منگل، 16 نومبر، 2010

شورش کاشمیری
قرنِ اوّل کی روایت کا نگہ دار حسین
بس کہ تھا لختِ دلِ حیدرِ کرار iiحسین


عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ iiحکیم
وادیِ نجد میں اسلام کی للکار iiحسین


سر کٹانے چلا منشائے خداوند کے iiتحت
اپنے نانا کی شفاعت کا خریدار iiحسین


کوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ iiہو
اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار iiحسین


ابو سفیان کے پوتے کی جہانبانی میں
عزّتِ خواجۂ گیہاں کا نگہ دار حسین


کرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا ظہور
عشق کی راہ میں تاریخ کا معمار iiحسین


جان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال گیا
حق کی آواز، صداقت کا طرفدار iiحسین


دینِ قیم کے شہیدوں کا امامِ برحق
حشر تک امّتِ مرحوم کا سردار حسین


ہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس کی
ہر زمانے کے لیے دعوتِ ایثار iiحسین


کربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی iiہے
دورِ حاضر کے یزیدوں سے دوچار iiحسین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں