منگل، 16 نومبر، 2010

آنسوؤں کے موسم میں
اقبال ساجد
حُسین تیرے لیے خواہشوں نے خوں iiرویا
فضائے شہرِ تمنّا بہت اداس ہوئی


غبارِ ظلم پہ رنگِ شفق بھڑک اٹھا
زمیں پہ آگ بگولا گُلوں کی باس iiہوئی


غموں کو کاشت کیا آنسوؤں کے موسم iiمیں
یہ فصل اب کے بہت دل کے آس پاس ہوئی


وہ پیاس جس کو سمندر سلام کرتے iiہیں
ہوئی تو تیرے لبوں سے ہی روشناس ہوئی


جو تُو نے خون سے لکھی حُسین وہ iiتحریر
کتابِ حق و صداقت کا اقتباس iiہوئی


کبھی بجھا نہ سکے گی ترے چراغ کی iiلو
کہ جمع تیری امانت ہوا کے پاس iiہوئی


دکھوں میں ڈوب گئی دشتِ کربلا کی سحر
ہوائے شام ترے غم میں بد حواس iiہوئی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں