منگل، 16 نومبر، 2010

سلام
میرزا اسد اللہ خان غالب
سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس iiکو
تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس iiکو

نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش iiہے؟
کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس iiکو

خدا کی راہ میں شاہی و خسروی iiکیسی؟
کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس iiکو

خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں iiکا
اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ iiعلی
کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس iiکو

کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں iiپڑتی
اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس iiکو

مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں iiبخشی
ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل iiسبیل
شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس iiکو

عدو کے سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ iiبات
کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس iiکو

بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین iiبلند
بہ قدرِ فہم ہے اگر کیمیا کہیں اُس iiکو

نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ iiخاک
کہ ایک جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس iiکو

ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ iiملے
اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حُسنِ صبر کی داد؟
مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس iiکو

زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں
پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس iiکو

وہ ریگِ تفتۂ وادی پہ گام فرسا iiہے
کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس iiکو

امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد
پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اُس iiکو

یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اُس iiکو

یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا iiپایہ
بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس iiکو

علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد iiحسین
کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر iiہے
رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس iiکو؟

بھرا ہے غالبِ دل خستہ کے کلام میں iiدرد
غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس iiکو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں