| اے خالقِ کل سامنے اک بندہ ترا ہے تو کر دے عطا تجھ سے یہ کچھ مانگ رہا ہے تو مالک و معبود بھی مسجود بھی تو ہے میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں سب تجھ کو پتا ہے احباب مرے کتنے ترے پاس گئے ہیں تو بخش دے ان سب کی خطائیں یہ دعا ہے ہم مانتے ہیں حد سے بھی بڑھ کر ہیں گنہگار تو پاک ہے کر معاف ہوئی جو بھی خطا ہے تو پاک ہے ہر عیب سے اے مالک و مولا بندہ ترا ہر عیب کی حد سے بھی بڑھا ہے سرکارِ دو عالم کی میں امت سے ہوں مولا میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں تو دیکھ رہا ہے مالک مرے تو سیدھا عطا کر مجھے رستہ وہ رستہ کہ جس پر ترا اکرام ہوا ہے میں اور میری اولاد ہو اسلام کی داعی اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی یہ دعا ہے سرکار دو عالم کی عطا کر مجھے الفت وہ کام کریں جس کے لیے تو نے کہا ہے اسلام کی دولت سے منور مجھے کرنا ہر وقت یہ ہر لمحہ مری تجھ سے دعا ہے محروم ہیں جو ان کو بھی صالح ملے اولاد اولاد ہو نیک ان کی کرم جن پہ ترا ہے مقروض ہیں بے کار ہیں معذور ہیں جو بھی ان پر بھی کرم کر دے کہ تو سب کا خدا ہے یا رب مرے اس ملک میں نافذ ہو شریعت ہر صاحب ایمان کی یہ تجھ سے دعا ہے یا رب ہمیں اسلام کا وہ داعی بنا دے جس میں ترے محبوب کی اور تیری رضا ہے یا رب مجھے شیطان کے ہر شر سے بچانا تو ظاہر و باطن کو مرے دیکھ رہا ہے ہم سے بھی وہی کام لے اے مالک و مولا جو کام ترے نبیوں نے ولیوں نے کیا ہے ہم چاہنے والے ترے محبوب کے مولا! وہ بھی ہو عطا جس کا نہیں ہم نے کہا ہے جو بیٹیاں بیٹھی ہیں جواں رشتوں کی خاطر تو نیک سبب کر کہ تو ان کا بھی خدا ہے غافل ہیں ہدایت سے تری جو بھی مسلماں تو ان کو ہدایت دے کہ تو راہ نما ہے مظلوم جہاں پر بھی مسلمان ہیں مولا ان پر بھی کرم ہو کہ یہ دل ان سے جڑا ہے سرکار کے صدقے میں نہ رد ہوں یہ دعائیں ہر شخص کا تو دستِ طلب دیکھ رہا ہے اے مالک و مولا ہو دعا آس کی مقبول یہ بھی ترے محبوب کا اک مدح سرا ہے |
| شانِ محبوبِ وحدت پہ لاکھوں سلام نازِ ختم رسالت پہ لاکھوں سلام تاجدارِ نبوت پہ لاکھوں سلام عدل، تقویٰ، صداقت پہ لاکھوں سلام یا نبی(ص) تیری سیرت پہ لاکھوں سلام ہر طرف تیرے انوار سے چاندنی ہر طرف تیرے کردار سے روشنی ہر طرف تیری گفتار سے دل کشی ہر طرف تیری سرکار سے زندگی تیری پر نور صورت پہ لاکھوں سلام ہر سحر میں ترے اسم سے رونقیں ہر نظر میں ترے اسم سے رفعتیں ہر زباں پر ترے اسم سے لذتیں ہر بدن میں ترے اسم سے نکہتیں اسم اقدس کی حرمت پہ لاکھوں سلام تیرے اعجاز کیا کیا کروں میں بیاں تیری مٹھی نے دی کنکروں کو زباں تیری تحریم سے ہے زمیں، آسماں تیری تجسیم ہے باعثِ دو جہاں تیری عظمت پہ رفعت پہ لاکھوں سلام سب رسولوں نے کی ہے تیری آرزو دشمنوں نے بھی کی ہے تیری جستجو تجھ سے دونوں جہانوں میں ہے رنگ و بو میرا بھی آسمانِ محبت ہے تو تیری رحمت پہ رافت پہ لاکھوں سلام تو ہی بحرِ کرم دستِ جود و سخا کوئی ثانی ترا ہے نہ سایہ ترا اس نے پایا خدا جس کو تو مل گیا لائقِ وصف ہے تو ہی بعد از خدا تیری عظمت پہ رفعت پہ پہ لاکھوں سلام اے حبیبِ خدا خاتمِ مرسلاں اتنی بے انتہا ہیں تری خوبیاں کر سکا ہے بیاں کوئی اب تک کہاں اک نظر آس پر، کر سکے کچھ بیاں تیری چشمِ عنایت پہ لاکھوں سلام |
حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے
کہ جس کے ساتھ یادِ مصطفےٰ ہے
مدینے جا نہیں سکتا تو کیا غم
مرے دل میں مدینہ س رہا ہے
نظر جس پہ شہِ کونین کی ہو
دیا وہ ک کسی سے جھ سکا ہے
نگاہوں میں ستارے جھلملائے
نی(ص) کا تذکرہ ج چھڑ گیا ہے
مٹائے گا اسے کیسے زمانہ
نی کے نام پر جو مر مٹا ہے
وہ رستے سجدہ گاہِ دل نے ہیں
نی کا نقش پا جن پر پڑا ہے
کھی اپنی محت کم نہ کرنا
یہ میری آس ، میرا مدعا ہے
چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
ادشاہوں میں وری نشینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
کون سی آنکھ میں آپ کا غم نہیں کس کا سر آپ کے سامنے خم نہیں
دل سمندر کے پنہاں خزینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
مثل قرآن ہے آپ کی زندگی جزو ایمان ہے آپ کی پیروی
صادقوں غازیوں اور امینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
آپ لطف و عنایت کی معراج ہیں غمزدوں ے سہاروں کے سرتاج ہیں
چاہتوں کے مقدس قرینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
نور ہر اک نظر کو ملا آپ سے گلشن زندگانی کھلا آپ سے
میرے احساس کے آگینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
جن کی کرتا ہے مدحت خدا ہر گھڑی ان کی عظمت میں کیا ہو سکے گی کمی
س کے ہونٹوں پہ ھی س کے سینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
جو قلم آپ کے پیار میں جھک گئے ان کی تحریر پر وقت ھی رک گئے
آس ایسے قلم کی جینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں
جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں
ایسا تو کائنات میں پھول کہیں کھلا نہیں
کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا کا نام لے
ان کی گلی کا راستہ کعہ سے تو جدا نہیں
دامن ہی جس کا تنگ ہو اس کا گلہ فضول ہے
ورنہ درِ رسول سے کس کو سوا ملا نہیں
سینے میں ان کی یاد ہو آنکھوں میں ان کی روشنی
اِس آرزو کے عد تو کوئی ھی التجا نہیں
ھیجے خدا نے ان گنت زم جہاں میں انیاء
لیکن مرے حضور(ص) سا کوئی ھی دوسرا نہیں
اپنے کرم کی ھیک سے مجھ کو ھی سرفراز کر
تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا نہیں
یوں تو کھلے تھے آس کے سینے میں پھول سینکڑوں
آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں
رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی
رات ھر چاندنی رقص کرتی رہی رات ھر آنکھ موتی لٹاتی رہی
رات ھر دل کی دنیا مہکتی رہی رات ھر یاد آقا کی آتی رہی
ہر طرف نور ہی نور تھا جلوہ گر میں تو اپنی خر سے ھی تھا ے خر
کتنا مسحور تھا ش کا پچھلا پہر صح تک رات جادو جگاتی رہی
میرے دامن میں تارے اترتے رہے زندگی میں مری رنگ ھرتے رہے
عکس کیا کیا جنوں کے نکھرتے رہے نعت ج تک زاں گنگناتی رہی
کتنی الجھی ہوئی تھی مری زندگی کر رہی تھی تعاق میرا تیرگی
آپ کے پیار کی ج پڑی روشنی ہر خوشی میرے قدموں میں آتی رہی
آس کتنی ہوئی ان کی چشم کرم ج کھی ڈگمگائے ہیں میرے قدم
رکھ لیا میرے آقا نے میرا ھرم راستہ خود ہی منزل دکھاتی رہی
حل ہے ہر اک مشکل کا
حل ہے ہر اک مشکل کا
یاد نی اور ذکر خدا
صرف مری ہی ات نہیں
دنیا نے تسلیم کیا !
اے ھولے ھالے انساں
جس کا کھا اس کے گن گا
دل ہے تیرا گر تاریک
ذکر خدا کا دیپ جلا
روح تیری گر سونی ہے
صل علیٰ کو ورد نا
صرف نہیں میرا دعویٰ
ولی پیمر س نے کہا
جس نے اطاعت کی ان کی
آس امر وہ شخص ہوا
زندگی کا ہر اک ہے سلسلہ مدینے سے
دھڑکنوں کا سانسوں کا راطہ مدینے سے
تم نے کچھ نہ پایا ہو تو تمہاری قسمت ہے
ہم کو تو ملا ر کا ھی پتا مدینے سے
ارمغاں جو ملتے ہیں خاص خاص ندوں کو
ان سھی کا ہوتا ہے فیصلہ مدینے سے
ہم کو اپنی ہستی سے ھی عزیز تر ہے وہ
دور سے ھی ہے جس کا واسطہ مدینے سے
ظلمتِ زمانہ کو جس نے پاش کر ڈالا
مرحا وہی پایا رہنما مدینے سے
ان کی مہرانی سے ار ہا ہوا یوں ھی
چل دیا مدینے کو آگیا مدینے سے
جن حسین سوچوں سے زندگی مہکتی ہے
آس ان کا ہو تا ہے راطہ مدینے سے
وصف سرکار کے یاں کیجئے
اپنی تحریر جاوداں کیجئے
مشعلیں جھلملائیں آنکھوں کی
مدحتِ شاہِ مرسلاں کیجئے
ھیج کر ان پہ ار ار درود
اپنے سینے کو ضو فشاں کیجئے
ج ھی مرجھائیں پھول ہونٹوں کے
۔"نام نامی کو حرزِ جاں کیجئے"
انکے صدقے میں کیا نہیں ملتا
ڈھنگ سے مدعا یاں کیجئے
ان کی رحمت وہاں وہاں ہوگی
یاد ان کو جہاں جہاں کیجئے
ڈو کر آس ان کی الفت میں
ذہن کو حر یکراں کیجئے
تیرا ذکر صح کا نور ہے تیری یاد رات کی چاندنی
تیری نعت اے شہ دوسرا دل یقرار کی راگنی
مجھے تیری یاد سے واسطہ تیرا پیار ہے میرا راستہ
تیرا نام میری اساس ہے تیرا تذکرہ مری ندگی
میں تو داس ہوں تیرے نام کا میں غلام تیرے غلام کا
مری ات ات کا حسن تو میرا ناز ہے تیری شاعری
جو نی کو میرے قول ہوں وہی کاش میرے اصول ہوں
وہی صر ہو وہی گفتگو وہی عاجزی وہی سادگی
مری آس ھی تیری آس ہو میرا شوق ھی تیرا شوق ہو
میں نفس نفس میں لا شہ کروں تیری ذات کی پیروی
اے شہ عرب شہ انبیاء تیری سب صفات میں چاندنی
اے شہ عر شہ انیاء تیری س صفات میں چاندنی
تو خدا کا پیار ا رسول ہے تیری ات ات میں چاندنی
تیرا پیار جس کا نصی ہے وہ خدا کے کتنا قری ہے
وہ جہاں کہیں ھی چلا گیا رہی اسکی گھات میں چاندنی
تیری یاد کا جو گزرا ہوا میرا دل ھی رشک قمر ہوا
تیری یاد ہی کا ہے معجزہ کھلی مری ذات میں چاندنی
مرے دل کے دشت میں ہر گھڑی تیرا ذکر ہے تیرا فکر ہے
تیرے ذکروفکر نے کی عطا مجھے مشکلات میں چاندنی
جو کھی ھی آس نہ ڈھل سکے جو نہ تیرگی میں دل سکے
در مصطفےٰ کے سوا کہیں وہ نہ آئے ہات میں چاندنی
نظر میں گند خضرا سا کے لے آنا
درِ رسول کی یادیں سجا کے لے آنا
جو مل سکے نہ تمہیں دو جہاں کی وسعت سے
وہ حاجیو! مرے آقا سے جا کے لے آنا
جہاں جہاں پہ تمہاری نظر کرے سجدے
وہاں وہاں کے مناظر سما کے لے آنا
میرا سلام ھی جا کر حضور سے کہنا
جو ا جو ملے اسکو چھپا کے لے آنا
تمہارے ہاتھ جو طیہ کی خاک لگ جائے
اسے ہر ایک نظر سے چا کے لے آنا
یہاں میں نعت کہوں اور وہاں سنی جائے
مرے نصی میں ایسا لکھا کے لے آنا
تڑپ میں ان کی ہے مسرور زندگی کتنی
ذرا سی اور تڑپ آس جا کے لے آنا
یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے ر کی جان سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں
یہ جو میرے کپڑے ہیں جو چھنی ہے ی ی سے اس ردا کا صدقہ ہیں
یہ جو میرے آنسو ہیں شام کے شہیدوں کی ہر دعا کا صدقہ ہیں
ہونٹ اور زاں میری کرلا کے پیاسوں کی التجا کا صدقہ ہیں
یہ جو دست و ازو ہیں مرتضیٰ کے یٹے کی ہر وفا کا صدقہ ہیں
یہ جو میرے چے ہیں اصغر و علی اکر کی صدا کا صدقہ ہیں
پھول چاند تاروں میں دلنشیں نظاروں میں روپ یوں نہیں آیا
ر کے خاص ندوں کی لاڈلے رسولوں کی س ضیا کا صدقہ ہیں
آس نعمتیں ر کی، میرے ر کی جان سے جو جہاں میں اتری ہیں
میں نے تو یہ جانا ہے پنج تنی گھرانے کی س سخا کا صدقہ ہیں
یہ لوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی ے کلی ہے
ترے پیار کی دولت مجھے میرے ر نے دی ہے
تیری یاد کے تصدق تیرے پیار کے میں قراں
تیری ندہ پروری سے مری آنکھ شنمی ہے
مہہ و مہر کو ھی اتنی نہ ہوئی نصی شاید
جو تیری ضیا سے ہر سو مرے چاندنی کھلی ہے
تیرا نام لے کے سونا تجھے یاد کر کے رونا
یہی مری زندگی ہے یہی مری ندگی ہے
تیری نعت کے کرم نے اسے معتر کیا ہے
کہاں آس ہے وگرنہ کہاں اس کی شاعری ہے
ملے جس سے قل کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے
نہیں جس میں یاد حضور(ص) کی وہ تمام عمر فضول ہے
تجھے دل میں جس نے سا لیا تجھے جس نے اپنا نا لیا
یہ جہان اس کی نگاہ میں فقط اک سرا ہے دھول ہے
جو ترا ہوا وہ مرا ہوا جو ترا نہیں وہ مرا نہیں
یہ کلام حق کا ہے فیصلہ یہ خدا کا واضح اصول ہے
تری رفعتیں کروں کیا یاں ترے معترف سھی انس و جاں
ترا تذکرہ ہے جہاں جہاں وہاں رحمتوں کا نزول ہے
کھی اس کا رنگ نہ اڑ سکا کھی اس کی اس نہ کم ہوئی
مری شاعری کی جین پر جو تمہاری نعت کا پھول ہے
اسے تخت و تاج سے کیا عرض اسے مال و زر سے ہے کام کیا
جو پڑا ہے طیہ کی خاک پر جو گدائے کوئے رسول ہے
وہی شمعِ محفلِ کن فکاں وہی دو جہانوں کا ناز ہے
جہاں کوئی آس نہ جا سکا وہاں ان کے قدموں کی دھول ہے
گلشن گلشن ، صحرا صحرا ، مہکا مہکا ، آپ کا نام
پرت پرت ، ادل ادل ، رکھا رکھا، آپ کا نام
جنگل جنگل، وادی وادی، قصہ قصہ، آپ کا نام
تپتی زمیں پر رسی رحمت قیصر و کسریٰ خاک ہوئے
ملک عر میں جس دن اترا اجلا اجلا آپ کا نام
کنکر کنکر کی دھڑکن سے سدرہ کی معراج تلک
سینہ سینہ، محفل محفل، جلوہ جلوہ، آپ کا نام
آپ کی اتیں پیاری پیاری ماشاء اللہ سحان اللہ
قطرہ قطرہ، چشمہ چشمہ، دریا دریا، آپ کا نام
نام خدا کے ساتھ ہے شامل لوح فلک سے ارض تلک
آنگن آنگن ، گوشہ گوشہ ، قریہ قریہ ، آپ کا نام
جھلمل جھلمل تارے چمکے میری آس کی جھیلوں پر
من کے اندر ج ج مہکا پیارا پیارا آپ کا نام
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے
ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذات میں
آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے
ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ ہوا
دھڑکنیں مل گئیں میرے افکار کو سنگ کے درمیاں پھول کھلنے لگے
آپ آئے تو تہذی روشن ہوئی اور تمدن میں اک انقلا آگیا
آدمیت کو انسانیت مل گئی گلستاں گلستاں پھول کھلنے لگے
آس تاریکیوں میں ھٹکتا رہا، شکر صد شکر اے دامن مصطفےٰ!
تو ملا تو قلم کو ملی روشنی اس کی زیر زاں پھول کھلنے لگے
ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے
سوزِ عشق نی میری میراث ہو کاش زندہ رہوں میں اسی کے لیے
ان کے در سے مجھے سرفرازی ملے مال و اسا سے ے نیازی ملے
میں جیوں تو جیوں س انہی کے لیے میں مروں تو مروں س انہی کے لیے
رشک کرتا رہے مجھ پہ سارا جہاں مجھ سے مانگیں پنہ وقت کی آندھیاں
میں غلامِ غلامانِ احمد (ص) رہوں اس سے ڑھ کر ہے کیا آد می کے لیے
کاش یوں ہی مرے دل کا موسم رہے میری آنکھوں کی ارش کھی نہ تھمے
زندگی میں وہ پل ھی نہ آئے کھی میں انھیں ھول جاؤں کسی کے لیے
ذات والا کا ہے مجھ پہ کتنا کرم میں کہاں اور کہاں مدحِ شاہِ امم
شکر تیر ا مجھے دورِ ے مہر میں ! چن لیا تو نے نعتِ نی کے لیے
دونوں عالم کو تخلیق ر نے کیا ان کی پہچان کا ہے یہ س سلسلہ
صرف مقصود ہوتی اگر ندگی کم ملائک نہ تھے ندگی کے لیے
رنگ و و مجھ سے کرنے لگے گفتگو اک اجالا سا رہنے لگا چار سو
آس ج سے کیا ذہن کو ا وضو میں نے سرکار کی شاعری کے لیے
ترا تذکرہ مری ندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں
اے حی ر اے شہِ عر ترا پیار ہے میرا آسماں
تری ذاتِ پاک کے فیض سے سھی کائنات میں رنگ ہے
تری شان زینتِ زندگی تیرا ذکر رونقِ دو جہاں
مرے دل میں ایک خدا رہا تو ملا تو کفر ہوا ہوا
تری ذاتِ پاک کے معجزے میں کہاں کہاں نہ کروں یاں
کڑی دھوپ کا یہ کٹھن سفر مجھے جاں و دل سے عزیز تر
تری یاد جس میں ہے ہم سفر ترا ذکر جس میں ہے سائاں
جو ملا وہ تیرے س ملا، جسے تو ملا اسے ر ملا
سھی فیصلوں پہ تو مہر ہے ترے در کے عد ہے در کہاں
مرا دل دلوں کا ہے ادشہ کہ ملی اسے دولتِ ثنا
وہ نصی کا ہے غری دل تیری یاد جس میں نہیں نہاں
تیری نعت پاک کے پھول جو مری چشمِ تر سے ہیں شنمی
یہ ترے ہی پیار کے رنگ ہیں مری آس، مان کے ترجماں
نازِ کریا ہے تو فخر انیاء ہے تو
وجہِ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو
ے وفا زمانے کو تو نے الفتیں انٹیں
کوئی ھی نہ تھا جس کا اس کا آسرا ہے تو
روشنی ترا پرتو چاندنی ترا دہوون
کیا مثال دوں تیری کیا نہیں ہے کیا ہے تو
قدر والی ش میں جو میں نے ر سے مانگی تھی
کپکپا تے ہونٹوں سے وہ مری دعا ہے تو
زندگی تری اندی وقت ہے ترا خادم
جو ھی ہے زمانے میں اس کا مدعا ہے تو
تذکرے ترے سن کر ان کے کھل اٹھیں چہرے
جن کی لو لگی تجھ سے جن کا دل را ہے تو
چاندنی ، شفق ، شنم ، کہکشاں ، صا ، خوشو
آس کیا لکھے تجھ کو س سے ماورا ہے تو
مدینے کی فضاؤں میں کھر جائیں تو اچھا ہو
ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو
نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا
جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو
مری نم ناک آنکھوں کا یہی ا تو تقاضہ ہے
تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا ہو
جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی ہیں
وہ اوروں کے دلوں میں ھی اتر جائیں تو اچھا ہو
جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمد(ص) سے
رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا ہو
نامِ مصطفےٰ ہو امن یا ر پھر کراچی میں
مرے کشمیر کے ھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو
میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں
وہ جذے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو
وہاں کیسی محت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو
جینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو
خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی !!
نی کی نعت سے ہم ھی سنور جائیں تو اچھا ہو
اسی ہی آس میں رہتی ہیں اکثر منتظر آنکھیں
لاوا آئے، ہم ا چشمِ تر جائیں تو اچھا ہو
دیارِ روح میں حسن و جمال ہوتا ہے
جو اس چراغ کا پروانہ ن کے رہ جائے
اسے نہ کھال نہ جاں کا خیال ہوتا ہے
سخاوتوں کے خزانے نثار ہوتے ہیں
عقیدتوں کا سفر لازوال ہوتا ہے
پھر ایک ار زیارت سے جاں مشرف ہو
لوں پہ شام و سحر یہ سوال ہوتا ہے
تمام وقت کے حاکم اسے سلام کریں
تمہاری راہ میں جو پائمال ہوتا ہے
گزر کے اس کی محت کے امتحانوں سے
کوئی حسین (ع) تو کوئی لال ہوتا ہے
نی کا ہو کے جسے آس موت آ جائے
وہ شخص مرتا نہیں لازوال ہوتا ہے
لوں نام نی قل ٹھہر جائے اد سے
صد شکر یہ اعزاز ملا ہے مجھے ر سے
دنیا ہی دل دی ہے مرے ذوق نے میری
میں صاح کردار ہوا تیرے س سے
اے سرورِ کونین تیرے در کے تصدق
ملتا ہے یہاں س کو سوا اپنی طل سے
احسان ترا کیسے ھلا دوں شہِ والا
پہچان ہوئی ر کی ہمیں تیرے س سے
مشکل کوئی مشکل نہیں ٹھہری مرے آگے
مدحت شہِ لولاک کی ہاتھ آئی ہے ج سے
اے خالقِ کونین دعا ہے مری تجھ سے
ٹوٹے نہ کھی راطہ اس عالی نس سے
کرتا نہیں دنیا میں اصولوں کا وہ سودا
ہے آس محت جسے سلطانِ عر سے
نی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے
گلوں میں کلیوں میں رنگ و نگہت ہے چاند تاروں میں روشنی ہے
جو آپ آتے نہ اس جہاں میں وجودِ کونین ھی نہ ہوتا
س آپ کے دم قدم سے آقا جہاں کی محفل سجی ہوئی ہے
ہوا ہے ظلمت کا چاک سینہ گرے ہیں جھوٹے خدا زمیں پر
کرن نوت کی پھوٹتے ہی جہاں کی قسمت دل گئی ہے
کمالِ اہلِ ہنر سے اعلیٰ خیال اہلِ نظر سے الا
مثال جس کی کہیں نہیں وہ جمال حسنِ محمدی ہے
شیر ھی ہیں نذیر ھی ہیں سراج ھی ہیں منیر ھی ہیں
رؤف ھی ہیں رحیم ھی ہیں انہی کی دو جگ میں سروری ہے
کہیں پہ یٰسین کہیں پہ طہٰ کلام حق ہے ترا قصیدہ
تری ہر اک ات حکم ری خدا کا تو لاڈلا نی ہے
خدا سے جو مانگنا ہے مانگو ہے آس ہر سو عطا کی ارش
خدا نہ ٹالے گا ات کوئی کہ آج میلاد کی گھڑی ہے
دیوانہ وار مانگیے ر سے اٹھا کے ہاتھ
آئیں گے پھول نعت کے تم تک صا کے ہا تھ
لکھنے سے پہلے نعت کے آنکھیں ہوں ا وضو
آئیں گے ت ہی غی سے گوہر ثنا کے ، ہا تھ
نتی نہیں ہے ات عطا کے نا کھی
آتا نہیں ہے کچھ ھی سوائے عطا کے ہا تھ
اک چشم التفات ادھر ھی ذرا حضور(ص)
امت کی سمت ڑھ گئے مکر و ریا کے ہا تھ
الفت ملی ہے آپ کی س کچھ عطا ہوا
ا کیا کمی رہی جو اٹھائیں دعا کے ہا تھ
سیلا عشقِ شافعِ محشر ہے میرے گرد
"دیکھے تو مجھ کو نار جہنم لگا کے ہاتھ"
وہ فیصلے خدا کی رضا آس ن گئے
جن فیصلوں کے حق میں اٹھے مصطفےٰ کے ہا تھ
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
تیری مدحت کے چرچے پھر ھی آقا کم نہیں ہوں گے
ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا
تیری توصیف ت ھی ہو گی ج آدم نہیں ہوں گے
توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے
وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے
کروڑوں وصف تیرے لکھ گئے اور لکھ رہے ھی ہیں
کروڑوں اور لکھیں گے مگر یہ کم نہیں ہوں گے
خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا ہے
وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے
کریں گے کس طرح سے سامنا وہ روز محشر کا
تاؤ آس جن کے سرورِ عالم نہیں ہوں گے
پنہاں ہیں تیری ذات میں ر کی تجلیات
ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے ثات
ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے معجزات
کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک پر
احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات
پژ مردہ صورتوں کو ملی تجھ سے زندگی
نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے مشکلات
ظلمت کدوں میں نور کے چشمے ال پڑے
رحمت سے تیری ٹل گئی ظلم و ستم کی رات
تاروں کو ضو فشانیاں تجھ سے ہوئیں نصی
پھولوں کی نازکی پہ تیری چشمِ التفات
ہر شے میں زندگی کی کرن تیری ذات سے
افشا یہ راز کر گئی معراج کی وہ رات
اپنے دل و نگاہ کے آئینے صاف رکھ
گر دیکھنے کی چاہ ہے تجھ کو نی کی ذات
کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا سے ڈر
الا ہے تیری سوچ سے سرکار کی حیات
انکی محتوں کا گزر ہے خیال میں
یونہی نہیں ہیں آس کی ایسی نگارشات
ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں
حضور(ص) آپ دل کے نگر میں رہیں
مری سوچ کے دائروں میں رہیں
خیالات کے ام و در میں رہیں
گماں فرقتوں کا میں کیسے کروں
کہ ج آپ(ص) ہر سو نظر میں رہیں
مرے حرف میں میرے الفاظ میں
مرے شعر میرے ہنر میں رہیں
مرے دن کی مصروفیت میں ہوں آپ
مری رات کے ہر پہر میں رہیں
مری ش کی ہو اتدا آپ سے
مری انتہائے سحر میں رہیں
تمنا ہے یہ آس وقتِ نزع
حضور آپ ہر سو نظر میں رہیں
ہم ے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے
اسلام کا شعور ملا ہے حضور (ص) سے
آدم کو اپنی ذات کی پہچان تک نہ تھی
انسان آدمی تو ہوا ہے حضور (ص)سے
ے کیف ے سرور تھی ے نور زندگی
اس میں سکوں کا رنگ ھرا ہے حضور(ص) سے
ہوں اہلِ یتِ پاک یا اصحا مصطفےٰ
وحدت کا س نے جام پیا ہے حضور سے
کشمیر ہو عراق، فلسطیں کہ کوئی ملک
ہر کلمہ گو تو آس جڑا ہے حضور (ص)سے
پیارے نی کی اتیں کرنا اچھا لگتا ہے
انکی چاہ میں جی جی مرنا اچھا لگتا ہے
ٹھنڈی ٹھنڈی مہکی مہکی ہلکی ہلکی آہٹ سے
یادِ نی کا دل میں اترنا اچھا لگتا ہے
ج ہستی کی چاہت کا ہے محور تیری ذات
پل پل تیرا ہی دم ھرنا اچھا لگتا ہے
میں ھی ثنا کے پھول سمیٹوں تم ھی درود پڑھو
پتھر دل سے پھوٹتا جھرنا اچھا لگتا ہے
تجھ سے میری من نگری کے روشن شام و سحر
تیرے نام کی آہیں ھرنا اچھا لگتا ہے
غوث، قلندر اور ولی ہیں تیرے عشق کے روگی
س کو تری توقیر پہ مرنا اچھا لگتا ہے
ماتھے پر امید کا جھومر مانگ میں آس کی افشاں
ایسا مجھ کو ننا سنورنا اچھا لگتا ہے
اے قسیم راحتِ دو جہاں مری سانس سانس محال ہے
تو خدائے پاک کا راز داں تیرا ذکر زینتِ دو جہاں
تیرے وصف کیا میں کروں یاں تیری ات ات کمال ہے
میں ہوں ے نوا تو ہے ادشہ میرا تاجِ سر تیری خاکِ پا
میں ہوں ایک ھٹکی ہوئی صدا تری ذات حسنِ مآل ہے
تو ہی فرش پر تو ہی عرش پر تیرا یہ ھی گھر تیرا وہ ھی گھر
جہاں ختم ہوتا ہے ہر سفر تیرا اس سے آگے جمال ہے
تیری ذات عالی شہ عر کہاں میں کہاں یہ مری طل
جو ملا، ملا وہ ترے س مرا اس میں کیسا کمال ہے
نہیں تیرے عد کوئی نی ہوئی ختم تجھ پر پیمری
تیری ذاتِ حسن و جمال کی نہ نظیر ہے نہ مثال ہے
میں یہ کیوں کہوں کہ غری ہوں شہ دوسرا کے قری ہوں
میں تو آس روشن نصی ہوں غمِ مصطفےٰ مری ڈھال ہے
سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زاں سے کھرنے لگے
مدحتِ مصطفےٰ تیرا احسان ہے تجھ سے کیا کیا مقدر سنورنے لگے
یہ تو ان کی عنایات کی ات ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری اوقات ہے
جس کا دنیا میں پرسان کوئی نہ تھا اس کے دامن میں تارے اترنے لگے
یونہی مجھ پر کرم اپنا رکھنا سدا اے مرے چارہ گر اے شہ دوسرا
تیری چشمِ کرم جس طرف کو اٹھی اس طرف نور سینوں میں ھرنے لگے
قط و ادال غوث و ولی متقی س کی محسن ہے نورِ تجلی تیری
روشنی تیرے کردار کی پا کے س سینہ ٔ سنگ کو موم کرنے لگے
عشق سچا اگر ہو تو دیدار کی قید کوئی نہیں فاصلے کچھ نہیں
ہو گئی جن کے دل کو صارت عطا لمحہ لمحہ وہ دیدار کرنے لگے
کچھ عج وضع سے کر رہے ہیں سر تیرے عشاق س اپنے شام و سحر
جیتا دیکھا کسی کو تو جینے لگے مرتا دیکھا کسی کو تو مرنے لگے
اے خدا آس کو وہ عطا نعت کر جو منور کرے س کے قل و نظر
ے سہاروں کو تسکین جو خش دے غم کے ماروں کے جو زخم ھرنے لگے
ل کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ ے نور کو روشنی مل گئی
ہاتھ اٹھاوں میں ا کس دعا کے لیے انکی نست سے ج ہر خوشی مل گئی
ذوق میرا عادت میں ڈھلنے لگا زاویہ گفتگو کا دلنے لگا
ساعتیں میری پرکیف ہونے لگیں دھڑکنوں کو مری ندگی مل گئی
ناز اپنے مقدر پہ آنے لگا ہر کوئی ناز میرے اٹھانے لگا
دھل گیا آئینہ میرے کردار کا ج سے ہونٹوں کو نعتِ نی مل گئی
ان کی چشمِ عنایت کا اعجاز ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری پرواز ہے
خامیاں میری نتی گئیں خویاں زندگی کو مری زندگی مل گئی
میری تقدیر گڑی نائی گئی ات جو ھی کہی کہلوائی گئی
میں نے تو صرف تھاما قلم ہاتھ میں جانے کیسے کڑی سے کڑی مل گئی
زندگی ج سے ان کی پناہوں میں ہے ایک تاندگی سی نگاہوں میں ہے
مجھ کو اقرار ہے اس کے قال نہ تھا ذاتِ وحدت سے جو روشنی مل گئی
مدحتِ مصطفےٰ ہے وہ نورِ میں جس کا ثانی دو عالم میں کوئی نہیں
آس اس کی شعاعوں کے ادراک سے راہ ھٹکوں کو ھی رہری مل گئی
اپنی اوقات کہاں، ان کے س سے مانگوں
ر ملا ان سے تو کیوں ان کو نہ ر سے مانگوں
ان کی نست ہے ہت ان کا وسیلہ ہے ہت
کیوں میں کم ظرف نوں ڑھ کے طل سے مانگوں
جس ضیا سے صدا جگ مگ ر ہے دنیا من کی
اس کی ہلکی سی رمق ماہِ عر سے مانگوں
آندھیاں جس کی حفاظت کو رہیں سرگرداں
پیار کا دیپ وہ ازارِ اد سے مانگوں
کوئی اسلو سلیقہ نہ قرینہ مجھ میں
سوچتا ہوں انھیں کسی طور سے، ڈھ سے مانگوں
کارواں نعت کا اے کاش رواں یوں ہی رہے
اور میں نِت نئے عنوان اد سے مانگوں
آس آاد رہے شہر مری الفت کا
ہر گھڑی اس کی خوشی دستِ طل سے
قرارِ جاں ن کے زندگی میں انہی کی خوشو سی ہوئی ہے
خدائے واحد کی ن کے رہاں حضور آئے ہیں اس جہاں میں
دکھوں سے جلتی ہوئی زمیں پھر ہر ایک غم سے ری ہوئی ہے
نجانے کیسا کمال دیکھا نی(ص) کا جس نے جمال دیکھا
حواس گم سم نگاہ حیراں زاں کو چپ سی لگی ہوئی ہے
سمندروں کی تہوں سے لے کر مقام سدرہ کی رفعتوں تک
مرے نی کے کرم کی چادر ہر اک جہاں پر تنی ہوئی ہے
تمام چاہت کے روگیوں کا عجی ہم نے کمال دیکھا
جدا جدا صورتیں ہیں لیکن دلوں کی دھڑکن جڑی ہوئی ہے
وہی حقیقت میں زندگی ہے وہی حقیقت میں ندگی ہے
جو میرے سرکار کی محت کے راستوں پر پڑی ہوئی ہے
انگشتری میں نگینہ جیسے زمیں کے دل پر مدینہ جیسے
حضور(ص) اس طرح آس تیری، مری نظر میں جڑی ہوئی ہے
رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا
میرے ر نے کیا مجھ کو منص عطا میں مدینے چلا میں مدینے چلا
میری مدت کی یہ آس پوری ہوئی رشک کرنے لگا مجھ پہ ہر آدمی
ہونے والی ہے ا زندگی، زندگی سیکھنے زندگی کے قرینے چلا
میرے گھر ملنے والوں کی یلغار ہے آج س کو مری ذات سے پیار ہے
آرزوؤں کے غنچوں کی مہکار ہے کس مقدس مارک مہینے چلا
ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ میرے لیے جا کے روضے پہ رکھنا دعا کے دیے
اور یہ کہنا کہ چشم کرم اک ادھر ہر کوئی جام کوثر کے پینے چلا
سوچتا ہوں سفر کا ارادہ تو ہے شوق جانے کا ھی کچھ زیادہ تو ہے
عشق کا معصیت پہ لادہ تو ہے پر میں کیا ساتھ لیکر خزینے چلا
میں نے پورے کیے کیا حقوق ا لعاد اور مٹائے ہیں کیا جگ سے فتنے فساد
کیا مسلماں میں پیدا کیا اتحاد کون سا مان لے کر مدینے چلا
آس کیا منہ دکھاؤں گا سرکار کو اپنے ہمدرد کو اپنے غم خوار کو
کیوں گراؤں میں فرقت کی دیوار کو کس لیے ہجر کے زخم سینے چلا
مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے
مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم رہے
میں لکھوں جو نعت حضور(ص) کی دلِ مضطر کے سرور کی
کھی چشم ناز لند ہو کھی سر نیاز سے خم رہے
مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی دے
میرا حرف حرف دعا نے مری آہ آہ قلم رہے
یہ یقین ہے جو میں مر گیا تو کہیں گے س یہ ملائکہ
یہ ہے شاعرِ شاہِ دوسرا ذرا اس کا پاس، ھرم رہے
یہ دعا ہے آس حضور(ص) کا کھی دل سے پیار نہ ہو جدا
مری زندگی کی جین پر سدا ان کا نام رقم رہے
آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں
آپ کا ذکر نہ ہو جہاں ایسا کوئی جہاں نہیں
ایک جاں سرور آگ سلگی ہے میری ذات میں
ہے یہ عجی ماجرا راکھ نہیں دھواں نہیں
جن فیصلوں پہ آپ کی مہر ثت ہو گئی
اس کے عد ا خدا کوئی ھی این و آں نہیں
اوصافِ پاک آپ کے جس سے تمام ہوں یاں
ایسا کوئی قلم نہیں ایسی کوئی زاں نہیں
واعظ کی ات ھی پرکھ اپنے ھی من کی ات سن
جس سر سے اٹھ گئے وہ ہاتھ اس کی کہیں اماں نہیں
حضرت لال دے گئے آس یہ ہم کو فلسفہ
جس کے نا ھی ہو سحر، ایسی اذاں، اذاں نہیں
ہے یہ درارِ نی خاموش رہ
چپ کو ھی ہے چپ لگی خاموش رہ
ولنا حدِ اد میں جرم ہے
خامشی س سے ھلی خاموش رہ
ان کے در کی مانگ ر سے چاکری
تجھ کو جنت کی پڑ ی خاموش رہ
ہے ذریعہ ہترین اظہار کا
اک زانِ خامشی خاموش رہ
دل سے ان کو یاد کر کے دیکھ تو
پاس ہیں وہ ہر گھڑی خاموش رہ
ھیگی پلکیں کر نہ دیں رسوا تجھے
ضط کر دیوانگی خاموش رہ
جیسے کی ہے میرے آقا نے سر
ویسے تو کر زندگی خاموش رہ
جس نے ھی دیکھا ہے جلوہ آپ کا
اس کو ہی چپ لگ گئی خاموش رہ
نعت لکھواتی ہے کوئی اور ہی ذات
ورنہ جرأت آس کی خاموش رہ
ہر طرف ل پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے
جشنِ میلاد ہے مصطفےٰ کا کیا معطر معطر گھڑی ہے
آج سن لی ہے س کی خدا نے کھل گئے رحمتوں کے خزانے
جتنا دامن میں آئے سمیٹو ہر طرف رحمتوں کی جھڑی ہے
چھٹ گئیں ظلمتوں کی گھٹائیں کیسے دن آج کا ھول جائیں
عید میلاد آؤ منائیں کون سی عید اس سے ڑی ہے
ہم سے کہتا ہے خود ر اکر میں ثنا خوان ہوں مصطفےٰ کا
تم ھی ھیجو درود ان پہ ہر دم ان کی مدحت مری ندگی ہے
اک خدا اک رسول ایک قرآں ایک کیوں کر نہیں پھر مسلماں
چھوڑ دو فرقہ ندی خدارا اس نے جاں کتنے ندوں کی لی ہے
ہر مسلمان ماتم کناں ہے گنگ انسانیت کی زاں ہے
آپ محسن ہیں انسانیت کے آپ کے در سے ہی لو لگی ہے
اپنے در پر ہی رکھنا خدارا غیر کا در نہیں ہے گوارا
آس مانا کہ عاصی ہت ہے پر حضور آپ کا امتی ہے
ذکرِ نبی(ص) اسرارِ محبت صلی اللہ علیہ وسلم
ذکرِ نی(ص) اسرارِ محت صلی اللہ علیہ و سلم
حق کا پیمر ختم رسالت صلی اللہ علیہ و سلم
صح ازل کی جان ھی ہے و ہ شام اد کی شان ھی ہے وہ
اس کی ثنا گو ہر اک ساعت صلی اللہ علیہ و سلم
ذکر نی میں دل کی طر ہے دل کی طر خوشنودی ر ہے
ر کی رضا سرکار کی مدحت صلی اللہ علیہ و سلم
کس کے تصدق چمکا ستارا چاند زمیں پر ر نے اتارا
ہم آزاد ہیں کس کی دولت صلی اللہ علیہ و سلم
وحدت کی پہچان اسی میں خشش کا سامان اسی میں
کرتے رہو یہ ذکر سعادت صلی اللہ علیہ و سلم
پاکستان کا پیارا خطہ آپ کی ہے نعلین کا صدقہ
آپ کے صدقے پائی یہ جنت صلی اللہ علیہ و سلم
قرآں ہو دستور ہمارا چمکے آس نصی کا تارا
رہر ہو ج آپ کی سیرت صلی اللہ علیہ و سلم
میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو
میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو
یہی نام میرا علاج ہے یہی نام لیتے رہا کرو
مرے ہم سخن مرے ساتھیو مرے مونسو مرے وارثو
تمہیں مجھ سے اتنا ہی پیار ہے مرے ساتھ صلِ علیٰ پڑھو
کوئی چھیڑو قصے حضور کے گریں ت زمیں پہ غرور کے
کھلیں ا عقل و شعور کے دل مضطر کو قرار ہو
مری زندگی ھی ہو زندگی مری شاعری ھی ہو شاعری
کھلے دل کے شہر میں چاندنی درِ مصطفےٰ پہ چلیں چلو
مری چشمِ ناز کا نور وہ مری نضِ جاں کا سرور وہ
نہیں پل ھی مجھ سے ہیں دور و ہ مری دھڑکنوں کی صدا سنو
وہ خدا کا عکسِ جمال ہیں وہی رشکِ او ج کمال ہیں
وہ تو آپ اپنی مثال ہیں کوئی تم نہ ان کی مثال دو
جسے ان کی ایک جھلک ملی وہ ہر ایک غم سے ہوا ری
اسے آس اس طرح چپ لگی کہ نہ جیسے منہ میں زان ہو
ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے
ہر اک ل پہ نعت نی کے ترانے ہر اک ل پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے
ہمارے نی جس میں تشریف لائے وہ رحمت کا پر نور دن آگیا ہے
درودوں کے تحفے سلاموں کے ہدیے دعاؤں کے منظر عقیدت کے نعرے
مقدس مقدس ہر اک سمت جلوے معطر معطر ہر اک سو فضا ہے
عطاؤں کی ارش دعا کی گھڑی ہے ہر اک شخص کی آپ سے لو لگی ہے
ہر اک آنکھ میں آنسوؤں کے سمندر ہر اک دل میں تعظیم کا در کھلا ہے
خدا کی خدائی کے مختار ہیں وہ تمام انیاء کے ھی سردار ہیں وہ
خدا کی خدائی طلگار ان کی مقام ان کو ر نے عطا وہ کیا ہے
اٹھے گی وہ چشمِ کرم غم کے مارو انہیں دل کی گہرائیوں سے پکارو
نچھاور کرو پھول ان پہ ثنا کے اسی میں ہی آس اپنے ر کی رضا ہے
تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میںکھلا رہے
تری یاد کا سدا گلستاں مری نضِ جاں میں کھلا رہے
مری سانس جس سے مہک اٹھے وہ قرار دل میں سا رہے
میں پڑا رہوں تری راہ میں تری چاہتوں کی پناہ میں
مجھے ٹھوکروں کی نہ فکر ہو مرا زخم زخم ہرا رہے
مری زندگی کا ہر ایک پل ترے پیار سے نے ا عمل
تری چاہتوں پہ جیوں مروں ترے غم کی دل میں جلا رہے
رہے تیری یاد سے واسطہ کوئی اور نہ ہو مرا راستہ
مرے شعر میری قا نیں مرا رنگ س سے جدا رہے
یہی آس ہے یہی آرزو تیری ہر گھڑی کروں گفتگو
مری آنکھ ہو سدا ا وضو یونہی مجھ پہ فضلِ خدا رہے
نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے
نور سے اپنے ہی اک نور سجایا ر نے
پھر اسی نور کو محو نایا ر نے
ان کی ہر ات میں رکھ رکھ کے محت کی مٹھاس
پیکرِ خُلق کا دیدار کرایا ر نے
انیا ج تیرے دیدار کو ے تا ہوئے
پھر امامت کو سرِ عرش لایا ر نے
پیکر حسن میں س خویاں اپنی ھر کر
تجھ کو قرآن کی صورت میں نایا ر نے
تیری سیرت کی زمانے سے گواہی لینے
دیکھنے والی نگاہوں کو دکھایا ر نے
اپنی قدرت کو دو عالم پہ اجاگر کرنے
ناز تخلیق کو پھر پاس لایا ر نے
اور ھی یش ہا نعمتیں دی ہیں لیکن
دے کے محو یہ احسان جتایا ر نے
شکر اس ذات کا جتنا ھی کروں کم ہے آس
مجھ کو ھی نعت کا انداز سکھایا ر نے
بڑھتی ہی جارہی ہے آنکھوں کی بے قراری
ڑھتی ہی جا رہی ہے آنکھوں کی ے قراری
یا ر دکھا دے پھر سے صورت نی کی پیاری
پھر دل کی انجمن میں جھنے لگی ہیں شمعیں
پھر ہجر کی تڑپ میں گزرے گی رات ساری
جس میں کھلیں تمہاری الفت کے پھول آقا
اس دن کے میں تصدق اس رات کے میں واری
ان راستوں کے ذرے نتے گئے ستارے
جن راستوں سے گزری سرکار کی سواری
ہم کو ھی اس نظر میں رہنے کی آرزو ہے
جس کی ضیاء سے جگمگ ہے کائنات ساری
مہکار ٹ رہی ہے جس میں محتوں کی
وہ ہے نگر تمہارا وہ ہے گلی تمہاری
جینے کی آس دل میں کچھ اور ڑھ گئی ہے
ج سے ہوئی ہیں نعتیں میرے لوں پہ جاری
دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت
دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت
چومتا جاتا ہے کاغذ کو حرم کی صورت
اس پہ تحریر ہوئی جاتی ہے آقا کی ثناء
ن رہی ہے مرے عصیاں پہ کرم کی صورت
آپ کا پیار سنھالا جو نہ دیتا مجھ کو
اور ہی ہوتی مرے رنج و الم کی صورت
شہر تو شہر ہے شیدائی مرے آقا کے
"دشت میں جائیں تو ہو دشت ارم کی صورت"
مدح سرکار میں آنکھوں کا وضو لازم ہے
خود خود نتی ہے پھر نعت رقم کی صورت
ہر کوئی اپنی نگاہوں پہ ٹھاتا ہے مجھے
اور کیا ہوتی ہے الطاف و کرم کی صورت
آس سرکار کا دامان شفاعت ہو نصی
ت ہی محشر میں نے میرے ھرم کی صورت
وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے ھی ڑھ کے ہے
تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا
تو کہا یہ اس نے ھی راز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا زمیں سے کہ معتر درِ مصطفےٰ سی کوئی جگہ
تو کہا یہ اس نے ھی ناز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا فلک سے کہ رفعتیں کسی اور نی کو ھی یوں ملیں
تو کہا یہ صیغۂ راز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا زمیں سے صعوتیں کسی اور کی آل کو یوں ملیں
تو کہا یہ سوز و گداز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
یہ کہا فلک سے کہ کہکشاں کسی اور کی گردِ سفر ھی ہے
تو کہا یہ آس کو ناز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں
صح ھی آپ(ص) سے شام ھی آپ (ص)سے
میری منسو ہر اک گھڑی آپ (ص)سے
میرے آقا میرا تو یہ ایمان ہے
دونوں عالم کی رونق ہوئی آپ (ص)سے
آپ میرے تصور کی معراج ہیں
میرے کردار میں روشنی آپ (ص)سے
گر گیا تھا خود اپنی نظر سے شر
آج اس کو ملی رتری آپ(ص) سے
آپ(ص) خالق کی ے مثل تخلیق ہیں
کیسے لیتا کوئی رتری آپ(ص) سے
کہکشاں ہی نہیں ان کی گردِ سفر
چاند کو ھی ملی چاندنی آپ(ص) سے
قر میں آس عشق نی ساتھ ہو
اے خدا ا لتجا ہے یہی آپ (ص)سے
ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا
لوں پہ ذکر مرے صح و شام ہے تیرا
جو تم نہ ہوتے تو ستی نہ عالم ہستی
وجود کون و مکاں اہتمام ہے تیرا
کوئی نہیں تیرا ہمسر نہ کوئی سایہ ہے
سروں پہ سایہ ہمارے دوام ہے تیرا
دلوں میں عشق نی کا نہ دیپ جلتا ہو
تو پھر فضول سجود و قیام ہے تیرا
تمہارے در کا ہے دران جرائیل امیں
"مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا"
قلم دیا مجھے اپنے نی کی مدحت کا
مرے کریم یہ کیا کم انعام ہے تیرا
اسے ھی خسرو و محو سا ثناء گو کر
یہ امتی ھی تو آقا غلام ہے تیرا
وہ ایک نقطہ جسے خود خدا ہی جانتا ہے
خدا کے عد جدا سا مقام ہے تیرا
ملی ہے آس کو جس نام سے پذیرائی
وہ نام نامی تو خیر الانام ہے تیرا
کاش منظور مدینے کا سفر ہو جاتا
لوگ مجھ کو ھی ڑے چاؤ سے ملنے آتے
محترم س کی نظر میں میرا گھر ہو جاتا
میں ھی چل پڑتا دل و جاں کو نچھاور کرنے
پورا مقصد مرے جینے کا اگر ہو جاتا
لیلۃ القدر ہر اک رات مری ہو جاتی
عید جیسا میرا ہر روز سر ہو جاتا
مسجد نوی میں دل کھول کے لکھتا نعتیں
میرا ہر شعر وہاں جا کے امر ہو جاتا
میرا ظاہر ھی عقیدت سے منور ہوتا
میرا اطن ھی محت کا نگر ہو جاتا
مہک اٹھتے مرے ہونٹوں پہ درودوں کے گلا
میرا دامانِ طل اشکوں سے تر ہو جاتا
زندگی میں نیا اک موڑ اجاگر ہوتا
میری آنکھیں مرا دل آپ کا گھر ہو جاتا
اتنا مشکل تو نہ تھا ر کو منا لینا آس
حوصلہ سامنا کرنے کا اگر ہو جاتا
آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول محترم
میری ہر اک سوچ پر ہے آپ کا لطف و کرم۔ اے رسول محترم
آپکا ذکر مقدس ہر دعا کا تاج ہے۔ غمزدوں کی لاج ہے
اسکے ن یکار ہر اک ندگی ر کی قسم۔ اے رسول محترم
آپ آئے کائنات حسن پر چھایا نکھار۔ اے حی کردگار
زم ہستی کے ہیں محسن آپکے نقش قدم۔ اے رسول محترم
آپ کے اعث جہاں میں آدمی مسرور ہے۔ زندگی پر نور ہے
آپ کی ذاتِ مقدس آدمیت کا ھرم۔ اے رسولِ محترم
آپکی توصیف میں اترا ہے قرآن میں۔رحمت اللعالمین
آپ کا شیدا ہے شرق و غر اور عر و عجم۔! اے رسول محترم
آپ کا دامانِ رحمت جس کو ہو جائے نصی۔کتنا وہ ر کے قری
پھر اسے خدشہ جہنم کا نہ ہو محشر کا غم۔ اے رسول محترم
آس جگ میں اسکو پھر پرواہ نہیں انجام کی۔ صح کی نہ شام کی
جس کی جان آپ کا ہو جائے الطاف و کرم۔ اے رسول محترم
سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے
نی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے لیے
مقام فیض کی تم کو اگر تمنا ہے
درود پڑھتے رہو اپنی ہتری کے لیے
اسے ھی اذن حضوری کا شرف مل جاتا
تڑپ رہا ہے جو سرکار حاضری کے لیے
خدائے پاک نے کیا کیا نہ اہتمام کیا
حی پاک(ص) سے ملنے کی اک گھڑی کے لیے
حضور آپ ہی تخلیقِ وجہہ کون و مکاں
نی ہے عالم ہستی ھی آپ ہی کے لیے
حضور(ص) عر و عجم آپ کے تمنائی
حضور شرق و غر ھی ہیں آپ ہی کے لیے
نثار ان پہ کروں اپنی سانس سانس کا لمس
مرے وجود کی تاندگی انہی کے لیے
تمام ساعتیں خشیں جو زندگی نے تمہیں
انہی کو وقف کرو آ س آج انہی کے لیے
نی ہمارا نی وہ ہے انیاء جس کی
کریں خدا سے دعا انکے امتی کے لیے
اگر حضور(ص) کی سچی لگن خدا دے دے
میں سر اٹھاؤں نہ سجدے سے اک گھڑی کے لیے
حضور(ص) عد ولادت کے کر رہے تھے دعا
خدائے پاک سے امت کی خششی کے لیے
حضور(ص) آس کو وہ اذنِ نعت مل جائے
نے وسیلہ جو خشش کا اخروی کے لیے
اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
اے شہ انیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
ر ملا کہہ رہے ہیں زمیں و زماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
نور تو س گھرانہ تیرا نور کا تو سہارا ہے لاچار و مجور کا
ہادی اِنس و جاں حامی یکساں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تو چلے تو فضائیں تیرے ساتھ ہوں ادلو ں کی گھٹائیں تیرے ساتھ ہوں
مٹھیوں سے ملے کنکروں کو زاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
کوئی سمجھے گا کیا تیرے اسرار کو آئینے ھی ترستے ہیں دیدار کو
تیرے قدموں میں رکھتی ہے سر کہکشاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
ذکر تیرا دعاؤں کا سرتاج ہے غمزدوں ے سہاروں کی معراج ہے
ہر فنا شے تیرا ذکر ہے جاوداں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تیری انگلی کا جس سمت اِشارہ گیا چاند کو ھی اسی سو اتارا گیا
تاجور دیکھتے رہ گئے یہ سماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
آس آنکھوں میں جگمگ ہے تیری ضیاء اے حی خدا خاتم الانیاء
اے شفیع الامم مرسلِ مرسلاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے دربار چلیں
آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے درار چلیں
مہکی یادوں کے پھول چنیں اشکوں کے لیکر ہار چلیں
نہ کوئی روکنے والا ہو نہ کو ئی ٹوکنے والا ہو
روضے کے لمس کو جی ھر کر آنکھوں سے کرنے پیار چلیں
جہاں مٹی سونا ہوتی ہے جہاں ذرے سورج نتے ہیں
اُن گلیوں کا اُن رستوں کا ہم ھی کرنے دیدار چلیں
کہتے ہیں وہاں پُر شام سحر انوار کی ارش رہتی ہے
کہتے ہیں وہاں خوشو لینے س دنیا کے ازار چلیں
ج شہر مدینہ جی ھر کر د ل کی آنکھوں سے دیکھ چکیں
پھر شاہ نجف کا در چُومیں غداد کے پھر ازار چلیں
اس شہر محت کی خوشو کرتی ہے حفاظت انساں کی
جسکا یہ مقدر ن جائے اس پر نہ ریا کے وار چلیں
کرل کے جن صحراؤں میں معصوموں کی فریادیں ہیں
ان صحراؤں سے صر و رضا کا سننے حال زار چلیں
سنتے ہیں کہ در کے میداں میں ہے آج ھی رع و جلالیت
اصحا کا وہ میدانِ عمل ہم دیکھنے سو سو ار چلیں
اے آس زمانے میں کتنا دشوار ہو جینا مرنا
آؤ سرکار سے اُمت کا یہ کہنے حالِ زار چلیں
اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
اے جسم ے قرار ثنائے رسول سے
جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے
ہر صح پر وقار ثنائے رسول سے
ہر شام خوش گوار ثنائے رسول سے
ھٹکا ہے ساری عمر سراوں کی چاہ میں
جوڑ ا تو دل کے تار ثنائے رسول سے
کیا جانے سانس کا ہو سفر کس مقام تک
جی ھر کے کر لے پیار ثنائے رسول سے
جن کو خر نہیں انہیں جا کر تایئے
دنیا کی ہے ہار ثنائے رسول سے
وہ ذات، نامراد کو کرتی ہے ا مراد
تو زندگی سنوار ثنائے رسول سے
گر تجھ کو لازوال محت کی آس ہے
جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے
زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
زمین جس پہ نوت کے تاجدار چلے
وہ چومنے کو نظر کاش ار ار چلے
پڑیں نہ پاؤں تقدس کا یہ تقاضا ہے
وہ خاک جس پہ نی زندگی گزار چلے
دلوں کو سجدہ روا اس مقام کا ھی ہے
نی کے دوش کے جس جا پہ شہ سوار چلے
وہ حجرہ دیکھے جہاں عمر فیصلے کرتے
وہ خاک چومے جہاں حیدرِ کرار (ع) چلے
وہ گھر ھی چومے جہاں تھے ایو انصاری
وہ راہ چومے جدھر ان کے یار غار چلے
وضو غیر، تصور ھی جرم ہے لوگو
وہاں پہ جائے تو انسان اشک ار چلے
وہ اغ دیکھے جو عثماں نے دین کو خشا
وہ غار دیکھے جہاں ان کے یار غار چلے
یہ شوق ھی ہے تڑپ ھی ہے تشنگی ھی ہے
جو آس جائے تو پاؤں کہاں اتار چلے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
آقا نفس نفس میں مہکا ہے پیار تیرا
تو نے جہالتوں سے انسان کو نکالا
انسانیت پہ احساں ہے ے شمار تیرا
میری حیات جس کی رعنائیوں سے مہکی
وہ ہے سرور تیرا وہ ہے قرار تیرا
ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں ادل
پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار تیرا
کشمیر ھی تمہاری چشم کرم کا طال
اقصیٰ کی آنکھ میں ھی ہے انتظار تیرا
خالق خدا ہے، مالک دونوں کا تو ہے آقا
کل کائنات تیری، پروردگار تیرا
وہ آس زندگی کی انمول ساعتیں ہیں
جن ساعتوں میں نام نامی شمار تیرا
زندگی ملی حضور سے
زندگی ملی حضور سے
روشنی کھلی حضور سے
ساری رونقیں حضور کی
ساری دلکشی حضور سے
کائنات ہست و ود میں
کن کی ے کلی حضور سے
زندگی گری پڑی ہوئی
معتر ہوئی حضور سے
اسکو دو جہان مل گئے
جس کی لو لگی حضور سے
اڑتی دھول کا نصی دیکھ
کہکشاں نی حضور سے
آس اہتمام ذکر و نعت
س ہماہمی حضور سے
محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے
محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے
طیہ کے ہوں گے اک دن اے دوستو نظارے
رختِ سفر کسی دن اندھیں گے ہم ھی اپنا
ہم کو ھی لوگ ملنے آئیں گے گھر ہمارے
آتے ہیں کام اس کے ایمان ہے یہ اپنا
مشکل میں جو کوئی ھی سرکار کو پکارے
ج یاد ان کی آئی ے اختیار آئی
پلکوں پہ جھلملائے ہر رنگ کے ستارے
جس شخص کو طل ہے جنت کو دیکھنے کی
سرکار کی گلی میں دو چار دن گزارے
جس کا وکیل ر ہو آقا کی پیروی ہو
وہ کیسے استغاثہ انسان کوئی ہارے
ہونٹوں پہ آس ہر دم جاری درود رکھنا
ناؤ تمہاری خود ہی لگ جائے گی کنارے
کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا
کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا
ان کے نعلین کا جاں پر میری قضہ ہوتا
حشر تک سر نہ اٹھاتا میں درِ اقدس سے
میری قسمت میں ازل سے یہی لکھا ہوتا
ان کے جلوؤں میں مگن رات سر ہو جاتی
ان کو تکتے ہوئے ہر ایک سویرا ہوتا
ان کی راہوں میں نگاہوں کو چھائے رکھتا
ان کی آہٹ پہ دل و جان سے شیدا ہوتا
کھی پیشانی پہ حسنین کے پاؤں پڑتے
اور علی کا کھی سر پر میرے تلوا ہوتا
ہر کوئی چومتا آنکھوں سے لگاتا مجھ کو
ان کی نست سے اد تک میرا چرچا ہوتا
عمر، عثمان، اوکر ، حذیفہ، حمزہ
س صحاہ کو میری آنکھ نے دیکھا ہوتا
یٹھ کر دل پہ میرے نعت سناتے حسان
ناز کا تاج میرے سر پہ سنہرا ہوتا
ر کا احساں ہے کہ آقا کا سخنور ہوں آس
یہ ھی سرمایہ نہ ہوتا تو میرا کیا ہوتا
*****
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں