| گردھاری پرشاد باقی |
| سلامی کربلا ہے اور میں ہوں غمِ کرب و بلا ہے اور میں ہوں کہا شہ نے نہیں کوئی رفیق اب فقط ذاتِ خدا ہے اور میں ہوں دیا ہے اپنا سر میں نے خوشی سے قضا ہے یا رضا ہے اور میں ہوں جو کچھ وعدہ کیا پورا کروں گا یہ خنجر ہے گلا ہے اور میں ہوں |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں