منگل، 16 نومبر، 2010

رباعیات
جوش ملیح آبادی
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں iiحسین
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں iiحسین

انسان کو بیدار تو ہو لینے iiدو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں iiحسین




اوہام کو ہر اک قدم پہ ٹھکراتے ہیں
ادیان سے ہر گام پہ ٹکراتے iiہیں

لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے iiحسین
ہم اہلِ خرابات بھی جھک جاتے iiہیں




سینے پہ مرے نقشِ قدم کس کا iiہے
رندی میں یہ اجلال و حشم کس کا ہے

زاہد، مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ
یہ دیکھ کہ اس سر پر علم کس کا iiہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں