| قتیل شفائی | سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا iiہے ii
پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ iiہے
تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا iiہے
برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں iiکی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ iiہے
علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ iiہے
کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ iiہے
نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر iiبھی مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے
قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی iiپر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا iiہے
قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے iiمیرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفیٰ سا iiہے |
| |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں