زمینِ نا مہرباں پہ جنگل کے پاس ہی
شام پڑ چکی ہے
ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے
اور ان شگوفوں کی سبز خوشبو
جو اپنی نو خیزیوں کی پہلی رتوں میں
رعنائیِ صلیبِ خزاں ہوئے
اور بہار کی جاگتی علامت ہوئے ابد تک
جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے ہوئے سر
ردائے عفت اڑھانے والے
بریدہ بازو کو ڈھونڈتے ہیں
بریدہ بازو کہ جن کا مشکیزہ
ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پایا
مگر وفا کی سبیل بن کر
فضا سے اب تک چھلک رہا ہے
برہنہ سر بیبیاں ہواؤں میں سوکھے پتوں
کی سرسراہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں
بادِ صرصر کے ہاتھ سے بچنے
والے پھولوں کو چومتی ہیں
چھپانے لگتی ہیں اپنے دل میں
بدلتے، سفاک موسموں کی ادا شناسی نے چشمِ
حیرت کو سہمناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے
چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں
کٹے ہوئے سر
شکستہ خوابوں سے کیسا پیمان لے رہے ہیں
کہ خالی آنکھوں میں روشنی آتی جا رہی ہے
میں نوحہ گر ہوں-------------------------------امجد اسلام امجد
میں نوحہ گر ہوں
میں اپنے چاروں طرف بکھرتے ہوئے زمانوں کا نوحہ گر ہوں
میں آنے والی رتوں کے دامن میں عورتوں کی اداس بانہوں کو دیکھتا ہوں
اور انکے بچوں کی تیز چیخوں کو سن رہا ہوں
اور انکے مَردوں کی سرد لاشوں کو گن رہا ہوں
میں اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر فصیلِ دہشت کو چھو رہا ہوں
زمیں کے گولے پر زرد کالے تمام نقطے لہو کی سرخی میں جل رہے ہیں
نئی زمینوں کے خواب لے کر
مسافر اِن تباہ یادوں کے ریگ زاروں میں چل رہے ہیں میں نو
حہ گر ہوں مسافروں کا جو اپنے رستے سے بے خبر ہیں میں ہوش والوں کی بد حواسی کا نوحہ گر ہوں
حُسین،
میں اپنے ساتھیوں کی سیہ لباسی کا نوحہ گر ہوں
ہمارے آگے بھی کربلا ہے، ہمارے پیچھے بھی کربلا ہے
حُسین، میں اپنے کارواں کی جہت شناسی کا نوحہ گر ہوں
نئے یزیدوں کو فاش کرنا ہے کام میرا
ترے سفر کی جراحتوں سے
ملا ہے مجھ کو مقام میرا
حُسین، تجھ کو سلام میرا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں