منگل، 16 نومبر، 2010

قتیل شفائی
سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا iiہے
ii

پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ iiہے

تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے
جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا iiہے


برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں iiکی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ iiہے


علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے
نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ iiہے


کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی
سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ iiہے


نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر iiبھی
مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے


قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی iiپر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا iiہے


قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے iiمیرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفیٰ سا iiہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں