منگل، 16 نومبر، 2010

عطاء الحق قاسمی
جب بھی شام کو سورج ڈوبنے لگتا iiہے
ایسے میں یہ دل بھی ڈولنے لگتا iiہے


آنکھوں میں پھر جاتی ہے وہ سوہنی صورت
اور پھر دل پر خنجر چلنے لگتا iiہے


اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی iiنہیں
خیموں میں کوئی بچہ رونے لگتا iiہے


چاروں جانب گھیرا جھوٹ کے لشکر کا
سچ کا سایہ اس پر پھیلنے لگتا iiہے


سچ کا سایہ حُر کی صورت سامنے iiہے
وہ ہر دل پر دستک دینے لگتا iiہے


حرص و ہوس کے بندے لیکن کیا iiجانیں
مرنے والا کیسے جینے لگتا iiہے


لیکن تم مایوس نہ ہونا دل iiوالو
دل جو سوچتا ہے وہ ہونے لگتا iiہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں