منگل، 16 نومبر، 2010

سیّد الشّہداء
احمد فراز
دشتِ غربت میں صداقت کے تحفظ کے لیے
تُو نے جاں دے کے زمانے کو ضیا بخشی تھی

ظلم کی وادیِ خونیں میں قدم رکھا تھا
حق پرستوں کو شہادت کی ادا بخشی تھی

آتشِ دہر کو گلزار بنایا تو نے
تو نے انساں کی عظمت کو بقا بخشی تھی

اور وہ آگ وہ ظلمت وہ ستم کے iiپرچم
بڑے ایثار ترے عزم سے شرمندہ iiہوئے

جرأت و شوق و صداقت کی تواریخ کے iiباب
تری عظمت، ترے کردار سے تابندہ iiہوئے

ہو گیا نذرِ فنا دبدبۂ شمر و iiیزید
کشتگانِ رہِ حق مر کے مگر زندہ iiہوئے

لیکن اے سیّدِ کونین حسین ابنِ iiعلی
آج بھر دہر میں باطل کی صف آرائی iiہے

آج پھر حق کے پرستاروں کا انعام ہے iiدار
زندگی پھر اس وادی میں اتر آئی ہے

آج پھر مدِ مقابل ہیں کئی شمر و iiیزید
صدق نے جن کو مٹانے کی قسم کھائی iiہے

دل کہ ہر سال ترے غم میں لہو روتے iiہیں
یہ اسی عہدِ جنوں کیش کی تجدید تو iiہے

جاں بکف حلقۂ اعدا میں جو دیوانے iiہیں
ان کا مذہب ترے کردار کی تقلید تو iiہے

جب سے اب تک اسی زنجیرِ وفا کا iiرشتہ
بیعتِ دستِ جفا کار کی تردید تو iiہے



(مجموعہ۔"شب.خون")

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں