منگل، 16 نومبر، 2010

فارغ بخاری
حُسین نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے
حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ iiسے


ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا iiغرور
یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ iiسے


بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا iiمقام
صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ iiسے


ترے لہو کا یہ ادنیٰ سا اک کرشمہ iiہے
ہوئی ہے عام شہادت کی آرزو تجھ iiسے


کبھی نہ جبر کی قوت سے دب سکا فارغ
ملی ہے ورثے میں یہ سر کشی کی خُو تجھ سے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں