منگل، 16 نومبر، 2010

١١)اہل بیت پر درود بھیجنے کا حکم
ان اللہ وملائکتہ یصلون علیٰ النبی یا ایھا الذین آمنوا صلّوا علیہ وسلّموا تسلیماً۔[١]
''بے شک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر اکرم (ص) پر درود بھیجتے ہیں،اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو۔''
تفسیر آیہ:
اس آیت میں یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ خدا اور اس کے فرشتے اہل بیت پر درود بھیجتے ہیں،اور یہ حکم دیا جارہا ہے کہ مومنین بھی ان پر درود بھیجےں۔
لہٰذا آج نماز پنجگانہ اور پیغمبر اسلام (ص)کا اسم مبارک لیتے وقت ان پر درود بھیجنا ہر مسلمان پر واجب ہے،لیکن درود کی کیفیت میں بھی شیعہئ امامیہ اور
........................
[١]۔الاحزاب/٥٦

اہل سنت کے درمیان اختلاف ہے۔اگر ہم روایات نبوی(ص)کا مطالعہ کریں تو اس
اختلاف کو بآسانی حل کرسکتے ہیں۔
ابن مردویہ اور سعید ابن منصور،عبدابن حمید،ابن ابی حاتم اور کعب ابن عجزہ وغیرہ سے مروی ہے:
قال لما نزلت:انّ اللہ و ملٰئکتہ یصلون علیٰ النبی...قلنا یا رسول اللہ! قد علمنا السلام علیک فکیف الصلوٰۃ علیک؟قال قولوا اللہم صل علیٰ محمد و آل محمد۔[٢]
کعب ابن عجزہ نے کہا:جب آیت:ان اللہ ...نازل ہوئی تو ہم نے پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا:یا رسول اللہ(ص)!ہمیں معلوم ہے کہ آپ پر سلام ہو،لیکن کیسے آپپر درود بھیجا جائے؟آنحضرت (ص)نے فرمایا: تم لوگ مجھ پر درود اس طرح بھیجو:
اللہم صلّ علیٰ محمد(ص)وآل محمد(ص)۔
اس حدیث کی رو سے دو نکات قابل غور ہیں:
١۔امت محمدی،آنحضرت (ص) پر کیسے درود بھیجے،جس کا حکم خدا نے قرآن میں دیا ہے؟کیا اللہم صلّ وسلم کہنا کافی ہے؟یا اللہم صل علیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[٢]۔در منثور ج٦،ص٤٤٦

محمد و آل محمد کہنا ضروری ہے؟
٢۔چنانچہ بہت ساری روایات میں پیغمبر اکرم (ص)نے ناقص درود بھیجنے سے منع فرمایاہے، سارے مسلمان نماز میں درود اس طرح بھیجتے ہیں:
اللہم صل علیٰ محمد وآل محمد۔
نیز ابن ابی شیبہ،احمد،بخاری نسائی ،ابن ماجہ و غیرہ نے اسناد کے ساتھ
اس آیت کی تفسیر اور توضیح کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
پیغمبر اکرم (ص)سے اصحاب نے پوچھا :
یا رسول اللہ(ص)! خدا نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟
آپ نے فرمایا:
قولوا اللہم صلّ علیٰ محمد و علیٰ آل محمد،
کہو: اے اللہ! محمد(ص) و آل محمد پر درود بھیج۔[١]
پس ان روایات کی رو سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہم صلّ و سلم۔ درود کامل نہیں ہے اور کئی روایات میں نامکمل اور ناقص درود سے پیغمبر اکرم (ص)
...........................
[١]۔در منثور ج ٦ ص٦٤٩،بخاری ج٧ص٣١١،سنن نسائی ج٢ص٢٠١شواہد التنزیل ج ٢۔ص٣٠١

نے منع فرمایا ہے۔[١]

اہم نکات:
آیت شریفہ میں صریحاً خدا نے مومنین کو اہل بیت پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے،روایات نبوی(ص)میںدرود بھیجنے کی کیفیت کو رسول اسلام (ص)نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔لہٰذا درود کی کیفیت میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب،کتاب و سنت سے دوری ہے۔در حالیکہ روایات میں درود بھیجنے کا طریقہ اور کیفیت و اضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

١٢)اہل بیت پر خدا کا سلام ہے
سلام علیٰ آل یاسین۔[٢]
[ہر طرف سے ]آل یاسین پر سلام[ ہی سلام] ہے۔

تفسیر آیہ:
گذشتہ آیت میں درود و سلام دونوں کا حکم ہوا ہے اور اس آیت میں آل یاسین ؑکو سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے،لیکن اگر ہم درود اور سلام کی حقیقت اور فلسفے کے بارے میں غور و فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ اہل بیت کی عظمت اورمنزلت خدا
........................
[١]۔شواہد التنزیل ج ٢۔ص٢١١
[٢]۔صافات/١٣٠

کی نظر میں بہت زیادہ ہے جس کو لحظہ بہ لحظہ زبان پر جاری کرنا خدا کو زیادہ پسند ہے۔لہٰذا چاہے کسی اجتماعی کام کو انجام دےنا چاہیں یا کسی انفرادی کام کو، اس کام کو ان حضرات پر درودسلام بھیجتے ہوئے شروع کرنا چاہئے،اسی میں برکت ہے اور اسی میں ہی کامیابی ہے۔
ابن ابی حاتم و طبرانی و ابن مردویہ نے ابن عباس -سے روایت نقل کی ہے:
فی قولہ سلام علیٰ آل یاسین قال نحن آل محمد آل
یاسین۔[١]
پیغمبر اکرم (ص)سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:آل یاسین سے مراد ہم آل محمد ہیں۔
فخر رازی ،فضل اور کلینی و غیرہ نے آل یاسین سے آل محمد مراد لیا ہے۔اس کی وجہ بھی یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یاسین پیغمبر اکرم (ص)کے القاب میں سے ایک ہے۔اور آل کے معنیٰ بھی لغت عرب میں سب جانتے ہیں لہٰذا سلام علیٰ آل یاسین سے اہل بیت کی فضیلت و اضح ہوجاتی ہے۔
...............................
[١]۔در منثور ج ٦۔ ص٢٣١ ینابیع المودۃج١ص٦

١٣)اہل بیت کی قسم
والسماء ذات البروج[١]
برجوں والے آسمان کی قسم۔

تفسیر آیہ:
اس آیت کی تفسیر میں ہاشم بن سلمان نے اپنی کتاب'' الحجۃ علی ما فی ینابیع المودۃ ''میں اصبغ بن نباتہ سے روایت کی ہے:
قال سمعت ابن عباس یقول قال رسول اللہ:انا السماء
واما البروج فالائمۃ من اہل بیتی و عترتی اولھم علی (ع) وآخرھم المہدی ؑو ھم اثنا عشر۔[٢]
اصبغ بن نباتہ - نے کہا کہ میں نے ابن عباس -سے سنا کہ آپ نے کہا ـ: پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:آسمان سے مراد میں ہوں اور اس کے بروج سے مراد میرے اہل بیت وعترت ہیں۔جس کا آغاز علی -سے ہوتا ہے اور انتہاء مہدی برحق (عج) پراور وہ بارہ ہیں۔
توضیح:
..........................
[١]۔بروج/١۔
[٢]۔،الحجۃ علی ما فی ینابیع المودۃ ص٤٣٠

١۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے والسماء ذات البروج سے حضرت پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہئ اثنا عشر مراد ہیں۔
٢۔پیغمبر اکرم (ص)کے جانشین بارہ ہیں۔
٣۔آخر ی امام کا لقب مہدی (عج)ہے۔ابتدائی امام کا نام علی - ہے۔لیکن کسی روایت اور آیت میں پیغمبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعدجنہوں نے اپنے آپ کو خلیفہئ مسلمین اور جانشینپیغمبر (ص) ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کوئی نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔

١٤)اہل بیت سے محبت،رسالت کا صلہہے
قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی القربیٰ۔[١]
ٍٍ ''اے رسول! تم کہہ دو کہ میں [اس تبلیغ رسالت کا] اپنے قرابت داروں[اہل بیت ]کی محبت کے سواء تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔''

تفسیر آیہ:
جناب ابن عباس -سے روایت کی گئی ہے:
لمّا نزلت ''قل لا اسئلکم.....''قالوا یا رسول اللہ من ہٰؤلآء الذین وجبت علینا مودتھم؟قال علی،فاطمۃ و ابنائھما وانّ
......................
[١]۔شوریٰ/٢٣

اللہ تعالیٰ جعل اجری علیکم المودۃ فی اہل بیتی وانّی اسئلکم غداً عنھم۔[١]
جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سوال کیا یا رسول اللہ! وہ لوگ کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہوگئی ہے؟ آپنے فرمایا: وہ حضرات علی -،فاطمہ = اور حسن- و حسین -ہیں اور خدا نے میری رسالت کا صلہ تم پر میرے اہل بیت کی محبت قرار دیا ہے۔لہٰذا کل قیامت کے دن ان کی محبت کے بارے میں تم سے سوال کروں گا۔
زمخشری نے تفسیر کشاف میں یوں روایت کی ہے:
روی انّ الانصار قالوا فعلنا و فعلنا کانّھم افتخروا فقال عباس او ابن عباس:لنا الفضل علیکم فبلغ ذالک رسول اللہ فاتاھم فی مجالسھم فقال یا معشر الانصار الم تکونوا اذلۃً فاعزکم اللہ بنا قالوا بلیٰ.........۔[٢]
اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے عربی میں پوری روایت کو نقل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے لہٰذا درج بالا کتابوں کی طرف رجوع کریں۔یہاں پر پوری روایت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]۔ینابیع المودۃ ج ١،ص١٩٤،کشاف ج ٤ ص٢٢٠
[٢]۔کشاف ج ٤ ص٢٢٠،،صحیح مسلم ج ٣ص ٢١١و صحیح بخاری ج٤ص١٣١

''زمخشری نے کہا:روایت کی گئی ہے کہ ایک دن انصار اپنے ایک بڑے جلسے میں اپنے افعال پر فخر و مباہات کررہے تھے، کہہ رہے تھے کہ ہم نے یہ کام کیا وہ کام کیا۔جب ان کی باتیں ناز کی حد سے بھی گزر گئیں تو جناب ابن عباس - سے رہا نہ گیا اور بے ساختہ بول اٹھے کہ تم لوگوں کو فضیلت حاصل ہوگی مگر ہم لوگوں پر تمہیں ترجیح حاصل نہیں ہے اس مناظرے کی خبر پیغمبر اکرم (ص)تک پہنچی تو آنحضرت (ص)خود اس مجمع میں تشریف لائے اور فرمایا:اے گروہ انصار!کیا تم ذلیل نہ تھے کہ خدا نے ہمارے بدولت تمہیں عزت بخشی ؟سب نے کہا:بے شک یا رسول اللہ!ایسا ہی ہے۔ پھر آپنے فرمایا:کیا تم لوگ گمراہ نہ تھے کہ خدا نے میری وجہ سے تمہاری ہدایت کی؟ عرض کیا:یقینا ایسا ہی ہے۔ پھر فرمایا:کیا تم لوگ میرے مقابلے میں جواب نہیں دیتے؟ وہ بولے کیا؟بآنحضرت (ص)نے فرمایا:کیا تم یہ نہیں کہتے کہ تمہاری قوم نے تم کو نکال باہر کیا،تو ہم نے پناہ دی،اسی طرح گفتگو جاری رہی یہاں تک کہ وہ لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عاجزی سے عرض کرنے لگے: ہمارے مال اور جو کچھ ہمارے پاس ہیں وہ سب خدا اور اس کے رسول کا ہے۔یہی باتیں ہورہی تھیں کہ یہ آیت نازل ہوئی۔اس کے بعد آپنے فرمایا:جو شخص آل محمد کی دوستی میں مرجائے وہ شہید مرا ہے،جو آل محمد کی دوستی کے ساتھ مرے وہ مغفورہے،جو آل محمد کی دوستی پر مرے گویا وہ توبہ کر کے مراہے۔اس انسان کو ملک الموت اور منکر و نکیر بہشت کی خوشخبری دیتے ہیں جو آل محمد کی دوستی پر مرے وہ بہشت میں اس طرح جائے گا جیسے د لہن دلہاکے گھر جاتی ہے۔جو آل محمد کی دوستی پر مرے اس کی قبر کو خدا رحمت کے فرشتوں کےلئے زیارت گاہ بنادیتا ہے جو آل محمد کی دوستی پر مرے وہ سنت اور جماعت کے طریقہ پر مرا ۔اورجو آل محمد کی دشمنی پر مرے قیامت کے دن اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ خداکی رحمت سے مایوس ہے۔جو آل محمد کی دشمنی پر مرے وہ بہشت کی بو بھی نہیں سونگ سکتا ،پھر اس وقت کسی نے پوچھا:یا رسول اللہ(ص)! جن کی محبت کو خدا نے واجب کیا ہے وہ کون ہیں:آنحضرت (ص)نے فرمایا:علی - ،فاطمہ = اور ان کے دو فرزند حسن- و حسین- ہیں۔پھر فرمایا: جو شخص میرے اہل بیت پر ظلم و ستم کرے اور مجھے اور میرے اہل بیت کو اذیت پہنچائے اس پر بہشت حرام ہے۔
فرمان علی نے اپنے ترجمہئ قرآن میں اس حدیث کو نقل کیا ہے،رجوع کیجئے۔اس حدیث کا آدھا حصہ مسلم،بخاری اور در منثور میںبھی نقل ہوا ہے جبکہ زمخشری نے[١] پوری حدیث کو نقل کیا ہے۔لیکن مأخذ کی نئی اشاعتوں میں تحریف اور تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ آیندہ یہ حدیث کشاف میں بھی نظر نہ آئے۔کیونکہ اس حدیث کا بغور جائزہ لینے سے بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]کشّاف ج٤ص٢٢٠

سارے شبہات و اعتراضات کا جواب بآسانی مل سکتا ہے۔لہٰذا ایسی اہم روایت
کو معاشرے تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

١٥)اہل بیت سے محبت ،نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے
ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسناً[١]
اور جو شخص نیکی حاصل کرے گاہم اس کےلئے اس کی خوبی میں اضافہ کرےں گے۔

تفسیر:
ابن خاتم نے ابن عباس -سے روایت کی ہے
ومن یقترف حسنۃ قال المودۃ لآل محمد[٢]
اس آیت شریفہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے اہل بیت رسول کی محبت مراد ہے۔
زمخشری نے بھی لکھا ہے:
ان السوی انھا المودۃ فی آل رسولاللہ[٣]
''اس آیت کریمہ سے آل رسول (ص)کی دوستی مراد ہے۔''
.......................
[١]شوریٰ/٢٢۔
[٢]۔در منثورج ٧ ص٢٤٨
[٣]۔کشاف ج ٤ ص٢٢١

اہم نکات:
اگر محققین اور علماء و دانشور سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے کے بجائے تاریخ،اخبار و حدیث اور تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو کسی بھی مسلمان کو اہل بیت کی فضیلت اور عظمت سے انکار کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ایسی اہم روایات اور تاریخی مطالب وافر مقدار میں فریقین کے علماء و محققین نے اپنی کتابوںمیں اہل بیت کی شان میں بیان کئے ہیں۔لہٰذا اگر دور حاضر میں ہم بھی اندھی تقلید کے بجائے تحقیق اور غور کریں تو بہت سارے شبہات اور اعتراضات کا حل مل جاتا ہے۔
اپنے مأخذ اور بنیادی کتابوں کا مطالعہ کئے بغیر ایک دوسرے پر بے جا الزامات لگا کرمسلمانوں کے اتحاد کو پامال کرنا اسلام اور قرآن وسنت کے خلاف ہونے کے علاوہ سیرت اہل بیت کے منافی بھی ہے۔آج مسلمانوں کے مابین پیداہونے والے بہت سارے اختلافات کا سبب بھی کتابوں اورروایات پر غور نہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ورنہ مسلمانوں کے درمیان جتنی آج اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے شائد کسی اور زمانے میں پیش نہ آئی ہو۔
کیونکہ آج پوری دنیا قرآن و سنت کی پامالی کےلئے ہر قسم کے حربے آزما رہی ہے،اور استعماری طاقتیں مسلمانوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔جبکہ سارے مسلمان قرآن وسنت کے قائل ہوتے ہوئے بھی آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔یہ ہماری بدقسمتی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

١٦)اہل بیت سے متمسک رہنے کا حکم
واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا[١]
''اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رسی کو سب کے سب مضبوطی سے تھام لو۔''

تفسیر:
سعید بن جبیر نے ابن عباس -سے روایت کی ہے :
قال کنّا عند النبی اذا جاء اعرابی فقال یا رسول اللہ سمعتک تقول واعتصموا بحبل اللہ الذی نعتصم بہ فضرب النبی یدہ فی ید علی وقال تمسکوا بھٰذا ھو حبل اللہ المتین[٢]
ابن عباس -نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام (ص)کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک ا عرابی آیا اور پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا یا رسول اللہ(ص) میں نے آپسے سنا ہے:واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً۔لہٰذا اللہ کی رسی سے کیا مراد ہے؟ تاکہ اسے تھام لوں۔اس وقت رسول اسلام (ص)
.................................
[١]۔آل عمران ١٠٣۔
[٢]۔شواہد التنزیل ج١ ص ١٣١،حدیث١٨٠

نے اپنے دست مبارک کو حضرت علی -کے دست مبارک پر رکھتے ہوئے فرمایا:اللہ کی رسی سے مراد،یہ ہے اسے تھام لو۔یہی اللہ کی واضح اور روشن رسی ہے۔
اس روایت کی بناء پر صرف حضر ت علی -کے حبل اللہ ہونے کا پتہ چلتا ہے،جبکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پورے چودہ معصومین جو اہل بیت ہیں،حبل اللہ ہیںجن سے متمسک رہنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے
تمام چودہ معصومین کے حبل اللہ ہونے کی خبر حضرت امام جعفر صادق - نے دی ہے:
فی قولہ:واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً قال نحن حبل اللہ[١]
آپ -سے واعتصموا بحبل اللہکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ -نے فرمایا اللہ کی رسی سے ہم اہل بیت مراد ہیں۔
امام شافعی کا یہ مشہور کلام بھی اس آیت کی تفسیر ہے،جس سے اہل بیت واعتصموا بحبل اللہ کے مصداق ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے متمسک رہنے کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے:
..............................
[١]۔شواہد التنزیل ج١ ص ١٣١،حدیث١٨٠

ولما رأیت الناس قد ذہب بھم ... مذاہب فی البحر الغی والجہل رکبت
علیٰ اسم اللہ فی سفن النجاۃ۔۔.وھم اہل بیت المصطفیٰ قائم الرسل و تمسکت حبل اللہ و ھو و لاء ھم ۔. کما قد امرنا بالتمسک بالحبل[١]

اہم نکات:
١۔ان روایات کی رو سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اہل بیت حبل اللہ[اللہ کی رسی] ہیں۔
٢۔اہل بیت سے متمسک رہنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
٣۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان سے دوستی اور محبت کے بغیر انسان کے اعمال بے سود ہیں۔
٤۔ان سے دشمنی اور بغض رکھنا اس آیت کریمہ کے منافی ہونے کے علاوہ قرآن و سنت پر اعتقاد کے ساتھ متضاد بھی ہے۔
٥۔ایک طرف سے اسلام کے اصول و فروع کے پابند ہونے کا دعویٰ کرنا دوسری طرف سے اہل بیت کو دیگر اصحاب کرام کے مانند تصور کرنا حقیقت میں نا انصافی ہے۔کیونکہ اہل بیت سے متمسک رہنے اور ان سے دوستی و محبت کرنے کا حکم خدا کی جانب سے ہے اور ان کی محبت کے ساتھ انجام دیئے جانے ...........................
[١]۔المغربی،احمد بن بطریق،فتح الملک العلی،ص٧٠ط؛مکتبہ امیر المومنین اصفہان

والے اعمال کا اجر و ثواب بھی دو برابر دیا جاتا ہے،یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح پیغمبر اکرم (ص)کی اطاعت لازم ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی لازم و واجب ہے۔لہٰذا اہل بیت کو ہر مسئلے کا مرجع قرار دینا انسانیت اور فطرت کا تقاضا ہے۔

١٧)اہل بیت ،صراط مستقیم ہیں
اھدنا الصراط المستقیم[١]
''پالنے والے ہمیں راہ راست کی ہدایت کر''۔

تفسیر:
قرآن کریم میںکئی تعبیرات اور الفاظ راستے کے معنیٰ میں استعمال کئے گئے ہیں، سبیل اللہ، سبل،صراط،طریق،صراط مستقیم یہ سارے الفاظ صریحاً راستے کے معنیٰ بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ راستے کے معنیٰ میں ان کے علاوہ اور بھی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔نیز اللہ کی طرف سے جتنے انبیاء اور اوصیاء گذرے ہیں ان کے مبعوث ہونے کا فلسفہ بھی راستے کی نشاندہی بتایا جاتا ہے،جس سے راستے کی اہمیت اور ضرورت کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔لیکن ہم مسلمانوں کےلئے
...............................
[١]۔حمد/ ٥۔

خداوند عالم نے چوبیس گھنٹوں میں ،پانچ وقت زبان پر'' اھدنا الصراط المستقیم ''کا جملہ جاری کرنے کو واجب قرار دیا ہے۔جس سے بھی راستے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔اگر ہم اھدنا الصراط المستقیم کے بارے میں غور و فکر کریں تو اس کا مصداق بھی بخوبی واضح ہوجاتا ہے،اور اس راہ پر گامزن رہنے کی خاطر اللہ نے اپنے بندوں سے دعا کی درخواست کی ہے۔
برید اور ابن عباس -نے روایت کی ہے کہ
فی قول اللہ اھدنا الصراط المستقیم،قال صراط محمد و آلہ[١]
یعنی صراط مستقیم سے حضرت محمد(ص) اور ان کے اہل بیت مراد ہےں۔
امام محمد باقر - سے روایت ہے کہ امام -سے صراط مستقیم کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ -نے فرمایا:
نحن الطریق الواضح و الصراط المستقیم الی اللہ[٢]
یعنی ہم اہل بیت ہی اللہ کی طرف جانے کا واضح و روشن راستہ اور راہ مستقیم ہیں۔
جابر بن عبد اللہ انصار ی -پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کرتے ہیں کہ آپنے فرمایا:اللہ نے حضرت علی - اور حضرت فاطمہ = اور ان
............................
[١]۔الحاکم الحسکانی عبیداللہ بن احمد؛شواہدالتنزیل ج١ص٧٤
[٢]۔الحاکم الحسکانی عبیداللہ بن احمد؛شواہدالتنزیل ج١ص٧٤

کے دو فرزندوں کو اپنی مخلوقات کی ہدایت کےلئے خلق کیا ہے اور ان سے دوستی و محبت رکھنے کو لازم قرار دیا ہے۔وہ میری امت میں علم کا دروازہ بھی ہیں ،ان کے ذریعے سے میری امت کی ہدایت اور میری امت راہ مستقیم پر گامزن ہوسکتی ہے۔

توضیح:
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہونے والے انبیاء میں حضرت محمد بن عبد اللہ(ص) آخری نبی ہیں جن کے بعد سلسلہئ نبوّت و وحی منقطع ہوا اور کئی آیات میں اللہ نے اشارہ فرمایا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کی نبوت جن و انس کے لئے ہے۔کسی خاص قبیلہ اور طبقے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور آپؐ کی سیرت طیبہ پر چلنے کو ہر مسلمان راہ سعادت وہدایت سمجھتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص)کی ذمہ داری بھی یہی تھی کہ لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے نجات دلائے اورراہ مستقیم اور راہ ہدایت کی نشاندہی فرمائیں۔کیونکہ بشر کےلئے پیغمبر اسلام (ص)مکی سیرت مشعل راہ ہدایت ہے اور آنحضرت (ص)نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں تمہاری نجات کا ذریعہ ہوں لیکن میں بھی تمہاری مانند انسان ہوں،موت اور حیات بر حق ہے۔لہٰذا میرے بعد راہ مستقیم کے مصداق میرے اہل بیت و عترت ہیں، وہ قیامت تک اسلام کی حفاظت اور تمہاری نجات کا ذریعہ ہیں۔ان سے متمسک رہو۔اگر بشر پیغمبر اسلام (ص)سے منقول روایات کا صحیح معنوں میں مطالعہ کرے تو بخوبی بہت سارے شبہات کا واضح جواب مل سکتا ہے۔
شیخ عبد اللہ الحنفی اپنی کتاب ارجح المطالب میں صراط مستقیم کی تعبیر میں اہل سنت کی سند اور طریق سے کئی روایات نقل کرتے ہیں، ان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ صراط مستقیم سے اہل بیت مراد ہےں۔ اور اہل تشیع کی سند کے ساتھ صراط مستقیم کی تعبیر کے بارے میں تقریباً چوبیس روایات منقول ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت صراط مستقیم کے مصداق ہیں،جن سے متمسک رہنا ضروری ہے۔[١]
بعض محققین نے صراط مستقیم کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں جن کو بیان کرنے کی اس مختصر کتاب میں وسعت نہیں ہے۔

١٨)اہل بیت ،خدا کی جانب سے بشر پر گواہ ہیں
وکذالک جعلناکم امۃ وسطاً لتکونوا شہداء علیٰ الناس[٢]
اور اس طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔

تفسیر:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١] تفصیلی مطالعہ کیلئے دیکھیں:علامہ طباطبائی : تفسیر المیزان ج١تفسیرسورئہ حمد
[٢]۔بقرہ ١٤٣۔

ابان بن ابی عیاش نے سلیم بن قیس -سے وہ حضرت علی -سے روایت کرتے
ہیں:
قال انّ اللہ ایّانا عنی بقولہ تعالیٰ تکونوا شہداء علیٰ الناس فرسول اللہ شاھد علینا و نحن شہداء علیٰ الناس و حجتہ فی ارضہ و نحن الذین قال اللہ جل اسمہ فیھم[١]
حضرت علی -نے فرمایا:
بتحقیق خدا نے اپنے اس قول سے تکونوا.....ہم اہل بیت ارادہ کیا ہے،لہٰذا رسول اکرم (ص) خدا کی جانب سے ہم پر گواہ ہیں اور ہم تمام انسانوں پر گواہ ہیں اور پیغمبراکرم (ص)روئے زمین پر خدا کی طرف سے حجت ہیں اور ہم وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں خدا نے فرمایا وکذالک جعلناکم امۃ وسطاً.....
علامہ فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہ نے اس آیت کی تفسیر میں در منثور اوراہل سنت کی دیگر کتابوں سے کئی احادیث کا ترجمہ ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امۃ وسطاً اور شہداء علیٰ الناس سے مراد اہل بیت ہیں[٢]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]شواہد التنزیل ج ١ ص٩٢۔
[٢]ترجمہ قرآن فرمان علی ص٢٨

اہم نکات:
١۔صراط مستقیم [سیدھا راستہ] اہل بیت ہیں۔
٢۔حبل اللہ، [خدا کی رسی]اہل بیت ہیں۔
٣۔تمام انسانوںپر اہل بیت ،خدا کی طرف سے گواہ ہیں،یعنی روز قیامت جنت اور جہنم میں داخل ہونے کا فیصلہ اہل بیت کی گواہی کے مطابق ہوگا۔
٤۔روز مرہ زندگی کے تمام مسائل چاہے اعتقادی ہوں یا اخلاقی،فقہی
ہوں یا سماجی،سیاسی ہوں یا علمی ان سب کاسر چشمہ اہل بیت کو قرار دینا شرعی ذمہ داری ہے ان کی سیرت ان کے قول و فعل خدا کی طرف سے حجت ہےں

١٩)اہل بیت مصداق شجر طیبہ ہیں
الم تر کیف ضرب اللہ مثلاً کلمۃ طیبۃً کشجرۃٍ طیبۃٍ اصلہا ثابت و فرعہا فی السماء تؤتی اکلہا کل حین باذن ربھا[١]
[اے رسول (ص)]کیاتم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات[جیسے کلمہئ توحید]کی کیسی اچھی مثال بیان کی ہے کہ [اچھی بات]گویا ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے کہ اس کی جڑمضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان
..........................
[١]۔ابراہیم /٢٥۔

میں پہنچی ہوئی ہیں خدا کے حکم سے ہمہ وقت پھلا پھولا رہتا ہے۔

تفسیر:
عبد الرحمن بن عوف کا غلام مینا ،اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:
سمعت عبدالرحمن بن عوف یقول خذوا منی حدیثاً قبل ان تشاب الاحادیث باالاباطیل، سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول انا الشجرۃ و فاطمۃ فرعہا و علی لقاحہا و
حسن و حسین ثمرھا وشیعتنا ورقھاو اصل الشجرۃ فی جنۃ
عدن و سائر ذالک فی سائر الجنۃ[١]
مینانے کہا کہ عبد الرحمن بن عوف سے میں نے سنا کہ انہوں نے کہا [لوگو] باطل احادیث رائج اور مخلوط ہونے سے پہلے مجھ سے ایک حدیث سنو کہ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
'' میں درخت ہوں اور فاطمہئ زہرا = اس کی شاخ اور علی - اس کا شگوفہ ہے جبکہ حسن -و حسین- اس درخت کے میوے ہیں اور ہمارے چاہنے والے اس کے پتے ہیں، اس کی جڑ جنات عدن میں ہے جبکہ اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں''۔
..........................
[١]۔شواہد التنزیل ج ١ ص٣١٢حدیث٤٣٠۔

سلام خثعمی سے روایت کی گئی ہے جس کا ترجمہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرنا زیادہ مناسب ہے:[٢]
سلام خثعمی نے کہا کہ میں امام محمد باقر -کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ -سے آیت شریفہ ''اصلہا ثابت و فرعہا فی السمائ'' کے متعلق سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟
آپ -نے فرمایا: اے سلام! شجر طیبہ سے پیغمبر اکرم (ص)،فرعہا سے حضرت علی -میوے سے حضرات حسنین +،اور شاخ سے حضرت زہرا =مراد ہے۔جبکہ اس کی شاخ سے نکلنے والی ٹہنیوںسے ہم اہل بیت کے چاہنے والے افراد مراد ہیں۔جب ہمارے چاہنے والوں میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو اس درخت سے ایک پتہ خشک ہو کر زمین پر گرجاتا ہے لیکن جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ ایک اور پتہ نکل جاتا ہے۔
سلام نے کہا :یا بن رسول اللہ! اگر ایسا ہے تو تؤتی اکلہا سے کیا مراد ہے؟
آپ -نے فرمایا:اس سے مراد ہم ہیں۔ہم اپنے ماننے والوں کو ہر حج و
................................
[٢]شواہد التنزیل ج ١ /ص٣١١ حدیث٤٢٨

عمرہ کے موسم میں حلال و حرام کے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔

نوٹ:
اگر آیت کریمہ کے ظاہری معنیٰ اور روایت کاموازنہ کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا نے پیغمبر (ص)کو شجر طیبہ سے تعبیر کرکے ان کی فضیلت کو بیان فرمایا جبکہ ا ۤپؐ کے اہل بیت کی عظمت کو فرعہا اور تؤتی اکلہا کے الفاظ میں بیان کیا جس سے اہل بیت کی خلقت اورفضیلت کا ہدف بھی معلوم ہوجاتا ہے یعنی خدا نے اہل بیت کو اپنے نظام کی حفاظت اور لوگوں کو ہر قسم کی برائی اور گمراہی سے نجات دلانے کی خاطر خلق فرمایا ہے۔
لہٰذا اگر مسلمان دور حاضر کے مفاسد اور مغربی تہذیب و تمدن کے برے اثرات سے بچنا چاہیں تو بہترین راہ اہل بیت کی سیرت پر عمل ہے جس میں ہر مسئلہ کا حل موجودہے اور ہر قسم کی ضلالت و گمراہی سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔کیونکہ خدا نے انکی ہدف خلقت ہماری تربیت اور اسلام کی نشر واشاعت بتایا ہے۔ اگر ہم اہل بیت کی سیرت سے قطع نظر دنیوی مسائل کے بارے میں غور کریں تو سوائے گمراہی اور ضلالت کے کچھ نظر نہیں آتا۔
لہٰذا اگر اتحاد ویکجہتی ،نظام اسلام کی حفاظت، قرآن و سنت کی بالادستی، مسلمانوں کی عظمت اور شرافت کے خواہاں ہیں تو سیرت اہل بیت پر عمل کریں۔ [١]

٢٠)اہل بیت انبیاء کی نجات کا وسیلہ ہیں
فتلقیٰ آدم من ربّہ کلمات فتاب علیہ انّہ ھو التّواب الرحیم[٢]
''پھر آدم -نے اپنے پروردگار سے[عذر خواہی کے]کچھ کلمات[اور
الفاظ]سیکھے پس خدا نے[ان الفاظ کی برکت سے] آدم -کی توبہ قبول کرلی،بے شک خدا بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے''۔

تفسیرآیت:
سعید بن جبیر نے عبد اللہ بن عباس -سے روایت کی ہے:
قال سئل النبی عن الکلمات التی تلقیٰ آدم من ربہ فتاب علیہ قال سألہ بحق محمد و علی و فاطمۃ و الحسن و الحسین
...............................
[١]قارئین محترم،صواعق محرقہ،تفسیر بیضاوی،تفسیر در منثور،شواہد التنزیل جیسی کتابوں کا مطالعہ کریں ان میں منقول روایات کو جو اہل بیت کی شان میں ہیں نشر کریں،تاکہ نجات بشر کا ذریعہ بن سکیں۔
[٢]۔بقرہ /٣٧۔

الا تبت علیّ فتاب علیہ[١]۔
عبد اللہ ابن عباس -نے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص)سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آنحضرت (ص)نے فرمایا:اس آیت میں کلمات سے ہم اہل بیت مراد ہیں کہ حضرت آدم - نے خدا سے حضرت محمد(ص)،حضرت علی - اور حضرت فاطمہ = و حضرات حسنین(ع)کے صدقے میں توبہ کی تو خدا نے صرف ان کے صدقے میں توبہئ آدم -قبول کرلی نیزابن عباس -سے روایت کی گئی ہے:
عن النبی(ص) لما امر اللہ آدم بالخروج من الجنۃ رفع طرفہ نحو السماء فرأی خمسۃ اشباح عن یمین العرش فقال الہٰی خلقت خلقاً من قبلی فاوحی اللہ الیہ اما تنظر الیٰ ھٰذہ الاشباح قال بلیٰ قال ھٰولاء الصفوۃ من نوری شققت اسمائھم من اسمی۔فانا اللہ محمود وھٰذا محمد(ص) وانا العالی وھٰذا علی وانا الفاطر و ھٰذہ فاطمۃ وانا المحسن وھٰذا الحسن ولی اسماء الحسنیٰ و ھٰذا الحسین فقال آدم فبحقھم اغفرلی فاوحی اللہ الیہ قد غفرت وھی الکلمات التی قال اللہ فتلقیٰ آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ [١]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]۔منا قب : ابن مغازلی ص٦٣حدیث ٨٩و ینابیع المودۃج ١ص٩٥۔
[٢]۔،ینابیع المودۃ ص٩٧۔

ابن عباس -نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا :جب خدا نے حضرت آد م - کو جنت سے نکلنے کا حکم دیا تو حضرت آدم -نے آسمان کی طرف دیکھا اور عرش کے قریب دائیں جانب پانچ ہستیوں کا جلوہ دکھائی دیا تو خدا سے پوچھا پالنے والے! کیا مجھ سے پہلے کسی کو خلق فرمایا تھا؟ خدا کی طرف سے وحی ہوئی اے آدم -! کیا تمہیں ان پانچ ہستیوں کا شبح نظر آرہا ہے؟آدم -نے عرض کیا،جی ہاں۔خدا نے فرمایا:یہ پانچ ہستیاں میری منتخب شدہ ہستیاں ہیں جن کو میں نے اپنے نور سے خلق کیا ہے ۔ان کے اسماء میرے اسماء سے لئے گئے ہیں یعنی میں محمود ہوں یہ محمد(ص)ہیں۔میں عالی ہوں یہ علی - ہیں۔میں فاطر ہوں یہ فاطمہ= ہیں۔میںمحسن ہوں یہ حسن -ہیں اور میرے اسماء حسنیٰ ہیں یہ حسین -ہیں۔اتنے میں آدم -اٹھ کھڑے ہوئے اور
ان کے صدقے میں خدا سے معذرت خواہی کی تو خدا کی طرف سے وحی ہوئی کہ اے آدم - ! میں نے تیری معذرت خواہی کو قبول کیا،کیونکہ آیت''فتلقیٰ آدم....''میں کلمات سے مراد یہی ہستیاں ہیں''۔
اہم نکات:
١۔آیت سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ حضرت آدم - خدا کی طرف سے سب سے پہلا بشر اور نبی ہونے کے باوجود معمولی سی ترک اولیٰ پر اہل بیت کے وسیلے کے بغیر نجات نہیںمل سکی۔جس سے عام انسانوں کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔یعنی جب خدا کا بھیجا ہوا نبی اہل بیت کی وساطت کے بغیر نجات نہیں پاسکتا تو دوسرے انسانوں کےلئے اہل بیت کے بغیر کیسے نجات مل سکتی ہے۔حضرت آدم - کو اہل بیت کا خاکہ اور اشباح عالم ذر میں دکھادیا تھا جس سے ایک حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ یعنی اہل بیت کا خاکہ اس مادی دنیا میں خلق کرنے سے پہلے خدا نے انبیاء کو دکھایا تھا اور فرمایا تھا کہ یہی ہستیاں کائنات کی تمام مخلوقات سے افضل ہیں اور انہی کے وسیلے سے نجات مل سکتی ہے۔

٢١)اہل بیت ،صادقین کے مصداق ہیں
یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین[١] ۔ ''اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔''

تفسیرآیت:
اس آیت میں خدا نے فرمایا جو مومن ہے اسے چاہئے کہ:
الف:تقویٰ اختیار کرے۔
ب: صادقین کے ساتھ ہوجائے۔
..........................
[١]سورئہ توبہ آیہ ١١٩

تقویٰ کی حقیقت بیان کرنے کی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے۔ ہم
یہاں صرف صادقین کی وضاحت کریں گے:
فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہ [١] نے آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن مرویہ نے ابن عباس -سے اور ابن عساکر نے امام محمد باقر -سے روایت
کی ہے کہ اس آیت میں صادقین سے حضرت علی ابن ابی طالب - مراد ہےں[٢]
لیکن استاد محترم ، علامہ آقائے علی ربانی گلپائگانی نے اپنے لیکچر میں صادقین کے بارے میں فرمایا:صادقین سے متعلق مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔لیکن حاکم حسکانی عبد اللہ بن عمرسے روایت کرتے ہیں کہ صادقین سے اہل بیت مراد ہیں۔[٣]
بعض دوسرے مفسرین اس طرح تفسیر کرتے ہیں:
الصادقون ہم الائمۃ الصدیقون بطاعتھم[٤]
صادقین سے ائمہئ اطہار (ع) مراد ہےں۔کہ جنہوں نے خدا کی سچی اطاعت کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١] ترجمہئ قرآن حاشیہ ٢
[٢]۔در منثور ج ٣ ص٣٩٠۔
[٣]۔شواہد التنزیل ج ١ ص٢٦٢،حدیث٣٥٧۔
[٤]۔ینابیع المودۃج١ص١١٥۔

پس آیت مذکورہ سے اہل بیت کی ایک خاص خصوصیت ثابت ہوتی ہے جس کا دوسرے انسانوں میں پایا جانا مشکل ہے کیونکہ''مختص الشیء لا یوجد فی غیرہ''[١]وہ حقیقت اور سچائی کے ساتھ خدا کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اس آیت کے حوالے سے مزید وضاحت کےلئے ڈاکٹر تیجانی حفظہ اللہ
کی لکھی ہوئی معروف کتاب[٢] اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع کریں۔ الغدیر اور جو کتابیں عقائد کے موضوع پر لکھی گئی ،ان میں اس آیت سے اہل بیت کی عصمت کو ثابت کیا گیا ہے۔حتیٰ فخر رازی نے بھی اس طرح کا احتمال دیا ہے۔

٢٢)اہل بیت کی سرپرستی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا حکم
یا ایھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتّبعوا خطوات الشیطان انّہ لکم عدو مبین[٣]
''اے ایمان والو! تم سب کے سب ایک بار اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو وہ تمہارا یقیناً ظاہر بہ ظاہر دشمن ہے۔''

تفسیرآیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]جو بات کسی شے کےلئے مخصوص ہے وہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی ہے۔
[٢]''پھر میں ہدایت پاگیا''
[٣]بقرہ /٢٠٨۔

ابن مغازلی صاحب مناقب روایت نقل کرتے ہیں:
عن علی فی قولہ تعالیٰ ادخلوا فی السلم کافۃ قال ولایتنا اہل البیت[١]
حضرت علی -سے ''ادخلوا فی السلم کافۃ ''کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ -نے فرمایا: اس سے ہم اہل بیت کی ولایت مراد ہے یعنی سب کے سب ہماری ولایت اور سرپرستی کو پوری طرح مان لےں۔
نیز امام محمد باقر -سے شیخ سلیمان قندوزی ینابیع المودۃ میں روایت کی ہے:
عن ابی جعفر الباقر فی قولہ تعالیٰ یا ایھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ یعنی ولایۃ علی علیہ السلام والاوصیاء بعدہ[٢]
امام محمد باقر - سے آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ- نے فرمایا:''ادخلوا فی السلم کافۃ ''سے حضرت علی - اور ان کے بعد انکے جانشینوں کی ولایت مراد ہے۔
.............................
[١]۔منا قب ابن مغازلی۔ ص١٠٤
[٢]۔ینایبع المودۃ ص٢٥٠،

ۤ اگر ہم گذشتہ روایات کی بنا پر'' فی السلم کافۃ ''سے اہل بیت کی ولایت اور سرپرستی کا ارادہ کریںتو دوسرے جملے سے بہت ہی عجیب و غریب نکتہ سمجھ میں آتا ہے یعنی خدا نے اہل بیت کی سرپرستی اور ولایت کو قبول کرنے کے حکم ساتھ دوسرے لوگوں کی سرپرستی اور ولایت کو خطوات الشیطان سے تعبیر کرکے فرمایا اہل بیت کے سوا دوسروں کی ولایت اور سر پرستی کو قبول نہ کرو کیونکہ ان کی ولایت اور سرپرستی کو قبول کرنا قدم بہ قدم شیطان کے اتباع اور پیروی کے مترادف ہے۔
اگرچہ شیعہئ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ بالذات ولایت اور سرپرستی کا حق خدا کے سواء کسی بشر کو نہیں ہے لیکن خدا نے جن کو سرپرستی اور ولایت کا حق عطا کیا ہے وہ اہل بیت ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسروںکی ولایت کو قبول کرنا خدا کی نظر میں خطوات شیطان کا اتباع ہے۔

٢٣)اہل بیت انصاف کا دروازہ ہیں
وممن خلقنا امۃ یھدون وبہ یعدلون[١]
اور ہماری مخلوقات میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو[دین] حق کی ہدایت کرتے اور حق کے ساتھ انصاف بھی کرتے ہیں۔ ..........................
[١]۔اعراف/١ ١٨۔

تفسیر:
اس آیت میں خدا نے خبر دی کہ میری مخلوقات میں سے کچھ لوگ انصاف اور حق کی ہدایت کے لئے خلق کی گئی ہیں،وہ کون ہیں ان کو معین کرنا ضروری ہے۔ فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہنے لکھا ہے کہ حضرت علی -سے روایت کی گئی ہے کہ عنقریب اس امت کے تہتر فرقے ہوںگے ان میں سے بہتر فرقے جہنمی ہیں صرف ایک فرقہ جنتی ہے اور ان کے بارے میں خدا نے فرمایا ـ:میں اور میرے ماننے والے شیعہ اس آیت کے مصداق ہیں۔[١]
شواہد التنزیل کے مصنف نے ابن عباس -سے روایت کی ہے:
فی قولہ عز و جل وممن خلقنا امۃ.....قال یعنی من امۃ محمد وعلی ابن ابی طالب علیہما السلام یھدون بالحق یعنی یدعون بعدک یا محمد الیٰ الحق وبہ یعدلون فی الخلافۃ بعدک[٢]
یعنی اس آیت سے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے پیروکار مراد ہے جو پیغمبر (ص)کے بعد حق کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور پیغمبر (ص)کے
بعد خلافت کے سلسلے میں حق کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔جو لوگوں کی ہدایت اور حق کی طرف انصاف کے ساتھ دعوت دیتے ہیں۔
.........................
[١]ترجمہئ قرآن حاشیہ ٢
[٢]۔شواہد التنزیل ج ١ ص٢٠٤حدیث ٢٦٦

جناب محمد رضا امین زادہ نے اپنی کتاب فضائل اہل بیت کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس آیت کے متعلق اہل سنت سے دو حدیثیں جبکہ اہل تشیع سے بارہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں۔جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کریمہ اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ فخر رازی نے اس آیت کی تفسیر میں اس حدیث کو نقل کیا ہے:
انّ من امتی قوماً علیٰ الحق حتیٰ یتنزل عیسیٰ بن مریم[١]
پیغمبر (ص)نے فرمایا:اس آیت میں میری امت میں سے ایک گروہ مراد ہے جو برحق ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے تک حق کی دعوت دیتے رہیں گے۔

تحلیل:
اگر ہم با شعورانسان کی حیثیت سے تعصب اوراندھی تقلید اور دیگر عوامل سے قطع نظر شرعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چودہ معصومین کی سیرت کو صحیح معنوں میں درک کریں تو بہت سارے مسائل کا حل مل سکتا ہے اور اس آیت کا مصداق جو برحق ہونے کے علاوہ دین حق کی ہدایت اور انصاف کا مصداق ہے،متعین کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١]فضائل اہل بیت ص٢٨
[٢]تفسیر کبیر ج ١٥ ص٧٢۔

اگر عدل وانصاف اورہدایت و سعادت کے خواہاں ہوںاور ظلم وستم ، جہالت و گمراہی اور شیطانی اوصاف کے حامل لوگوں کے تسلط سے نجات کے طالب ہوں تو اہل بیت کی سیرت پر چلنا چاہئے اور ان کے نورانی کلمات سے استفادہ کرنا چاہئے کیوں کہ کسی تعصب اور مادی ہدف کے بغیر صرف ذمہ داری سمجھ کر ہدایت کرنے والی ہستیاں اہل بیت ہےں۔
ان کی سیرت سے ہٹ کر جو بھی نظام اور سیرت ہیں ان میں دوام اور اور استحکام نظرنہیںآتا اس کے علاوہ ان میں دنیا و آخرت کی تباہی، ظلم و ستم اور ضلالت و گمراہی کے رواج، جہالت اور ناانصافی اور جابر حکمرانوں کے تسلط کے سوا کچھ بھی نہیں ہے چنانچہ آج صاحبان عقل دنیا میں ایسے وقائع اور حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیاست اور کامیابی کے نام سے بے گناہ افراد کو اپنا غلام بنا کریا قتل و غارت کے ذریعے ہم دہشت گردی سے نجات دینے کےلئے پیدا کئے گئے ہیں جبکہ ان نظریات کو صحیح معنوں میں درک کرنے سے دہشت گردوں کی تقویت اور ناانصافی کے فروغ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لہٰذا پڑھے لکھے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ بالغ نظری سے اہل بیت کی سیرت کا مطالعہ کریں۔
اگر ہم کسی شعبے میں کامیاب،باوقار،با عزت اور باشرف ہونا چا ہیں تو اس کی بہترین راہ اہل بیت کی سیرت ہے جس میں ہماری دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کے علاوہ ثبات اور دوام بھی نظر آتا ہے۔
اب تک اہل بیت کی عظمت کے بارے میں اہل سنت کی تفاسیر اور معتبر کتابوں سے کچھ آیات کونقل کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔لیکن اگر ہم اہل سنت کی کتابوں کا بغور مطالعہ کریں تواہل بیت کی شان اور ان کی عظمت بیان کرنے والی مزید آیات مل سکتی ہےں ۔
قارئین محترم سے گزارش ہے ہمارے برادران اہل سنت کی ان کتابوں کا مطالعہ کریں جن میں اہل بیت کی فضیلت اور عظمت بیان کرنے والی آیات و روایات بہت زیادہ ہیں۔

اہل بیت کی عظمت سنت کی روشنی میں


١)اہل بیت کا وجود نور الہٰی ہے
قرآن کریم میں خدا نے اپنی ذات گرامی کو نور سے تعبیر کیاہے جیسے ''اللہ نور السموٰات والارض ''یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ پورے آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
نیز حضرت پیغمبر اسلام (ص) کے وجود مبارک کو اور خود قرآن کریم کو بھی نور سے یاد کیاگیا ہے، اسی طرح احادیث نبوی(ص)میں علم اور نمازتہجد اور احادیث متواترہ میں اہل بیت کے وجود بابرکت کو نور سے تعبیر کیا گیاہے۔
ابن مسعود -نے کہا:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :اعلم ان اللہ خلقنی و علیاً من نور عظیم قبل خلق الخلق بالفی عام اذ لا تسبیح و لا تقدیس[١]
......................
[١]۔قندوزی،ینابیع المودۃ،ج١ص٧٠

''پیغمبر اکرم (ص)نے مجھ سے فرمایا:[اے ابن مسعود -] جان لو! خدا نے کائنات کو خلق کرنے سے دو ہزار سال پہلے مجھے اور علی -کو ایک عظیم نور سے خلق فرمایا تھا جبکہ اس وقت خدا کی تقدیس اور تسبیح کےلئے کوئی مخلوق نہ تھا۔
اس روایت سے دو نکتے واضح ہوجاتے ہیں:
١۔کائنات کی خلقت سے پہلے پیغمبر (ص)اور حضرت علی - کی خلقت ہوئی تھی اگرچہ اس کا تصور کرنا اس صدی کے افراد کی ذہنیت سے دور ہے کیونکہ اس صدی کے انسان کا ذہن مادی اشیاء سے زیادہ مانوس ہے۔ لہٰذاماورائے مادہ و مادیات کا تصور اور خاکہ اس کے ذہن میں ڈالنا اتنی علمی ترقی اور عقل و شعور کے باوجود بہت مشکل ہے ۔لیکن اگر انسان کا عقیدہ اور ایمان مضبوط ہو تو یہ سمجھنا آسان ہے کہ کائنات کی خلقت سے پہلے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے نور کو خلق کرنا خدا کے لئے مشکل کام نہیںتھا۔کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہ تھا؟کیا اس طرح کا خلق کرنا ممکن نہیں ہے کیا کائنات کی خلقت حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی -کی خلقت کےلئے علت تامہ ہے؟ لہٰذا یہ کہنا کہ پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کی خلقت کےلئے مکان و زمان یا اس رائج مادی سسٹم کی ضرورت ہے۔اس طرح تصور کرناحقیقت میں کائنات کے حقائق سے بے خبر ہونے کے مترادف ہے۔
٢۔اس حدیث سے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے وجود مبارک کے نور ہونے کا پتہ چلتا ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے وجود میں کسی بشر کے لئے کوئی ضرر یا نقصان قابل تصور نہیں ہے۔ کیونکہ خدا کی ذات نور ہے قرآن نور ہے،علم وعبادات نور ہیں،اہل بیت کا وجود بھی نور ہے، اور یہ چیزیں انسان کے تکامل و ترقی کا ذریعہ ہیں۔تکامل و ترقی کےلئے رکاوٹ کا تصور محال ہے۔
نیز جناب عبد الرضی بن عبد السلام نے نزہۃ المجالس میں جناب جابر بن عبد اللہ -سے روایت کی ہے:
عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اللہ خلقنی و خلق علی (ع) نورین بین یدی العرش نسبح اللہ و نقدسہ قبل ان یخلق آدم بالفی عام فلما خلق اللہ آدمؑ اسکننا فی صلبہ ثم خلقنا من صلب طیب و بطن طاہر حتیٰ اسکننا فی صلب ابراہیم(ع)ثم نقلنا من صلب ابراہیمؑ الیٰ صلب طیب و بطن طاہر حتیٰ اسکننا فی صلب عبد المطلبؑ ثم افترق النور فی عبد المطلبؑ فصار ثلثاہ فی عبد اللہ و ثلثہ فی ابی طالب (ع) ثم اجتمع النور منی و من علی (ع) فی فاطمۃ (ع) فالحسنؑ و ال حسین (ع) نوران من نور ربّ العالمین[١]
....................
[١]۔نزہۃ المجالس ج ٢ص٢٣٠ ۔

جناب جابر -نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ آپنے فرمایا: بتحقیق خدا نے مجھے اور علی - کو حضرت آدم -کی خلقت سے دوہزار سال پہلے دو نور کی شکل میں عرش کے سامنے خلق کیا اور ہم خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ۔جب خدا نے حضرت آدم -کو خلق فرمایا تو ہمارے نورکو ان کے صلب مبارک میں قرار دے دیا پھر ان کے صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب کے ذریعہ منتقل کرکے حضرت ابراہیم - کے صلب میں ٹھہرایا،پھر ان کے صلب اور پشت سے نکال کر جناب عبد المطّلب- کے صلب میں منتقل کیا پھر جناب عبد المطلب -کے صلب سے یہ نور اس طرح تقسیم ہواکہ دو حصے حضرت عبد اللہ بن عبد المطّلب- کے صلب میں قرار دیا گیاجبکہ ایک حصہ جناب ابو طالب بن عبد المطلب +کے صلب میں قرار دیاگیا،پھر اس نور کے دونوں حصے فاطمہ = کے وجود مبارک میں جمع ہوئے لہٰذا حسن- و حسین- اللہ تعالیٰ کے دو نور ہیں۔
اس روایت پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ گذشتہ روایت میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے نور کا کائنات کی خلقت سے پہلے موجود ہونے کو بتایا گیا ۔ اس روایت میں حضرت آدم - کی خلقت سے پہلے حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی - کا نورخلق ہونے کی خبر دی۔
نیز جناب سلمان فارسی -نے فرمایا:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: یا سلمان!فہل علمت من نقبائی و من الانثیٰ عشر الذین اختارھم اللہ للامامۃ بعدی فقلت اللہ و رسولہ اعلم قال یا سلمان خلقنی اللہ من صفوۃٍ نورہ و دعانی فا طعت و خلق من نوری علیاً فدعاہ واطاعہ وخلق من نوری و نور علی فاطمہ فدعاھا فاطاعتہ و خلق منی و من علی و فاطمۃ الحسن و الحسین فدعاھما فاطاعاہ فسمانا بالخمسۃ الاسماء من اسمائہ اللہ المحمود و انا محمد واللہ اعلٰی وھٰذا علی و اللہ فاطر وھٰذہ فاطمۃ واللہ ذوالاحسان وھٰذا الحسن واللہ المحسن وھٰذا الحسین ثم خلق منا ومن صلب الحسین تسعۃ ائمۃ فدعاھم فاطاعوہ قبل ان یخلق اللہ سماء مبنیۃ وارضا مدحیۃ او ھواء او ماء او ملکاً او بشراً وکنّا بعلمہ نوراً نسبحہ و نقدسہ و نطیع[١]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اے سلمان -! کیا تو جانتے ہو کہ میرے جانشین کون ہیں؟ اور وہ بارہ افراد جنہیں خدا نے میرے بعد امامت کےلئے چن لیا ہے کون ہیں؟سلمان -نے کہا:اللہ اور اس کا رسول (ص) بہترجانتے ہیں۔ اس وقت رسول خدا ؐنے فرمایا: اے سلمان -جان لو!خدا نے مجھے اپنے
.....................
[١]۔بحار الانوارج ١٥ ص٩۔

خالص نور سے خلق فرمایا اور مجھے اپنی اطاعت کی دعوت دی تو میں نے اطاعت کی پھر میرے نور سے علی -کو خلق کیا اور ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی انہوں نے بھی اطاعت کی اور میرے اور علی -کے نور سے فاطمہ زہرا =کو خلق کیا ان کو بھی اطاعت کی دعوت دی انہوں نے لبیک کہا پھر میرے،علی - اور فاطمہ = کے نور سے حسن و حسین (ع) کو خلق فرمایا ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی انہوں نے قبول کیا پھر خدا نے ہمیں اپنے پانچ اسماء حسنیٰ سے موسوم فرمایا پس خدا محمود ہے میں محمد،خدا اعلیٰ ہے اور یہ علی -،خدا فاطر ہے اور یہ فاطمہ =،خدا صاحب احسان ہے اور یہ حسن -،خدا محسن ہے اور یہ حسین-۔اس کے بعد خدا نے میرے حسین - کے صلب سے نو ہستیوں کو امام اور پیشوا بناکر خلق فرمایا ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی تو سب نے خدا کی اطاعت کی،اس وقت آسمان،زمین،ہوا،پانی،فرشتے اور بشر میں سے کوئی چیز خلق نہیں ہوئی تھی صرف ہمارا نور تھا جو خدا کی تسبیح و تقدیس اور اطاعت کر رہا تھا۔
فضل نے کہا:
قال الصادق علیہ السلام:ان اللہ تبارک وتعالیٰ خلق اربعۃ عشر نوراً قبل خلق الخلق باربعۃ عشر الف عام فھی ارواحنا فقیل لہ یابن رسول اللہ ومن الاربعۃ عشر قال محمد(ص)و علی (ع) و فاطمہؑ والحسن والحسین والائمۃ من ولد الحسین آخرھم القائم الذی یقوم بعد غیبۃ فیقتل الدجال و یطھر الارض من کل جور و ظلم......[١]
امام جعفر صادق -فرماتے ہیں:بتحقیق خدا نے کائنات کو خلق کرنے سے چودہ ہزار سال پہلے چودہ نور کو خلق فرمایا،اوروہ ہم اہل بیت کی ارواح تھیں آپ -سے پوچھا گیا یابن رسول خدا! وہ چودہ ہستیاں کون ہیں؟آپ- نے فرمایا:وہ حضرت محمد(ص)،حضرت علی -،حضرت فاطمہ =،حضرت حسن-حضرت حسین- اور امام حسین - کی نسل سے نوامام ہیںجن میں سے آخری امام قائم عج ہوگا جو غیبت کے بعد ظہور کرے گااور دجال کو قتل کرکے زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کردے گا۔

تحلیل:
مذکورہ روایتوں سے معلوم ہوجاتاہے کہ اہل بیت شیعہ امامیہ کے
عقید ے کے مطابق چودہ ہیںجوچودہ معصومین کے نام سے مشہور ہےں ان کی خلقت حضرت آدم -کی خلقت سے پہلے نور کی شکل میں عالم ذر اور عالم نفس میں ہوئی تھی۔
.....................
[١]۔بحار الانوار ج ١٥،ص٢٣۔

جب حضرت آدم -کی خلقت ہوئی تو خدا نے ان کے نور کو پاک و پاکیزہ صلبوں سے منتقل کرکے حضرت عبد اللہ - اورحضرت ابو طالب-کے صلب تک پہنچا دیا پھراس مادی دنیامیں بشر کی شکل میں وجود کا لباس پہنایا۔
نیز امام سجاد -نے فرمایا:
حدثنا عمّی حسن قال سمعت جدی رسول اللہ یقول خلقت من نور اللہ عز وجل و خلق اہل بیتی من نوری و خلق محبھم من نورھم و سائر الناس فی النار[١]
میں نے اپنے تایاامام حسن مجتبیٰ -سے سنا کہ آپ-نے فرمایا:میرے نانا رسول خدا ؐنے فرمایا: میرا وجود خدا کے نور سے خلق ہوا اور میرے اہل بیت کو میرے نور سے خلق کیا گیا اور ان کے دوستوں کو اہل بیت کے نور سے خلق کیا گیا ۔ اوران کے ساتھ بغض رکھنے والوں کو منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

اہم نکات:
اگر اس صدی کا بشر اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کے بارے میں صرف اہل سنت کے منابع کا مطالعہ کرے توحقیقت واضح ہونے کے علاوہ بہت
..........................
[١]۔ینابیع المودۃ ج ١ص١٠۔

ساری مشکلات کا حل بھی مل سکتا ہے۔اور اہل بیت کی عظمت بیان کرنے والی احادیث کو کسی اضافہ اور مبالغہ گوئی کے بغیر پیش کیا جائے تو اہل بیت کی خلقت اور دیگر انسانوں کی خلقت میں بڑا فرق نظر آئے گا۔ اگر ہم ان کی خلقت کا حضرت آدم -کی خلقت یا کائنات کی خلقت سے پہلے ہونے کی خبر کسی ایسے معاشرے میں بیان کریں جہاں سالوں سال سے مادی نظام رائج ہو تو ہمارا مذاق اڑایا جائے گا ۔کیونکہ ان کی ذہنیت مادہ اور مادیات سے مانوس ہوچکی ہے۔لہٰذا ان کا نظام ہر غیر مادی شیء کی نفی کرتا ہے ۔اسی لئے ایسے افراد کے ذہن میں ایسے حقائق کا بٹھانا بہت مشکل کام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اسلامی فلسفہ سے آگاہ ہو تو بخوبی اس مطلب کو درک کرسکتا ہے۔کیونکہ اسلامی فلسفہ تین قسم کے عالم میں وجود کو ثابت کرتا ہے:
١۔عالم ذہن
٢۔عالم خارج
٣۔عالم نفس الامر
ہم وجودذہنی اور وجود خارجی کی خصوصیات سے مانوس ہیں لیکن وجود نفس الامری کی خصوصیات سے بے خبر ہیں۔اس لئے جب چودہ معصومین کے وجود مبارک کا نور ہونے یا حضرت آدم -اور کائنات کی خلقت سے پہلے عالم ذر اور عالم نفس الامرمیں موجود ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا درک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
کسی مذہب یاعقیدے پر تنقیدکرنے سے پہلے ان کی دلیل اور اس عقیدہ کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے،پھر اشکال بھی کرے اور جواب بھی سنے۔

٢)اہل بیت کے نورکاانبیاء نے مشاہدہ کیاہے
اہل بیت اور چودہ معصومین یقیناً اس عالم مادی میں انبیاء الہٰی کی خلقت کے بعد آئے ہیںلیکن بہت ساری روایات اور احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا نے اہل بیت کا نور حضرت آدم -کو عالم ذر میں دکھایا اورحضرت ابراہیم(ع)کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمرود کے ظلم و ستم کے وقت پنجتن پاک کے نور مبارک کامشاہدہ فرمایا اور خدا سے ان کاواسطہ دے کر دعا کی تو خدا نے یا نار کونی برداً وسلاماً علیٰ ابراہیم کہہ کر نجات دی ۔ اسی طرح حضرت یحییٰ -اور حضرت نوح -وغیرہ کے حالات متعدد روایات میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی -نے مشکل وقت میںچودہ معصومین کا واسطہ دے کر خدا سے کامیابی کی درخواست کی ہے اور خدا نے ان کی درخواست قبول فرمایا۔ان تمام واقعات سے معلوم ہوجاتا ہے اہل بیت کے نور مبارک کاتمام انبیاء الہٰی نے مشاہدہ فرمایا جن کے صدقے میں وہ کامیاب ہوئے ۔جب حضرت آدم-کو ترک اولیٰ کے نتیجہ میں خدا نے سزا دی حضرت آدم-نے پنجتن پاک کا واسطہ دے کر معافی مانگی تو خدا نے ان کو معاف کردیا[١]
نیز مفضل بن عمر بن عبد اللہ نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے:
انہ قال:لما خلق ابراہیم علیہ السلام و کشف اللہ عن
بصرہ فنظر الیٰ جانب العرش نوراً فقال الہیٰ و سیدی ما ھٰذا النور؟ قال یا ابراہیم ھٰذا نور محمد صفوتی قال الہٰی و سیدی و ارایٰ نوراً الیٰ جانبہ قال یا ابراہیم ھٰذا نور علی ناصر دینی قال الہٰی و سیدی واریٰ نوراً ثالثاً یلی النورین قال یا ابراہیم ھٰذا نور فاطمۃ تلی اباھا و بعلھا فطمت بھا محبھا من النار قال الہیٰ و سیدی واریٰ نورین یلیان ثلاثۃ انواراً قال یا ابراہیم ھٰذا الحسن و الحسین یلیان نور ابیھما وامھما و جدھما قال الہیٰ و سیدی و
اریٰ تسعۃ انواراً قد احلقوا بالخمسۃ انواراً قال یا ابراہیم ھٰؤلآء الائمۃ من ولد ھم قال الہٰی و سیدی وبماذا یعرفون؟قال یا ابراہیم اولھم علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر ابن محمد وموسیٰ ابن جعفر و علی ابن موسیٰ و محمد بن علی
......................
[١]۔مناقب ص٦٣ ،ینابیع المودۃج١ص ٩٥۔

وعلی بن محمد والحسن بن علی والمہدی بن الحسن صاحب الزمان قال الہٰی وسیدی واریٰ انواراً لا یحصی عددھا الا انت قال یا ابراہیم ہٰؤلآء شیعتھم و محبیھم قال یا ابراہیم یصلون احدی و خمسین والتختم فی الیمین و الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم والقنوت قبل الرکوع والسجود و سجدۃ الشکر قال ابراہیم: الہٰی اجعلنی من شیعتھم ومحبیھم فانزل اللہ فی القرآن وان من شیعتہ لابراہیم اذجاء ربہ بقلب سلیم[١]
مفضل ابن عمر نے کہا : پیغمبر (ص)نے فرمایا جب خدا نے حضرت ابراہیم -کو خلق فرمایا اور ان کی آنکھوں سے پردے ہٹادیئے تو حضرت ابراہیم- کی نظر عرش کے کنارے ایک نور پر پڑی عرض کیا :پروردگارا!یہ نور کیا ہے؟نداء آئی: اے ابراہیم-! یہ محمد(ص) کا نور ہے جو میرا برگزیدہ بندہ ہے حضرت ابراہیم(ع) نے کہا:خدایا! اس نور کے ساتھ جو نور نظر آرہا ہے وہ کس کا ہے؟جواب ملا اے ابراہیم! وہ نور، علی مرتضیٰ کا ہے جو میرے دین کا مددگار ہے۔حضرت ابراہیم نے کہا:اے میرے آقا و مولا ان دونوں کے پیچھے تیسرا نور کس کا ہے؟ جواب ملا اے ابراہیم -! یہ حضرت فاطمہ = کا نورہے جو اپنے پدر بزرگوار اور شوہر کے کنارے
.....................
[١]۔ ابن عساکر:الاربعین ص٣٨۔

نظر آرہا ہے۔جس کے صدقے میں ان کے دوستداروںکو جہنم کی آگ سے نجات ملے گی۔حضرت ابراہیم -نے کہا اے میرے مولا و آقا !ان نوروں کے پیچھے دو نور نظر آرہے ہیں وہ کون ہیں؟جواب ملا اے ابرہیم! وہ حسن و حسین (ع) ہیںجو انکے جد بزرگوار،مادر گرامی اور پدر بزرگوار کے پیچھے نظر آرہے ہیں۔پھر حضرت ابراہیم نے کہا اے میرے مولا و آقا ان پانچ نوروں کے ساتھ مزید نو نور نظر آرہے ہیں جو حلقے کی شکل میں ہیں،وہ کون ہیں؟خدا نے فرمایا:یہ ان کی اولاد ہیں جو ان کے بعد لوگوں کے امام اور پیشویٰ ہونگے۔حضرت ابراہیم نے سوال کیا اے میرے مولا و آقا ان کو کیسے اور کس نام سے یاد کروں ؟خدا نے فرمایا: اے ابراہیم! ان میں سے پہلا علی بن ال حسین (ع)ہے ان کے بعد محمدبن علی (ع) پھر جعفر ابن محمد پھر موسی بن جعفر اور پھر علی بن موسی پھر محمدبن علی اور پھر علی بن محمد پھر حسن بن علی ا ور آخری کا نام مہدی صاحب الزمان[عجّل اللہ تعالی فرجہ] ہوگا۔
ۤ اس کے بعد حضرت ابراہیم -نے کہا:اے خدا ان کے علاوہ بہت سارے نور کا مشاہدہ کر رہا ہوں ،جن کی تعداد سوائے تیری ذات کے کوئی اور نہیں جانتا،یہ کس کے نور ہیں؟۔خدا نے فرمایا: یہ ان ہستیوں کے ماننے والوں اور دوستوں کا نور ہے ۔حضرت ابراہیم -نے خدا سے دعا کی پروردگارا! مجھے بھی ان کے ماننے والے دوستوں میں سے قرار دے۔اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد الہٰی
ہے:
وان من شیعتہ لابراہیم اذ جاء ربہ بقلب سلیم۔

تحلیل:
اس حدیث کواہل سنت کی معتبر کتاب سے نقل کرنے کا ہدف یہ ہے کہ اس حدیث سے پیغمبر اکرم (ص)کے بارہ جانشین اور اہل بیت کا مصداق چودہ معصومین کے ہونے کا علم ہوجاتا ہے جو شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہے۔نیز انبیاء کا ان کے نور کو مشاہدہ کرنے کی خبرکے ساتھ ان کے اسماء بھی اس روایت میں موجود ہیں اور ان کے ماننے والوں کے برحق ہونے کی دلیل بھی کیونکہ حضرت ابراہیم -خدا کے نبی ہونے کے باوجود خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ خدایا مجھے بھی ان کے ماننے والوں میں سے قرار دے۔لہٰذا خدا نے قرآن پاک میں ان کے حق میں فرمایا کہ ابراہیم- ان کے سچے ماننے والوں میں سے ہے۔لہٰذا جب حضرت ابراہیم -سے خدا نے امتحان لیا اور خواب میں دکھایا کہ حضرت اسماعیل -کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کررہے ہیں آپ- اسماعیل -کو قربان گاہ کی طرف لے گئے ،ہاتھ پیر باندھ دیئے اور ذبح کرنے لگے تو خدا کی جانب سے وحی نازل ہوئی اے ابراہیم - !قد صدقت الرؤیا ان کے بدلے میں دنبے کو ذبح کردے۔اس وقت حضرت ابراہیم -نے اسماعیل - کو چھوڑ دیا گوسفند کو ذبح کیا لیکن بہت زیادہ رونے لگے جبرئیل حضرت ابراہیم - کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے اے ابراہیم -کیوں رو رہے ہو؟جبکہ خدا نے حضرت اسماعیل - کو ذبح ہونے سے بچالیاہے حضرت ابراہیم -نے فرمایا اے جبرائیل -! میں اس لئے رورہا ہوںکہ اگر میرے ہاتھوں خدا کے حکم سے میرا بیٹا ذبح ہوتا تو روز قیامت انبیاء کے درمیاں فخر سے سر بلند ہوتا،لیکن میں اس سے محروم رہا ۔اس وقت جبرائیل -نے حضرت ابراہیم -سے پوچھا اے ابراہیم - آپ کی نظر میں آپ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص)؟حضرت ابراہیم -نے فرمایا:حضرت محمد(ص)افضل ہیں۔پھر جبرئیل -نے پوچھا اے ابراہیم - آپ کی ذریہ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص) کی؟فرمایا:حضرت محمد(ص)کی ذریہ۔ان کی ذریہ پر میری اولاد قربان ہو ۔ جبرئیل -نے کہا آپ کی نظر میں اسماعیل افضل ہے یا حضرت حسین-؟آپ نے فرمایا:حضرت امام حسین-افضل ہیں۔ جبرئیل -کہنے لگے اے ابراہیم(ع)یہی حسین- ؑہے جو کربلا کی سرزمین پربے دردی کے ساتھ ذبح کیاجائے گا تو اپنے فرزند اسماعیل-کی قربانی نہ ہونے پر گریہ کرنے کی جگہ حسین ابن علی -کی قربانی پر گریہ کرو۔یہ سن کر حضرت ابراہیم -بے اختیار رونے لگے[١]اس طرح کی روایات اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت ؑکی عظمت اور فضیلت کے تمام انبیاء
.................
[١]اشتہاردی محمد:داستان و دوستان ،ج٢ص٢٨ ۔

قائل تھے ۔اہل سنت کی کتابوں سے منقول مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کے نور کا مشاہدہ سارے انبیاء الہیٰ نے کیا ہے۔سارے انبیائ ان کے وسیلہ سے امتحان الہٰی میں کامیاب ہوئے۔
نیز حضرت یحیی -کے بارے میں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت یحیی - کو نبوت کے منصب پر مبعوث فرمایا پھر انہیں پنجتن پاک کا نام سنایا ۔حضرت یحییٰ - غور سے سنتے رہے، جب حسین -کا نام لیا گیا تو بے اختیار آنسو بہنے لگے۔خدا سے پوچھا:پالنے والے! جب آپ نے حسین- کا نام لیا تو مجھ پر غم کی حالت طاری ہوگئی اس کی وجہ کیا ہے؟خدا نے فرمایا:اے یحییٰ! یہ حسین -ہے جوکربلاکی سرزمین پربے دردی سے ذبح کیاجائے گا اس لئے ان کا نام سنتے ہی ہر مومن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتا ہے۔یہ روایت بھی اہل بیت کی عظمت کی بہترین دلیل ہے۔
٣) اہل بیت سے محبت کا نتیجہ
آیات و روایات اور احادیث نبوی میں محبت اہل بیت کی اہمیت بہت ہی واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔چنانکہ روایت ہے کہ ولدزنا اور منافق کے سوا کوئی بھی اہل بیت سے بغض اور دشمنی نہیں رکھتا ،خدا نے ان کی محبت کو لازم قرار دیا ۔اور ان کے وجود مبارک کو ہی تخلیق کائنات کا ہدف اور انسان کی ترقی و تکامل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسی لئے ایک حدیث میں فرمایا کہ ایک لحظہ کےلئے
بھی محبت اہل بیت سے کائنات خالی نہیں ہوسکتی۔اگر ایک لحظہ کےلئے بھی کائنات محبت اہل بیت سے خالی ہو تو پوری کائنات نابود ہوجائے گی۔لہٰذا کلام مجید میں فرمایا:''لکل قوم ھادٍ''اس جملے کی تفسیر میں کئی احادیث اور روایات وارد ہوئی ہیں کہ ''ھاد ''سے محبت اہل بیت مراد ہے۔لہٰذا محبت اہل بیت کے نتائج اور ثمرات کی طرف بھی اشارہ کرنا مناسب ہوگا۔
جناب ابن عباس -سے روایت ہے:
''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لا تزول قدماً عبد یوم القیامۃ حتیٰ یسأل عن اربعٍ عن عمرہ فیما افناہ وعن جسدہ فیما ابلاہ وعن مالہ فیما انفقہ و من این کسبہ و عن حب اہل البیت''۔[١]
ابن عباس -نے کہا : پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا کوئی بھی انسان قیامت کے دن اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا جب تک چار چیزوں کے بارے میں پوچھا نہ جائے:
١۔اپنی زندگی کو دنیا میں کس چیز میں سرگرم رکھا؟
٢۔ بدن اور جسم کو کیسے بڑھاپے کی حالت تک پہنچا دیا؟
......................
[١]۔ینابیع المودۃ ج٢۔ص٩٦،

٣۔دولت اور ثروت کو کیسے جمع کیااورکہا ںخرچ کیا؟
٤۔اہل بیت سے دوستی و محبت کی یا نہیں؟
تحلیل:
اس حدیث سے اہل بیت کی محبت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے یعنی روز قیامت خدا سب سے پہلے اہل بیت سے دوستی اور محبت کے بارے میں سوال کریگا۔اگر اہل بیت سے دوستی اور محبت کے متعلق مثبت جواب ملا تو دوسرے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اگر محبت اہل بیت کے بارے میں مثبت جواب نہ ملا تو باقی سارے اعمال بھی خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔

٤) اہل بیت سے محبت،مومن کی علامت ہے
انسان عقیدہ کے حوالے سے تین دستوں میں تقسیم ہوتا ہے:
١۔کافر۔
٢۔منافق۔
٣۔مومن۔
مومن کی علامتیں قرآن مجید اور احادیث میں کئی چیزیں بیان ہوئی ہیں ان کو تفصیل سے بیان کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے لہٰذا صرف چند ایک روایات کو بیان کرنے پر اکتفاء کریں گے:
عن سلمان قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لا یومن احد حتی یحب اہل بیتی لحبی۔فقال عمر ابن الخطاب وما علامۃ حب اہل بیتک؟،قال ھٰذا [وضرب بیدہ علیٰ علی (ع)،] [١]
سلمان فارسی -نے کہا:پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:جب تک میرے اہل بیت سے میری محبت کے واسطے محبت اور دوستی نہ کرے وہ شخص مومن نہیں کہلاسکتا۔اس وقت عمر ابن الخطاب نے پوچھا:آپ کے اہل بیت کی
محبت کی علامت کیا ہے؟ آنحضرت (ص)نے دست مبارک کو امیر المومنین -پر رکھتے ہوئے فرمایا :یہ میرے اہل بیت کی محبت کی علامت ہے۔

تحلیل:
اگر ہم اس حدیث کے مضمون کو صحیح معنوں میں سمجھ لیں تو بہت سارے مطالب واضح ہوجاتے ہیں:
١۔ آنحضرت (ص)نے اس حدیث کو کسی مجمع میں بیان فرمایا کہ جس میں حضرت علی -، حضرت عمر اور حضرت سلمان جیسے بزرگ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔
٢۔حضرت عمر کامحبت اہل بیت کی علامت کے بارے میں پوچھنے کا
.................
[١]۔ینابیع المودۃ ص٣٧٢۔

مقصد یہ تھا کہ شاید کہیں پیغمبر اکرم (ص) حضرت علی - کو اہل بیت کے دائرے سے نکال کر کسی اور کو محبت اہل بیت کی علامت قرار دے۔لیکن پیغمبر اکرم (ص) ان کے اہداف اور مقاصد سے بخوبی آگاہ تھے۔لہٰذا فرمایا:
ھٰذا و ضرب بیدہ علیٰ علیّ علیہ السلام۔
اگرچہ'' ھٰذا'' کا لفظ اشارہ کےلئے کافی تھا لیکن پیغمبر اکرم (ص)نے'' ھٰذا'' کہہ کر اپنے دست مبارک کو علی - پر رکھااس کا فلسفہ یہ تھا کہ کہیں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ھٰذا سے کوئی اور مراد ہو، تب ہی توپیغمبر اکرم (ص)نے ''ھٰذا'' کہتے ہوئے حضرت علی -کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اس قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش ختم کردی۔

٥)اہل بیت ،صراط سے عبور کا ذریعہ ہیں
مسلمانوں کے عقائد میں سے ایک صراط [١]ہے جس کی خصوصیات اور حالات آیات اور احادیث نبویؐ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ صراط ایک پُل ہے جس سے قیامت کے دن ہر جنتی کا گزرنا یقینی ہے جس کی تعریف روایات نبوی(ص) اور احادیث ائمہ میں اس طرح کی گئی ہے کہ وہ آگ سے زیادہ
.........................
[١] صراط کی حقیقت اور اوصاف سے آگاہی کیلئے مطالعہ کریں: آیت اللہ سیّد محمدحسین تہرانی :معاد شناسی

گرم،تلوار سے زیادہ تیز،بال سے زیادہ باریک ہے۔
لہٰذا جو شخص ایسے مشکل راستہ سے بہ آسانی عبور کرنا چاہتاہے تو اسے چاہئے کہ دنیا میں اہل بیت کے ساتھ دوستی اور محبت رکھے۔
چنانچہ اس مطلب کو حسن بصری نے ابن مسعود -سے روایت کی ۔
ہے:ابن مسعود -نے کہا:۔
''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اذا کان یوم القیامۃ یقعد علی (ع) علی الفردوس وھو جبل قریب علیٰ الجنۃ و فوقہ علی العرش رب العالمین ومن سفحہ یتفجر انہار الجنۃ ویتفرق فی الجنان و علی (ع)جالس علیٰ کرسیٍّ من نورٍ یجری بین یدیہ النسیم لا یجوز احد الصراط الا و معہ سند بولایۃ علی و ولایۃ اہل بیتہ فید خل محبیہ الجنۃ و مبغضیہ النار۔''[١]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:روز قیامت حضرت علی -فردوس پر تشریف فرما ہونگے جوجنت کے قریب ایک بلند پہاڑ کا نام ہے جس کے اوپر پروردگار عالم کا عرش ہے اور اس پہاڑ کے دامن سے جنت کی نہریں باغوں کی
......................
[١]۔ینابیع المودۃ ج ١۔ص٨٦۔

طرف جاری ہیں اور حضرت علی - نور سے بنی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہونگے ان کے سامنے تسنیم کا چشمہ جاری ہوگا اور کوئی بھی شخص صراط سے عبور نہیں کر سکتا ہے جب تک ولایت علی - اور ولایت اہل بیت کی سند اس کے ساتھ نہ ہو اور جو ان کے دوستوں میں سے ہونگے انہیں جنت اور جو ان کے دشمنوں میں سے ہونگے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

تحلیل:
اس حدیث کی مانند بہت ساری روایات شواہد التنزیل[١] اور فرائد السمطین میں موجود ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کی ولایت اور سرپرستی کو قبول کئے بغیر صراط سے گذرنے کا دعویٰ غلط اور اشتباہ ہے۔کیونکہ صراط سے عبور کا وسیلہ صرف اعمال صالح کا انجام دینا نہیں ہے بلکہ اس کا ذریعہ ولایت اہل بیت کو قبول کرنا ہے۔یعنی چاہے دنیوی مشکل ہو یا اخروی،اس کے حل کا ذریعہ ولایت اہل بیت ہے۔

٦) اہل بیت سے محبت ،اعمال کی قبولیت کی شرط۔
بہت سی روایات نبوی(ص)سے واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کی محبت کے بغیر کوئی بھی عمل خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔
.........................
[١] ج ٢ ص ١٠٧ حدیث٧٨٨

چنانچہ اس مطلب کو جابر بن عبد اللہ -نے پیغمبر اکرم (ص)سے یوں نقل کیا ہے:
'' خطبنا رسول اللہ فقال:من ابغضنا اہل البیت حشرہ اللہ یوم القیامۃ یہودیاً وان صام و صلیٰ[١]
پیغمبر اکرم (ص)نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اگر کوئی شخص ہم اہل بیت سے بغض اور عداوت رکھے تو روز قیامت خدا اس کو یہودی بنا کر محشور کرے گا اگرچہ اس نے نماز پڑھی ہو اور روزہ رکھا ہو۔
نیز حافظ نور الدین علی بن ابی بکر،کتاب مجمع الزوائد میں روایت کرتے ہیں:
''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: .... .... وان صام و صلی و زعم انہ مسلم،[٢]
اگر کوئی ہم اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھے تو اس کے اعمال قابل قبول نہیں،اگرچہ وہ روزہ رکھے ،نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔
تیسری روایت میں فرمایا:
''ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،قال:والذی
............................
[١]۔میزان الاعتدال ج ١ ص٢٦٩۔
[٢]۔مجمع الزوائد ج٩ص١١٨۔

نفسی بیدہ لا ینفع عبد عملہ الا بمعرفتہ حقنا[١]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اللہ کی قسم،کسی بھی انسان کا عمل خیراسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک ہم اہل بیت کے حقوق کی رعایت اور شناخت نہ کرے۔
تحلیل اور اہم نکات:
مذکورہ احادیث میں ،جو اہل سنت کی معتبر کتابوں سے نقل کی گئیں،واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ نماز، روزہ اور دیگر اعمال کی قبولیت کی جو شرط رکھی گئی ہے وہ اہل بیت کی محبت اور ان کی ولایت و معرفت ہے۔یعنی اگرہم اہل بیت کی محبت، معرفت، ولایت اور ان کے حقوق کی رعایت کئے بغیر دیگر اصول و فروع کے پابند بھی ہوں تو ان روایات و احادیث کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ
ان اعمال کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوگا۔
اگر کوئی شخص کہدے کہ فقہی کتابوں میں اعمال صالحہ کی قبولیت کے شرائط میں سے محبت و ولایت اہل بیت کے ہونے کو شیعہ و سنی فقہاء میں سے کسی ایک مجتہد یا مفتی نے بھی ذکر نہیں کیا ہے۔لہٰذا س قسم کی روایات کو کسی اور معنیٰ پر محمول کرنا ہوگا۔
.........................
[١]۔،مجمع الزوائد ج ٩،ص١٧٢

اس کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ ولایت ومحبت اہل بیت کا مسئلہ،مسائل فقہی میں سے نہیںتاکہ علماء اس کو فقہی مسائل میں بیان کریں ۔بلکہ بنیادی عقیدتی مسائل میں سے ہے۔جیسا کہ اگر کوئی شخص خدا اور رسول (ص)یا معاد اور دیگر اصولوں کے معتقد ہوئے بغیر نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو اس کی نماز کیا نماز کہلائے گی؟اس کا روزہ کیا قابل قبول ہوگا؟
خدا کی مخلوقات میں سے عابد ترین مخلوق فرشتے ہیں۔جب فرشتوں نے اپنے اعمال کی قبولیت کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص)سے سوال کیا تو پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اس وقت تمہارے اعمال خدا کی نظر میں قابل قبول ہیں جب تم ولایت علی ابن ابی طالب -کے قائل ہوں۔

٧) اہل بیت سے محبت کے بغیر جنت ملنامحال ہے
اگرچہ بہت سارے انسان ملحد ہیں جو جنت اور جہنم کے قائل نہیں بلکہ اسی دنیوی زندگی کو آخری زندگی سمجھتے ہیں۔جبکہ تمام الہٰی ادیان کے پیروکار بہشت و جہنم کے معتقد ہیں اور جنت و جہنم کو برحق سمجھتے ہیں۔عقلی اورلفظی دلیلوںکے ذریعے ملحدین کو قائل کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ،کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو جنتی بننے کےلئے صرف صوم و صلاۃ اور دیگر فروع دین کے پابند ہونے کو کافی سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ فروع دین کے مسائل کا انجام دینا اس وقت کارساز اور مفید ہے جب ہم پہلے بنیادی مسائل کو ٹھیک کریں۔اور اصول دین کا صحیح طریقہ سے معتقد ہوں ۔
لہٰذا اگر کوئی شخص توحید ،نبوت اور معاد کے معتقد ہوئے بغیر مسائل فرعی کو انجام دے تو یقیناً وہ جنت کا حقدار نہیں بن سکتا۔اسی طرح اگرتوحید ،نبوت اور معاد کا معتقد ہو،لیکن محبت اہل بیت دل میں نہ ہو پھر بھی وہ جنتی نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ خدا نے محبت اہل بیت کو توحید نبوت اور معاد کے بعد بنیادی شرط قرار دیا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف محبت اہل بیت دلوں میں رکھیں باقی دستورات الہٰی کو انجام نہ دیں۔ بلکہ محبت اہل بیت دلوں میں ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی سیرت پر چلیں۔ان کی سیرت پر عمل کرنے کا مطلب دستورات الہٰی کو انجام دینا ہے۔اسی لئے اہل بیت کی محبت کے بغیر جنت کا ملنا نا ممکن ہے۔
چنانچہ اس مطلب کو نافع بن عمر نے یوں نقل کیا ہے:
''قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:من اراد التوکل علیٰ اللہ فلیحب اہل بیتی و من اراد ان ینجوامن عذاب القبر فلیحب اہل بیتی ومن اراد الحکمۃ فلیحب اہل بیتی ومن اراد دخول الجنۃ بغیر حساب فلیحب اہل بیتی''۔[١]
........................
[١]۔مقتل الخوارزمی ص٥٩۔

پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:اگر کوئي خدا پر بھروسہ،عذاب قبر سے نجات،حکمت اور بغير حساب کے جنت ميں جانے کا خواہاں ہو تو اسے چاہئے کہ ميرے اہل بيت سے محبت و دوستي رکھيں-
نيز جابر بن عبد اللہ - نے پيغمبر اکرم (ص)سے روايت کي ہے:
''قال توسلوا بمحبتنا الي اللہ تعالي- واستشفعوا بنا فانّ بنا تکرمون و بنا تحبون و بنا ترزقون و محبونا وامثالنا غدا فھم في الجن-[1]
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:[لوگو!] خدا سے ہم اہل بيت کي محبت اور دوستي کے ذريعہ متوسل ہوجاؤ-اور ہماري محبت کے وسيلہ سے شفاعت مانگو کيونکہ ہم اہل بيت کے صدقے ميں تمہارا اکرام ہوتا ہے اور تمہيں روزي دي جارہي ہے اور ہم سے محبت کرنے والے روز قيامت جنت ميں داخل ہونگے-
نيز شيخ سعود السجستاني نے اپني کتاب ميں ابن زياد مطرف سے روايت کي ہے:
''قال سمعت النبي(ص) يقول:من احبّ ان يحيي حياتي و يموت مماتي و يدخل الجن- التي وعدني ربي بھا وھي جن- الخلد
فليتول علي بن ابي طالب و ذريتہ من بعدہ''-[2]
.........................
[1]-ينابيع المود-ج-2 ص68
[2]-کنز العمال ج 11 ص611-

ابن زياد مطرف نے کہا:کہ ميں نے پيغمبر خدا -سے سنا ہے کہ آپ نے فرمايا:جو شخص ہماري مانند جينا اور مرنا چاہتا ہے اور اس جنت خلد ميں جانے کا خواہشمند ہو جس کاميرے پروردگار نے وعدہ ديا ہے تو اسے چاہئے کہ حضرت علي - اور ان کي ذريت کي ولايت و سرپرستي کو مان لے-
اسي طرح اور روايت ميں پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:
''من سرّہ ان يحيي حياتي و يموت مماتي و يسکن جن- عدن التي غرسھا ربي فليتول علياً بعدي''-[1]
جناب ابوذر -نے کہا کہ پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:اگر کوئي شخص ميري طرح جينا اور مرنا چاہتا ہے اور جنات عدن کہ جس کو خدا تبارک وتعالي- نے تيار رکھا ہے،ميں رہنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ميرے بعد حضرت علي -کي
ولايت کو قبول کرلے-
توضيح:
ان احاديث سے بخوبي واضح ہوجاتا ہے کہ جنت عدن يا جنت خلد ميں داخل ہونے کي شرط محبت اہل بيت ہے،ان کي سرپرستي اور ولايت کو قبول کرنا ہے-
مندرجہ بالا روايات کا خلاصہ :
........................
[1]-ترجمہ امام علي -ج 2 ص98-

1-محبت اہل بيت کے بغير مرنا اور جينا محبت کے ساتھ جينے اور مرنے کے ساتھ فرق کرتا ہے-
2-محبت اور سرپرستي اہل بيت کے بغير جنت ميں داخل ہونے کا تصور صحيح نہيں ہے-
3-محبت اور ولايت اہل بيت کے بغيرخدا پر توکل کا دعوي- کرنا يا حکمت اور شفاعت کا دعويدار ہونا اشتباہ ہے-
4-شفاعت ،اہل بيت کي محبت کے بغير نا ممکن ہے،نيز اہل بيت کي محبت اور سرپرستي کے بغير گناہوں کي معافي کا خيال کرنا فضول ہے-
5-اہل بيت کي محبت کے نتيجے ميں پيغمبروں کي شفاعت حاصل ہوگي
اگرچہ قرآن کريم کے مسلّم مسائل ميں سے ايک مسئلہ شفاعت ہے مگر اس بارے ميںمسلمانوں کے درميان اختلاف نظرا -تا ہے -ليکن اگر ہم احاديث نبوي کا صحيح مطالعہ کريں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبر اکرم (ص)کي شفاعت روز قيامت ان لوگوں کےلئے ہے جنہوں نے دنيا ميں اہل بيت سے محبت اور دوستي رکھي ہو-چنانچہ علامہ بغدادي اس طرح نقل کرتے ہےں:
''قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم: شفاعتي لامتي من احب اہل بيتي و ھم شيعتي''-[1]
......................
[1]تاريخ بغدادي ج 3 ص146

پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا: ميري شفاعت ميري امت ميں سے صرف ان کو نصيب ہوگي جو ميرے اہل بيت سے محبت رکھے-کيونکہ وہي ميرے سچے پيروکار ہيں-
نيز پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:
''عاہدني ربي ان لا يقبل ايمان عبد الا بمحبتہ لاہل بيتي''-[2]
آنحضرت (ص) نے فرمايا:ميرے پروردگار نے مجھ سے عہد کيا ہے کہ کسي بھي بندے کا ايمان اور عقيدہ اہل بيت کي محبت اور دوستي کے بغير قبول نہيں ہوگ-
تحليل:
اگرچہ محبت اہل بيت کے بغير پيغمبر اکرم (ص)کي شفاعت نصيب نہ ہونے کے حوالہ سے احقاق الحق اور کنز العمال جيسي کتابوںميں بہت زيادہ احاديث ہيں ليکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف مذکورہ حديث پر اکتفاء کر يں گے- آج کل کچھ ايسے دانشمند اور علماء نظر آتے ہيں جو اپنے حريف اور مقابل کو ناکام بنانے اور اسے غلط فہمي ميں ڈالنے کي خاطر فوراً حديث کي سند پر حملہ کرديتے
.....................
[2]المناقب ا لمرتضويہ ص99

ہيں کہ يہ حديث آپ کے موضوع پر دليل نہيں بن سکتي -
کيونکہ سند ضعيف ہے ليکن کسي مسئلہ پر کسي حديث کو دليل کے طور پر قبول کرنے کے لئے صرف سند کا صحيح ہونا ضروري نہيں ہے بلکہ بہت ساري احاديث سند کے حوالہ سے ضعيف ہے ليکن حديث کي عبارت يا دوسرے قرينوںسے معلوم ہوجاتا ہے کہ يہ حديث ،صحيح ہے اگرچہ سند ضعيف ہي کيوں نہ ہو-کيونکہ ايسي حديث کي عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ غير معصوم سے ايسي فصاحت و بلاغت پر مشتمل کلام کا صادر ہونا ناممکن ہے-
ہم نے بہت ساري روايات کو اپنے مدعي- کي دليل کے طور پر ذکر کيا ہے-اگرچہ سند ضعيف ہے ليکن اس کے الفاظ ہي حديث نبوي ہونے کي شہادت ديتے ہےں-کيونکہ معصوم کے کلام اور دوسرے لوگوں کے کلام ميں فصاحت و بلاغت کے علاوہ بنيادي فرق يہ ہے کہ معصوم کے کلام کا سرچشمہ قرآن مجيد ہونے کي وجہ سے فطرت اور عقل سے ہمآہنگ ہوا کرتا ہے جبکہ دوسرے انسانوں کا کلام يا قرآن کا مخالف ہوگا يا اگر قرآن کے موافق ہے تو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اس ميں نقص ہوگ-لہ-ذا غير معصوم کے کلام ميں بہت سارے اشتباہات کا مشاہدہ ہوتا ہے جبکہ معصوم کے کلام ميں نہ صرف اشتباہ نظر نہيں آتا بلکہ زمانے کي ترقي اور تکامل کے ساتھ ساتھ ان کي حقانيت زيادہ سے زيادہ اجاگر ہوجاتي ہے-
لہ-ذا اگر کوئي اہل سنت کي کتابوں سے فضائل اہل بيت اور ان کي حقانيت پر کوئي روايت اورحديث بيان کرے تو اس کو ضعيف السند قرار دينا کافي نہيں ہے-بلکہ روايات اور احاديث سے استدلال اس وقت غلط ہے جب وہ حديث ضعيف- السند ہواور اس کے معصوم سے صادر ہونے پر کوئي قرينہ نہ ہومتواترہ نہ ہو مضمون حديث کا شر چشمہ قرآن اور عقل نہ ہو ليکن اگر ان قرينوں ميں سے کوئي ايک قرينہ بھي کسي حديث کے ساتھ ہوتو اسے ضعيف السند قرار دے کر ردکرناجہالت اورنافہمي کي علامت ہے -فرقين کے علم رجال کي کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کہاں حديث سے استدلال غلط ہے کہاں استدلال صحيح ہے پس اگر کوئي اندھي تقليد اورجاہلانہ تعصب سے ہٹ کر پيغمبر اکرم (ص)کے ان ارشادات پر اور خدا کي طرف سے محبت اہل بيت کو اجر رسالت قرار دئيے جانے پر غور کرے تو نتيجہ يہ ملتاہے کہ پيغمبر اکرم (ص) دشمن اہل بيت کي شفاعت نہيںفرمائيں گے، کيونکہ شفاعت پيغمبر اکرم (ص)نصيب ہونے ميں خدا نے اہل بيت کي محبت کو شرط قرار دي ہے اور شرط کے بغيرمشروط کا پانا عقل کے خلاف ہے-لہ-ذااہل بيت کي محبت کے بغير کوئي عمل اورکام خدا کي نظر ميں قابل قبول نہيں اگرچہ ايمان کے دعوي- کے ساتھ زبان پر شہادتين کا اقرار بھي کرے -
8) اہل بيت اہل زمين کے محافظ ہيں
اماميہ مذہب کا عقيدہ يہ ہے کہ کائنات کا حدوث وبقاء ہي اہل بيت کے صدقے ميں ہے ،جيساکہ ہمارے برادران اہل سنت کي کتابوں ميں بھي کچھ اس طرح کي حديثيں نظر آتي ہيں کہ اہل بيت اہل زمين کے محافظ ہےں يعني جس طرح آسماني مخلوقات چاہے نوري ہو ياخاکي جاندار ہو يابے جان ،خدا نے ان کي حفاظت کے لئے ستاروں کو خلق فرمايا ہے اسي طرح اہل زمين کي حفاظت کي خاطر اہل بيت کو خلق فرمايا ہے چنانچہ اس مطلب کو پيغمبر اکرم (ص)نے يوں بيان فرماياہے :
''النجوم امان لاہل السماء فاذا ذہبت النجوم ذہبت السماء واہل بيتي امان لاہل الارض فاذا ذہبت اہل بيتي ذہبت الارض-''[1 ]
ستارے آسماني مخلوقات کي نجات اور حفاظت کاذريعہ ہيں لہ-ذا اگر ستارے
ختم ہوجائے تو آسماني مخلوقات نابود ہوںگي اورميرے اہل بيت انسانوں اوراہل زمين کي نجات اور امان کا ذريعہ ہيںلہذا اگر زمين ميرے اہل بيت سے خالي ہوجائے تواہل زمين نابود ہونگے -
نيز حمويني نے اپني سند کے ساتھ اعمش سے وہ امام جعفر صادق - سے اور آپ- اپنے آباء واجداد ميں سے حضرت علي بن حسين - سے روايت کرتے ہے:
.........................
[1]-ينابع المود-ج1،ص،19،-
''قال :نحن ائم- المسلمين وحجج اللّہ علي العالمين وساد- المؤمنين قاد- الغر المحجلين وموال المسلمين ونحن امان لاہل الارض کماان النّجوم امان لاہل السماء ونحن الذين بناء تمسک السماء ان تقع علي الارض الاباذن اللہ وبناينزل الغيث وتنزل الرحم- ، وتخرج برکات الارض ولولاماعلي الارض منّا لانساخت باہلہا ثم قال ولم تخل الارض منذ خلق اللّہ آدم عليہ السلام من حج- اللّہ فيہا ظاہر ومشہود او غائب مستور ولاتخلوا الي ان تقوم الساع- من حج- فيہا ولولا ذالک لم يعبداللّہ ''-[1]
حضرت امام سجاد -نے فرمايا: ہم [اہل بيت ] مسلمانوں کے پيشوا اور کائنات پر خدا کي طرف سے حجت ،مومنين کے مولي- وآقا اورمسلمانوں کے سردار ہيں اور جس طرح ستارے آسماني مخلوقات کے محافظ ہيں اس طرح ہم اہل زمين کے محافظ ہيں ہماري وجہ سے خدا نے آسمان کو زمين پر گر کرتباہي مچانے سے روک رکھا ہے اور ہمارے صدقے ميں بارشيں اور رحمتيں نازل ہوتي ہيں اور زمين کي برکتيں نکالي جاتي ہے- اگر کرہئ ارض ايک لحظہ کے لئے اہل بيت سے خالي ہوجائے تو
............................
[1]-ينابيع المود-، ج1،ص20،
زمين اہل زمين سميت نابود ہوجائے گي -اسي لئے خدا نے جب سے آدم - کو خلق کيا ہے زمين کوحجت خدا سے خالي نہيں رکھا -چاہے حجت خدا کھلم کھلا لوگوں کے درميان موجود ہوںيالوگوں کي نظروں سے پوشيدہ اور مخفي ہوںاوريہ سلسلہ تاروز قيامت جاري رہے گا -اگر ايسا نہ ہوتا تو کبھي خدا کي عبادت اور پرشتش نہ ہوتي -

اہم نکات:
مذکورہ حديث سے ستاروں اور کہکشانوں کي خلقت اور اہل بيت کي خلقت کا فلسفہ سمجھ ميں آتا ہے ، يعني ستاروں کو خدا نے آسماني مخلوقات کےلئے امان بنا کرخلق کياہے جبکہ اہل بيت کو بشر اوراہل زمين کےلئے امان بنا کر خلق کياہے لہ-ذا ستاروں سے آسماني مخلوقات کي حفاظت ہوتي ہے اور اہل بيت کے اہل زمين کي حفاظت ہوتي ہے-
خلاصہئ کلام يہ کہ اگر بشر ايسي انسان سازاحاديث کا غور سے مطالعہ کرے تو کئي مطالب واضح ہوجاتے ہيں ، کائنات کے تمام مسائل ميں اہل بيت کي نمايندگي اور رہنمائي ضروري ہے اوران کي ہدايت کے بغير انحراف اور مفاسد کے علاوہ کچھ نہيں ہے - چاہے اعتقادي مسائل ہوں يافقہي ، سياسي ہوںياسماجي ، اخلاقي ہوںيافلسفي ہرمسئلہ کا سرچشمہ اہل بيت کوقرار نہ دينے کي صورت ميں ہماري ہدايت اور تکامل ناممکن ہے - کيونکہ اہل بيت کے وجود کافلسفہ ہماري قيادت اور ہدايت ہے انکي سيرت کو ہميشہ کے لئے نمونہ عمل قرار نہ دينے کي صورت ميں پشيماني اورندامت سے دوچار ہوگ-
نيز پيغمبر اکرم (ص)سے روايت کي ہے ،آنحضرت (ص)نے فرمايا: آسماني مخلوقات کے محافظ ستارے ہيں جبکہ اہل بيت ،اہل زمين کےلئے امان کا ذريعہ ہيں:
''النجوم امان لاہل السماء واہل بيتي - امان لاہل الارض''[1]
تب ہي تو قرآن مجيد ميں خدا نے اہل بيت کو وسيلہ نجات اور ان کے اقوال وافعال کو نمونہ عمل قرار ديا ہے لہذا ان کے بغيرروز قيامت نجات ملنے کا تصور کرنا يادنيا ميںکامياب انسان ہونے کا سوچ فضول ہے -
پيغمبر اکرم (ص)نے صاف لفظوں ميں فرمايا: ميري رسالت کاصلہ صرف ميري اہل بيت کي محبت ہے ميري شفاعت صرف ميرے اہل بيت سے دوستي اور محبت رکھنے کي صورت ميں نصيب ہوگي جس سے واضح ہو جاتاہے حقيقي مسلمان وہ ہے جواہل بيت کو اپنے کاموں ميں اسوہ اور نمونہ قرار دے - لہذا ابوذر -نے پيغمبر اکرم (ص)سے روايت کي ہے کہ جس طرح نوح -کي امت کے لئے نوح -کي کشتي نجات کاذريعہ تھا ، اسي طرح امت محمدي- کي نجات کاذريعہ اہل بيت ہےں-
.............................
[1]-فرائدالسمطين ، ج2،ص،252حديث521-
فرمايا:ان مثل اہل بيتي فيکم مثل سفين- نوح من رکبہا نجا ومن تخلف عنہا ہلک -[1]
ميرے اہل بيت ،حضرت نوح - کي کشتي کي مانند ہے جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پاگيا جس نے اس سے منہ پھيرا وہ ہلاک ہوگي-

اہم نکات:
اس حديث سے بخوبي درک کرسکتے ہيں کہ حضرت نوح -کي امت کو جب نوح - نے ہزار بار سمجھايا مگر ايمان نہ لائے تو آخر خدا سے دعا کي پالنے والے يہ امت قابل ہدايت نہيں ہے ميں کيا کروں؟ خدا کي طرف سے حکم ہوا کشتي بناو - کشتي تيار کي ،جو اس پر سوار ہوا وہ زندہ رہا -جس نے اس سے منہ پھيرا وہ ہلاک اور نابود ہوگي- اس طر ح اگر ہم اہل بيت کو مانيں اور ان کي معرفت اور شناخت حاصل کرليں تو قيامت کے دن ہم بھي نجات پاسکتے ہيں ليکن اگر ان سے منہ پھيرا
تو يقينا نابود ي ہي ہمارا مقدر ہوگا -
جيساکہ پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:
''[ياعلي]سعد من اطاعک وشقي من عصاک وربح من
تولاک وخسر من عاداک فاز من رکبہا نجي--ومن تخلف عنہا
.........................
[1]- ينا بيع المود-ج1،ص26 ،
غرق مثلک کمثل النجوم کلما غاب النجوم طلع نجم الي يوم القيام- -''[1]
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:[ياعلي -!] تيري اطاعت کرنے والا سعادتمند اورنافرماني کرنے والا بد بخت ہے - جس نے تيري سرپرستي اور ولايت کو قبول کيا اس نے نفع پايا ،جس نے تجھ سے دشمني کي اس نے نقصان اٹھاي-جو تجھ سے متمسک رہا وہ کامياب ہے اورجس نے تيري مخالفت کي وہ ہلاک ہو- اے علي - تو اور تيرے جانشين حضرت نوح - کي کشتي کي مانند ہےں جواس پر سوار ہوا وہ نجات پاگيا جس نے منہ پھيرا وہ غرق ہوگي- اے علي -! تو ستاروں کي مانندہے کہ روز قيامت تک ايک ستارہ غروب کرجائے تو دوسرا طلوع کرتا رہے گ-
نيز ابو ہريرہ نے پيغمبراکرم (ص)سے روايت کي ہے :
قال رسول اللہ : اناا للّہ المحمود وہذا محمد وانا العالي وہذا علي واناالفاطروہذہ فاطم- واناالاحسان وہذا الحسن وانا المحسن وہذا الحسين آليت بعزتي انّہ لايأتيي احد بمثقال حب- من خردل من بغض احدہم الا ادخلہ ناري ولاابالي ياآدم ہ-ولآء صفوتي بہم انجّيھم وبھم اُہْلِکُھم فاذا کان لک اليّ حاج- فبہ-و
......................
[1]-ينابيع المود- ج1،ص 130-
ئل-اء توسل فقال النبي(ص) نحن سفين- النج- من تعلق بہا نجاومن عاد عنہا ہلک فمن کان لہ الي اللہ حاج- فليسال عن اہل بيت [1]
حضرت پيغمبراکرم (ص)نے فرماياکہ اللہ تبارک وتعالي نے حضرت آدم-کو ان پانچ نوروں کا نام بتايا کہ جن کاحضرت آدم -نے مشاہدہ کيا تھا اے آدم -ان پانچ کانام ميرے نام سے مشتق ہے يعني ميں محمود ہوں يہ محمد(ص) ہے ميں عالي ہوںيہ علي - ہے ميں فاطر ہوں يہ فاطمہ =ہے ميں احسان ہوں يہ حسن (ع)-ہے ميں محسن ہوں يہ حسين - ہے پھر فرمايا اپني ذات کي قسم ايک ذرہ بھي جس کے دل ميں ان کي دشمني اور کينہ ہو اسے جہنم ميں ڈال دوں گا اور مجھے ايسا کرنے پر کوئي پروا نہ ہوگي -اے آدم -! يہ ميرے برگزيدہ بندے ہيں ان کے صدقے ميں لوگ نجات پائےںگے [يعني ان سے محبت اور دوستي کرنے کے نتيجے
ميں نجات ملے گي اور ان سے دشمني اوربغض رکھنے کانتيجہ ہلاکت اور نابودي ہوگا] جب تجھے مجھ سے کوئي حاجت ہو توان کے وسيلہ سے مانگو پھر پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا: ہم نجات کي کشتي ہيں جو اس سے منسلک رہا وہ نجات پاگيااور جو اس سے جدا رہا وہ نابود اور ہلاک ہو- لہذا جس کو خدا سے کوئي حاجت ہو توہم اہل بيت کے وسيلہ سے مانگيں-
............................
[1]-فرائدالسمطين ، ج2،ص،252حديث521-
تحليل :
مذکورہ حديث کي روشني ميں يہ بات واضح ہوجاتي ہے اہل بيت کو وسيلہ بنا کر خدا سے مانگنے کو بدعت قرار دينا غلط ہے کيونکہ خدا نے ہي اہل بيت کواپنے اور بندوںکے درميان وسيلہ قرار دياہے، اہل بيت کے وسيلہ کے بغير حاجت روائي نہيں ہوسکتي- لہذا اہل بيت کے وسيلہ سے خدا سے طلب حاجت کرنا نہ صرف بدعت نہيں ہے بلکہ اہل بيت کو وسيلہ قرار دينا خدا اور اس کے رسول کے حکم کي اطاعت ہے اوراہل بيت کو وسيلہ قرار دينا حاجت روائي کي شرط ہے -
علامہ قندوزي نے روايت کي ہے :
قال علي -: قال رسول اللّہ: من احب ان يرکب سفين- النج- ويتمسک بالعرو- الوثقي ويعتصم بحبل اللّہ المتين فيوال علياً ويعاد عدوہ وليأتم بالائم- الہد- من ولدہ فانّہم خلفائي واوصيائي وحجج اللہ علي خلقہ من بعدي وسادات امتي وقواد الاتقياء الي- الجن- حزبہم حزبي وحزب اللہ وحزب اعدائہم
حزب الشيطان -[1]
...........................
[1]-ينابيع المود- ، ص445
حضرت علي - فرماتے ہيں کہ پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:جونجات کي کشتي پر سوار ہونا اور اللہ تبارک وتعالي کي مضبوط رسي سے متمسک رہنا چاہتا ہے تو اسے چاہيئے کہ علي بن ابي طالب -سے محبت اور دوستي رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمني رکھے اور ان کي نسل سے آنے والے اماموں کي پيروي کرے -کيونکہ وہ ميرے بعد حجت خدااور خليفہ الہي اور ميرے وصي وجانشين ہيںاور يہي لوگ ميري امت کے سردار اور بہشت کي طرف دعوت دينے والے پيشوا ہيں ان کي جماعت ميري جماعت ہے، ميري جماعت، اللہ کي جماعت ہے اور ان کے دشمنوںکي جماعت شيطان کي جماعت ہے -

تحليل :
اس حديث سے درج ذيل مطالب واضح ہوجاتے ہيں :
اہل بيت ، پيغمبراکرم (ص)کے جانشين ہيں - اہل بيت ، خليفہ الہي ہيں- اہل بيت سے تمسک، خدا اور رسول (ص)سے تمسک ہے- جو اہل بيت سے بغض رکھے وہ شيطان کي جماعت کا رکن ہے-

9)اہل بيت کي محبت، دين کي بنيادہے
احاديث نبوي ميںدين اسلام کو شجرہ طيبہ، نور، پہاڑ، خزانہ اور کبھي دريااور سمندر وغيرہ سے تشبيہ دي گئي ہے -اگر ہم مسلمان ہونے کي حيثيت سے ان الفاظ او تشبيہات کا معني صحيح طور پر سمجھ ليںتو مسلمانوںکے بہت سارے اختلافي مسائل چاہے اعتقادي ہويافقہي يااخلاقي ،کاحل بخوبي واضح ہوجاتا ہے کيونکہ اسلام اور قرآن وسنت کا بنيادي مقصد يہ ہے کہ ہم حقيقي مسلمان بن جائےں اورہمارے درميان يک جہتي اور اتفاق ہواگرچہ صوم اور صلو- ياديگر فقہي مسائل ميں اختلاف ہي کيوں نہ ہوں -کيونکہ اسلام اور دين صرف مسائل فقہي کے مجموعہ کانام نہيں بلکہ اسلام ايک ايسا ضابطہ ئحيات ہے جو مادي اور معنوي تمام دستورات پر مشتمل ہونے کے ساتھ عقل اور فطرت کے عين مطابق ہے لہذا اگر ہم احاديث نبوي(ص)کو صحيح معنوں ميںسمجھ ليںتو کوئي ايسا مسئلہ نہيں کہ جس کا حل اسلام ميں نہ ہو -ہاں کچھ مسائل اس طرح کے ہيں کہ جن کو قبول نہ کرنے کي صورت ميں باقي سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے اورخدا کي نظر ميں قابل قبول نہيں رہتا ان بنيادي مسائل ميں سے ايک محبت اہل بيت ہے،کيونکہ محبت اہل بيت کے بغير کوئي بھي عمل اور عقيدہ خدا کي نظر ميں قابل قبول نہيں -چنانچہ اس مطلب کو علامہ ابن حجرمکي نے يوں نقل کيا ہے :
قال سمعت رسول اللّہ يقول لکل شيءٍ اساس واساس الدين حبنّا اہل البيت- [ 1]
جناب جابر -نے کہا کہ : ميں نے پيغمبر اکرم (ص)کو يہ فرماتے
......................
[1]-مناقب المرتضويہ ص314-
ہوئے سنا کہ:ہر چيز کي ايک بنياد اور جڑ ہوا کرتي ہے اور اسلام کي جڑ اور بنياد ہم اہل بيت کي محبت ہے -
نيز صاحب کنز العمال نے امام علي - سے روايت کي ہے:
قال :قال رسول (ص) اللّہ: ياعلي ان الاسلام عريان لباسہ التقوي ورياستہ الہدي وزينتہ الحيا وعمادہ الورع وملاکہ العمل الصالح، اساس الاسلام حبي وحب اہل بيتي- - [1]
'' پيغمبر اکرم (ص)نے [مجھ سے ]فرمايا:اے علي - اسلام عريان ہے اور اس کا لباس تقوي اور اس کي رياست ہدايت، اس کي زينت حيا،اس کا ستون پرہيزگاري ، اس کامعيار و ملاک عمل صالح اور اس کي جڑ اور بنياد ہم اہل بيت کي محبت ہے -

تحليل:
لسان الميزان اورکنزل العمال جيسي اہل سنت کي معتبر کتابوں ميں ايسي بہت ساري روايات ہيں کہ جن سے يہ بات مسلم اور واضح ہوجاتي ہے کہ
دين اسلام کي جڑ اور بنياد اہل بيت کي محبت ہے- اس کا مطلب يہ ہے کہ اہل بيت کي محبت کے بغير کوئي بھي عمل خدا کي نظر ميں قابل قبول نہيں ہے -
...........................
[1]-کنزالعمال ، ج12،ص15-
10) اہل بيت اورپيغمبر اسلام (ص)کے درميان کيا جدائي ممکن ہے ؟
بہت ہي جسارت کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ مسلمانوں ميں سے بعض کے عمل ميں تضاد روي نظر آتي ہے- يعني ايک طرف وہ قرآن وسنت اور پيغمبر اکرم (ص) کے پيروکار ہونے کا دعوي کرتے ہيں جبکہ دوسري طرف علي - اور اہل بيت رسول سے دشمني اوربغض رکھتے ہيں -تعجب يہ ہے کہ ان کي نظر ميں اہل بيت پيغمبر اور علي - کي دشمني اور بغض کے ساتھ پيغمبراکرم (ص)سے محبت اور دوستي ہوسکتي ہے اوراہل بيت سے محبت کئے بغير قرآن وسنت کا قائل ہوتو مسلمان رہ سکتے ہيں جب کہ اگر ہم سنت نبوي اور قرآن کريم کي آيات کا صحيح مطالعہ کريں تو يہ بات بخوبي واضح ہوجاتي ہے کہ اہل بيت کے ساتھ بغض اور دشمني رکھنا قرآن و سنت نبوي کي کھلي مخالفت ہے نہ متابعت کيونکہ قرآن نے واشگاف الفاظ ميں بتاديا ہے کہ اہل بيت کي محبت رسالت کاصلہ ہے اور احاديث نبوي کے رو سے يہ ناقابل انکار حقيقت ہے کہ اہل بيت وسيلہئ نجات ہےں ، اہل بيت مخلوقات الہي کے محافظ ہيں اور روز قيامت انہي کي شفاعت سے خدا مسلمانوں کو نجات ديں گے- حديث ثقلين،حديث سفينہ اور دوسري بيسيوں روايات سے جنہيں فريقين کے بزرگ محدثين نے نقل کي ہيں يہ بات ثابت ہوجاتي ہے کہ علي -اور ديگر اہل بيت کي محبت کے بغير پيغمبر اکرم (ص)سے محبت اور دوستي کا دعوي کرنا فضول اورغلط ہے -عمار ياسر نے روايت کي ہے :
انّ النبي (ص) قال :اوصي من آمن بي وصدّقني من جميع الناس بولاي- علي بن ابي طالب من تولاہ فقد تولاني ومن تولاني فقد تولي اللہ ومن احبہ فقد احبني ومن احبني فقد احب اللّہ ومن ابغضہ فقد ابغضني ومن ابغضني فقد ابغض اللہ [1]-
بے شک پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا: مجھ پر ايمان لانے والے اور ميري رسالت کي تصديق کرنے والے تمام لوگوں کو علي بن ابي طالب - کي ولايت کي وصيت کرتا ہوں، جوان کي ولايت کو مانے بتحقيق اس نے ميري ولايت کو مانا اور جس نے ميري ولايت کو مانا اس نے خدا کي ولايت کو مان- اورجس نے علي -سے محبت کي اس نے مجھ سے محبت کي، جس نے مجھ سے محبت کي اس نے خدا سے محبت کي ہے جوعلي - سے بغض رکھے اس نے مجھ سے دشمني کي ہے،اور جو مجھ سے بغض رکھے اس نے خدا سے دشمني کي ہے -

اہم نکات:
ٍ اس حديث ميں خدا ، پيغمبراکرم (ص)اور حضرت علي -کي سرپرستي اور
........................
[1]-کنز العمال ج11 ص401-

ولايت کو ايک جيسا قرار ديا ہے اگر کوئي علي - کي ولايت کو قبول نہ کرے تواس نے ا للہ اور رسول (ص)کي ولايت کوبھي قبول نہيں کي ہے ،اور جو علي - سے دوستي نہ رکھے اس نے خدا اور پيغمبر اکرم (ص)سے بھي دوستي نہيں کي ہے اگرچہ زبان سے خدا اور رسول (ص)کي محبت کے دعويدارہي کيوں نہ ہوں-اس مضمون کي احاديث اہل سنت کي کتابوں ميں بہت زيادہ ہےں جيسا کہ ابن عباس -سے روايت ہے :
خرج رسول اللہ(ص) قابضاعلي يد علي (ع) ذات يوم فقال الامن ابغض ہذا فقد ابغض اللہ ورسولہ ومن احب ہذا فقد احب اللہ ورسولہ-[1]
ايک دن پيغمبراکرم (ص)حضرت علي - کے دست مبارک کو تھام کر باہر نکلے اور فرمايا [اے لوگو] آگاہ ہو کہ جس نے علي - کے ساتھ دشمني کي بتحقيق اس نے خدا اور اس کے رسول (ص)سے دشمني کي ہے اور جو علي -کے ساتھ دوستي رکھے يقيناً اس نے خدا اور اس کے رسول (ص)سے محبت کي ہے- اسي طرح خطيب خوارزمي نے اپني کتاب مناقب ميں روايت کي ہے کہ پيغمبر اکرم (ص)نے علي - سے خطاب کرکے فرمايا:
من احبک فقد احبني وحبيک حبيب اللہ -[2]
.................................
[1]کنزالعمال، ج13،ص901
[2] مناقب ص 213

جو تجھ سے محبت اور دوستي رکھے اس نے مجھ سے محبت کي ہے جو تمہارا دوست ہے وہ خدا کا دوست ہے -
اہم نکات:
ٍ تاريخ بغدادي، ينابيع المود-، مجمع الزوائد، لسان الميزان، مناقب مرتضويہ، فرائدالسمطين جيسي اہل سنت کي معتبرکتابيں اہل بيت کي فضيلت اور مقام و منزلت بيان کرنے والي احاديث سے بھري ہوئي ہيں ليکن مضحکہ آميز بات يہ ہے کہ ايک طرف سے قرآ ن مجيد اور پيغمبر اکرم (ص)کے معتقد ہونے کا دعويدار ہيں جبکہ دوسري طرف اہل بيت بالخصوص حضرت علي - کي محبت اور ولايت کا معتقد نہيں ہے - کيا حضرت علي - اور ديگراہل بيت سے محبت اور ان کے معتقد ہوئے بغير خدا اور اس کے رسول (ص)سے محبت ہوسکتي ہے؟ جبکہ مذکورہ روايات اور احاديث ميں صاف لفظوں ميں فرمايا: خدا اوراس کے رسول (ص)کي ولايت کو ماننا اور ان سے محبت اور دوستي اس وقت ہوسکتي ہے جب حضرت علي - اور اہل بيت سے محبت ودوستي رکھے اور ان کي ولايت کو مانے-
چنانچہ سعيد ابن جبير -نے ابن عباس -سے روايت کي ہے:
قال رسول اللہ (ص):يا علي لا يحبک الا طاہر الولاد- ولا يبغضک الا خبيث الولاد- وماا خبرني ربي عز و جلّ الي- السماء وکلمني ربي الا قال يا محمد تقراء علياً مني السلام انّہ امام اوليائي و نور اھل طاعتي و ھنيأاً لک ہ-ذہ الکرام--
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا: اے علي -! تم سے سوائے حلال زادہ کے اور کوئي محبت نہيں کرتا اور سوائے حرام زادہ کے اور کوئي دشمني نہيں رکھتا اور خدا نے مجھ سے معراج پر لے جاتے وقت کوئي گفتگو نہيں کي مگر فرمايا:اے محمد(ص)! ميري طرف سے علي - کو سلام کہنا کيونکہ وہ ميرے دوستوںکا پيشوا ، اور ميري اطاعت کرنے والوں کا نورہے اور يہ عزت و احترام اور اعزاز تجھے مبارک ہو-[1]
عجيب بات ہے کہ اس حديث ميں علي -سے محبت رکھنے والوں کو طيب الولاد- اور بغض رکھنے والوں کو خبيث الولاد-سے تعبير کيا گيا ہے-جس کا نتيجہ يہ ہے کہ حلال زادہ کبھي بھي علي - سے بغض نہيں رکھت-لہ-ذا علي -سے دشمني اور بغض کا سبب يہ بتايا جاسکتا ہے کہ اگر کسي کي ولادت ناپاک ہو تو وہ علي - سے دشمني اور بغض رکھتا ہے،جس پر غور کرنے کي ضرورت ہے-

11)اہل بيت ،پيغمبر (ص)کے مدد گارہيں
ابو نعيم الحافظ نے ابو ہريرہ ، ابو صالح ، ابن عباس اور حضرت امام جعفر صادق - سے روايت کي ہے :
في قولہ تعالي-::ھو الذي ايدک بنصرہ و بالمومنين قال
............................
[1]-ينابيع المود- ج1ص132-

نزلت في علي و ان رسول اللہ قال رايت مکتوباً علي العرش لا ال-ہ
الا اللہ وحدہ لا شريک لہ محمد(ص)عبدي و رسولي ايدتہ و نصرتہ ب علي (ع) بن ابي طالب[1]
امام جعفر صادق -نے فرمايا کہ: خدا کا يہ قول'' ايدک ....''حضرت علي - کي شان ميں نازل ہواہے اور پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا :''ميں نے عرش پر يہ لکھا ہوا ديکھا کہ للہ کے سوا کوئي اور معبودنہيں اور اس کا کوئي شريک نہيں ہے محمد(ص)ميرا بندہ اور رسول ہے ، ميں نے علي بن ابي طالب -کے ذريعہ اس کي مدد کي -''
نيز القاضي نے ابي الحمراء سے روايت کي ہے :
قال رسول اللہ(ص) لما اسري بي الي السماء اذا علي العرش مکتوب ٌ لاالہ الاّ اللّہ محمد(ص) رسول اللّہ ايدتہ ب علي (ع) -[2]
ابو الحمراء نے کہا کہ : پيغمبر (ص)نے فرمايا:جب مجھے معراج کے سفرپر لے جايا گيا تو عرش پر يہ جملہ لکھا ديکھا کہ خدا کے سوا کوئي لائق عبادت نہيں ، محمد(ص)اس کا رسول ہے اور ميں نے علي ابن ابي طالب -کے ذريعہ اس کي مدد کي -
تحليل:
............................
[1]-ينابيع المودہ ج 1ص93-
[2]-مجمع الزوائدج9ص121 اگرچہ اہل سنت کي کتابوں ميں حضرت علي -کے پيغمبراکرم (ص)کے مددگار ہونے سے متعلق متعدداحاديث اور تاريخي کتابوں ميں بہت سار ے واقعات موجود ہيں ليکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف مذکورہ دو حديثوں پر اکتفا کروں گاکيونکہ مذکورہ روايتوں ميں پيغمبراکرم (ص)نے صريحاً فرمايا کہ حضرت علي - کو خدا نے پيغمبر اکر م -کي مدد اور نصرت کے لئے خلق فرماياہے - جب خدا نے حضرت علي -کو خلق ہي اسلام اور پيغمبراکرم (ص)کي مدد اور نصرت کے لئے کيا ہو تو کيا پيغمبراکرم حضرت علي - سے ياعلي -مدد يااس طرح کے دوسرے الفاظ کہکر مدد مانگيں تو نعوذ باللہ کيا آپدين سے خارج ہوگئے؟ کيونکہ خدا نے خود فرمايا: ''ايدک بنصرہ وبالمومنين ''ليکن ہم يا علي -مدد کہنے کو بدعت قرارديتے ہيں يہ نہ صرف بدعت نہيں ہے بلکہ ا -ي- شريفہ کے عين مطابق ہے لہذا بدعت کافتوي- دينا حقيقت ميں استنبا ط اور تفکر کي کمزوري اور سيرت اہل بيت سے نا آشنائي کا نتيجہ ہے- کئي احاديث ميںحضرت پيغمبر اکرم (ص) نے فرمايا: ميں اور علي -خدا کے نور سے خلق ہوئے ہيں- ہم ہدايت کے چراغ ہيں ، ہم لوگوں کو ضلالت اور گمراہي سے نجات ديتے ہيں ايسے مطالب اور احاديث سے برادران اہل سنت کي معتبر حديث کي کتابيں پُر ہيں-جيسے در منثور[طبع قديم] شواہدالتزيل،تفسير بيضاوي ، صواعق المحرقہ، ينابيع المود- ، مناقب مر تضويہ ياکنزالعمال وغيرہ-

لہذا اگر ہم اہل بيت کي سيرت کو تمام امور ميں نمونہ عمل قرار دے تو بہت سارے مسائل کا حل مل سکتاہے،

12)اہل بيت امت ميں سب سے زيادہ دانا ہيں
ہر معاشرے ميں علم وعمل کے پابند افراد کو بڑے احترام کي نگاہ سے ديکھاجاتا ہے- چاہے مسلم ہو ياکافر ہر ايک کي نظر ميں علم اور فہم رکھنے والے افراد قابل احترام ہے -ان کامقام ومنزلت دوسروں کي بہ نسبت زيادہ ہے دين مقدس اسلام اور اسلامي معاشرے کے حوالے سے ايک اہم سوال يہ ہے کہ پيغمبر اکرم (ص) کے ماننے والے مسلمانوں ميں سب سے بڑا عالم اور جاننے والاکون تھا ؟جس کا جواب قرآن وسنت سے يوں ملتا ہے:
فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون-
اہل سنت کے مفسرين ميں سے بہت سارے مفسرين نے اہل الذکر سے اہل بيت مراد لياہے - جس کا مطلب يہ ہے کہ اگر تم نہيں جانتے تو اہل بيت سے سوال کرووہ جانتے ہيں اس آيت سے اہل بيت کاعالم ہونا ثابت ہوتاہے کيونکہ خدا نے سوال کرنے کا حکم دياہے -اگر اہل بيت ہر مسئلہ سے آگاہ اور باخبر نہ ہوتے تو خدا کانہ جاننے والوں کو ان سے پوچھنے کا حکم دينا لغو ہوجاتا ہے جبکہ رب حکيم کا حکم لغو نہيں ہوسکت- نيز آي- ميں خدا نے'' لاتعلمون'' کے متعلق کو ذکر نہيں فرمايا جس سے معلوم ہوجاتاہے کہ کوئي بھي بات يا مشکل مسئلہ خواہ اعتقادي ہو يا فقہي، اقتصادي ہو يا اخلاقي ،نظري ہو يابديہي ،عقلي ہويا فطري ،سماجي ہو ياسياسي جنہيںتم نہيں جانتے اہل بيت سے پوچھو-کيونکہ پيغمبر اکرم (ص) کے بعد اہل بيت کا سب سے دانا ہونا آيت سے بخوبي واضح ہوجاتاہے - نيز اہل بيت سے پوچھنے کا مطلب يہ ہے کہ ہرمسئلہ کا مرجع اہل بيت ہيں -اسي طرح وہ احاديث جن ميں پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا کہ اہل بيت ميرے بعد امت کے پيشوا ہےں اورحجت الہي ہےں ، امت کے ہادي ہيں- ان تمام روايات سے بھي اہل بيت کا سب سے زيادہ عالم ہونا ثابت ہوجاتا ہے-نيز بعض احاديث ميںہر ايک اہل بيت کي علمي برتري کو الگ لگ بھي بيان کياگياہے ،جيسے:
انّہ قال: اعلم امتي من بعدي علي بن ابي طالب [1]
آنحضرت (ص)نے فرمايا: کہ ميرے بعد ميري امت ميں دانا ترين ہستي علي بن ابي طالب- ہيں-
اس حديث کي تائيد کے لئے دانشمند حضرات حضرت علي -کے ان نوارني کلمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہيں کہ جن ميں پوري کائنات کے حقائق سے لوگوں کو باخبر کردياہے نہج البلاغہ ميں کئي ايسے خطبے ہيں کہ جن کو سمجھنا عام انسانوں کي بس سے
..........................
[1]-1-ہندي متّقي:کنزالعمال:ج6ص1وج11ص614ح32977و
2- ابن بطريق:فتح الملک العلي ص70ط:مکتب- الاميرالمومنين اصفہان

باہر ہے - آپ -نے چودہ سو سال پہلے آج کل کے ترقي يافتہ دور کے ايجادات و انکشافات اور ٹکنالوجي کي پيش گوئي کي تھي-جس سے آپ -کے علم کا اندازہ کيا جاسکتا ہے -تبھي تو پيغمبر (ص)نے فرمايا:
'' علي بن ابي طالب خليف- اللہ وخليفتي وخليل اللہ وخليلي وحج- اللہ وحجّتي وباب اللہ وبابي وصفي اللہ وصفيي وحبيب اللہ وحبيبي وسيف اللہ وسيفي وہو اخي وصاحبي ووزيري وحبّہ حبي وبغضہ بغضي ووليّہ وليّ وعدوّہ عدوّي وزوجتہ ابنتي وولدہ ولدي وحزبہ حزبي وقولہ قولي وامرہ امري وہو سيد الوصيّن وخير امتي-''[1 ]
آنحضرت (ص)نے فرمايا:علي - خدا کا خليفہ اور ميراجانشين ہے علي - خدا کا اور ميرادوست ہے اور علي - خدا اورميري جانب سے حجت ہے علي -خدا کا اورميرا دروازہ ہے اور علي -خدا کي اور ميري برگزيدہ ہستي ہے علي - خدا کا اور ميرا دوستدار ہے علي - خدا کي اور ميري تلوار ہے ، علي -ميرا بھائي ، ساتھي اوروزير ہے، اس سے دوستي مجھ سے دوستي ہے اس سے بغض اور دشمني مجھ سے بغض اور دشمني ہے، اس کا دوست ميرا دوست اور اس کا دشمن ميرا دشمن ہے ان کي شريک
..........................
[1]-1-ہندي متّقي:کنزالعمال:ج11ص634حديث32089
(2)الحاکم الحسکاني:شواہد التنزيل:ص489

حيات ميري بيٹي ہے ان کا فرزند ميرا فرزند ہے اس کي جماعت ميري جماعت ہے اس کا قول ميرا قول اور اس کا حکم ميرا حکم ہے وہ تمام اوصيا کا پيشوا اور ميري امت ميں سب سے بہتر و افضل ہے -
اسي طرح ايک اور حديث ميں پيغمبر اکرم (ص) نے فرمايا:
لو يعلم الناس متي- سمي علي اميرالمؤمنين ماانکروا فضلہ
سمّي بذالک وآدم بين الروح والجسد قال اللہ الست بربّکم
قالوابلي فقال تعالي انا ربّکم ومحمد نبيّکم وعلي اميرکم -[1]
اگر لوگ علي - کو امير المؤمنين کا لقب ملنے کا زمانہ جانتے تو ہرگز اس کي فضيلت اوربرتري سے کوئي انکار نہ کرتا [ لوگو آگاہ رہو] علي - کو اميرا لمؤمنين کا لقب اس وقت ديا گيا ہے جب حضرت آدم - کي روح اور بدن باہم ترکيب نہ ہواتھا اس وقت خدا نے فرمايا : کيا ميں تمہارا پرور دگار نہيں ہوں کہنے لگے آپ ہمارے پرور دگار ہے پھر خدا نے فرمايا: ميں تمہاراپروردگار ہوں محمد تمہارا بني ہے علي - تمہارا اميرہے -
اس حديث کي مانند بہت ساري احاديث اہل سنت کي کتابوں ميں موجودہيں جن کا مطالعہ کرنا دور حاضر کے حالات اور حوادث کے پيش نظر ضروري
..........................
[1]-مناقب المرتضويہ ، ص102 -

ہے کيونکہ آج وہ دور دوبارہ لوٹ کر آيا ہے جس ميں احاديث نبوي(ص)کي نشرو اشاعت پر پابندي تھي ،صرف يہ فرق ہے کہ اس وقت حديث کا بيان کرنا ممنوع تھا جبکہ اس دور ميں کتابوں سے فضائل اہل بيت اور ان کے مناقب پر مشتمل روايات اور احاديث نبوي(ص)کو حذف کيا جاتا ہے -نيز ابو ہريرہ نے روايت کي ہے :
قال: قيل يارسول اللہ متي وجبت لک النبو- قال النبي (ص) قبل ان
يخلق اللہ آدم ونفخ الروح فيہ وقال واذا اخذ ربک من بني آدم من ظہور ہم ذريتہم واشہدوا ہم علي- انفسھم الست بربکم قالوا بلي فقال انا ربّکم الاعلي ومحمدنبيّکم وعلي اميرکم -[1]
ابو ہريرہ نے کہاکہ: پيغمبر اکرم (ص)سے پوچھا گيا کب آپ کو نبوت کا منصب ملا ہے ؟ آنحضرت (ص)نے فرمايا: مجھے نبوت کا منصب اس وقت ملا جب خدا نے حضرت آدم- کو خلق نہيں کيا تھا اور ان کے ڈھانچہ ميں روح نہ پھونکي گئي تھي پھر جب خدا نے بني آدم - کا سلسلہ حضرت آدم -کي پشت اور ان کے نسلوں سے برقرار کيا اور ان کو اپنے نفسوں پر گواہ بنايا تو اس وقت خدا نے فرمايا: کيا
..........................
[1]-1-ينابيع المود-ج2ص248ح53ط:دار الاسو-ايران1416ق و
(2)ج2 ص 280 ح 803
(3)الحلي حسن بن سليمان:المحتضر ص106ط؛مکتب-الحيدري-النجف العراق 1370ق

ميں تمہارا پروردگار نہيں ہوں سب کہنے لگے آپ ہمارے پروردگار ہے پھر فرمايا: ميں تمہارا عظيم پروردگار ہوں اور محمد تمہارا نبي ہے اور علي - تمہارا امير اور سردار ہے
نيز شيخ ابراہيم بن محمد صاحب فرائد السمطين اپني سند کے ساتھ سعيد بن جبير -سے وہ ابن عباس -سے روايت کرتے ہيں :
قال رسول اللہ(ص) : لعلي بن ابي طالب ي علي (ع) انا مدين- الحکم- وانت بابہا ولن توتي المدين- الا من قبل الباب وکذب من زعم انّہ يحبني ويبغضک لانّک مني وانا منک لحمک من
لحمي ودمک من دمي وروحک من روحي وسريرتک من سريرتي وعلانيتک من علانيتي وانت امام امتي وخليفتي عليہا بعدي سعد من اطاعک وشقي من عصاک -[1]
ابن عباس -نے کہاکہ پيغمبر (ص)نے فرمايا: اے علي -ميں حکمت کا شہر ہوں تو اس کا دروازہ ہے اور ہر گز حکمت کے شہر ميں کوئي داخل نہيں ہوسکتا مگر اس کے دروازہ سے اوروہ شخص جھوٹا ہے جومجھ سے محبت کا گمان رکھے جبکہ تم سے بغض اور دشمني رکھتا ہو کيونکہ ميں تجھ سے ہوں اور تومجھ سے ہو تير اگوشت ميرا گوشت ہے تيرا خون ميرا خون ہے تيري روح ميري روح ہے تيرا ظاہر اور باطن ميرا ظاہر اور باطن ہے توميري امت کا پيشوي- ہو تو ان کے درميان ميرے بعد ميرا جانشين
............................
[1]-فرائد السمطين ،ج 2 ص243حديث 517

ہو جو تيري اطاعت کرے وہ سعادتمند اور جوتيري نافرماني کرے وہ بدبخت ہے-

اہم نکات:
مذکورہ احاديث ميںپيغمبر اکرم (ص)نے حضرت علي - کي عظمت ا ور شخصيت کو اس طرح بيان فرماياہے کہ اگر کوئي ميري شخصيت اور عظمت کا معتقد ہے تو ا سے چاہئے علي - کي عظمت اور شخصيت کا بھي معتقد ہوکيونکہ ميں اور علي - اگرچہ ظاہري طورپر دو انسان ہيں ليکن حقيقت ميں ہم دونوں کي خلقت ايک نور سے ہے
اوردونوں کے وجود کاہدف بھي امت کي نجات اور انہيںگمراہي سے بچانا ہے لہذا حقيقي مسلمان وہي ہے جو توحيد اور نبوت ومعاد پر ايمان کے ساتھ ساتھ امامت علي - کا بھي اقرار کرے -لہ-ذا ہر مسلمان پر يہ فرض بنتا ہے کہ حضرت علي - اور اہل بيت سے بغض اور دشمني رکھ کر اپني ابدي زندگي کو برباد نہ کرے - کيونکہ علي -اور اولاد علي - نہ ہوتے تو آج قرآن وسنت اور اسلام کا نام و نشان بھي باقي نہ رہت-
ان احاديث سے بخوبي اندازہ لگا ياجاسکتا ہے کہ حضرت علي - اور ديگر اہل بيت کي عظمت خدا کي نظر ميں کيا ہے؟ ان کو اتني عظمت ملنے کا فلسفہ کيا ہے؟ ان چيزوں کوسمجھنے کي ضرورت ہے
١٣)اہل بیت کی عصمت
گذشتہ آیات و روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کس وناکس اہل بیت کا مصداق نہیں بن سکتا ۔ بلکہ اہل بیت (ع) جو امت محمدی کےلئے وسیلہ نجات ہےں کے کچھ شرائط اور خصوصیات پیغمبر اکرم (ص)نے بیان فرمایا ہے کہ جس میں یہ خصوصیتیں ہوں وہ اہل بیت کا مصداق بنے گا اورجو اس ضابطہ اور معیار پر پورانہ اتر ے وہ اہل بیت کا مصداق نہیں بن سکتا ۔
جس میں طہارت، صداقت، علم ،ہدایت اور عصمت جیسی خصوصیتیں ہوں وہی اہل بیت کا فرد بن سکتا ہے چنانچہ بہت سی احادیث اس بات پر شاہد ہیں جن میں پیغمبر اکرم (ص)کے بعد پوری بشریت پر اہل بیت کی برتری اور فوقیت اور ان کے اوصاف و خصوصیات کو بیان فرمایا ہے۔
چنانچہ عامر بن وائلہ نے حضرت علی -سے روایت کی ہے:
قال: قال رسول اللہ(ص) یاعلی انت وصّی حربک حربی وسلمک سلمی وانت الامام وابوالائمۃ الاحد عشر الذین ہم المطہرون المعصومون ومنہم المہدی الذی یملاء الارض قسطاً وعدلاً فویل لمبغضہم یاعلی لوانّ رجلاً احبّک واولادک فی اللہ لحشرہ اللہ معک ومع اولادک وانتم معی فی الدرجات العلی وانت قسیم الجنّۃ والنار تدخل بحبک الجنّۃ وببغضک النار۔[١ ]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا : یاعلی - تو میرا جانشین ہے جو تم سے جنگ کرے اس نے مجھ سے جنگ کی ہے جوتم سے صلح وصفا ئی سے پیش آئے اس نے مجھ سے صلح کی ہے [اے علی -]تو [لوگوں کے] امام اور ان گیارہ اماموںکے باپ ہو جو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں ان گیارہ اماموں میں سے ایک مہدی ؑہوگا جو زمین کو عدل وقسط سے بھر دے گا پس غضب ہو تیرے اور ان اماموں کے ساتھ بغض رکھنے والوں پراے علی - اگر کوئی تجھ سے اور تیری ذریت سے اللہ تبارک
وتعالی کی خاطر دوستی رکھے توخدا اس کو روز قیامت تمہارے ساتھ محشور کرے گااور تو میرے ساتھ ہوگا، تو جنت اور جہنم کاقسیم ہے اپنے دوستوں کو جنت اور دشمنوں کوجہنم میںداخل کروگے۔
تحلیل :
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بیت کے تمام افراد میں عصمت
..........................
[١]۔ینابیع المودۃ ج ١ص ٨٣۔

کا ہونا شرط ہے۔ چنانچہ فرمایا:''المطہرون ''، جس کا سرچشمہ آیت تطہیر ہے ، ''المعصومون ''جس کا سرچشمہ آیت صادقین ہے ۔ تومیرا جانشین ہے جس کا سرچشمہ آیت ولایت ہے ۔
پس اہل بیت کا ملاک اورمیزان یہ ہے کہ وہ معصوم ہو۔ جیساکہ بہت سارے علماء اور دانشمندوںنے آیات اور احادیث سے انبیائ اور ان کے جانشینوں کے معصوم ہونے کو ثابت کیاہے ۔جیساکہ علامہ فخررازی نے آیت ابتلا کے بارے میں فرمایا:
انی جاعلک للناس اماما سے حضرت ابراہیم(ع)کی امامت کے علاوہ ان کا معصوم ہونا بھی ثابت ہوجاتاہے [١]نیز انہوں نے فرمایا:
آیت اولی الامر سے اولی الامر کی عصمت ثابت ہوجاتی ہے ۔اسی طرح کچھ اور
احادیث اور آیات سے بھی سنی علماء نے اولی الامر اور امام کی عصمت کو ثابت کیا ہے۔ لہذا آیات اور احادیث کی روسے اہل بیت کا مصداق بخوبی واضح اور روشن ہے جس میں اختلاف کرنا شاید مسلمانوں کی بدقسمتی کے علاوہ کچھ نہ ہو تب بھی تو آج دشمنوںنے ہماری اس بری سیرت کی بناء پر اتنی جرأت کے ساتھ تسلط جمایا ہے اگر مسلمانوں کو اپنے گھروں،شہروں اورممالک سے نکال باہر کردے اور
..........................
[١]۔ مفاتیح الغیب ،ج٤،ص٤٠۔

روز مرہ زندگی کی ضروریات اور تعلیم وغیرہ سے محروم بھی کردے ،پھر بھی ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے نظر آتے ہیں جبکہ انکی پوری طاقت مسلمانوں کے سرمایے سے ہے۔
لہذا آج مسلمانوں کا آپس میں اختلاف کرکے ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنا حقیقت میں قرآن وسنت اور نظام اسلام کی پامالی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔لہٰذامحققین کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا اور استعمار کے اشارے پر چلنے والے ایجنٹوں کی مخالفت کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہمارے آپس میں اختلاف اور تفرقہ پیدا نہ ہو۔
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
من سرہ ان یحی حیاتی ویموت مماتی ویسکن جنّۃ عدن التی غرسہا ربی فیوال علیاً من بعدی ویوال ولیّہ ویقتد باالائمۃ من بعدی فانّہم عترتّی خلقوا من طینتی ورزقوا فہماًو علماً وویل للمکذبین بفضلہم من امتی القاطعین فیہم صلتی لاانالہم اللہ شفاعتی [١ ]
''جو شخص میری طرح جینا اور میری طرح مرنا چاہے اور جنت عدن
.........................
[١]ینابیع المودۃص ٣١١

[جسے میرے پروردگار نے مؤمنین کے لئے تیارکیاہے] میں رہنا چاہتا ہے تو میرے بعدعلی - اور اس کے جانشینوں کی سرپرستی کو قبول کرےں نیز میرے بعد ان پیشواؤں کی اقتداء کرےں ۔کیونکہ وہی میرے اہل بیت وعترت ہےں اور میری طینت سے خلق کیاگیا ہے اور یہ فہم ودرک اور علم کی نعمت سے نوازے گئے ہیں اورمیری امت میں سے جوان کے فضائل کے منکر ہو ان پرغضب ہو کیونکہ خدا نے میری رسالت کا صلہ ان سے دوستی اور محبت رکھنے کو قرار دیا ہے ۔ لہذا جوان کے فضائل اور منزلت کا منکر ہوگا اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔
تحلیل:
اس حدیث میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)نے بشر کی ہدایت اور ہلاکت و گمراہی سے نجات کاذریعہ واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے یعنی بشر یا محب اہل بیت ہے یادشمن اہل بیت ۔ اگر دنیا میں عزت ،شرف اور ابدی زندگی میں آسائش و راحت کا خواہاں ہے تو اہل بیت سے محبت کرنی ہوگی اور ان کی سیرتکو اپنی روزمرہ زندگی کے لئے نمونہ ومعیار قرار دےنا ہوگا،کیونکہ زندگی کے اصول وضوابط کاملاک اور معیار اہل بیت ہے ان کی سیرت طیبہ سے ہٹ کر کوئی شخص جتنی بھی زحمت اور مشقت اٹھائے بے فائدہ اورفضول ہے ۔ پس اس حدیث سے بھی اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ لگاسکتے ہیں یعنی حضور کی طرح جینا اور مرنا، جنت کا حصول حضور کی شفاعت اور عذاب جہنم سے نجات سب اہل بیت کی محبت اور اطاعت سے وابستہ ہے۔

١٤)اہل بیت کی اطاعت فرض ہے ۔
خدا اوررسول (ص)کی اطاعت کے علاوہ اہل بیت رسول کی اطاعت بھی امت مسلمہ پر فرض ہے ۔
چنانچہ اس مطلب کو ابن عباس -نے یوں روایت کی ہے :
قال رسول اللہ(ص) انّ اللہ افترض طاعتی وطاعۃ اہل بیتی علی الناس خاصّۃ وعلی الخلق کافۃ۔ [١]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: خدا نے میری اور میرے اہل بیت کی اطاعت
کو ساری مخلوقات پر اور خاص طور پرانسانوں پر لازم قرار دیاہے ۔
علامہ قندوزی نے ابراہیم بن شبیہ الانصاری سے روایت کی ہے ـ :
قال جسلت عند اصبغ بن نباتہ قال الااقرائک مااملاہ
علی بن ابی طالب (ع) فاخرج صحیفۃ فیہا مکتوب :بسم اللّہ
..........................
[١]۔ینا بیع المودۃ ج ٢ص٧٥۔

الرّحمن الرّحیم ، ہذا مااوصی بہ محمد(ص) اہل بیتہ وامتہ واوصی اہل بیتہ تقوی اللّہ ولزوم طاعتہ واوصی امتہ بلزوم اہل بیتی واہل بیتہ یأخذون لحجزۃ نبیہم وانّ شیعتہم یأخذون لحجزہم یوم القیامۃ وانّہم لن یدخلوکم باب الضلالۃ ولن یخرجوکم من باب ہدی۔[ ١]
ابراہیم بن شبیہ کہتا ہے : میں اصبغ بن نباتہ - کے پاس بیٹھا ہواتھا مجھ سے کہنے لگا: کیا میں وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت علی - نے مجھے لکھوادیا تھا ؟پھر اس نے ایک کاغذ نکالا جس پر یہ لکھا ہواتھا کہ خدا کے نام سے شروع کرتاہو ں جوبڑا مہربان ہے۔ یہ محمد(ص)کی وصیت ہے جواپنی امت اور اپنے اہل بیت سے کی ہے۔میں اہل بیت کو تقوی اور خدا کی اطاعت کرنے کی جبکہ امت کو اہل بیت کی اطاعت اور پیروی کرنے کی وصیت کرتا ہوں
کیونکہ قیامت کے دن اہل بیت کے دامن سے متمسک ہونگے اور ان کے پیروکار اہل بیت کے دامن تھامے ہونگے یاد رکھو کہ اہل بیت کبھی تمہیں ہدایت کی راہ سے نکال کر ضلالت و گمراہی کی طرف نہیں لے جائینگے۔
تحلیل:
........................
[١]۔ینابیع المودۃ ،ص٢٧٣۔

خدا اور رسول (ص)کی اطاعت کے فرض ہونے کو توسب جان لیتے ہیں لیکن اہل بیت کی اطاعت فرض ہے یانہیں اس میں امت مسلمہ کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے :
١۔بعض کا خیال ہے کہ اہل بیت کی اطاعت لازم نہیں ہے کیونکہ اہل بیت اور دیگر انسانوں میںکوئی فرق نہیں ہے لہذا جس طرح باقی انسانوں کی اطاعت اور پیروی لازم نہیں ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی ضروری نہیں ہے لیکن یہ نظریہ کتاب وسنت کے مخالف ہے ،جیسا کہ گذشتہ آیات و روایات سے واضح ہوا۔
٢۔کچھ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت دیگر انسانوں کے مانند نہیں بلکہ ان کی عظمت اور شخصیت کتاب وسنت میں واضح الفاظ میں بیان ہوا ہے لہذا ان کے فضائل سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن جس طرح خدا کی اطاعت اور رسول (ص)کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے اس طرح اہل بیت کی اطاعت کرنا فرض نہیںایسا نظریہ بھی عقل قبول نہیں کرتی ،کیونکہ ایک طرف اہل بیت کے فضائل کو قبول کرے جبکہ دوسری طرف سے ان کی اطاعت کو واجب نہ ماننا حقیقت میں یہ سنت نبوی اور کتاب الہٰی کے پابند نہ ہونے اور مقام ومنزلت اہل بیت سے انکار کی علامت ہے ۔
٣۔ اہل بیت اوردیگر انسانوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے جس طرح خدا اور رسول (ص) کی اطاعت امت مسلمہ پر فرض ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی فرض ہے ان کی اطاعت اور خدا اور رسول (ص)کی اطاعت میں کوئی فرق نہیں ہے۔کیونکہ اہل بیت کی اطاعت در حقیقت خدا و ر رسول کی اطاعت ہے،کیونکہ خدا و رسول نے ہی اہل بیت کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دی۔ چنانچہ مذکورہ احادیث سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا :امت پر میرے اہل بیت کی اطاعت کرنافرض ہے ۔

١٥)اہل بیت علم وعمل کے ترازوہیں
قرآن کی آیات کے علاوہ کئی احادیث سے واضح ہوجاتاہے کہ اہل بیت حق اور ناحق ، انصاف اور ناانصاف ، ایمان اور کفر ، جنت اور جہنم ، عدل و ظلم کا ملاک اور معیار قرار پانے کے ساتھ علم و حکمت اور عمل کا سرچشمہ بھی ہیں۔
سعید بن جبیر نے ابن عباس -سے روایت کی ہے:
قال رسول (ص)اللّہ نحن اہل بیت مفاتیح الرحمۃ وموضع الرسالۃ ومختلف الملائکۃ ومعدن العلم [١ ]
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: ہم اہل بیت ، رحمت الہی کی چابی ،
............................
[١] فرائد السمطین ج٢ص ٢١٢۔

رسالت کی منزل، فرشتوں کے رفت وآمد کی جگہ اور علم کا سرچشمہ ہےں ۔
اہل تشیع کی کتابوں میں اس حدیث کے مضمون کی مانند احادیث اور دعائیں اور زیارات ائمہ معصومین بہت زیادہ ہےں۔
نیز مجاہد، ابن عباس -سے روایت کرتاہے :
قال رسول اللہ(ص) انا میزان العلم وعلی کفّتاہ والحسن وال حسین (ع) خیوطہ وفاطمۃ علاقتہ والائمۃ من امتی عمودہ یوزن
فیہ اعمال المحبین والمبغضین لنا۔ [١]
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: میں علم کا ترازو اور علی - ترازو کے دو نوں پلڑے ہےں، حسن- وحسین- اس ترازو کی زنجیروں کی مانند ہیںجبکہ فاطمہ زہراء =ترازو کادستہ ہےں اور میری امت میں سے جو پیشوا اور امام ہے وہ ترازوکے ستون کی مانند ہے جس کے ذریعے ہمارے دوستوں اور دشمنوں کے اعمال کو تولا جاتاہے۔
..........................
[١]، مقتل الحسین ص ١٠٧۔

تحلیل :
اس حدیث کی مانند اوربھی احادیث اہل سنت کی کتابوں سے منقول ہےں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں کے رفت وآمد کی جگہ اہل بیت ،رحمت الہی کاذریعہ اہل بیت رسالت اور امامت کے لائق اور مستحق اہل بیت ، علم وعمل کے میزان اورترازو اہل بیت ہےں۔ لہذا اہل بیت کو عمل اور علم کا سرچشمہ قراردے کر حقیقت میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ علم حقیقی وہ ہے جس کا سرچشمہ اہل بیت ہو عمل صحیح وہ ہے جس کا سرچشمہ اہل بیت ہو۔ لہذا اہل بیت کی سیرت سے ہٹ کر کسی بھی عمل کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
نیز اہل بیت سے ہٹ کر کسی بھی علم کی کوئی قیمت نہیں ہے کیونکہ خدا نے علم وعمل کا ملاک اہل بیت کو قرار دیا ہے ۔

١٦)اہل بیت سے دوری کے عوامل
اہل بیت سے دوری اور بغض رکھنے کے عوامل کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

١۔ بیرونی عوامل ۔
٢۔درونی عوامل ،

١۔بیرونی عوامل:
سب سے پہلے ظاہری اور بیرونیعوامل کو بیان کریں گے تاکہ مسلمانوں کا دل اہل بیت کی محبت کے ذریعے منور ہوجائے۔

الف۔ جہالت
بسا اوقات اہل بیت سے دوستی اور محبت نہ کرنے والے افراد سے سوال کرے تو جواب ملتاہے کہ ہمیں ان کی معرفت اور شناخت نہ تھی لہذا ان سے محبت اور دوستی کرنے سے ہم محروم رہے ہیں۔ایسی جہالت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :
١۔جاہل قاصر۔ ٢۔جاہل مقصر۔
اگر اہل بیت کی معرفت اور شناخت حاصل کرسکنے کے باوجود اپنی کوتاہی اور سستی سے حاصل نہ کی ہوجس کے نتیجہ میں اہل بیت کی دوستی اور محبت سے محروم رہ گیا ہوتو ایسے افراد روز قیامت اپنی جہالت کو اہل بیت سے محبت نہ کرنے کے عذر کے طورپر پیش نہیں کرسکتے کیونکہ ایسا شخص جاہل مقصر ہے ۔ جاہل مقصر کا حکم شریعت اسلام میں واضح اور روشن ہے قیامت کے دن اس کو وہی سزا دی جائے گی جو اہل بیت سے جان بوجھ کر دشمنی اور بغض رکھنے والے افراد کے لئے مقرر کی گئی ہے ، کیونکہ بہت ساری احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے : اہل بیت کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا فرض ہے ۔
چنانچہ حضرت امام جعفر صادق -سے روایت ہے :
قال: قال امیرالمؤمنین ؑ اعرفوا اللّہ والرسول بالرسالۃ واولی الامر بالمعروف والعدل والاحسان ۔[١]
حضرت علی -نے فرمایاکہ: خدا اور ان کے رسول (ص) کی شناخت اور معرفت رسالت کے ذریعے کرو اور اولی الامر[ جو اہل بیت ہے] کی معرفت اور شناخت عدل واحسان اور نیکیوں کے ذریعہ حاصل کرو ۔
آیات اور روایات کے علاوہ دلیل عقلی بھی اہل بیت کی معرفت اور شناخت کاہم پر فرض ہونے کی تائید کرتی ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اہل بیت تمام مسائل کا مرجع ہوں دوسری طرف ہم ان کی شناخت حاصل نہ کرے تو ''فاسئلوا اہل الذکر'' یا ''کونوا مع الصادقین'' وغیرہ کا معنی نہیں رہتا۔ پس اس قسم کی جہالت میں مبتلاء افراد کو جاہل مقصر کہا جاتا ہے یعنی معرفت اور شناخت اہل بیت کا زمینہ اور ذرائع میسر ہونے کے باوجود حاصل نہ کرے۔
لیکن اگر معرفت اور شناخت اہل بیت حاصل کرنے سے قاصر ہو یعنی معرفت اور شناخت اہل بیت حاصل کرنے کے لئے کسی قسم کے امکانات میسرنہ ہو جس کے نتیجہ میں اہل بیت سے دور اور ان کے ساتھ دوستی اورمحبت کرنے سے محروم رہے ایسے افراد کی جہالت کو قیامت کے دن عذر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں تکالیف الہی کا آنا معقول نہیں ہے ۔
................................
[١]۔بحارالانوار ، ج٢٥ص ٤١،۔

ب۔غلط پروپگنڈے
اہل بیت سے دشمنی اور بغض رکھنے کے اسباب میںسے دوسرا سبب منفی تبلیغ ہے جسے قدیم الایام سے قرآن وسنت اور اسلام کے مخالفین نے کبھی بنی امیہ کی شکل میں اور کبھی بنی عباس کی شکل میں پیغمبراکرم (ص)کے رحلت پاتے ہی اہل بیت کے خلاف شروع کی جس کے نتیجہ میں بہت سارے افراداہل بیت کی دوستی اور محبت کرنے سے محروم رہے۔ یعنی پیغمبر اکرم (ص)کے وفات پاتے ہی مسلمانوں اور اہل بیت کے درمیان دوری اور جدائی شروع ہوگئی اگرچہ پیغمبراکرم (ص)کے دور میں کفار اور مشرکین نے مسلمانوں کو پیغمبراکرم (ص)اور قرآن واسلام سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن پیغمبر اکرم (ص)نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا مگرجب پیغمبراکرم (ص)دنیا سے چل بسے تو کفار اور مشرکین نے موقع کوغنیمت سمجھ کر مسلمانوں اور اصحاب میں سے ضعیف الایمان افراد کو ورغلانا اور پروگرام کے مطابق لاشعوری طور پراختلاف ڈالنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے نہ صرف اہل بیت سے محبت اور دوستی کرنا چھوڑ دیا بلکہ اہل بیت کو اپنا دشمن قراردینا شروع کیا جس کی دلیل آج فریقین کی کتابوں میں واضح الفاظ میں موجود ہے یعنی سوائے امام زمانؑ کے باقی سارے اہل بیت کے ساتھ امت مسلمہ نے برا سلوک کیا اہل بیت میں سے کوئی ایک بھی موت طبیعی سے دار دنیا سے نہیں گیا بلکہ ہرقسم کے مظالم ان پر ڈھائے گئے اور شہید کیا گیا ۔لہذا آج مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اہل بیت کی شان میں نازل ہونے والی آیات اور احادیث نبوی(ص) کو بالائے طاق رکھ کر یہودیوں کے دئیے ہوئے نقشے کے مطابق لوگوں کو اہل بیت سے دور کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔ اوراہل بیت کے فضائل بیان کرنے والے افراد کو قتل کرناشرعی ذمہ داری سمجھتے ہیں جو یقیناً کفارومشرکین اوریہودیوں کا نقشہ ہے ورنہ فریقین کے علماء اور محققین نے اہل بیت سے متعلق آیات اور روایات کی روشنی میں ان کے دامن تھامنے کو باعث سعادت قرار دیا ہے۔ لہذا سارے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اہل بیت کا دامن تھام لیں تاکہ سعادت دنیا وآخرت سے محروم نہ رہے۔

ج ۔تربیت اور سوسائٹی
اہل بیت سے دوری کاتیسرا عامل تربیت اور سوسائٹی بتایا جاتاہے یعنی اگر کسی کی تربیت کسی ایسے گھرانہ یاسوسائٹی میںہوئی ہوجو محب اہل بیت ہے تو اس شخص کا محب اہل بیت ہونا طبیعی ہے لیکن اگر کسی ایسے معاشرہ یاگھرانہ یا سوسائٹی میں تربیت ہو جو دشمن اہل بیت ہے ، یااہل بیت سے دور اور ان کے نور سے محروم ہے تو یقینا وہ انسان بھی اہل بیت سے دورہوگا اور بغض رکھے گا۔اس حوالے سے تربیت اور سوسائٹی کی اہمیت بہت زیادہ ہے جس کی طرف خدا اور اس کے انبیاء نے بھی تاکید کی ہے کہ تربیت کے لئے اچھے افراد کو منتخب کرنا ہمارا فرض بنتاہے ۔اسلام ، قرآن اور سنت کی روشنی میں اچھا انسان وہ ہے جو مسلمان حقیقی ہو اگر کسی معاشرہ ، قبیلہ اور گھرانہ میں اہل بیت کی محبت نظر نہ آئے تو اس کی وجہ جہالت اور منفی تبلیغ کے علاوہ غلط تربیت بھی ہے ، چاہے تربیت گاہ سکول ہو یاکالج ،یونیورسٹی ہو یا مدرسہ۔ اگر سوسائٹی محبت اہل بیت کا حامل ہو تو اس میں تربیت یافتہ انسان بھی محب اہل بیت ہوگا لیکن اگر ان مراکز میں تربیت دینے والا دشمن اہل بیت ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تربیت یافتہ تمام افراد اہل بیت کے ساتھ بغض اور دشمنی رکھیں گے۔
آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہودی ہماری تربیت گاہوں پر اپنا تسلط جماکر ہمارے بچوں کو قرآن اور اسلام واہل بیت سے دور کررہے ہیں اور ان کے ذہنوں کو تبدیل کررہے ہیں تاکہ جب کوئی یہودی کسی مسلمان پر زیادتی اور تجاوز کرنا چاہے تو مسلمان مکمل بے غیرتی کے ساتھ اس کے آگے سرتسلیم خم کر کے خاموش رہے ۔

٢) اندرونی عوامل
اہل بیت کے دوری اور جدائی کے اسباب میں سے دوسرا سبب باطنی اور اندرونی ہے:
الف: منافقت
ب: حسد
ج:نسل میں خلل
د:تکبر
چنانچہ احادیث نبوی ،جواہل سنت کی کتابوں میں نقل کی گئی ہے، اور تاریخی وقائع وحوادث سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ ذکر شدہ عناوین اہل بیت اور لوگوں کے درمیان جدائی اور دوری کے باطنی عوامل میںسے اہم ترین سبب شمار کیا جاتاہے ،جیساکہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:حسد کرنے والا،منافق ،تکبر کرنے والا اور جس کی نسل میں خلل ہو وہ ہم اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھے گا۔[١]
چنانچہ علامہ خوارزمی نے مقتل حسین- میں امام علی - سے روایت کی ہے :
قال: قال رسول اللہ(ص): ...لایحبنا الا مؤمن ولایبغضنا الامنافق شقی۔ ۔[٢ ]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: ہم اہل بیت سے محبت سوائے مؤمن اور ہم سے دشمنی اور عداوت سوائے منافق کے کوئی نہیں کرتاہے۔
مذکورہ احادیث سے روشن ہوا کہ منافقت اور نفاق اہل بیت سے
...........................
[١]۔ینابیع المودۃج ٢ص ٧٠ ،تاریخ دمشق ج ٣ص ٢١٣۔
[٢]۔ مقتل الحسین ج٢ص ١١٢

عداوت و دشمنی رکھنے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے جس سے انکار کرنے کی
کوئی گنجائش نہیں ۔نیز کئی احادیث میں پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا ہم اہل بیت سے وہ لوگ بغض اور دشمنی رکھتے ہیں کہ جن کی نسل میں خلل ہو چنانچہ امام جعفر صادق -سے روایت کی گئی ہے :
قال رسول اللہ (ص): من احبنا اہل البیتؑ فلیحمد اللہ علی اولی النعم قیل ومااولی النعم؟ قال طیب الولادۃ ولایحبنا الا من طابت ولادتہ۔[١]
اگر کوئی ہم اہل بیت سے دوستی اور محبت کرے تو اللہ تبارک وتعالی کو اسکی نعمتوں میں سے بہترین نعمت پر حمد وثنا کرنا چاہیئے پوچھا گیا خدا کی بہترین نعمت کون سی ہے ؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا: خدا کی بہترین نعمت حلال زادہ ہونا ہے اور ہم سے سواء حلال زادہ کے کوئی محبت نہیں کرتا۔
نیز سعد ابن جبیر نے ابن عباس -سے روایت کی ہے :
قال :قال رسول اللہ(ص): یا علی لایحبک الا طاہر الولادۃ ولایبغضک الا خبیث الولادۃ ۔[٢]
..........................
[١]۔ینابیع المودۃ ص ٢٤٦۔
[٢]۔ینا بیع المودۃ ،ج ٢ص٧٠۔

پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اے علی -تجھ سے سوائے حلال زادہ کے کوئی محبت اور دوستی نہیں کرتا ، اور تجھ سے سوائے حرام زادہ کے کوئی بغض اور دشمنی نہیں رکھتا۔
اگرچہ حدیث کی کتابوں میں اس سلسلے میں روایات بہت زیادہ ہےں اختصارکے پیش نظر مذکورہ روایتوں پر اکتفا کروںگا تفصیل کےلئے دور منثور ،شواہد التنزیل ، صواعق محرقہ ، ینابیع المودۃ وغیرہ کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے اس طرح حسد اور تکبر بھی روحانی بیماریوں میں سے بہت ہی مذموم مرض ہے جو بھی شخص ایسے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ راہ سعادت اور اہل بیت سے جدا اور ہمیشہ کے لئے نابودہوجاتاہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھنے کے اسباب روایات نبوی کی رو سے درج ذیل ہےں :
١۔بیرونی عوامل: ١۔ جہالت ٢۔ منفی تبلیغ۔٣۔غلط تربیت ۔
٢۔اندرونی عوامل: ١۔منافقت۔٢۔ حسد۔٣۔ نسل میں خلل۔٤۔تکبر

١٧)اہل بیت کا مصداق
شیعہ اور سنّی کتابوں میں مناقب اور فضائل اہل بیت سے متعلق بہت ساری احادیث نبویؐ تواتر اجمالی کی حد سے بھی زیادہ ہے لیکن اس کا مصداق کون ہے جس میں شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف پایا جاتاہے اہل سنت کانظریہ ہے کہ اہل بیت رسول ،کہ جن کی شان میں آیات نازل ہوئی اور جن کے فضائل پیغمبراکرم (ص)نے واضح الفاظ میں بیان کئے،میں پنجتن پاک کے علاوہ ذریت رسول (ص) اور زوجات رسول (ص) بھی شامل ہیں ، جب کہ شیعہ امامیہ کی نظر میں اہل بیت ؑ کا مصداق چہادہ معصومین ہیں، زوجات اگرچہ فضیلت رکھتے ہیں لیکن اہل بیت کا مصداق نہیں ہےں جس پردلیل عقلی کے علاوہ آیات اور روایات سے استدلال کرتے ہیں ۔ لہذا کچھ ان روایات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن میں پیغمبراکرم (ص)نے اہل بیت کا مصداق معین کیاہے ۔
پیغمبراکرم (ص)فرماتے ہیں:
یاعلی انت الامام وابوا الائمۃ الاحدی عشرالذین ہم المطہرون المعصومون [١]
اے علی - تم [ اس امت ] کے پیشوا اور ان گیارہ پیشواؤں کے باپ ہو جو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں ۔
اس روایت سے حضرت علی - اور دیگر گیارہ ائمہ کی عصمت و طہار ت اورامامت واضح ہوجاتی ہے ،اور پیغمبر اکرم (ص)کے بعد خلیفہ بلا فصل ضرت علی - ان کے بعد دیگر گیارہ ائمہ ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پیغمبراکرم (ص)
............................
.[١]۔ینا بیع المودۃ ج١،ص٨٣۔

کے حقیقی جانشین بارہ ہیں جو مذہب تشیع کے عقیدہ کے مطابق ہے ۔اسی طرح دوسری روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
قال رسول اللہ(ص) یاعلی انت وصّی حربک حربی وسلمک سلمی وانت الامام وابوالائمۃ الاحد عشر الذین ہم المطہرون المعصومون۔ [٢]
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا : یاعلی - تو میرا جانشین ہے جو تم سے جنگ کرے اس نے مجھ سے جنگ کی ہے جوتم سے صلح وصفائی سے پیش آئے اس نے مجھ سے صلح کی ہے [اے علی -]تو [لوگوں ] کے امام ہو اور گیارہ اماموںکے باپ ہو
جو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں۔
نیز ابن عباس -سے روایت ہے :
قال سمعت رسول اللہ(ص) یقول :انا وعلی والحسن وال حسین (ع) وتسعۃ من ولد الحسین مطہرون معصومون [٢]
ابن عباس -نے کہا کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: میں اور علی - اور حسن- وحسین- اور حسین-کے نو فرزند عصمت اور طہارت کے مالک ہیں ۔
اسی طرح عطا بن ثابت نے اپنے باپ سے روایت کی ہے :
...........................
[١]۔ینا بیع المودۃ ،ج ١،ص٨٣۔
[٢]۔ینا بیع المودۃ ،ج ١،ص٨٥۔

انّ النبی (ص) وضع یدہ علی کتف ال حسین (ع) فقال انّہ الامام ابن الامام تسعۃ من صلبہ ائمۃ ابرار امناء معصومون والتاسع قائمہم [ ٢]
جناب سلمان -سے نقل کیاگیاہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے اپنا دست مبارک امام حسین- کے شانے پر رکھ کر فرمایا: بتحقیق یہ امام اور امام کا فرزند ہے اواس کی نسل سے نو فرزند امام ہونگے جو نیک ، امین اور معصوم ہیں اور ان میں سے نواں قائم ہوگا۔
اسی طرح زید بن ثابت سے روایت کی ہے پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:
وانّہ یخرج من صلب ال حسین (ع) ائمۃ ابرار امناء معصومون
قوامون بالقسط ۔
بے شک امام حسین- کی نسل سے کچھ نیک امانتدار [اور ]معصوم امام[پیشوا] آئیں گے جو عدل اور انصاف کو معاشرے میںقائم کریں گے ۔

اہم نکات
مذکورہ روایات میں حضرت امام حسین (ع) کی نسل سے نو ہستیوںکے آنے کی خبردی جودرجہ ذیل صفات کے حامل ہیں:
.......................
[٢]۔اثبات الہداۃ ، ج٢ص٥١٦حدیث ٤٩٠۔

١۔وہ پاک وپاکیزہ ہیں۔ ٢۔ معصوم ہیں۔
٣۔امت مسلمہ کے پیشوا ہیں ۔ ٤۔نیکوکارہیں ۔
٥۔وہ افراد معاشرے میں عدل وانصاف کو رواج دیں گے ۔
٦۔امین ہیں۔
پہلی روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اے علی - تو اور تیری نسل سے آنے والی نو ہستیوں میں مذکورہ اوصاف ضروری ہے ۔
ایک اور روایت جسے پیغمبراکرم (ص)سے فضل بن عمر بن عبداللہ نے روایت کی ہے اور الحافظ ابو محمد بن ابی الخوارس نے[١] نقل کیاہے جس میں پیغمبراکرم (ص)نے اہل بیت سے مراد چو دہ معصومین کا ہونا صاف اور واضح الفاظ میں بیان فرمایاہے، اور سب کے اسماء گرامی بھی بیان کئے ہیں یعنی اہل بیت سے مرادحضرت پیغمبراکرم (ص)اور حضرت زہرا = حضرت علی -، حضرت امام
حسن- وحضرت امام حسین -، حضرت علی زین العابدین-، امام محمد باقر -امام جعفر الصادق -،امام موسی کاظم -، امام علی بن موسی - ، امام محمدبن علی - ، امام علی بن محمد -، امام حسن بن علی - ،امام المہدی [عج ]ہیں، ان کے علاوہ زوجات، اہل بیت کے دائرہ سے خارج ہیں ۔ زوجات میں وہ شرائط نہیں جن کا حامل ہونا اہل
...........................
[١] کتاب الاربعین ،ص٣٨

بیت کےلئے ضروری ہے ۔کیونکہ مذکورہ روایات میں اہل بیت کے اوصاف کو اس طرح سے ذکر کیاکہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں سے علم اور معرفت کے حوالے سے آگے ، عصمت اور طہارت کے مالک ، عدل وانصاف کا قائم کرنے والا،ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ اور ان کا وجود نور الہی ہیں ۔ حضرت آدم -کی خلقت سے پہلے ان کے نور کا مشاہدہ انبیاء نے کیاہو ، نیزآیہ تطہیر اور آیہ مباہلہ ،آیت مودۃ ،آیہ ولایت ، آیہ فاسئلوا، آیہ کونوا مع الصادقین وغیرہ کا شان نزول اور تفسیر سے بخوبی اہل بیت کا مصداق واضح ہوجاتاہے ۔ لہذا ایسے واضح اور روشن مسائل میں امت مسلمہ کے درمیان اختلاف ہونا حقیقت میں امت مسلمہ کی بدقسمتی اور ہمارے دشمنوں کی کامیابی کی علامت ہے ۔کیونکہ دشمن نظام اسلام کی پامالی اور نابودی کی خاطر مسلمانوں کے آپس میںاختلاف اوررخنہ پیدا کر رہا ہے جس کی وجہ سے مسلمان آج ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں جبکہ تمام اسلامی مکاتب فکرکا اجماع ہے کہ جو شہادتین کا اقرار کرے اور اصول وفروع کے احکام اور ضوابط کے پابند ہواس کا قتل کرنا اور اس کا خون بہاناجائز نہیں ہے ۔پس اگر آپس میں یک جہتی اور اتحاد اورکتاب وسنت کی بالادستی کے خواہان ہوں تو اپنی اپنی کتابوں کا مطالعہ کرے ،دشمن کے منفی تبلیغات اور غلط باتوں میں نہ آئے ،اس کےلئے اہل بیت نے جو سیرت چھوڑی ہے وہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے
١٨)اہل بیت کی شان میں گستاخی کی سزا
آیات اور احادیث نبوی کی روسے اہل بیت کی عظمت اوران کی شخصیت واضح ہوگئی اوران کے حقوق کی رعایت کرنا ان کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا ہم پر فرض ہے لیکن بعض انسان کتنا بڑا ظالم ہے کہ نہ صرف اہل بیت کے حقوق کی رعایت نہیں کی بلکہ ان پرطرح طرح کے ظلم کرنے سے باز نہ رہے جو آج بھی تاریخ اسلام کے چہرے پر ایک سیاہ دھبہ کی طرح موجود ہیں ۔
خوارزمی نے مقتل الحسین -میں روایت کی ہے :
قال رسول اللہ(ص) الویل لظالمی اہل بیتی عذابہم مع المنافقین فی الدرک الاسفل من النار لایفتر عنہم ساعۃ ویسقون من عذاب جہنّم فالویل لہم من عذاب الیم ۔[١]
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: میرے اہل بیت پر ظلم وستم کرنے والوں پر افسوس ہو ان کا عذاب منافقین کے ساتھ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا ایک لحظہ بھی ان کے عذاب اور عقاب میں تحفیف نہیں کی جائے گی اور ان کو جہنم میں ماء حمیم[بہت ہی گرم پانی]پلایا جائے گا ۔لہذا غضب اور ویل ایسے افراد پرہو کہ جن کوبہت ہی سخت عذاب دیا جائےگا ۔نیز کئی احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
..............................
[١]۔، مقتل ال حسین (ع)،ج٢ص١٢٣۔
مبغضہ فی النّار[١]
یعنی اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھنے والوں کو جہنم کی آگ سے سزا دی جائے گی ۔
کچھ احادیث کا خلاصہ جو اہل سنت کی کتابوں میںنقل کی گئی ہیں درج ذیل ہے :
١۔اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھنے والوں پر جنت حرام ہے ۔
٢۔ان سے بغض اور حسد رکھنے والے افراد کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔
٣۔ ان پر ظلم کرنے والے اور ان کی شان میں گستاخی وجسارت کرنے والے افراد کا سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا ۔
٤۔اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھنے والے افراد کا کوئی نیک عمل خدا کی نظر میںقابل قبول نہیں ہے ۔
٥۔ اہل بیت سے دشمنی رکھنے والے افراد سعادت دنیا وآخرت سے محروم رہےں گے۔
٦۔ اہل بیت کے حقوق کی رعایت نہ کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں۔
٧۔ ان سے دشمنی اور بغض رکھنے والے منافق ہے اور اسکی ولادت حرام
..............................
[ ١]۔ینا بیع المودۃ ، ص٨٦۔

پر ہوئی ہوگی [١ ]۔
١٩) اہل بیت کے و جود سے کائنات خالی نہیں ہوسکتی
اگرہم آیات و روایات پرغور کریں تو اللہ تبارک وتعالی کاسب سے پہلے حضرت آدم - کو خلق کرنے کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے کہ مخلوقات کی ہدایت کے لئے سب سے پہلے ایک ہدایت یافتہ اور معصوم ہستی کو خلق فرمایا تاکہ آنے والے انسانوں کو ہدایت اور تعلیم وتربیت دے سکے۔اور اسلامی تعلیمات اور احادیث نبویؐ سے واضح ہوجاتاہے کہ جتنے بھی انبیاء خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں وہ حقیقت میں ہمارے نبی حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)کی بعثت اور نبوت کا پیش خیمہ تھا
لہٰذایہ کہہ سکتے ہیں کہ جتنے انبیائ گذرے ہیں حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)کے آنے کےلئے زمینہ سازی کرتے رہے۔ کیونکہ خدا نے کائنات کی خلقت سے چار ہزار سال پہلے حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)اور ان کے اہل بیت کے نور کو خلق فرمایا اور پورے انبیائ کو عالم ذر میں چودہ معصومین کا نور دکھایاگیا اور انبیاء نے امتحان اور سختی کے وقت اہل بیت کو کامیابی کاذریعہ قرار دیا اور بہت سارے انبیاء کو خدا نے انہیں کے صدقے میں کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔
............................
[١]ینابیع المودۃص١٢٣

اورکائنات کی خلقت سے قیامت تک ایک لحظہ بھی اہل بیت میں سے کسی ہستی سے دنیاخالی نہیں ہوسکتی اگر ایک لحظہ بھی زمین اہل بیت سے خالی ہوجائے تو زمین وآسمان نابود ہوجائینگے۔
''ولاتخلوالارض منہم ولوخلت لانساخت باہلہا '' [١]
زمین کبھی بھی اہل بیت کے کسی فردسے خالی نہیں ہوسکتی اوراگر ایک لحظہ کے لئے زمین خالی ہوجائے تو زمین اہل زمین سمیت نابودہوجائے گی۔
نیزفرمایا:
ولولاماعلی الارض منّا لانساخت باہلہا[٢]
اگر ہم اہل بیت میں سے کوئی ایک روئے زمین پر نہ ہوتو زمین اہل
زمین سمیت نابود ہوجائے گی۔
اور بہت ساری روایات میں فرمایا:قیامت تک حجت خدا سے دنیا خالی
نہیں ہوسکتی ،دین اسلام تاقیامت کبھی امام اور پیشوا سے خالی نہیں ہوسکتا ۔یہ تمام
احادیث ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہےں کہ کائنات کی خلقت سے لے کر
قیامت تک اہل بیت کے وجود اوران کے نور سے کائنات محروم نہیں ہوسکتی
..........................
[١]ینابیع المودۃ ،ص٢٠۔
[٢]ینابیع المودۃ ،ص٢١۔

[٣] نیز روایات اور احادیث کے علاوہ انسان کی فطرت اور عقل بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے یعنی خدا اور دین پر عقیدہ فطری اور عقلی ہے۔اس کا نگہبان ہونا اس کا لازمہ ہے۔اور دنیوی و اخروی زندگی کے فلاح وبہبود کی خاطر
نظام کی ضرورت بھی عقلی اور فطری ہے تب ہی تو پورے بشر نظام اور قوانین کی ضرورت کا اعتراف کرتے ہیںاور ہر بشر کی فطرت اور عقل اعتراف کرتی ہے کہ اس نظام کو معاشرے میں نافذ کرنے والے افراد دوسروں سے کامل ہرحوالے سے لائق ہو، وہ سوائے انبیاء اور اہل بیت کے کوئی نہیں ہوسکتا۔لہذا عقل کی نظر میں ہر زمانے میں قیامت تک کوئی نہ کوئی ہادی اور منجی بشریت کا ہونا ضروری ہے تاکہ عدل وانصاف قائم ہو، یہ وہی مطلب ہے جو خدا نے قرآن مجید میں لکل قوم ہاداور پیغمبراکرم (ص)نے ''ولاتخلوالارض منہم ولوخلت لانساخت باہلہا ''کی صورت میں بیان فرمایاہے ۔

٢٠ ) اہل بیت اورقرآن کے درمیان کیاجدائی ممکن ہے؟
جس طرح پیغمبراکرم (ص)اور اہل بیت کے درمیان جدائی اور افتراق کا تصور مسلمانوں کی جہالت اور کم فہمی ہے اسی طرح اہل بیت اور قرآن کے درمیان جدائی کا تصور بھی حماقت ہے، قرآن کو خدا کی کتاب کے طور پر قبول
.........................
[٣]تفصیل کےلئے ینابیع المودۃ اور فرائد السمطین اورمناقب وغیرہ کی طرف رجوع کرےں۔

کرنا اور اہل بیت کی اطاعت و معرفت اور ان کے حقوق کی رعایت کرنے کو واجب نہ سمجھنا حقیقت میں تضاد گوئی ہے کیونکہ قرآن اور اہل بیت کو جدا سمجھنا سنت نبوی(ص) کے خلاف ہے ۔ لہذا جو قرآن کا معتقد ہو ا سے چاہئیے کہ اہل بیت کا بھی معتقد ہو ۔یہ نہیں ہوسکتاہے کہ اہل بیت کو نہ مانےں قرآن کو مانے۔ کیونکہ اہل بیت حقیقت میں خدا کی طرف سے مفسر قرآن ہیں اہل بیت کے بغیر قرآن کا ادراک اور فہم کا دعوی کرنا جہالت کی علامت ہے اور قرآن کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
حموینی ،شہربن آشوب سے روایت کرتا ہے :
قال کنت عند ام سلمۃ فباذنہا دخل البیت ابوثابت مولیٰ علی فقالت یاابا ثابت این طارقلبک حین طارت القلوب مطائرہا ۔ قال اتبعت علیاً قالت وقفت بالحق و الذی نفسی بیدہ لقد سمعتُ رسول اللہ(ص) یقول علی مع القرآن والقرآن مع علی ولن یفترقا حتی یردا علی الحوض۔[١]
شہر بن آشوب نے کہا : میں ام سلمہ کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ابو ثابت جو حضرت علی - کا آزاد کردہ غلام تھا ام سلمہ کی اجازت سے گھرکے اندر داخل ہوا
.........................
[١]۔ینابیع المودۃ ،ص٩٠۔

پھرام سلمہ نے کہا :اے ابوثابت! جب لوگوں کے دل مختلف لوگوں کی طرف جھک گئے تھے تو تمہارے دل نے کس کی طرف رخ کیا؟ابو ثابت نے کہا میں علی - کی
پیروی اور اطاعت کرتا رہا، اس وقت ام سلمہ نے کہا کہ تو نے حق کو پالیا ہے کیونکہ خدا کی قسم میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے سنا ہے کہ آپنے فرمایا:علی - قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی - کے ساتھ۔ یہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہونچنے تک ہرگزایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ۔
اسی مضمون کی احادیث اہل سنت کی کتابوں میں پندرہ کے قریب اور اہل تشیع کی کتابوں میں گیارہ کے قریب ہے جن کاخلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت اور قرآن کے درمیان افتراق اور جدائی کا قائل ہونا اور قرآن کو ماننا اور علی -اور دیگر اہل بیت کی امامت اور افضلیت کا قائل نہ ہونا مسلمانوں کی بدقسمتی کی علامت اور تضاد گوئی ہے۔ ابن حجر مکّی نے صواعق المحرقہ[١]میں روایت کی ہے : وفی روایۃ انّہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال فی مرض ۔
موتہ ایہاالنّاس یوشک ان اقبض قبضاً سریعاً فینطق بی وقد قدمت الیکم القول معذرۃ الیکم الّا ا نی متخلف فیکم کتاب ربّی عزّوجلّ وعترتی اہل بیتی ثمّ اخذ بید علی (ع) فرفعہا ہذا علی مع
..........................
[١]صفحہ نمبر٧٥

القرآن والقرآن مع علی لایفترقان حتی یردا علی الحوض عنقریب قبض روح ہوگا لہذا تم آگاہ ہوکہ میںتمہارے درمیان اپنے پرودگار کی کتاب اور میرے اہل بیت (ع) کو چھوڑ کر جارہاہوں پھر آنحضرت (ص)نے فاسألوہما مااختلفتم فیہا۔[١]
پیغمبراکرم (ص)نے اپنے آخری وقت میں فرمایا: اے لوگو !میرحضرت علی -کے دست مبارک کو تھام کر بلند کیا اور فرمایا:
یہ علی - ہے جو قرآن کے ساتھ اور قرآن علی -کے ساتھ ہے یہ دونوں میرے قریب حوض [کوثر] پر پہونچنے تک کبھی بھی جدا نہیں ہوسکتے لہذا جس مسئلہ میںتمہارے درمیان اختلاف ہوجائے اسے کتاب وعترت سے پوچھو۔

اہم نکات:
مذکورہ احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اختلافات کو کتاب اور اہل بیت کے ذریعے حل کرےں۔
اہل بیت اور قرآن کے مابین جدائی ڈالنا اہل بیت کی شان میں جسارت ہے کیونکہ پیغمبراکرم (ص)نے حدیث ثقلین میں فرمایا :میری رحلت کے بعد سے لے کر قیامت تک تمہارا مرجع اور فصل الخطاب کتاب و اہل بیت .....................
[١]۔صواعق المحرقہ ، ص٧٥، فضائل الخمسہ ، ج٢ ، ص١١٣۔

ہے اگر کتاب کو مانیں اہل بیت کو نہ مانیںیابالعکس یعنی اہل بیت کو مانیں او ر کتاب کو نہ مانیں تو ایسا شخص لاشعوری طور پر گمراہ ہوکر رہے گا۔ مذکورہ حدیث فریقین کے نزدیک صحیح اور حدیث ثقلین کے نام سے شیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے ۔[١]

٢١) اہل بیت سے اگر تمام انسان ، محبت کرتے تو جہنم خلق ہی نہ ہوتا
دلیل عقلی اور آیات اور احادیث کی روشنی میں سارے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جنت اور جہنم برحق ہے جو جنت اور جہنم کا منکر ہوگا وہ اسلام سے خارج ہے اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اگر ہم اسلامی کتب مخصوصاً آیات و احادیث کا مطالعہ کریںتو جنت اور جہنم کی خلقت کا فلسفہ روشن ہوجاتاہے۔آیات و روایات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم کے خلق کرنے کا فلسفہ گناہ گاروں کو ان کے گناہوں کی سزا دینا ہے اور دشمنی اہل بیت بھی در واقع خدا کی نافرمانی ہے اس لئے جہنم کی خلقت کے اہداف میں ایک ہدف دشمنان اہل بیت کو عذاب دینا ہے۔
چنانچہ حافظ سمعانی نے اپنی سند کے ساتھ جابر سے روایت کی ہے :
قال کان رسول اللہ(ص) بعرفات لوانّ امتی صاموا حتی
............................
[١]۔ صواعق المحرقہ ص١٢٥ ۔

یکونوا کالحنایا وصلوا حتی کانوا کاالاوتار ثم ابغضوک لاکبّھم علی وجوہم فی النار ۔[١]
جابر -نے کہا:پیغمبراکرم (ص)عرفات میںبیٹھے ہوئے تھے آپنے فرمایا:اے علی -اگر میری امت کی کمر روزہ زیادہ رکھنے کی وجہ سے خم ہوجائے اور زیادہ نماز پڑھنے کی وجہ سے نیزے کی مانند لاغر ہوجائے لیکن وہ تم سے بغض اور عداوت رکھے تو خدا ان کو روزقیامت منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔
اگرچہ پہلے بھی کچھ روایات اہل بیت کی محبت کے بغیر کسی بھی عبادت کے قبول نہ ہونے کے عنوان سے بیان ہوئی لیکن اس روایت کو یہاں ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغض علی -اور عداوت اہل بیت کے ساتھ نجات اور سعادت اخروی کا تصور کرنا خام خیالی کے سواکچھ نہیں ۔
موفق بن احمد اپنی سند کے ساتھ طاؤوس سے وہ ابن عباس -سے روایت کرتا ہے :
قال رسول اللہ لواجتمع النّاس علی حبّ علی بن ابی
طالب (ع) لما خلق اللہ عزوجل الناّر ۔ [٢]
...........................
[١]۔الرسالۃ القوامیۃ فی مناقب الصحابۃ ج٢ص ٣٠١ ۔
[٢]ینابیع المودۃ ج ٢ص٦١۔

پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: اگر تمام انسان علی بن ابی طالب -سے محبت کرتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرتا۔
حضرت عمر بن خطاب نے روایت کی ہے :
لواجتمع النّاس علی حبّ علی بن ابی طالب (ع) لما خلق اللہ عزوجل الناّر ۔ [١]
اگر تمام انسان علی بن ابی طالب -سے محبت کرتے تو اللہ جہنم کو خلق ہی نہ کرتا

٢٢)اہل بیت کی شان میںصحابہ کرام کا نظریہ
بہت سارے غیرمسلم افراد بھی اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کے قائل ہیں مکارم الاخلاق ، علم اور عمل کے حوالے سے ہر ایک اہل بیت کی فوقیت اور برتری کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اگرچہ حکومت اورہوس اقتدار کے نتیجہ میں سرپرستی اورولی امر مسلمین کے منصب سے اہل بیت کو محروم کررکھا یعنی مسلم و غیر مسلم سب اہل بیت کی برتری اور فوقیت کے قائل ہےں لیکن سیاست اور حکومت کے نشے میں اہل بیت سے زیادہ خود کو حکومت کا حقدار سمجھتے تھے۔اگرچہ بہت سارے برجستہ اصحاب اہل بیت کرام کی برتری کو مانتے تھے اور ان کوہر مسئلہ کے حل کے لئے مرجع قرار دیتے تھے۔
..............................
[١]۔ینابیع المودۃ ص٢٥١،

ابو رافع نے کہا :
کنت قاعدا بعد ما بایع الناس ابابکر فسمعت ابا بکر یقول للعباس انشدک اللہ ہل تعلم انّ رسول اللہ(ص) جمع بنی عبدالمطلب واولادہم وانت فیہم وجمعکم دون قریش فقال یابنی عبدالمطلب انّہ لم یبعث اللہ نبیا الاجعل لہ من اہلہ اخاً ووزیراً ووصیاً وخلیفۃ فی اہلہ فمن منکم یبایعنی علی ان یکون اخی ووزیری ووصیّ وخلیفتی فی اہلی فلم یقم منکم احدفقال یا بنی عبدالمطلب کونوا فی الاسلام رؤساً ولا تکونوا اذ ناباً واللّہ لیقومن قائمکم اولتکوننّ فی غیرکم ثمّ لنندمنّ فقام علی (ع) من بینکم یبایعہ علی ماشرط لہ ودعاہ الیہ اتعلم ہذا من رسول اللّہ قال نعم ۔[١]
ابورافع نے کہا: لوگوں کے حضرت ابوبکر کی بیعت کرنے کے بعد، میں بیٹھاہواتھااتنے میں ابوبکر نے جناب عباس -سے کہا کہ اے عباس! تمہیں تمہارے پروردگار کی قسم !کیاتم نہیں جانتے کہ جب پیغمبراکرم (ص)نے جناب
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:اے فرزندان عبدالمطلب! اللہ نے کسی بھی نبی کو
..........................
[١]۔ابن عساکر:ترجمہ امام علی - :ج١ ص ٨٩،٩٠ ۔

مبعوث نہیں کیا ہے مگراس کے خاندان سے اس کی مددکے لئے کسی کو اس کا بھائی، وزیر اور جانشین قراردےا ، لہذا تم میں سے کون میری بیعت کرے گا تاکہ وہ میرا برادر، جانشین اورمیرا وزیر قرار پائے؟ اس وقت تم میں سے کسی نے جواب نہیں دیا پھر دوبارہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: اے فرزندان عبدالمطلب اسلام کی ترویج اور نشر واشاعت کے لئے سب سے آگے ہو نہ پیچھے ، کیونکہ خدا کی قسم اگرخلافت اور رہبری کے مقام پر تمہارے علاوہ کوئی اورقبضہ کر بیٹھے تو تمہیں پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا اس وقت حضرت علی -اٹھ کھڑے ہوئے اور آنحضرت (ص)کے روبرو ہو کرآپ کی بیعت کر کے ان کے وزیر اور جانشین اوربرادر بن گئے ابوبکر نے عباس سے پوچھا کیا اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہو؟ عباس نے کہا جی ہاں اس کی تصدیق کرتاہوں۔
نیزحضرت عائشہ سے روایت کی ہے :
قالت قلت لابی انّی اراک تطیل النظر الی وجہ علی بن ابی طالب فقال لی یابنّیۃ سمعت رسول اللہ(ص) یقول النظر الی وجہ علی عبادۃ ۔[١]
میںنے اپنے باپ سے کہا : میں دیکھتاہوںکہ آپ حضرت علی -کے چہرے کی
.........................
[١]۔ غایۃ المرام، ص ٦٢٦۔

طرف بہت زیادہ نظر کرتے ہےں [ اس کی وجہ کیاہے ؟] کہنے لگے: میری بیٹی میں نے پیغمبراکرم (ص)کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی - کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔
اسی طرح علامہ محدّث ابن حنویہ الحنفی الموصلی اپنی کتاب بحرالمناقب
[١] میں انس بن مالک سے اس روایت کو نقل کرتے ہیں کہ انس بن مالک نے کہا : حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں ایک یہودی خلیفہ کی تلاش میں وارد مدینہ ہوا لوگ اس کو حضرت ابوبکر کے پاس لے گئے یہودی نے حضرت ابوبکر سے کہا:تو خلیفہ وقت اورجانشین رسول (ص)ہے؟حضرت ابوبکر نے کہا:جی ہاں میں خلیفہ وقت اور جانشین رسول (ص)ہوں، کیا تجھے نظر نہیں آتاکہ میں اس کے محراب اور مقام پر بیٹھا ہوا ہوں ؟ یہودی نے کہا: اگر ایسا ہے تو کچھ سوالات کا جواب آپ سے جاننا چاہتاہوں،حضرت ابو بکر نے کہا :جوکچھ سوالات ہے پوچھو یہودی نے کہا مجھے بتادے پھر اس نے پوچھا: وہ چیز کیاہے جسے خدا نہیں جانتا اور خدا کے پاس نہیں ہے اور خدا کے لئے نہیں ، ابوبکر نے کہا ایسے سوالات وہ لوگ کرتے ہیں جو زندیق ہے اس وقت عباس -بھی وہاں موجود تھے انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا: اس یہودی کے ساتھ نرمی کرو ۔ ابوبکر نے کہا :کیاآپ نے اس کے
..............................
[١]،ص٧٦،

سوالات کو نہیں سنا ابن عباس -نے کہا :اگر جواب دے سکتے ہو تو جواب دو ورنہ اس کو آزاد کردے تاکہ جہاں جانا چاہتا ہے جاسکے اس وقت جناب ابوبکر نے حکم دیا کہ اس کو دربار سے نکال دو یہودی یہ کہتا ہوا نکل گیا کہ خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہوجو ایسے مقام پر قابض ہیں جس کے وہ لائق نہیں اور علم ودلیل کے بغیر انسانوں کی جان سے کھیلنا چاہتے ہیں کہ جسے خدا نے حرام قرار دیاہے پھر یہودی کہنے لگا اے لوگو! جب یہ شخص کسی ایک مسئلہ کا جواب نہ دے سکے تواسلام کہاں پیغمبراکرم (ص)کہاں ،ان کاجانشین کہاں ، ابن عباس -کے کہنے پر اسے وہاں سے نکالااور کسی نے اس سے کہا بہتر یہ ہے کہ حضرت علی - سے جا کر پوچھو جو علم نبوت اور وحی الہی کا گہوارہ ہے اس کو حضرت علی -کے پاس پہونچا دیا گیااور حضرت علی -کے اجازت لی لوگوں کی بھیڑبہت زیادہ تھی کچھ خوش ہورہے تھے کچھ رو رہے تھے اتنے میں حضرت ابوبکر نے کہا :اے ابوالحسن -اس یہودی نے مجھے سے بے دینوںاور زندیقوں کا سوال کیاہے ۔امام نے فرمایا: اے یہودی تو کیا کہتاہے ؟ یہودی نے کہا کیامیں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ مہمان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں جو ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا؟امام -نے فرمایا:ان لوگوں نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کہاوہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے امام نے فرمایا :اس کو درگذر کرجو سوالات ہیں وہ پوچھیں۔ یہودی نے کہا :میرے سوال کا جواب سوائے جانشین رسول خدا ؐکے کوئی نہیں دے سکتا ،امام -نے اصرار فرمایا :جو کچھ ہے سوال کرویہودی نے کہا : آپ مجھے بتائے جو خدا کے لئے نہیں وہ کیا ہے؟ جو خدا کے پاس نہیں ہے وہ کیاہے؟ وہ چیز کیا ہے جسے خدا نہیں جانتا؟حضرت علی - نے فرمایا: اے یہودی اس سوال کا جواب ایک شرط کے ساتھ میں بیان کروںگاوہ شرط یہ ہے کہ اگر میں جواب دو ںتولاالہ الا اللہ محمد...پڑھے اور مسلمان ہوجائے اس نے قبول کیا پھر امام -نے فرمایا: جوخدا کے لئے نہیں ہے وہ ہمسر اور شریک حیات وفرزند ہے اور جو خدا کے پاس نہیں ہے وہ ظلم ہے لیکن جسے خدا نہیں جانتا وہ یہ کہ خدا کا کوئی شریک ہو،خدا خود قادر مطلق ہے کسی وزیر اور شریک سے بے نیاز ہے یہودی نے کہا:اے رسول خدا ؐکے جانشین آپ نے صحیح جواب فرمایا: اس وقت یہودی نے امام -کے دست مبارک تھام کر شہادتین زبان پر جاری کیا اور کہا تو ہی خلیفہ برحق ہے ان کے حقیقی جانشین ان کے وارث علم وسیرت ہے تو اسلام کی آبیاری کے لئے لائق ترین ہستی ہے انس کہتاہے ؛لوگ خوشی میں فریاد کرنے لگے لیکن حضرت ابوبکر نے کہا علی - تو ہرغم اور مشکل کوبرطرف کرنے والی ذات ہے پھر حضرت ابوبکروہاں سے نکلے اور منبر پر جاکر اقرار کیا اے لوگو میں علی - ہوتے ہوئے تمہارے سرپرست اور جانشینی رسول کا لائق نہیں ہوں لہذا مجھے چھوڑ دو ۔ [١]اس حدیث کو ہمارے برادران اہل سنت کے بہت سارے برجستہ علماء نے اپنی کتابوں
............................
[١]۔بحرالمناقب،ص٧٦مخطوط ،

میں نقل کیا ہے جس سے بخوبی حضرت علی - کی افضلیت کا پتہ چلتا ہے نیز آپ کے جانشین رسول ہونے کا مسئلہ بھی واضح ہوجاتا ہے۔سوید بن غفلہ سے روایت کی ہے:
قال رأی عمر رجلا یخاصم علیاً فقال لہ عمر انّی لاظنّک من المنافقین سمعت رسول اللہ(ص) یقول علی منی بمنزلۃہارون من موسی الاّ انّہ لانبی بعدی ۔ [١]
سوید بن غفلہ نے کہا کہ ایک دن حضرت عمر نے کسی شخص کو دیکھا جوحضرت علی - سے بغض اور عداوت رکھتا تھا۔حضرت عمر نے اس سے کہا اے فلانی میرے خیال میں تومنافقین میں سے ہو۔ کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے سنا ہے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ جس طرح حضرت ہارون -حضرت موسی -کے برادر ، وزیر اور اس کا خلیفہ تھا اسی طرح علی - میرا بھائی ، میرا وزیراور خلیفہ ہے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
اس روایت سے روشن ہوجاتاہے کہ حضرت علی - حضرت ہارون - کی مانند ہے یعنی ہارون -حضرت موسی- کا خلیفہ، وزیر، مددگار اور ان کے بھائی تھے اسی طرح حضرت علی -پیغمبراکرم (ص)کے مدد گار ان کے جانشین اور وزیر ہے،صرف فرق یہ ہے حضرت ہارون- خود بھی نبی تھے لیکن حضرت علی -نبی نہیں
...........................
[١]۔ابن عساکر ،ترجمہ امام علی -ج،١ ص ٣٣٠۔

کیونکہ آنحضرت (ص)کے بعد کوئی نبی نہیں۔
نیز عبداللہ بن عباس -سے روایت کی ہے :
قال سمعت عمربن الخطاب وعندہ جماعۃ فتذاکروا السابقین الیٰ الالسلام فقال عمر امّا علی (ع) سمعت رسول اللہ (ص) یقول فیہ ثلاث خصالٍ لوددت ان لی واحدۃ منہنّ احبّ الیّ ممّا طلعت علیہ الشمس کنت انا وابو عبیدہ وابوبکر وجماعۃ من الصحابۃ اذا ضرب النبی (ص) بیدہ علی منکب علی (ع) فقال لہ ی علی (ع) انت اول المؤمنین ایماناً واول المسلمین اسلاماً وانت منی بمنزلۃ ہارون من موسی ۔[ ١]
عبداللہ بن عباس -نے کہا کہ میں نے حضرت عمر سے سناکہ [ایک دن ] ایک گروہ حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہوئی کہ جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اس وقت حضرت عمر نے کہا لیکن جہاں تک حضرت علی - کا تعلق ہے ان کے بارے میں حضرت رسول اللہ نے فرمایا کہ: علی - میں تین خصلتیں پائی جاتی ہےں اگر ان میںسے کوئی ایک مجھ میں پائی جاتی تو ہر اس چیز سے مجھے زیادہ پسند ہے کہ جس پر سورج طلوع
..........................
[١]۔ابن عساکرترجمہ امام علی - ،ج١،ص،٣٣١۔

کرچکا ہے۔[پھرحضرت عمر نے کہا] میں ، ابوعبیداللہ ، ابوبکر اور اصحاب میں سے ایک جماعت پیغمبراکرم (ص)کے محضر میں بیٹھے تھے اتنے میں حضرت علی - آئے ، آپنے دست مبارک کو حضرت علی - کے کندے پر مارا اور فرمایا: اے علی - تو سب سے پہلا مؤمن اور سب سے پہلا مسلمان ہو تو میرے لئے ہارون- کی مانند ہو یعنی جس طرح ہارون -حضرت موسی- کے لئے مدد گار تھے اسی طرح تو میرے لئے مددگار میرا وزیر اورجانشین ہے ۔
نیز حضرت عمر سے راویت کی گئی ہے :
عن عمر وقد نازعہ رجل فی مسألۃ فقال بینی وبینک ہذا الجالس [ واشارالی علی بن ابی طالب (ع) ] فقال الرجّل ہذا الابطن فنہض عمر من مجسلہ واخذ بتلببہ حتی شالہ من الارض ثم قال آتدری من حقرت مولای ومولی کل مسلم۔ [ ١]
[ایک دن ] حضرت عمر اورکسی شخص کے درمیان کسی مسئلہ پہ جھگڑا ہوا تو حضرت عمر نے کہا ہم فیصلہ اس شخص پر چھوڑ دیتے ہیں جو ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کہہ کر حضرت علی بن ابی طالب- کی طرف اشارہ کیا اس وقت اس شخص نے کہا کیاہم اس پیٹ پھولے ہوئے شخص کافیصلہ قبول کریں ،حضرت عمر
....................
[١]۔فضائل خمسہ من صحاح الستہ ،ج٢ص ٢٨٨ ۔

نے اٹھ کر اس کا گریبان پکڑ کر اسے زمین سے بلند کرکے کہا کیاتم جانتے ہو کہ تم نے کس کی تحقیر کی ہے ؟ تو نے میرے اور ہر مسلمان کے سرپرست ومولیٰ کی تحقیر کی ہے ۔
ہمارے برادران اہل سنت کی کتابوں میں اصحاب کرام سے بہت سی روایتیں اہل بیت کی شان میں نقل ہوئی ہیں[١]

ایک اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:اگرچہ ذکرشدہ مختصر روایات میںصرف حضرت علی - کے متعلق صحابہ کرام کی گواہی اور اعتراف موجود ہے جبکہ شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت سے چودہ معصومین مراد ہے ان کے بارے میں مذکورہ روایات میں کوئی اشارہ نہیں ہے ۔
جواب : اس مختصر کتاب میں پورے اہل بیت کی شان میں جتنی
روایات اور آیات واردہوئی ہیں سب کو جمع کرکے بیان کرنا میراہدف نہیں ہے بلکہ اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے برادران اہل سنت کے معتبر منابع سے اہل بیت کی عظمت اور فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے لہذا گذشتہ روایات میں اگرچہ صرف حضرت علی - کانام مذکور ہے لیکن دوسری بہت ساری روایات میں پورے اہل
..................................
[١]دیکھیں: ابن عساکر: کتاب ترجمہ امام علی -اور فضائل خمسہ من الصحاح الستہ ج٢وغیرہ

بیت کے مصداق اور اسامی گرامی موجود ہیں ان کی افضلیت کا صحابہ کرام اور تابعین بخوبی اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ینابیع المودۃ،شواہد التنزیل،مناقب حضرت علی -کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

٢٣)اہل بیت کی برتری عقل کی روسے
جب کسی معاشرے میں کوئی محقق یا مفکر کسی مطلب اور حقیقت کو تقریر اور خطابت کی صورت میں یاتألیف اور تصنیف کی شکل میں یادیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پیش کرنا چاہتاہے تو اس کی کوشش اور توجہ دو نکتوں کی طرف مرکوز ہوتی ہے:
١ ۔ مطلب مستدل اور اصول وضوابط کے مطابق ہو۔
٢۔فصاحت وبلاغت اور حسن وزیبائی کلام کے اصول وضوابط سے خارج نہ ہو، تاکہ سامعین اور قارئین کو زیادہ سے زیادہ متأثر اور مطمئن کرسکے لہذا جب ہم نے اہل بیت کی برتری اور افضلیت کو قرآن وسنت کی روشنی میں اہل سنت کے منابع سے ثابت کیا ہے تومناسب ہے کہ عقل کی رو سے بھی اہل بیت کی برتری کو ثابت کروں تاکہ ان کی امامت کے معتقد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی حقانیت پراطمینان حاصل ہو اورشکوک و شبہات کا ازالہ ہو۔
قرآن وسنت کی طرح عقل وفطرت سے بھی بخوبی اہل بیت کی برتری اور افضلیت کی تائید ہوتی ہے اور ان کی سرپرستی کو قبول کرنے اوران کے حقوق کی رعایت کرنے کی ضرورت کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ عقل کی نظر میں وہ انسان واجب الاطاعت اور افضل ہے جوسوائے رضایت الہی اور مشیّت معبود حقیقی کسی اورشے کے درپے نہ ہو ،چاہے ذاتی نفع ہو یا نہ ہو، ہرحرکات وسکنات اور قول وفعل میں خدا کی رضایت کا خواہان ہواور مکمل طور پر خدا کا فرمانبردار ہو اور اس کی پوری کوشش یہ ہو کہ معاشرے میں عدل وانصاف کی آبیاری ،ظلم وستم اورناانصافی کی نابودی ہو اور وہ ہر قسم کے عیب ونقص یعنی نافرمانی الہی اورگناہ سے پاک وپاکیزہ ہو، تو عقل درک کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ ایسے افراد کو روز مرّہ زندگی کے تمام امور میں اسوہ اورنمونہ عمل قرار دیاجانا چاہئے تاکہ ان کی سیرت پر چل کر سعادت مادی ومعنوی سے ہمکنار ہوسکے۔
پس اگر کوئی اہل بیت کے کردار وگفتار پرصحیح معنوںمیں غور کرے تو ان کی حقانیت اورا ن کی برتری و افضلیت کا مسئلہ واضح ہوجاتاہے ۔یعنی اہل بیت صرف ہدایت اور رہنمائی بشر کےلئے خلق کیا گیا ہے۔ لہذا اہل بیت میں سے کسی ہستی کی سیر ت اور سوانح حیات میں کوئی ایسا مطلب نظرنہیں آتا جو عقل وفطرت کے منافی ہو چاہے اعتقادی پہلوہو یا عملی ، فقہی ہو یا سماجی ،اقتصادی ہو یاسیاسی، اخلاقی ہو یا فلسفی ،کلامی ہو یا منطقی ،تاریخی ہو یاطبی، تمام مسائل اور امورمیں اہل بیت ہر جانب سے پیشقدم نظر آتے ہیں اور ذرہ برابر غلطی اور گناہ نظر نہیں آتایہی ان کی حقانیت اور برتری کی واضح دلیل ہے لہذا عقل اور فطرت بشر نہ صرف ان کی تائید کرتی ہے بلکہ ان کی سیرت پر نہ چلنے کی صورت میں اپنی ضلالت اور گمراہی کو بھی محسوس کرتی ہے کیونکہ اہل بیت روز مرّہ زندگی سے آگاہ ہیں ان کی سیرت میں کشف خلاف ہونے کا احتمال نہیں دیا جاسکتا ان کے سارے بیانات اور افعال سو فیصد یقینی اور واقع کے مطابق ہےں، اہل بیت میں سر فہرست حضرت پیغمبراکرم (ص)ہے ان کی سیرت طیبہ میں کوئی ایسا مطلب نظر نہیں آتا جو ہماری مادی اور معنوی زندگی کے لئے مفید نہ ہو عقل اور فطرت سے آنحضرت (ص) کے بارے میں سوال کرے تو عقل اور فطرت یہ محسوس کرتی ہے کہ ضرور بشر ایسی ہستی کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے نیز دوسری ہستی حضرت فاطمہ ئ زہرا = ہے جن کے بارے میں دوست اور دشمن دونوں کا اعتراف ہے کہ زہرا =سیدۃنساء العالمین ہے حتی حضرت مریم =اورحضرت آسیہ = اورحضرت خدیجہ = ؑسے بھی افضل اور برتر ہے جن کی سیرت طیبہ عقل کی نظر میں ہمارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے۔نیز تیسری ہستی حضرت امیر المؤمنین - ہے جن کے بارے میں کچھ احادیث پہلے ذکر کیا گیاہے ان کی حیات اور سیرت طیبہ بھی عقل کی نظر میں بشر کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ عمل ہے ۔ اور چوتھی ہستی امام حسن - ہے پانچویں ہستی امام حسین- جن کی سیرت اور عظیم قربانی اور ایثار وفداکاری کا صحیح معنوں میں مطالعہ کیا جائے تو عقل بخوبی ان کی افضلیت اور برتری کا حکم دیتی ہے ۔
نیز امام زین العابدین -کے بارے میں روایت ہے :
وکان الامام زین العابدین عظیم التجاوزو العفو والصفح حتی انّہ سبّہ رجل فتغافل عنہ فقال لہ ایاک اعنی فقال الامام واعرض عنک...[ ١]
امام زین العابدین- بہت ہی زیادہ درگذر اور بخشش کے مالک تھے حتی ایک دن کسی نے آپ -کو ناسزا اور نازیبا الفاظ کہاتو آپ- خاموشی سے گذرگئے تو اس نے کہا میں تجھ سے یہ باتیں کہہ رہا ہوں اس وقت امام -نے اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا:
خذا العفو وأمر بالمعروف واعرض عن الجاہلین
اسی طرح امام محمد باقر - کی شان میں فرمایا:
ہواظھر من مکفوفات کنوز المعارف وحقائق الاحکام والحکم واللطائف ومن ثمہ قیل فیہ ہو باقرالعلوم وجامعہ وشاعر علمہ ورافعہ بصفاء قلبہ وزکاء نفسہ وطہر نسبہ وشرف خلقہ وصرف عمر واوقاتہ بطاعۃ اللّہ تعالی لہ من الاسرار فی مقامات العارفین ماتکل عنہ السنّۃ الواصفین ۔[ ٢]
.......................
[١]۔ینا بع المودۃ ص٣٥٩
[ ٢]۔ینا بیع المودۃ ص٣٦٠۔

امام محمد باقر -، احکام الہی کے تمام حقائق اور ان کی حکمت وفلسفہ اوران کی خصوصیتوں اور پوشیدہ رموز سے مکمل آگاہی رکھتے تھے اسی لئے آپ-کو
.باقرالعلوم کے لقب سے پکارتے تھے آپ- نے اپنی پاک سیرت ، عمل ،پاکیزہ قلبی اور شرافت خاندانی کے نتیجہ میں علوم آل محمد کی نشر واشاعت فرمائی اورپوری عمر کو خدا کی اطاعت اور تبلیغ اسلام میں گذاری ان کا مقام ومنزلت اتنا بلند ہے کہ جس کو بیان کرنے سے زبان قاصر ہے ۔
اس حدیث کے مضمون کو عقل اور فطرت کے سامنے رکھ کر سوال کرے کیا ایسے افراد اور ہستیوں کی اطاعت اورسرپرستی ہمارے لئے ضروری نہیں ہے؟ کیا ان کا احترام ہم پر فرض نہیں ہے ؟ کیا ان کے حقو ق کی رعایت کرنا ہم پر واجب نہیں ہے ؟ یقیناً عقل حکم دے گی کہ ایسے لوگوں کی پیروی ضروری ہے ۔
نیز اہل بیت میںسے ایک امام موسی کاظم -ہیں جن کے بارے میں ینابیع المودۃکے مصنف نے یوں روایت کی ہے :
منہم موسی کاظم ؑ ہو وارثہ علماً ومعرفۃ وکمالاً وفضلا سمی الکاظم لکثرۃ تجاوزہ وحلمہ وکان عند اہل العراق معروفابباب قضاالحوائج وکان اعبد اہل زمانہ واعلمہم واسخاہم۔[ ١]
........................
[١]۔ینا بیع المودۃ ص٣٦٢۔

اہل بیت میں سے ایک امام کاظم -ہےں جو علم ومعرفت اور کمال وفضیلت کے حوالے سے امام جعفرصادق - کے وارث ہیں اورصبرو بردباری کے نتیجہ میں کاظم کے لقب سے موسوم ہوئے۔ اہل عراق کے درمیان باب الحوائج سے معروف تھے آپ- اپنے زمانے میں عابد ترین اور سب سے زیادہ عالم و سخی تھے۔
نیز ائمہ کی سیرت اور کمالات کی تشریح اور احادیث ینابیع المودۃ جیسی کتابوں میں موجود ہے تمام اہل بیت کے فضائل کی تشریح کرنا اس مختصر کتاب کی گنجائش سے خارج ہے ۔
مذکورہ احادیث سے درج ذیل مطالب واضح ہوجاتے ہیں :
١۔عقل کی نظر میں سوائے چہادہ معصومین کے علاوہ باقی دوسری ذرّیت رسول اور زوجات اوردیگر انساب واحباب کی کردار اور سیرت میں کوئی ایسی چیز ہی نظر نہیں آتی کہ جن کی اطاعت اور سرپرستی کو ماننا ہم پر فرض ہو۔
٢۔چودہ معصومین میں سے کسی ایک ہستی کی سیرت میں عقل اور فطرت کے منافی کوئی مطلب نظر نہیں آتا ۔
٣۔عقل کی نظر میں صرف چودہ معصومین روز مرّہ زندگی کے امور میں مرجع و پیشوابننے کے لائق ہیں۔
ٍٍ جو بھی تعصب اوردیگر عوا مل اورانگیزے چھوڑ کر دیکھیں تو بخوبی اہل بیت کی حقانیت اور افضلیت وبرتری واضح ہوجاتی ہے جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اگرانسان اہل بیت کی سیرت کواپنی زندگی کے لئے نمونہ قرار دے تو کسی قسم کی پریشانی اور مشکل سے دوچار نہیں ہوسکتا ۔اگرچہ ہمیں سوفیصد ان کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دینا اس تاریکی اور جہالت کے دور میں بہت مشکل ہے کیونکہ بنی امیہ اور بنی عباس کے دور ختم ہوتے ہی زمانے کے دیگرہرجابر حکمران پوری طاقت اور تسلط کے ساتھ ان کی سیرت کے منافی عوامل اور تہذیب وتمدن کورواج دیتا رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی بدبختی یہ ہے کہ دنیا کے کسی نقطہ اور گوشے میں اہل بیت کی سیرت کے مطابق کوئی حکومت یا معاشرہ نظر نہیں آتا۔ لیکن ہر مسلمان کا فریضہ بنتا ہے جتنا ہوسکے اہل بیت کی سیرت کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے ۔
اور آخر میں اہل بیت کے مصادیق کو کتاب وسنت اور عقل کی روشنی میں فہرست وار بیان کرتے ہیں تاکہ قارئین محترم اہل بیت کی صحیح شناخت حاصل کرکے ان کی سیرت سے بہرمند ہوسکیں:۔
١۔حضرت پیغمبراکرم (ص)
٢۔ حضرت امام علی -
٣۔حضرت زہراء =
٤۔حضرت امام حسن -
٥۔حضرت امام حسین -
٦۔ حضرت امام زین العابدین -
٧۔ حضرت امام محمد باقرعلی -
٨۔ حضرت امام جعفرصادق -
٩۔ حضرت امام موسی کاظم -
١٠۔ حضرت امام علی رضا -
١١۔ حضرت اماممحمدتقی -
١٢۔ حضرت امام علی نقی -
١٣۔ حضرت امام حسن عسکری -
١٤۔ حضرت امام محمد المہدی (عج)
ان کے علاوہ باقی پیغمبر اکرم (ص)کے احباب وانساب چاہے فرزند ہویا زوجہ اگرچہ نسبت کے سبب قابل احترام ہیں لیکن ان مندرجہ بالا آیات اور روایات میں جو فضیلت اور عظمت ذکر کیا گیاہے ان کا مصداق نہیں ہوسکتے کیونکہ احادیث نبوی(ص) میںصاف الفاظ میں بیان ہواہے کہ اس فضیلت اور عظمت کے لائق صرف وہ ہستیاں ہیں جو عصمت کے مالک اور ہدایت یافتہ ہوںاگرچہ وجوب اطاعت کالازمہ عصمت نہیںہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں