| ثروت حسین |
| کس کی خوں رنگ قبا آتی ہے روشنی اب کے سوا آتی ہے ساعتِ علم و خبر سے پہلے منزلِ کرب و بلا آتی ہے روزِ پیکار و جدل ختم ہوا شبِ تسلیم و رضا آتی ہے گریہ و گرد کا ہنگام نہیں دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے پھر سرِ خاکِ شہیداں ثروت پھول رکھنے کو ہوا آتی ہے |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں