منگل، 16 نومبر، 2010

مرثیۂ امام
فیض احمد فیض
رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے
ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا iiہے

مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے
مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے

تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے
یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب iiہے




دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی iiتھی
پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی iiتھی

ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی iiتھی
یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی iiتھی

رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے iiایسے
تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے




اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار
اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے iiسردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار
اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ iiاحرار

مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے iiتھے
ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے




کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی
ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی

ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا iiتھی
ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا iiتھی

پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو iiدیکھا
پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے iiگویا




الحمد قریب آیا غمِ عشق کا iiساحل
الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی iiنازل

بازی ہے بہت سخت میانِ حق و iiباطل
وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل

بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو
باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو




پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ iiچمکی
اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی

نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ iiچمکی
شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ iiچمکی

دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا iiصحرا
خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا iiصحرا




پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ iiاعدا
تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا

ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا
یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا

کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا iiنے
خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء iiنے




فرمایا کہ کیوں در پئے ‌آزار ہو iiلوگو
حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو iiلوگو

واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو iiلوگو
معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو iiلوگو

کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی iiہے
معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی iiہے




سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم iiکو
اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم iiکو

زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو
جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم iiکو

سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس iiہے
اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس iiہے




طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے iiطلبگار
باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے iiپرستار

انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے iiطرفدار
ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے iiمددگار

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں iiہے
جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ii‌ہے




تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے iiگا
تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا

جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے iiگا
جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے iiگا

نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے iiگا
نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے iiگا




کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے iiشبّیر
پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے iiشبیر

قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے iiشبیر
خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے iiشبیر

مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر iiتھا
اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا


(مجموعہ۔"شامِ.شہرِیاراں")

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں