| فارغ بخاری |
| حُسین نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ سے ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا غرور یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ سے بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا مقام صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ سے ترے لہو کا یہ ادنیٰ سا اک کرشمہ ہے ہوئی ہے عام شہادت کی آرزو تجھ سے کبھی نہ جبر کی قوت سے دب سکا فارغ ملی ہے ورثے میں یہ سر کشی کی خُو تجھ سے |
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں