف مقصود ہوتی اگر ندگی کم ملائک نہ تھے ندگی کے iiلیے

رنگ و و مجھ سے کرنے لگے گفتگو اک اجالا سا رہنے لگا چار iiسو
آس ج سے کیا ذہن کو ا وضو میں نے سرکار کی شاعری کے iiلیے





ترا تذکرہ مری بندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں

ترا تذکرہ مری ندگی ترا نامِ نامی قرارِ iiجاں
اے حی ر اے شہِ عر ترا پیار ہے میرا آسماں

تری ذاتِ پاک کے فیض سے سھی کائنات میں رنگ iiہے
تری شان زینتِ زندگی تیرا ذکر رونقِ دو iiجہاں

مرے دل میں ایک خدا رہا تو ملا تو کفر ہوا iiہوا
تری ذاتِ پاک کے معجزے میں کہاں کہاں نہ کروں یاں

کڑی دھوپ کا یہ کٹھن سفر مجھے جاں و دل سے عزیز تر
تری یاد جس میں ہے ہم سفر ترا ذکر جس میں ہے سائاں

جو ملا وہ تیرے س ملا، جسے تو ملا اسے ر ملا
سھی فیصلوں پہ تو مہر ہے ترے در کے عد ہے در iiکہاں

مرا دل دلوں کا ہے ادشہ کہ ملی اسے دولتِ iiثنا
وہ نصی کا ہے غری دل تیری یاد جس میں نہیں iiنہاں

تیری نعت پاک کے پھول جو مری چشمِ تر سے ہیں iiشنمی
یہ ترے ہی پیار کے رنگ ہیں مری آس، مان کے iiترجماں




وجہہ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو


نازِ کریا ہے تو فخر انیاء ہے iiتو
وجہِ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے iiتو

ے وفا زمانے کو تو نے الفتیں iiانٹیں
کوئی ھی نہ تھا جس کا اس کا آسرا ہے iiتو

روشنی ترا پرتو چاندنی ترا iiدہوون
کیا مثال دوں تیری کیا نہیں ہے کیا ہے iiتو

قدر والی ش میں جو میں نے ر سے مانگی iiتھی
کپکپا تے ہونٹوں سے وہ مری دعا ہے iiتو

زندگی تری اندی وقت ہے ترا iiخادم
جو ھی ہے زمانے میں اس کا مدعا ہے iiتو

تذکرے ترے سن کر ان کے کھل اٹھیں iiچہرے
جن کی لو لگی تجھ سے جن کا دل را ہے تو

چاندنی ، شفق ، شنم ، کہکشاں ، صا ، iiخوشو
آس کیا لکھے تجھ کو س سے ماورا ہے تو





مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

مدینے کی فضاؤں میں کھر جائیں تو اچھا iiہو
ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا iiہو


نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے iiکا
جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا iiہو


مری نم ناک آنکھوں کا یہی ا تو تقاضہ iiہے
تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا iiہو


جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی iiہیں
وہ اوروں کے دلوں میں ھی اتر جائیں تو اچھا iiہو


جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمد(ص) iiسے
رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا iiہو


نامِ مصطفےٰ ہو امن یا ر پھر کراچی میں
مرے کشمیر کے ھی دن سدھر جائیں تو اچھا iiہو


میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا iiہوں
وہ جذے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو


وہاں کیسی محت دل جہاں سجدوں سے قاصر iiہو
جینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا iiہو


خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی !!
نی کی نعت سے ہم ھی سنور جائیں تو اچھا iiہو


اسی ہی آس میں رہتی ہیں اکثر منتظر iiآنکھیں
لاوا آئے، ہم ا چشمِ تر جائیں تو اچھا iiہو
سوادِعشق نبی کیا کمال ہوتا ہے
سوادِ عشق نی کیا کمال ہوتا iiہے
دیارِ روح میں حسن و جمال ہوتا ہے

جو اس چراغ کا پروانہ ن کے رہ جائے
اسے نہ کھال نہ جاں کا خیال ہوتا iiہے

سخاوتوں کے خزانے نثار ہوتے iiہیں
عقیدتوں کا سفر لازوال ہوتا iiہے

پھر ایک ار زیارت سے جاں مشرف ہو
لوں پہ شام و سحر یہ سوال ہوتا iiہے

تمام وقت کے حاکم اسے سلام کریں
تمہاری راہ میں جو پائمال ہوتا iiہے

گزر کے اس کی محت کے امتحانوں iiسے
کوئی حسین (ع) تو کوئی لال ہوتا iiہے

نی کا ہو کے جسے آس موت آ iiجائے
وہ شخص مرتا نہیں لازوال ہوتا iiہے




لوں نام نبی قلب ٹھہرجائے ادب سے

لوں نام نی قل ٹھہر جائے اد iiسے
صد شکر یہ اعزاز ملا ہے مجھے ر سے

دنیا ہی دل دی ہے مرے ذوق نے iiمیری
میں صاح کردار ہوا تیرے س سے

اے سرورِ کونین تیرے در کے iiتصدق
ملتا ہے یہاں س کو سوا اپنی طل iiسے

احسان ترا کیسے ھلا دوں شہِ iiوالا
پہچان ہوئی ر کی ہمیں تیرے س iiسے

مشکل کوئی مشکل نہیں ٹھہری مرے iiآگے
مدحت شہِ لولاک کی ہاتھ آئی ہے ج iiسے

اے خالقِ کونین دعا ہے مری تجھ iiسے
ٹوٹے نہ کھی راطہ اس عالی نس iiسے

کرتا نہیں دنیا میں اصولوں کا وہ سودا
ہے آس محت جسے سلطانِ عر iiسے




نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

نی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی iiہے
گلوں میں کلیوں میں رنگ و نگہت ہے چاند تاروں میں روشنی iiہے

جو آپ آتے نہ اس جہاں میں وجودِ کونین ھی نہ ہوتا
س آپ کے دم قدم سے آقا جہاں کی محفل سجی ہوئی iiہے

ہوا ہے ظلمت کا چاک سینہ گرے ہیں جھوٹے خدا زمیں iiپر
کرن نوت کی پھوٹتے ہی جہاں کی قسمت دل گئی ہے

کمالِ اہلِ ہنر سے اعلیٰ خیال اہلِ نظر سے iiالا
مثال جس کی کہیں نہیں وہ جمال حسنِ محمدی ہے

شیر ھی ہیں نذیر ھی ہیں سراج ھی ہیں منیر ھی iiہیں
رؤف ھی ہیں رحیم ھی ہیں انہی کی دو جگ میں سروری iiہے

کہیں پہ یٰسین کہیں پہ طہٰ کلام حق ہے ترا iiقصیدہ
تری ہر اک ات حکم ری خدا کا تو لاڈلا نی ہے

خدا سے جو مانگنا ہے مانگو ہے آس ہر سو عطا کی iiارش
خدا نہ ٹالے گا ات کوئی کہ آج میلاد کی گھڑی iiہے





دیوانہ وار مانگیے رب سے اٹھا کے ہاتھ

دیوانہ وار مانگیے ر سے اٹھا کے iiہاتھ
آئیں گے پھول نعت کے تم تک صا کے ہا iiتھ

لکھنے سے پہلے نعت کے آنکھیں ہوں ا iiوضو
آئیں گے ت ہی غی سے گوہر ثنا کے ، ہا iiتھ

نتی نہیں ہے ات عطا کے نا iiکھی
آتا نہیں ہے کچھ ھی سوائے عطا کے ہا iiتھ

اک چشم التفات ادھر ھی ذرا iiحضور(ص)
امت کی سمت ڑھ گئے مکر و ریا کے ہا iiتھ

الفت ملی ہے آپ کی س کچھ عطا iiہوا
ا کیا کمی رہی جو اٹھائیں دعا کے ہا iiتھ

سیلا عشقِ شافعِ محشر ہے میرے iiگرد
"دیکھے تو مجھ کو نار جہنم لگا کے iiہاتھ"

وہ فیصلے خدا کی رضا آس ن iiگئے
جن فیصلوں کے حق میں اٹھے مصطفےٰ کے ہا iiتھ





فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں iiگے
تیری مدحت کے چرچے پھر ھی آقا کم نہیں ہوں iiگے

ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا
تیری توصیف ت ھی ہو گی ج آدم نہیں ہوں iiگے

توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی iiکے
وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے

کروڑوں وصف تیرے لکھ گئے اور لکھ رہے ھی iiہیں
کروڑوں اور لکھیں گے مگر یہ کم نہیں ہوں iiگے

خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا iiہے
وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے

کریں گے کس طرح سے سامنا وہ روز محشر iiکا
تاؤ آس جن کے سرورِ عالم نہیں ہوں گے
تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات
تو روحِ کائنات ہے تو حسن iiکائنات
پنہاں ہیں تیری ذات میں ر کی iiتجلیات


ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے iiثات
ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے iiمعجزات


کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک iiپر
احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات


پژ مردہ صورتوں کو ملی تجھ سے iiزندگی
نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے iiمشکلات


ظلمت کدوں میں نور کے چشمے ال iiپڑے
رحمت سے تیری ٹل گئی ظلم و ستم کی iiرات


تاروں کو ضو فشانیاں تجھ سے ہوئیں نصی
پھولوں کی نازکی پہ تیری چشمِ iiالتفات


ہر شے میں زندگی کی کرن تیری ذات iiسے
افشا یہ راز کر گئی معراج کی وہ iiرات


اپنے دل و نگاہ کے آئینے صاف iiرکھ
گر دیکھنے کی چاہ ہے تجھ کو نی کی iiذات


کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا سے ڈر
الا ہے تیری سوچ سے سرکار کی iiحیات


انکی محتوں کا گزر ہے خیال iiمیں
یونہی نہیں ہیں آس کی ایسی نگارشات



ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

ہمیشہ مری چشمِ تر میں iiرہیں
حضور(ص) آپ دل کے نگر میں iiرہیں

مری سوچ کے دائروں میں iiرہیں
خیالات کے ام و در میں iiرہیں

گماں فرقتوں کا میں کیسے iiکروں
کہ ج آپ(ص) ہر سو نظر میں iiرہیں

مرے حرف میں میرے الفاظ iiمیں
مرے شعر میرے ہنر میں iiرہیں

مرے دن کی مصروفیت میں ہوں iiآپ
مری رات کے ہر پہر میں iiرہیں

مری ش کی ہو اتدا آپ iiسے
مری انتہائے سحر میں iiرہیں

تمنا ہے یہ آس وقتِ iiنزع
حضور آپ ہر سو نظر میں iiرہیں



ہم بے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے


ہم ے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے
اسلام کا شعور ملا ہے حضور (ص) سے

آدم کو اپنی ذات کی پہچان تک نہ iiتھی
انسان آدمی تو ہوا ہے حضور ii(ص)سے

ے کیف ے سرور تھی ے نور iiزندگی
اس میں سکوں کا رنگ ھرا ہے حضور(ص) iiسے

ہوں اہلِ یتِ پاک یا اصحا iiمصطفےٰ
وحدت کا س نے جام پیا ہے حضور iiسے

کشمیر ہو عراق، فلسطیں کہ کوئی ملک
ہر کلمہ گو تو آس جڑا ہے حضور ii(ص)سے




پیارے نبی کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے


پیارے نی کی اتیں کرنا اچھا لگتا iiہے
انکی چاہ میں جی جی مرنا اچھا لگتا iiہے

ٹھنڈی ٹھنڈی مہکی مہکی ہلکی ہلکی آہٹ iiسے
یادِ نی کا دل میں اترنا اچھا لگتا ہے

ج ہستی کی چاہت کا ہے محور تیری iiذات
پل پل تیرا ہی دم ھرنا اچھا لگتا iiہے

میں ھی ثنا کے پھول سمیٹوں تم ھی درود iiپڑھو
پتھر دل سے پھوٹتا جھرنا اچھا لگتا iiہے

تجھ سے میری من نگری کے روشن شام و iiسحر
تیرے نام کی آہیں ھرنا اچھا لگتا iiہے

غوث، قلندر اور ولی ہیں تیرے عشق کے iiروگی
س کو تری توقیر پہ مرنا اچھا لگتا iiہے

ماتھے پر امید کا جھومر مانگ میں آس کی iiافشاں
ایسا مجھ کو ننا سنورنا اچھا لگتا ہے
میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے
میں غریب سے ھی غری ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے
اے قسیم راحتِ دو جہاں مری سانس سانس محال ہے

تو خدائے پاک کا راز داں تیرا ذکر زینتِ دو iiجہاں
تیرے وصف کیا میں کروں یاں تیری ات ات کمال iiہے

میں ہوں ے نوا تو ہے ادشہ میرا تاجِ سر تیری خاکِ پا
میں ہوں ایک ھٹکی ہوئی صدا تری ذات حسنِ مآل iiہے

تو ہی فرش پر تو ہی عرش پر تیرا یہ ھی گھر تیرا وہ ھی iiگھر
جہاں ختم ہوتا ہے ہر سفر تیرا اس سے آگے جمال iiہے

تیری ذات عالی شہ عر کہاں میں کہاں یہ مری iiطل
جو ملا، ملا وہ ترے س مرا اس میں کیسا کمال iiہے

نہیں تیرے عد کوئی نی ہوئی ختم تجھ پر iiپیمری
تیری ذاتِ حسن و جمال کی نہ نظیر ہے نہ مثال iiہے

میں یہ کیوں کہوں کہ غری ہوں شہ دوسرا کے قری iiہوں
میں تو آس روشن نصی ہوں غمِ مصطفےٰ مری ڈھال iiہے




سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے


سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زاں سے کھرنے iiلگے
مدحتِ مصطفےٰ تیرا احسان ہے تجھ سے کیا کیا مقدر سنورنے iiلگے

یہ تو ان کی عنایات کی ات ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری اوقات iiہے
جس کا دنیا میں پرسان کوئی نہ تھا اس کے دامن میں تارے اترنے iiلگے

یونہی مجھ پر کرم اپنا رکھنا سدا اے مرے چارہ گر اے شہ iiدوسرا
تیری چشمِ کرم جس طرف کو اٹھی اس طرف نور سینوں میں ھرنے iiلگے

قط و ادال غوث و ولی متقی س کی محسن ہے نورِ تجلی iiتیری
روشنی تیرے کردار کی پا کے س سینہ ٔ سنگ کو موم کرنے iiلگے

عشق سچا اگر ہو تو دیدار کی قید کوئی نہیں فاصلے کچھ iiنہیں
ہو گئی جن کے دل کو صارت عطا لمحہ لمحہ وہ دیدار کرنے iiلگے

کچھ عج وضع سے کر رہے ہیں سر تیرے عشاق س اپنے شام و iiسحر
جیتا دیکھا کسی کو تو جینے لگے مرتا دیکھا کسی کو تو مرنے iiلگے

اے خدا آس کو وہ عطا نعت کر جو منور کرے س کے قل و iiنظر
ے سہاروں کو تسکین جو خش دے غم کے ماروں کے جو زخم ھرنے لگے




لب کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ بے نور کو روشنی مل گئی

ل کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ ے نور کو روشنی مل iiگئی
ہاتھ اٹھاوں میں ا کس دعا کے لیے انکی نست سے ج ہر خوشی مل iiگئی

ذوق میرا عادت میں ڈھلنے لگا زاویہ گفتگو کا دلنے لگا
ساعتیں میری پرکیف ہونے لگیں دھڑکنوں کو مری ندگی مل iiگئی

ناز اپنے مقدر پہ آنے لگا ہر کوئی ناز میرے اٹھانے لگا
دھل گیا آئینہ میرے کردار کا ج سے ہونٹوں کو نعتِ نی مل iiگئی

ان کی چشمِ عنایت کا اعجاز ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری پرواز iiہے
خامیاں میری نتی گئیں خویاں زندگی کو مری زندگی مل iiگئی

میری تقدیر گڑی نائی گئی ات جو ھی کہی کہلوائی iiگئی
میں نے تو صرف تھاما قلم ہاتھ میں جانے کیسے کڑی سے کڑی مل iiگئی

زندگی ج سے ان کی پناہوں میں ہے ایک تاندگی سی نگاہوں میں ہے
مجھ کو اقرار ہے اس کے قال نہ تھا ذاتِ وحدت سے جو روشنی مل iiگئی

مدحتِ مصطفےٰ ہے وہ نورِ میں جس کا ثانی دو عالم میں کوئی iiنہیں
آس اس کی شعاعوں کے ادراک سے راہ ھٹکوں کو ھی رہری مل iiگئی





اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں

اپنی اوقات کہاں، ان کے س سے iiمانگوں
ر ملا ان سے تو کیوں ان کو نہ ر سے iiمانگوں

ان کی نست ہے ہت ان کا وسیلہ ہے iiہت
کیوں میں کم ظرف نوں ڑھ کے طل سے iiمانگوں

جس ضیا سے صدا جگ مگ ر ہے دنیا من iiکی
اس کی ہلکی سی رمق ماہِ عر سے مانگوں

آندھیاں جس کی حفاظت کو رہیں سرگرداں
پیار کا دیپ وہ ازارِ اد سے iiمانگوں

کوئی اسلو سلیقہ نہ قرینہ مجھ iiمیں
سوچتا ہوں انھیں کسی طور سے، ڈھ سے iiمانگوں

کارواں نعت کا اے کاش رواں یوں ہی iiرہے
اور میں نِت نئے عنوان اد سے iiمانگوں

آس آاد رہے شہر مری الفت iiکا
ہر گھڑی اس کی خوشی دستِ طل iiسے
جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے
جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی iiہے
قرارِ جاں ن کے زندگی میں انہی کی خوشو سی ہوئی iiہے

خدائے واحد کی ن کے رہاں حضور آئے ہیں اس جہاں میں
دکھوں سے جلتی ہوئی زمیں پھر ہر ایک غم سے ری ہوئی iiہے

نجانے کیسا کمال دیکھا نی(ص) کا جس نے جمال iiدیکھا
حواس گم سم نگاہ حیراں زاں کو چپ سی لگی ہوئی iiہے

سمندروں کی تہوں سے لے کر مقام سدرہ کی رفعتوں iiتک
مرے نی کے کرم کی چادر ہر اک جہاں پر تنی ہوئی ہے

تمام چاہت کے روگیوں کا عجی ہم نے کمال iiدیکھا
جدا جدا صورتیں ہیں لیکن دلوں کی دھڑکن جڑی ہوئی iiہے

وہی حقیقت میں زندگی ہے وہی حقیقت میں ندگی iiہے
جو میرے سرکار کی محت کے راستوں پر پڑی ہوئی iiہے

انگشتری میں نگینہ جیسے زمیں کے دل پر مدینہ iiجیسے
حضور(ص) اس طرح آس تیری، مری نظر میں جڑی ہوئی iiہے




رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا


رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے iiچلا
میرے ر نے کیا مجھ کو منص عطا میں مدینے چلا میں مدینے چلا

میری مدت کی یہ آس پوری ہوئی رشک کرنے لگا مجھ پہ ہر iiآدمی
ہونے والی ہے ا زندگی، زندگی سیکھنے زندگی کے قرینے iiچلا

میرے گھر ملنے والوں کی یلغار ہے آج س کو مری ذات سے پیار iiہے
آرزوؤں کے غنچوں کی مہکار ہے کس مقدس مارک مہینے iiچلا

ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ میرے لیے جا کے روضے پہ رکھنا دعا کے iiدیے
اور یہ کہنا کہ چشم کرم اک ادھر ہر کوئی جام کوثر کے پینے iiچلا

سوچتا ہوں سفر کا ارادہ تو ہے شوق جانے کا ھی کچھ زیادہ تو iiہے
عشق کا معصیت پہ لادہ تو ہے پر میں کیا ساتھ لیکر خزینے iiچلا

میں نے پورے کیے کیا حقوق ا لعاد اور مٹائے ہیں کیا جگ سے فتنے iiفساد
کیا مسلماں میں پیدا کیا اتحاد کون سا مان لے کر مدینے iiچلا

آس کیا منہ دکھاؤں گا سرکار کو اپنے ہمدرد کو اپنے غم خوار کو
کیوں گراؤں میں فرقت کی دیوار کو کس لیے ہجر کے زخم سینے iiچلا





مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم iiرہے
مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم iiرہے

میں لکھوں جو نعت حضور(ص) کی دلِ مضطر کے سرور iiکی
کھی چشم ناز لند ہو کھی سر نیاز سے خم iiرہے

مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی iiدے
میرا حرف حرف دعا نے مری آہ آہ قلم iiرہے

یہ یقین ہے جو میں مر گیا تو کہیں گے س یہ ملائکہ
یہ ہے شاعرِ شاہِ دوسرا ذرا اس کا پاس، ھرم رہے

یہ دعا ہے آس حضور(ص) کا کھی دل سے پیار نہ ہو iiجدا
مری زندگی کی جین پر سدا ان کا نام رقم iiرہے





آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں


آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں iiنہیں
آپ کا ذکر نہ ہو جہاں ایسا کوئی جہاں iiنہیں

ایک جاں سرور آگ سلگی ہے میری ذات میں
ہے یہ عجی ماجرا راکھ نہیں دھواں iiنہیں

جن فیصلوں پہ آپ کی مہر ثت ہو iiگئی
اس کے عد ا خدا کوئی ھی این و آں نہیں

اوصافِ پاک آپ کے جس سے تمام ہوں iiیاں
ایسا کوئی قلم نہیں ایسی کوئی زاں نہیں

واعظ کی ات ھی پرکھ اپنے ھی من کی ات iiسن
جس سر سے اٹھ گئے وہ ہاتھ اس کی کہیں اماں iiنہیں

حضرت لال دے گئے آس یہ ہم کو iiفلسفہ
جس کے نا ھی ہو سحر، ایسی اذاں، اذاں نہیں




ہے یہ دربارِ نبی خاموش رہ


ہے یہ درارِ نی خاموش رہ
چپ کو ھی ہے چپ لگی خاموش iiرہ

ولنا حدِ اد میں جرم iiہے
خامشی س سے ھلی خاموش iiرہ

ان کے در کی مانگ ر سے iiچاکری
تجھ کو جنت کی پڑ ی خاموش iiرہ

ہے ذریعہ ہترین اظہار iiکا
اک زانِ خامشی خاموش iiرہ

دل سے ان کو یاد کر کے دیکھ iiتو
پاس ہیں وہ ہر گھڑی خاموش iiرہ

ھیگی پلکیں کر نہ دیں رسوا iiتجھے
ضط کر دیوانگی خاموش iiرہ

جیسے کی ہے میرے آقا نے iiسر
ویسے تو کر زندگی خاموش iiرہ

جس نے ھی دیکھا ہے جلوہ آپ iiکا
اس کو ہی چپ لگ گئی خاموش iiرہ

نعت لکھواتی ہے کوئی اور ہی iiذات
ورنہ جرأت آس کی خاموش iiرہ




ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے


ہر طرف ل پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی iiہے
جشنِ میلاد ہے مصطفےٰ کا کیا معطر معطر گھڑی iiہے

آج سن لی ہے س کی خدا نے کھل گئے رحمتوں کے iiخزانے
جتنا دامن میں آئے سمیٹو ہر طرف رحمتوں کی جھڑی iiہے

چھٹ گئیں ظلمتوں کی گھٹائیں کیسے دن آج کا ھول iiجائیں
عید میلاد آؤ منائیں کون سی عید اس سے ڑی iiہے

ہم سے کہتا ہے خود ر اکر میں ثنا خوان ہوں مصطفےٰ iiکا
تم ھی ھیجو درود ان پہ ہر دم ان کی مدحت مری ندگی ہے

اک خدا اک رسول ایک قرآں ایک کیوں کر نہیں پھر iiمسلماں
چھوڑ دو فرقہ ندی خدارا اس نے جاں کتنے ندوں کی لی iiہے

ہر مسلمان ماتم کناں ہے گنگ انسانیت کی زاں iiہے
آپ محسن ہیں انسانیت کے آپ کے در سے ہی لو لگی iiہے

اپنے در پر ہی رکھنا خدارا غیر کا در نہیں ہے iiگوارا
آس مانا کہ عاصی ہت ہے پر حضور آپ کا امتی iiہے

ذکرِ نبی(ص) اسرارِ محبت صلی اللہ علیہ وسلم



ذکرِ نی(ص) اسرارِ محت صلی اللہ علیہ و iiسلم
حق کا پیمر ختم رسالت صلی اللہ علیہ و iiسلم

صح ازل کی جان ھی ہے و ہ شام اد کی شان ھی ہے iiوہ
اس کی ثنا گو ہر اک ساعت صلی اللہ علیہ و iiسلم

ذکر نی میں دل کی طر ہے دل کی طر خوشنودی ر iiہے
ر کی رضا سرکار کی مدحت صلی اللہ علیہ و iiسلم

کس کے تصدق چمکا ستارا چاند زمیں پر ر نے iiاتارا
ہم آزاد ہیں کس کی دولت صلی اللہ علیہ و iiسلم

وحدت کی پہچان اسی میں خشش کا سامان اسی iiمیں
کرتے رہو یہ ذکر سعادت صلی اللہ علیہ و iiسلم

پاکستان کا پیارا خطہ آپ کی ہے نعلین کا iiصدقہ
آپ کے صدقے پائی یہ جنت صلی اللہ علیہ و iiسلم

قرآں ہو دستور ہمارا چمکے آس نصی کا تارا
رہر ہو ج آپ کی سیرت صلی اللہ علیہ و iiسلم



میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو



میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو
یہی نام میرا علاج ہے یہی نام لیتے رہا iiکرو

مرے ہم سخن مرے ساتھیو مرے مونسو مرے iiوارثو
تمہیں مجھ سے اتنا ہی پیار ہے مرے ساتھ صلِ علیٰ iiپڑھو

کوئی چھیڑو قصے حضور کے گریں ت زمیں پہ غرور iiکے
کھلیں ا عقل و شعور کے دل مضطر کو قرار ہو

مری زندگی ھی ہو زندگی مری شاعری ھی ہو iiشاعری
کھلے دل کے شہر میں چاندنی درِ مصطفےٰ پہ چلیں iiچلو

مری چشمِ ناز کا نور وہ مری نضِ جاں کا سرور iiوہ
نہیں پل ھی مجھ سے ہیں دور و ہ مری دھڑکنوں کی صدا سنو

وہ خدا کا عکسِ جمال ہیں وہی رشکِ او ج کمال iiہیں
وہ تو آپ اپنی مثال ہیں کوئی تم نہ ان کی مثال iiدو

جسے ان کی ایک جھلک ملی وہ ہر ایک غم سے ہوا iiری
اسے آس اس طرح چپ لگی کہ نہ جیسے منہ میں زان iiہو




ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے



ہر اک ل پہ نعت نی کے ترانے ہر اک ل پہ صلِ علیٰ کی صدا iiہے
ہمارے نی جس میں تشریف لائے وہ رحمت کا پر نور دن آگیا iiہے

درودوں کے تحفے سلاموں کے ہدیے دعاؤں کے منظر عقیدت کے iiنعرے
مقدس مقدس ہر اک سمت جلوے معطر معطر ہر اک سو فضا iiہے

عطاؤں کی ارش دعا کی گھڑی ہے ہر اک شخص کی آپ سے لو لگی ہے
ہر اک آنکھ میں آنسوؤں کے سمندر ہر اک دل میں تعظیم کا در کھلا iiہے

خدا کی خدائی کے مختار ہیں وہ تمام انیاء کے ھی سردار ہیں وہ
خدا کی خدائی طلگار ان کی مقام ان کو ر نے عطا وہ کیا iiہے

اٹھے گی وہ چشمِ کرم غم کے مارو انہیں دل کی گہرائیوں سے پکارو
نچھاور کرو پھول ان پہ ثنا کے اسی میں ہی آس اپنے ر کی رضا iiہے



تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میںکھلا رہے



تری یاد کا سدا گلستاں مری نضِ جاں میں کھلا iiرہے
مری سانس جس سے مہک اٹھے وہ قرار دل میں سا iiرہے

میں پڑا رہوں تری راہ میں تری چاہتوں کی پناہ میں
مجھے ٹھوکروں کی نہ فکر ہو مرا زخم زخم ہرا iiرہے

مری زندگی کا ہر ایک پل ترے پیار سے نے ا iiعمل
تری چاہتوں پہ جیوں مروں ترے غم کی دل میں جلا iiرہے

رہے تیری یاد سے واسطہ کوئی اور نہ ہو مرا iiراستہ
مرے شعر میری قا نیں مرا رنگ س سے جدا iiرہے

یہی آس ہے یہی آرزو تیری ہر گھڑی کروں iiگفتگو
مری آنکھ ہو سدا ا وضو یونہی مجھ پہ فضلِ خدا iiرہے



نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے


نور سے اپنے ہی اک نور سجایا ر نے
پھر اسی نور کو محو نایا ر نے

ان کی ہر ات میں رکھ رکھ کے محت کی iiمٹھاس
پیکرِ خُلق کا دیدار کرایا ر iiنے

انیا ج تیرے دیدار کو ے تا ہوئے
پھر امامت کو سرِ عرش لایا ر iiنے

پیکر حسن میں س خویاں اپنی ھر iiکر
تجھ کو قرآن کی صورت میں نایا ر iiنے

تیری سیرت کی زمانے سے گواہی iiلینے
دیکھنے والی نگاہوں کو دکھایا ر iiنے

اپنی قدرت کو دو عالم پہ اجاگر iiکرنے
ناز تخلیق کو پھر پاس لایا ر iiنے

اور ھی یش ہا نعمتیں دی ہیں iiلیکن
دے کے محو یہ احسان جتایا ر نے

شکر اس ذات کا جتنا ھی کروں کم ہے آس
مجھ کو ھی نعت کا انداز سکھایا ر iiنے




بڑھتی ہی جارہی ہے آنکھوں کی بے قراری


ڑھتی ہی جا رہی ہے آنکھوں کی ے قراری
یا ر دکھا دے پھر سے صورت نی کی پیاری

پھر دل کی انجمن میں جھنے لگی ہیں iiشمعیں
پھر ہجر کی تڑپ میں گزرے گی رات iiساری

جس میں کھلیں تمہاری الفت کے پھول iiآقا
اس دن کے میں تصدق اس رات کے میں iiواری

ان راستوں کے ذرے نتے گئے iiستارے
جن راستوں سے گزری سرکار کی iiسواری

ہم کو ھی اس نظر میں رہنے کی آرزو ہے
جس کی ضیاء سے جگمگ ہے کائنات iiساری

مہکار ٹ رہی ہے جس میں محتوں iiکی
وہ ہے نگر تمہارا وہ ہے گلی تمہاری

جینے کی آس دل میں کچھ اور ڑھ گئی iiہے
ج سے ہوئی ہیں نعتیں میرے لوں پہ iiجاری





دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت



دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی iiصورت
چومتا جاتا ہے کاغذ کو حرم کی iiصورت

اس پہ تحریر ہوئی جاتی ہے آقا کی iiثناء
ن رہی ہے مرے عصیاں پہ کرم کی صورت

آپ کا پیار سنھالا جو نہ دیتا مجھ iiکو
اور ہی ہوتی مرے رنج و الم کی iiصورت

شہر تو شہر ہے شیدائی مرے آقا کے
"دشت میں جائیں تو ہو دشت ارم کی iiصورت"

مدح سرکار میں آنکھوں کا وضو لازم iiہے
خود خود نتی ہے پھر نعت رقم کی iiصورت

ہر کوئی اپنی نگاہوں پہ ٹھاتا ہے iiمجھے
اور کیا ہوتی ہے الطاف و کرم کی iiصورت

آس سرکار کا دامان شفاعت ہو iiنصی
ت ہی محشر میں نے میرے ھرم کی iiصورت

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں
وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے ھی ڑھ کے iiہے
تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں

یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا
تو کہا یہ اس نے ھی راز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں

یہ کہا زمیں سے کہ معتر درِ مصطفےٰ سی کوئی جگہ
تو کہا یہ اس نے ھی ناز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں

یہ کہا فلک سے کہ رفعتیں کسی اور نی کو ھی یوں ملیں
تو کہا یہ صیغۂ راز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں

یہ کہا زمیں سے صعوتیں کسی اور کی آل کو یوں iiملیں
تو کہا یہ سوز و گداز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

یہ کہا فلک سے کہ کہکشاں کسی اور کی گردِ سفر ھی ہے
تو کہا یہ آس کو ناز سے کہ نہیں نہیں خدا iiنہیں




صبح بھی آپ(ص) سے شام بھی آپ (ص)سے


صح ھی آپ(ص) سے شام ھی آپ ii(ص)سے
میری منسو ہر اک گھڑی آپ ii(ص)سے

میرے آقا میرا تو یہ ایمان iiہے
دونوں عالم کی رونق ہوئی آپ ii(ص)سے

آپ میرے تصور کی معراج iiہیں
میرے کردار میں روشنی آپ ii(ص)سے

گر گیا تھا خود اپنی نظر سے iiشر
آج اس کو ملی رتری آپ(ص) iiسے

آپ(ص) خالق کی ے مثل تخلیق ہیں
کیسے لیتا کوئی رتری آپ(ص) iiسے

کہکشاں ہی نہیں ان کی گردِ iiسفر
چاند کو ھی ملی چاندنی آپ(ص) iiسے

قر میں آس عشق نی ساتھ iiہو
اے خدا ا لتجا ہے یہی آپ ii(ص)سے



ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا


ثناء خدا کی درود و سلام ہے iiتیرا
لوں پہ ذکر مرے صح و شام ہے iiتیرا

جو تم نہ ہوتے تو ستی نہ عالم ہستی
وجود کون و مکاں اہتمام ہے تیرا

کوئی نہیں تیرا ہمسر نہ کوئی سایہ ہے
سروں پہ سایہ ہمارے دوام ہے iiتیرا

دلوں میں عشق نی کا نہ دیپ جلتا iiہو
تو پھر فضول سجود و قیام ہے iiتیرا

تمہارے در کا ہے دران جرائیل امیں
"مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے iiتیرا"

قلم دیا مجھے اپنے نی کی مدحت کا
مرے کریم یہ کیا کم انعام ہے iiتیرا

اسے ھی خسرو و محو سا ثناء گو iiکر
یہ امتی ھی تو آقا غلام ہے تیرا

وہ ایک نقطہ جسے خود خدا ہی جانتا iiہے
خدا کے عد جدا سا مقام ہے iiتیرا

ملی ہے آس کو جس نام سے iiپذیرائی
وہ نام نامی تو خیر الانام ہے iiتیرا





ان کی دہلیز کے قابل میرا سر ہو جاتا
ان کی دہلیز کے قال میرا سر ہو iiجاتا
کاش منظور مدینے کا سفر ہو iiجاتا

لوگ مجھ کو ھی ڑے چاؤ سے ملنے iiآتے
محترم س کی نظر میں میرا گھر ہو iiجاتا

میں ھی چل پڑتا دل و جاں کو نچھاور iiکرنے
پورا مقصد مرے جینے کا اگر ہو iiجاتا

لیلۃ القدر ہر اک رات مری ہو iiجاتی
عید جیسا میرا ہر روز سر ہو جاتا

مسجد نوی میں دل کھول کے لکھتا iiنعتیں
میرا ہر شعر وہاں جا کے امر ہو iiجاتا

میرا ظاہر ھی عقیدت سے منور ہوتا
میرا اطن ھی محت کا نگر ہو iiجاتا

مہک اٹھتے مرے ہونٹوں پہ درودوں کے iiگلا
میرا دامانِ طل اشکوں سے تر ہو iiجاتا

زندگی میں نیا اک موڑ اجاگر iiہوتا
میری آنکھیں مرا دل آپ کا گھر ہو iiجاتا

اتنا مشکل تو نہ تھا ر کو منا لینا iiآس
حوصلہ سامنا کرنے کا اگر ہو iiجاتا




آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول محترم

آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول iiمحترم
میری ہر اک سوچ پر ہے آپ کا لطف و کرم۔ اے رسول محترم

آپکا ذکر مقدس ہر دعا کا تاج ہے۔ غمزدوں کی لاج iiہے
اسکے ن یکار ہر اک ندگی ر کی قسم۔ اے رسول iiمحترم

آپ آئے کائنات حسن پر چھایا نکھار۔ اے حی iiکردگار
زم ہستی کے ہیں محسن آپکے نقش قدم۔ اے رسول iiمحترم

آپ کے اعث جہاں میں آدمی مسرور ہے۔ زندگی پر نور iiہے
آپ کی ذاتِ مقدس آدمیت کا ھرم۔ اے رسولِ iiمحترم

آپکی توصیف میں اترا ہے قرآن میں۔رحمت iiاللعالمین
آپ کا شیدا ہے شرق و غر اور عر و عجم۔! اے رسول iiمحترم

آپ کا دامانِ رحمت جس کو ہو جائے نصی۔کتنا وہ ر کے قری
پھر اسے خدشہ جہنم کا نہ ہو محشر کا غم۔ اے رسول iiمحترم

آس جگ میں اسکو پھر پرواہ نہیں انجام کی۔ صح کی نہ شام کی
جس کی جان آپ کا ہو جائے الطاف و کرم۔ اے رسول iiمحترم



سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے


سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے iiلیے
نی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے iiلیے


مقام فیض کی تم کو اگر تمنا iiہے
درود پڑھتے رہو اپنی ہتری کے iiلیے


اسے ھی اذن حضوری کا شرف مل iiجاتا
تڑپ رہا ہے جو سرکار حاضری کے لیے


خدائے پاک نے کیا کیا نہ اہتمام کیا
حی پاک(ص) سے ملنے کی اک گھڑی کے iiلیے


حضور آپ ہی تخلیقِ وجہہ کون و iiمکاں
نی ہے عالم ہستی ھی آپ ہی کے iiلیے


حضور(ص) عر و عجم آپ کے iiتمنائی
حضور شرق و غر ھی ہیں آپ ہی کے لیے


نثار ان پہ کروں اپنی سانس سانس کا iiلمس
مرے وجود کی تاندگی انہی کے iiلیے


تمام ساعتیں خشیں جو زندگی نے تمہیں
انہی کو وقف کرو آ س آج انہی کے لیے


نی ہمارا نی وہ ہے انیاء جس iiکی
کریں خدا سے دعا انکے امتی کے iiلیے


اگر حضور(ص) کی سچی لگن خدا دے iiدے
میں سر اٹھاؤں نہ سجدے سے اک گھڑی کے iiلیے


حضور(ص) عد ولادت کے کر رہے تھے iiدعا
خدائے پاک سے امت کی خششی کے iiلیے


حضور(ص) آس کو وہ اذنِ نعت مل iiجائے
نے وسیلہ جو خشش کا اخروی کے iiلیے

اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں



اے شہ انیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں
ر ملا کہہ رہے ہیں زمیں و زماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں

نور تو س گھرانہ تیرا نور کا تو سہارا ہے لاچار و مجور iiکا
ہادی اِنس و جاں حامی یکساں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں

تو چلے تو فضائیں تیرے ساتھ ہوں ادلو ں کی گھٹائیں تیرے ساتھ iiہوں
مٹھیوں سے ملے کنکروں کو زاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں

کوئی سمجھے گا کیا تیرے اسرار کو آئینے ھی ترستے ہیں دیدار کو
تیرے قدموں میں رکھتی ہے سر کہکشاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

ذکر تیرا دعاؤں کا سرتاج ہے غمزدوں ے سہاروں کی معراج iiہے
ہر فنا شے تیرا ذکر ہے جاوداں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں

تیری انگلی کا جس سمت اِشارہ گیا چاند کو ھی اسی سو اتارا iiگیا
تاجور دیکھتے رہ گئے یہ سماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں

آس آنکھوں میں جگمگ ہے تیری ضیاء اے حی خدا خاتم iiالانیاء
اے شفیع الامم مرسلِ مرسلاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی iiکہاں




آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے دربار چلیں



آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے درار چلیں
مہکی یادوں کے پھول چنیں اشکوں کے لیکر ہار iiچلیں

نہ کوئی روکنے والا ہو نہ کو ئی ٹوکنے والا ہو
روضے کے لمس کو جی ھر کر آنکھوں سے کرنے پیار iiچلیں

جہاں مٹی سونا ہوتی ہے جہاں ذرے سورج نتے iiہیں
اُن گلیوں کا اُن رستوں کا ہم ھی کرنے دیدار iiچلیں

کہتے ہیں وہاں پُر شام سحر انوار کی ارش رہتی ہے
کہتے ہیں وہاں خوشو لینے س دنیا کے ازار iiچلیں

ج شہر مدینہ جی ھر کر د ل کی آنکھوں سے دیکھ iiچکیں
پھر شاہ نجف کا در چُومیں غداد کے پھر ازار چلیں

اس شہر محت کی خوشو کرتی ہے حفاظت انساں iiکی
جسکا یہ مقدر ن جائے اس پر نہ ریا کے وار iiچلیں

کرل کے جن صحراؤں میں معصوموں کی فریادیں iiہیں
ان صحراؤں سے صر و رضا کا سننے حال زار iiچلیں

سنتے ہیں کہ در کے میداں میں ہے آج ھی رع و iiجلالیت
اصحا کا وہ میدانِ عمل ہم دیکھنے سو سو ار iiچلیں

اے آس زمانے میں کتنا دشوار ہو جینا iiمرنا
آؤ سرکار سے اُمت کا یہ کہنے حالِ زار iiچلیں




اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے



اے جسم ے قرار ثنائے رسول iiسے
جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول iiسے

ہر صح پر وقار ثنائے رسول iiسے
ہر شام خوش گوار ثنائے رسول iiسے

ھٹکا ہے ساری عمر سراوں کی چاہ iiمیں
جوڑ ا تو دل کے تار ثنائے رسول iiسے

کیا جانے سانس کا ہو سفر کس مقام iiتک
جی ھر کے کر لے پیار ثنائے رسول سے

جن کو خر نہیں انہیں جا کر iiتایئے
دنیا کی ہے ہار ثنائے رسول iiسے

وہ ذات، نامراد کو کرتی ہے ا مراد
تو زندگی سنوار ثنائے رسول iiسے

گر تجھ کو لازوال محت کی آس iiہے
جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول iiسے




زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے


زمین جس پہ نوت کے تاجدار چلے
وہ چومنے کو نظر کاش ار ار چلے

پڑیں نہ پاؤں تقدس کا یہ تقاضا iiہے
وہ خاک جس پہ نی زندگی گزار iiچلے

دلوں کو سجدہ روا اس مقام کا ھی iiہے
نی کے دوش کے جس جا پہ شہ سوار iiچلے

وہ حجرہ دیکھے جہاں عمر فیصلے iiکرتے
وہ خاک چومے جہاں حیدرِ کرار (ع) iiچلے

وہ گھر ھی چومے جہاں تھے ایو انصاری
وہ راہ چومے جدھر ان کے یار غار iiچلے

وضو غیر، تصور ھی جرم ہے iiلوگو
وہاں پہ جائے تو انسان اشک ار iiچلے

وہ اغ دیکھے جو عثماں نے دین کو iiخشا
وہ غار دیکھے جہاں ان کے یار غار چلے

یہ شوق ھی ہے تڑپ ھی ہے تشنگی ھی ہے
جو آس جائے تو پاؤں کہاں اتار چلے




ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا



ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار iiتیرا
آقا نفس نفس میں مہکا ہے پیار تیرا

تو نے جہالتوں سے انسان کو iiنکالا
انسانیت پہ احساں ہے ے شمار تیرا

میری حیات جس کی رعنائیوں سے مہکی
وہ ہے سرور تیرا وہ ہے قرار تیرا

ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں iiادل
پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار iiتیرا

کشمیر ھی تمہاری چشم کرم کا طال
اقصیٰ کی آنکھ میں ھی ہے انتظار iiتیرا

خالق خدا ہے، مالک دونوں کا تو ہے iiآقا
کل کائنات تیری، پروردگار iiتیرا

وہ آس زندگی کی انمول ساعتیں iiہیں
جن ساعتوں میں نام نامی شمار iiتیرا




زندگی ملی حضور سے



زندگی ملی حضور iiسے
روشنی کھلی حضور سے

ساری رونقیں حضور iiکی
ساری دلکشی حضور iiسے

کائنات ہست و ود iiمیں
کن کی ے کلی حضور سے

زندگی گری پڑی iiہوئی
معتر ہوئی حضور سے

اسکو دو جہان مل گئے
جس کی لو لگی حضور iiسے

اڑتی دھول کا نصی iiدیکھ
کہکشاں نی حضور iiسے

آس اہتمام ذکر و iiنعت
س ہماہمی حضور iiسے




محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے



محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ iiہارے
طیہ کے ہوں گے اک دن اے دوستو نظارے

رختِ سفر کسی دن اندھیں گے ہم ھی iiاپنا
ہم کو ھی لوگ ملنے آئیں گے گھر iiہمارے

آتے ہیں کام اس کے ایمان ہے یہ iiاپنا
مشکل میں جو کوئی ھی سرکار کو پکارے

ج یاد ان کی آئی ے اختیار آئی
پلکوں پہ جھلملائے ہر رنگ کے iiستارے

جس شخص کو طل ہے جنت کو دیکھنے iiکی
سرکار کی گلی میں دو چار دن iiگزارے

جس کا وکیل ر ہو آقا کی پیروی iiہو
وہ کیسے استغاثہ انسان کوئی iiہارے

ہونٹوں پہ آس ہر دم جاری درود رکھنا
ناؤ تمہاری خود ہی لگ جائے گی iiکنارے



کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا



کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ iiہوتا
ان کے نعلین کا جاں پر میری قضہ iiہوتا

حشر تک سر نہ اٹھاتا میں درِ اقدس سے
میری قسمت میں ازل سے یہی لکھا iiہوتا

ان کے جلوؤں میں مگن رات سر ہو iiجاتی
ان کو تکتے ہوئے ہر ایک سویرا iiہوتا

ان کی راہوں میں نگاہوں کو چھائے رکھتا
ان کی آہٹ پہ دل و جان سے شیدا iiہوتا

کھی پیشانی پہ حسنین کے پاؤں پڑتے
اور علی کا کھی سر پر میرے تلوا iiہوتا

ہر کوئی چومتا آنکھوں سے لگاتا مجھ iiکو
ان کی نست سے اد تک میرا چرچا iiہوتا

عمر، عثمان، اوکر ، حذیفہ، iiحمزہ
س صحاہ کو میری آنکھ نے دیکھا iiہوتا

یٹھ کر دل پہ میرے نعت سناتے iiحسان
ناز کا تاج میرے سر پہ سنہرا iiہوتا

ر کا احساں ہے کہ آقا کا سخنور ہوں iiآس
یہ ھی سرمایہ نہ ہوتا تو میرا کیا iiہوتا




*****

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں