| عطاء الحق قاسمی |
| جب بھی شام کو سورج ڈوبنے لگتا ہے ایسے میں یہ دل بھی ڈولنے لگتا ہے آنکھوں میں پھر جاتی ہے وہ سوہنی صورت اور پھر دل پر خنجر چلنے لگتا ہے اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں خیموں میں کوئی بچہ رونے لگتا ہے چاروں جانب گھیرا جھوٹ کے لشکر کا سچ کا سایہ اس پر پھیلنے لگتا ہے سچ کا سایہ حُر کی صورت سامنے ہے وہ ہر دل پر دستک دینے لگتا ہے حرص و ہوس کے بندے لیکن کیا جانیں مرنے والا کیسے جینے لگتا ہے لیکن تم مایوس نہ ہونا دل والو دل جو سوچتا ہے وہ ہونے لگتا ہے |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں