منگل، 16 نومبر، 2010

سلام
منیر نیازی
خوابِ جمالِ عشق کی تعبیر ہے iiحُسین
شامِ ملالِ عشق کی تصویر ہے iiحسین


حیراں وہ بے یقینیِ اہلِ جہاں سے ہے
دنیا کی بیوفائی سے دلگیر ہے iiحسین


یہ زیست ایک دشت ہے لا حد و بے کنار
اس دشتِ غم پہ ابر کی تاثیر ہے iiحسین


روشن ہے اس کے دم سے الم خانۂ جہاں
نورِ خدائے عصر کی تنویر ہے iiحسین


ہے اس کا ذکر شہر کی مجلس میں iiرہنما
اجڑے نگر میں حسرتِ تعمیر ہے iiحسین



(مجموعہ۔"ساعتِ.سیّار")

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں