تجلیات: تجلیات الہٰی کے نزول کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ فرائض کی ادائیگی سے سبکدوش ہو گئے تھے بلکہ آپ نے کبھی کوئی مستحب تک ترک نہیں کیا۔پھر وہ واقعہ پیش آیا جس کی بنا پر آپ کو اویسی کہا جاتا ہے۔ شور کوٹ کے نواح میں سلطان باھوؒ ذکرو فکر میں مشغول تھے کہ آپ کو اپنے جد اعلیٰ حضرت علی ابن ابی طالبؓ کا دیدار نصیب ہوا،شیر خدا کی زیارت کے ساتھ ہی ساری بے چینیوں کو قرار آگیا ۔حیدر کرارؓ آپ کولے کر اس محفل میں پہنچے جس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے یہ صرف قادرمطلق کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے ،اس محفل میں حضور اکرم ﷺ بنفس نفیس تشریف فرما تھے اہل بیت تشریف رکھتے تھے امت محمدی کے ارحم صدیق اکبرؓ تھے حق و باطل میں امتیاز کرنے والے عمر فاروقؓتھے اور حیا کی آبرو عثمان غنیؓ تھے،بقول سلطان باھوؒ اس محفل میں مولائے کائنات نے از خود نگینہ التفات سے سرفراز فرمایا پھر میں نے امامین کی قدم بوسی کی اور سیدہ النساء حضرت فاطمہ الزہراؓ نے مجھے اپنا فرزند قرار دیا،جس کے بعد ساری بلندیاں سارے عروج ختم ہو گئے ۔ازاں بعد مجھے غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سپرد کیا گیا۔ سلطاں باھوؒ رقم طراز ہیں میں نے اپنی ظاہری نگاہ سے یہ سب کچھ دیکھا اور میں اپنے ظاہری وجود کے ساتھ ان بلندیوں پر موجود تھااس فیضیابی کے بعد باھوؒ ہر پل ہر گھڑی وحدانیت کے کیف و سرور میں مستغرق رہتے اور جلال و جمال کی اس مستی کی بنا پر عارفین کے سلطان قرار دیئے گئے۔آپ نے کیف و مستی کو بڑا بلند مقام دیا۔ تا مست نگروی نکشی یا رعم عشق آرے آرے شتر مست کشد یا رگراں را اس کے علاوہ لاتعداد ایسے واقعات سے کتب بھری پڑی ہیں جہاں سلطان باھوؒ کی کرامات ظاہر ہوئیں،مغل بادشاہوں، امراؤں اور بڑے بڑے غیر مسلموں نے آپ کی اطاعت کی۔ شادیاں: آپ نے چار ازواج سے نکاح کیادو کا تعلق قبیلہ اعوان سے تھا،تیسری بیوی مخدوم برہان کے خاندان سے تھی اور چوتھی ملتان کے ہندو ساھو کار کی بیٹی تھی۔سلطان باھوؒ ایک باربہاؤالدین زکریاؒ ملتانی کے مزارسے باہرآئے تو دریا کنارے بیٹھ کر وضو کا ارادہ کیااچانک ایک پریشان حال دو شیزہ آپ کے سامنے آکھڑی ہوئی اور کہنے لگی ،جب آپ مزار سے باہر نکلے تو مجھے چشم تصورسے ایک دلکش منظر دکھایا گیا میں آپ کی ہونے والی بیوی ہوں،آپ مراقبے میں جا کر ملاحظہ فرمائیں سلطان باہوؒ مراقبے میں گئے تو دوشیزہ کی سچائی ظاہر ہو گئی اس طرح وہ نو مسلم دوشیزہ آپ کی چوتھی بیوی بن گئی ۔ شورکوٹ پہنچے تو بی بی راستی نے بلند مرتبت بیٹے کو معرفت الہی کی تکمیل کا حکم دیا جس میں ظاہری مرشد کا دامن پکڑنا ہر لحاظ سے مناسب اور سود مند ہوا کرتا ہے چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ نے شاہ حبیب اﷲ قادریؒ کے ہاں پانی بھرا ،پیر سید عبدالرحمنؒ دہلوی کے ہاں گئے اور دہلی کا طویل سفر کیا ۔ دنیاوی لحاظ سے آپ کو کھیتی باڑی پسندتھی وہ جاگیر دار ہونے کے باوجود فقیرانہ زندگی پسند فرماتے تھے۔ تصانیف: سلطان العارفینؒ نے شعور کی آنکھ کھولی توفصیل جان پر واردات الٰہی کا آغاز ہو گیا اور جسم و جان پر ہر وقت ایک سرور کی سی کیفیت طاری رہی ان حالات میں علوم ظاہری کی طرف توجہ دینا ممکن ہی نہ تھا مگر حیرت انگیز بات کہ آپ تحریر و تقریر میں مہارت رکھتے تھے۔۱۴۰ کتب کی تصنیف ان کا بین ثبوت ہے،مجبوراً ہمیں یہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب علم لدنی کا فیض تھا آپ نے اپنی معروف کتاب عین الفقر میں خود ارشاد فرمایا اس بندہ ناچیز نے علوم ظاہری کے لئے کسی کے آگے ذانوے تلمذ نہیں کیا۔ سلطان باھوؒ کے ایک خلیفہ ابو صالح موسیٰ المعروف مومن شاہ گیلانی نے آپ کی ایک سو چالیس کتب جمع کیں۔ یہ وہ کتب ہیں جن کا سراغ مل سکا۔ چیدہ چیدہ کتب درج ذیل ہیں،عین الفقر،عقل بیدار، تلمذالرحمن،مجالستہ النبیؐ،بحث الاسرار، اسرار قادری،توفیق الہدایت،تیغ برہنہ،مجموعہ الفصل،محک الفقر،فضل البقا،الشمس العارفین،دیوان باھوؒ (صغیروکبیر)رسالہ روحی،اورنگ شاھی،امیر الکونین،جامع الاسرار،مفتاح العاشقین،قرب دیدار،نور الہدیٰ عین الخاہ،قطب الاقطاب،محکم الفقرا،کشف الاسرار اور شمس العاشقین۔ وفات: ۱۱۰۲ھ جمادی الثانی کی یکم تاریخ تھی جمعتہ المبارک رات کے تیسرے پہر سلطان العارفین ؒ کو رحلت کی گھنٹی سنائی دی وہ تو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے ،عمر بھر فرائض اور سنت نبویﷺ کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا تھا تاھم عمر عزیز کے لحاظ سے بھی سنت نبویﷺ پر عمل کیا اور ۶۳ برس کی عمر میں راہی ملک عدم بقا ء ہوئے موضع قہر گاں شورکوٹ کے قلعے میں تدفین ہوئی ۔ کلام باھوؒ
ایہہ تن میرا چشماں ہوے مرشد ویکھ نہ رجاں ہو لوں لوں دے منڈھ لکھ لکھ اکھیاں اک کھولاں اک کجاں ہو اینہاں ڈھٹیاں صبر نہ آوے فیر میں کت ول بھجاں ہو مرشد دا دیدار باھو ؒ میکو لکھ کروڑاں حجاں ہو
الف اﷲ چنبھے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو نفی اثبات دا پانی ملیوس ہر ہر رگ ہرجائی ہو اندر بوٹی شور مچایا جان پھلن پر آئی ہو جیوے حضرت مرشد باھوؒ جیں ایہہ بوٹی لائی ہو |
دل دریا سمندرں ڈوہنگے کون دلاں دیاں جانے ہو وچے بیڑے وچے جھیڑے وچے ونج موہانے ہو چوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہو جو اس دل دا محرم باھو سو یو رمز پچھانے ہو احمد ندیم قاسمیؒ انگہ کا نام آتے ہی جس ہستی کا نام ذہن میں آتا ہے وہ عظیم ہستی احمد ندیم قاسمیؒ ہے جنہوں نے نہ صرف وادی بلکہ اردو افسانے اور غزل کو دنیا بھرمیں ایک الگ رنگ دیا۔ احمد ندیم قاسمیؒ ۲۰نومبر ۱۹۱۶ ء انگہ میں پیدا ہوئے جب آپ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپ کے والد نبی چنؒ وفات پا گئے ۔احمد ندیم قاسمیؒ نے ابتدائی تعلیم انگہ میں ایک مسجد میں حاصل کی اس کے بعد اپنے چاچا پیر حیدر شاہ (ڈپٹی کمشنر) کے ہاں چلے گئے۔ وہاں سے ۱۹۳۱ء میں میٹرک،۱۹۳۳ء میں ایف اے، صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے ۱۹۳۵ء میں بی اے کیااور ایم اے بھی بہاولپور سے کیا۔ آپ کے لڑکپن کا زمانہ انتہائی شاندار گزراآپ کے ان دنوں کے بارے میں پیر ذادہ غلام میراں قاسمی بتاتے ہیں کہ سب چچا ذاد بھائی چاچا کے ہاں اٹک میں رہتے تھے اور اکٹھے پڑھتے تھے ایک دن ایک واقعہ پیش آیا جس کا نشان عمر بھر قاسمی صاحب کے ساتھ رہا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک گنا ان کے ہاتھ لگا اور سب اسے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ احمدشاہ (احمدندیم قاسمی صاحب) سے گنا چھیننے کی کوشش میں اس کا گال اس شدت سے کٹ گیا کہ خون کے فوارے چھوٹ گئے سب ڈر گئے اور فی الفور راکھ سے زخم سے بہنے والا خون بند کیا اور احمد کو تاکید کی کہ جب بھی چاچا جی کے سامنے پڑھنے آنا تو زخم پر ہاتھ رکھ لینا زخم مندمل ہونے تک احمدشاہ نے یہ بات چاچا سے پوشیدہ رکھی۔ احمد ندیم قاسمیؒ نے ادب کی دنیا میں قدم ۱۹۳۶ء میں رکھا جب انہوں نے رومان کے لئے پہلا افسانہ لکھا اور پھر تمام عمر لکھتے ہی رہے۔احمد ندیم قاسمیؒ دارالاشاعت،سویرا،نقوش،امروز،جنگ وغیرہ سے منسلک رہے۔۱۹۶۳ ء میں فنون کا اجرا ء کیا ۱۹۷۳ء سے ۲۰۰۴ تک مجلس ادب کے ڈائریکٹر رہے۔قیام پاکستان کے وقت ریڈیو پاکستان پشاور سے جو ترانہ نشر ہوا اس کے خالق قاسمی صاحب تھے۔حکومت پاکستان کی جانب سے ۱۹۵۶ ء میں چین کے دورے پر گئے۔ آپ کے ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ افسانوی مجموعوں میں چوپال، آنچل، طلوع و غروب، گرداب، سیلاب، آبلے، آس پاس، درودیوار، سناٹا، بازارِ حیات، برگِ حنا ،کپاس کے پھول، بگولے، گھر سے گھر تک، نیلا پتھر شامل ہیں۔ شاعری مجموعے رم جھم ،دھڑکنیں،جلال وجمال،شعلہِ گل،دشتِ وفا، بسیط ،دوام ، پسِ الفاظ ہیں۔ وادی سے متعلق ایک متنازعہ افسانہ ’’رئیس خانہ‘‘ کے بارے میں احمد ندیم قاسمیؒ اپنی زندگی میں وضاحت فرما گئے کہ اس افسانہ کی کہانی کا وادی سون سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ضلع ساہیوال کاواقعہ ہے۔ انگریزجاپانیوں کے درمیان جنگ سے متعلق رلا دینے والا افسانہ ’ماں‘لکھا مارشل لاء دور میں گرفتار ہوئے ان دنوں کا ایک یادگار قطعہ بیٹھ کے صحن زندان میں سوچتا ہوں کتنا دلچسپ نظارہ ہو گا ان سلاخوں میں چمکتا ہوا چاند تیرے آنگن میں بھی تو چمکا ہو گا
عروج و زوال ہر شخص کی زندگی میں آ تے ہیں لیکن ایک شخص جس کی زندگی نہ کبھی زوال پذیر ہوئی نہ کبھی ان کی تخلیقات زوال پذیر ہوں گی وہ احمد ندیم قاسمی ؒ کی شخصیت ہے۔جنہوں نے محنت کش غریب اور مزدور کی زندگی پر لکھا خاکسار نے ایک بار احمد ندیم قاسمیؒ صاحب کو ڈیرہ جات پر رہنے والے محنت کش کسانوں کے حوالے سے خط لکھا قاسمی صاحب نے اپنے لفظوں میں پرو کر اپنے کالم ’ًرواں دواں ‘ً کی زینت بنایا اور اس کالم کی بدولت حالات بدلے اور ایک سرکاری ادارے کو اپنی پالیسی بدلنی پڑی اس سے بڑھ کر کسی کے قلم میں اور کیا طاقت ہو سکتی ہے۔ ان کی پرسحر شخصیت کا اندازہ ان سے ملنے کے بعد ہوا ۲۸ فروری ۲۰۰۵ء ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی ان کا پیار ،جذبہ اور اپنائیت ایسی کہ ایک پل بھی ایسا نہ لگا کہ ہم دنیا کے عظیم شخص کے سامنے بیٹھے ہیں بلکہ ایسا ہی محسوس ہوا اپنے ہی کسی بزرگ، استاد کے سامنے بیٹھے ہیں۔یہ عظیم ہستی ۲۰۰۶ء میں لاکھوں چاہنے والوں کو پرنم چھوڑ کے جہان فانی سے کوچ کر گئے اﷲ پاک انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ یوں تو اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو گا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں لاتعداد سول اعزازات کے علاوہ حکومت پاکستان کی طرف سے آپ کو ستارہ امتیاز اور۱۹۶۵ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا ۔ مولانا غلام مرشدؒ : مولانا غلام مرشدؒ شاہی مسجد میں خطیب تھے اور یہاں لگ بھگ پچاس سال تک شاہی مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دئیے۔علامہ اقبالؒ نے خطابت کی درخواست کی انہوں نے حلال حرام کا فلسفہ پیش کیا تو وظیفہ مقرر ہواان کے نزدیک مانگنا حرام تصور کیا جاتا تھا۔ مولانا غلام مرشدؒ نے العمائے ہند کانفرنس میں شرکت کی اورپاکستان سے الحاق کی قرار داد پیش کی۔مولانا غلام مرشدؒ مولوی اﷲ بخش ؒ کے مرید تھے ان کے استاد محترم کا نام محمد شریف تھا۔آپ نے سرکی میں تعلیم حاصل کی۔ |
کاظم حسین کاظمی: انگہ کے ایک اور مایہ ناز شاعر اور مصور کاظم حسین کاظمی ہیں یہ مصوری بھی کرتے ہیں ۔ان کا مجموعہ کلام ’دل کی بات کہوں کیسے‘ شائع ہو چکا ہے۔ ان بزرگوں کے علاوہ انگہ کی معروف ہستیاں حضرت مولانا زین الدین ؒ مکھڈی، حافظ غلام نصیر الدینؒ ، حکیم نور الزمان چشتی ؒ ؒ ،محمدبخش پیر ذادہؒ ،ڈی سی خان بہادر پیر حیدر شاہؒ ، قاضی حسین محمد،قاضی عبدلجلیل اور محمد حسین قریشی شامل ہیں۔ احمد غزالی نے اپنی کتاب وادی سون سکیسر میں سات کوٹھڑیاں ،کنواں شیر والا،ترنجاں وغیرہ کا ذکر کیا ہے جو تلاش بسیار اور انگہ کی جم غفیر عوام سے دریافت کرنے پر سب نے لا علمی کا اظہار کیا۔واﷲعلمہ قدیم کھنڈرات: انگہ میں کئی ایک مقامات پر قدیم کھندرات کے آثار ملے ہیں ماڑی والی ڈھیری اوگالی والی سڑک سے تھوڑے فاصلے پر ہے جو انگہ کی ڈھوک میرا کے جنوب میں کافی کشادہ ماڑی ہے اس کے پتھروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بدھوں کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچی اس کے علاوہ بھرائی کے کھنڈرات میں ٹھیکریاں اور چکی کے پاٹ وغیرہ ملے ہیں۔کہوے والی نام کے کھنڈرات کے نشان اب باقی نہیں یہ جگہ قبرستان بی بی فاطمہ کے مغرب میں ہے جہاں سے باریک ٹھیکریاں ملتی ہیں ۔ انگہ شہر میں پانچ قبرستان ہیں جن میں قدیم مزارات ہیں۔ |
مردوال نوشہرہ سے چار کلو میڑ کی مسافت پر چاروں اوٹ پہاڑوں کے بیچ خوبصورت شہر مردوال ہے جو اپنی خوبصورتی، ذرخیزی، قدیم ثقافت اور لا تعدادکارہائے نمایاں کی بدولت وادی میں منفرد شناخت رکھتا ہے۔مردوال قدیم کھنڈرات کی وجہ سے سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔یہ وہ شہر ہے جسے ایک طرف دھوکہ بازوں کا شہر کہا جاتا ہے تو دوسری طرف سون کے مکینوں کا دعویٰ ہے کہ مردوال سون کا حصہ ہے جبکہ اہل تپہ بھی مردوال کے دعوے دار ہیں۔ مردوال کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مردوال میں مردان علی کی اولاد آباد ہے جس وجہ سے نام مردوال مشہور ہوا۔مردوال کا شمار وادی کے بڑے گاؤں میں ہوتا ہے اس کی لمبائی ۱۵ کلومیٹر جبکہ چوڑائی ۷ کلو میٹر سے کم نہیں ایک عام اندازے کے مطابق آبادی دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔سوئی گیس کے علاوہ زیادہ تر سہولیات میسر ہیں ہسپتال کی کمی محسوس کی جا رہی ہے ۔ موجودہ گاؤں کوئی ڈیڑھ صدی پہلے یہاں آباد ہوا ،اس سے قبل مردوال بھلوٹی کے قریب آباد تھا جہاں آج بھی کھنڈرات موجود ہیں۔ شہر میں داخل ہوں تو بڑا تالاب اپنی جانب متوجہ کرتا ہے یہ جہاں پانی ذخیرہ کرنے کے کام آتا ہے وہاں گھریلو طور پربھی استعمال ہوتا ہے۔اس کی گہرائی کافی زیادہ ہے اس کے شمال مشرقی کنارے جامع مسجد واقع ہے جس کی از سر نو تعمیر جاری ہے یہ مسجد فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ مردوال کا شمار پرانے گاؤں میں ہوتا ہے اور اس گاؤں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ڈاکوؤں کی دھاڑوں کے زمانے میں یہ واحد گاؤں ہے جو اس قسم کی دھاڑوں سے محفوظ رہا نوشہرہ،اوچھالی وغیرہ نے متعدد حملے کئے لیکن مردوال کے دلیر نوجوانوں نے ہمیشہ ایسے حملوں کو پسپا کیا نہ صرف پسپا کیا بلکہ ایسی مثالیں قائم کیں جو آج تک یاد کی جاتی ہیں ان میں ایک نام ملک شیر باز کا ہے جس نے تن تنہا سینکڑوں ڈاکوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔واقعہ کچھ یوں ہے نوشہرہ کے ڈکیتوں نے اس وقت گاؤں پر حملہ کر دیا جب گاؤں کے مرد ایک ونگار پر گئے ہوئے تھے صرف ملک شیر باز گاؤں میں موجود تھا تالاب والی مسجد کے پاس معرکہ ہوا بزرگوں کی نشاندہی کے مطابق مسجد کی نکر والی گلی سے ملک شیر باز تلوار کے ہمراہ نمو دار ہوا تو ڈاکوؤں کا لشکر نعرے مارتا مردوال کی جانب آرہا تھا ملک شیر باز گلی کی نکر پہ رک گیا اور مقابلہ شروع ہو گیا ملک شیر باز نے تامرگ مقابلہ کیا اور گاؤں کو لو ٹ مار سے بچایا ۔ایسی دھاڑوں کے خطرے کے پیش نظر مردوال نے علاقے کی دلیر قوموں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور مردوال گاؤں میں جائیدادیں دیں محض اس خاطر کہ مردوال کو بیرونی حملہ آوروں سے مقابلہ کیا جائے۔ مردوال سے متعلق ایک اور واقعہ مشہور ہے جو مردوال کا رقبہ تقسیم کرتے وقت پیش آیا تھا،جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے پرانا مردوال بھلوٹھی کے قریب واقع تھاجبکہ قابل کاشت زمینیں ڈمریاں،چھوئیاں،بھُسی،میرہ وغیرہ میں ہیں اس زمیں کی تقسیم دو بھائیوں کی اولاد میں ہوئی۔کالو نامی بھائی طاقت کے بل بوتے پراچھی زمین اپنے نام کرانا چاہتا تھا جبکہ مردان نامی بھائی اپنی عیاری کے سبب کالو کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ کئی بار چپقلش کے بعد یہ طے پایا کہ آئندہ بٹوارہ کے لئے کوئی بھی ہتھیار لے کے نہیں جائے گاچنانچہ دونوں فریق وقت مقررہ جگہ پہنچے تو تُو تکار کے بعد لڑائی ہوئی مردان علی کی اولاد نے قریب ہی پہلے سے اسلحہ چھپا رکھا تھا اسلحہ نکال کر کالو کو شہر بدر ہونے پر مجبور کر دیا۔موجودہ کلیال اسی قبیلہ کا ٹھکانہ بنا اور وہ وہاں رہنے لگے۔ مردوال کی سرزمین یوں تو خون سے رنگی ہوئی ہے جن میں سخی محمد خوشحالؒ کے عرس پر سات افراد کا قتل ہے البتہ محمد خان ڈھرنالیا کے بھائی ہاشم خان کی موت بھی اسی شہر کے سپوتوں کے ہاتھوں ہوئی۔اس مقابلہ میں گھوڑا قبیلہ کے دوست محمد،شیرمحمد اورشاہ محمد وغیرہ شامل تھے واضح رہے کہ محمد خان نے مردوال کے ملک کرم الہی باگھا کا بے جرم خون کیا اس کے علاوہ لا تعداد مقابلوں میں نقصان پہنچایا۔ مائی والی ڈھیری: مردوال سے شمال کی جانب کو ئی تین کلو میٹر کی مسافت پر وادی کی دوسری بلند چوٹی ’’مائی والی ڈھیری َ ََِ‘‘ موجود ہے جو اپنی دلکش گولائی کی بنا پر وادی میں دوردور تک عجب نظارہ پیش کرتی ہے۔ڈھیری پر چڑھنے کا رستہ آسان بنا دیا گیا ہے چوٹی پر ایک خوبصورت دربار ہے جو ایک مقامی نیک دل عورت نے جذبہ عقیدت سے تعمیر کرایا۔دربار میں کتبہ پر کندہ تحریر میں نام ’’پیروز بی بی ؒ زوجہ سید احمد ہمدانی المعروف سخی شاہ نوری سلطان بلاول ہمدانی دندہ شاہ بلاول چکوال‘‘ ہے۔ اس مائی کے متعلق کئی روایات ہیں مستند روایت ہے کہ مائی یہاں سے گزری تھیں اور بعد از وفات یہاں دفن کی خواہش کا اظہار کیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں انہیں ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں سے اسے وطن کی چاروں طرف سے ہوا لگے۔پسماندگان نے آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہاں دفن کیا۔ اس جگہ کھڑے ہو کر دور دور تک نہ صرف وادی بلکہ خوشاب، میانوالی، ونہار وغیرہ کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بھاٹا غار: یوں تو وادی میں لا تعداد قدیم غاریں ہیں البتہ بھاٹا غار نہ صرف سیاحوں کی نظروں سے اوجھل تھی حتکہ محکمہ آثار قدیمہ بھی یہاں تک رسائی حاصل نہ کر سکاتھا چونکہ ہم نے وادی کے پوشیدہ نظاروں کو منظر عام پر لانے کا عہد کیا اور اﷲ تعالیٰ نے ہماری مدد کی ملک محمد نواز بڈھیال کے ہمراہ ڈیلے والی سے بھاٹا غار پہنچے ۔ یہ مردوال سے بھلوٹھی روڈ کے نزدیک ہے اور مائی والی ڈھیری سے کوئی پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع ہے ۔اس غار کی لمبائی لگ بھگ پچاس گز ہو گی چوڑائی بارہ گز سے زائد ہو گی غار کے دو منہ ہیں جھاڑیوں نے دونوں طرف سے ڈھانپ رکھا ہے اندر جنگلی کبوتروں نے رہائش اختیار کر لی ہے ۔ رن گچھا چشمہ: بھلوٹھی روڈ کے دائیں ہاتھ پہاڑوں کے ساتھ ایک چشمہ ہے جسے’’رن گچھا چشمہ ‘‘ کہتے ہیں۔یہاں سے تھوڑی دورپرانے مردوال کے کھنڈرات ہیں۔ اس علاقے میں لا تعداد مقامات ہزاروں سال پرانی عمارتوں کے آثار ،برتنوں کے باقیات وغیرہ ملے ہیں اس کے علاوہ چماں والی میں بھی کھنڈرات ہیں۔ اسی علاقے میں سلاجیت بھی ملتی ہے۔ مردوال اور وادی سون کی اس آخری حد پر گھوڑے ،بڈھیال،بٹی وغیرہ آباد ہیں۔ڈھوک اصحاب تک شمالی سرحد ہے یہاں وادی سون اور خوشاب کی حد اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ | بابااصحاب: ڈھوک اصحاب پر آبادی کے نزدیکی پہاڑی پر بابا اصحابؒ کا دربار ہے جس کی مناسبت سے یہاں رہنے والے اسی نام سے موسوم کئے جاتے ہیں تقریباً چالیس پچاس گھروں پر مشتمل ڈھوک اصحاب کے مکین اعوان برادری جبکہ گوت شمع خیل ہے۔محمد ریاض سروری قادری کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ غازی سلطان محمود: مردوال کی عظیم شخصیات میں غازی سلطان محمودکی خدمات گراں قدر ہیں۔ آپ نے میٹرک میں پنجاب بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور جامعہ ملیہ دہلی میں تعلیم مکمل کی متعدد وظائف حاصل کئے۔آپ کو انگریز اور انگریزی سے شدید نفرت تھی تحریک خلافت میں پیش پیش اور تحریک مسجد گنج میں قید ہوئے۔ آپ نے توحید ، رسالت اور امامت پر کتاب لکھی جو بعض وجوہات کی بنا پر زیور طباعت سے آراستہ نہ ہو سکی۔ انہوں نے عید گاہ مسجد اور خطیب کیلئے جگہ کے عطیات دئیے۔ توتاں والی سرکارؒ : مردوال کے مغرب میں بادشاہوں والے قبرستان میں توتاں والی سرکارؒ کا دربار ہے۔ روایت ہے یہ ان پانچ بزرگوں میں سے ہیں جو وادی میں مختلف مقامات پر مدفن ہیں ان میں سلطان مہدیؒ ،ساوی بیری والےؒ ،سلطان ابراھیم ؒ ساڑھی والے شامل ہیں۔ان بزرگوں کے بارے میں شنید ہے کہ آپ وادی میں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں وارد ہوئے۔ ماجھی اعوان: ماجھی اعوان مردوال کے وہ عظیم سپوت تھے جن کی عظمت کے اعتراف میں ان کا نام دلی دروازہ لاہور پر تحریر کیا گیا۔ماجھی اعوان دلیر،زندہ دل، لجپال،سخاوت پسندانسان تھے انہوں نے علاقے کی حد براری کرا کے حدیں گوہل لاوہ تک پہنچائیں۔ماجھی اعوان نے ایسی روایات قائم کیں کہ اہلیان سون آج بھی فخر سے ان واقعات کو یاد کرتے ہیں۔وادی پکھڑسے ایک بارات جنوب کو جا رہی تھی سر شام مردوال پہنچے تو ماجھی اعوان ان کے میزبان بنے خاطر تواضع کے علاوہ صبح دلہن کو جہیز دے کر رخصت کیا۔ قاضی مرید احمد: قاضی مرید احمد علاقے کی سب سے بڑی شخصیت تھے اور بڑے سیاستدان سے بہت بڑے اور عظیم انسان تھے انہیں اسلام سے محبت تھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود زندگی میں ہمیشہ سادگی کوہی اپنایا۔ انہوں نے مسلم لیگ سے عملی سیاست کا آغاز کیا اور تا دم آخر مسلم لیگ سے منسلک رہے۔ آپ مجلس عاملہ کے رکن اور لجسلیٹواسمبلی کے ممبر رہے۔ان کا تاریخی کارنامہ اسمبلیوں میں نماز کا وقفہ کرانا ہے انہوں نے ۱۹۹۰ ء میں رحلت پائی اور مردوال میں مدفن ہوئے۔ ملک شیرباز ایڈوکیٹ: ملک شیر باز اعلیٰ پائے کے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ عملی سیاست اور فلاحی کاموں کے حوالے سے آج بھی اہلیان سون کے دلوں میں زندہ ہیں انہوں نے اعوان قوم کے لئے دن رات کام کیا ۔وادی سون تک شاہراہ کی تعمیر ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ملک شیر بازنے ٹوانہ گروپ کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا تو برادری کی شدید سازشوں کا شکار ہوئے اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ان کی خود داری کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے بقیہ زندگی روپوشی میں بسر کی۔ ان کے علاو ہ مردوال کے عظیم سپوتوں میں معروف صحافی مظفر احسانی جسٹس گلباز،جسٹس شہباز(بھٹو کیس)،ڈی ایس پی فتح خان ،مولوی محمد خان، خان دوران،ملک اﷲداد،ملک غلام محمد ترکاؔ ،ملک شیر محمدجنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہدوجہد کی۔ نوجوان نسل میں ملک ربنوازٹھیکیدار ، میاں محمد کمشنر وغیرہ نے علاقے کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کیا پنجابی کے شاعر ملک ممتاز کا تعلق مردوال سے ہے اور حوالدار(ر)قاسم خان بھی مردوال کے رہنے والے ہیں ۔ مکڑمی مردوال سے کوئی چار کلو میٹر کی مسافت پر مکڑ می کا گا ؤ ں آباد ہے یہ گاؤں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ایک حصہ وادی کی شمالی پہاڑی پر ہے جبکہ کچھ آبادی ڈھوک کامرہ پنڈی روڈ کی جنوبی سمت واقع ہے۔مکڑمی کی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ ہزار ہو گی یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کی تمام آبادی اہلسنت والجماعت ہے اور پیر سیال شریف کے بیت ہیں۔یہاں پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب پچاس فیصد سے زیادہ ہے حالانکہ یہاں ایک پرائمری سکول ہے جہاں کو ایجوکیشن سسٹم نظام تعلیم ہے۔تقریباً ایک سو طلبا و طالبات کے لئے تین استاد مقرر ہیں جبکہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لازمی مضمون انگریزی کے لئے کوئی استاد نہیں یہ سکول دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ صرف دو کمرے ہیں رستہ سرے سے ہے ہی نہیں اور بجلی پانی کی سہولت سے محروم یہ سکول پڑھا لکھا پنجاب کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ یہاں کی تاریخ بھی خون سے رنگی ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ ۱۸۱۷ ء کے لگ بھگ ایک دھاڑ پڑی جس میں پچاس بندوں نے وفات پائی۔ دھاڑ جنوبی سون کے بائیس گاؤں کے باشندوں پر مشتمل تھی انہوں نے مکڑمی کے کسی باشندے کی گائے پکڑی اور بھون کر سیکھ پر لگائی سیکھ پکڑنے کا چیلنج شیر شکر کوٹ والے نے قبول کیا۔ان لوگوں پر غرور یوں طاری تھا کہ تلوار کی دھار پر رقص کرتے آرہے تھے۔مکڑمی کے مکینوں نے موجودہ رتا ولنڑ کے قریب جھل (رکاوٹ)بنائی دھاڑیوں نے للکارہ ’’کتھے وے جھل‘‘ جواب میں کھبیکی کے ایک جوان نے فائر کیا اور کہا :’’جھل‘‘ یوں لڑائی شروع ہوئی روایت ہے کہ بادل کا ایک ٹکڑا آیا مدینے شریف سے سخی صاحبؒ کی کمک آئی ۔بھیانک آواز آئی اور گردنیں کٹتی گئیں،اس جگہ اتنا خون بہا کہ اس کا نام ’’رتاولنڑ‘‘پڑھ گیا۔ تحریک خلافت کے زمانے میں خواجہ قمر الدین سیالویؒ کی گرفتاری کے جواب میں اہلیان سون نے فیصلہ کیاتھا کہ روزانہ چار افراد گرفتاری دیں گے سب سے پہلے مکڑمی کے دو افراد محمد حیات اور محمد رکن عالم جبکہ باقی دو میاں عبدالحمید آف کفری اور خانقاہ شریف کے میاں سراج الدین نے گرفتاری پیش کی۔تحریک خلافت کے سرگرم کارکنوں میں غلام محمد شاہ شامل ہیں ۔ | مہیلہ میاں ہدایت اﷲ: وادی کے مشہور محقق ملک سرور اعوان نے مکڑمی سے قدیم زمانے کے جانوروں کی ہڈیاں برآمد کیں جن کے بارے میں قیاس ہے کہ یہ ہزاروں سال پرانی ہیں اور اس قسم کے جانور آج کل ناپید ہیں اس نالے کے ساتھ ہی مہیلہ ہدایت اﷲ ہے یوں تو وادی میں مہیلے بہت زیادہ ہیں البتہ ان کی عدم افادیت کے باعث ذکر مختصرہی کیا۔ محمد رحیم: آپ مکڑمی کے نہایت معتبر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں آپ سیال شریف سے فارغ التحصیل ہیں۔تمام عمر درس و تدریس میں گزرہ آپ انتہائی نیک دل ،نیک سیرت اور سچے عاشق رسولؐ ہیں۔ دھدھڑ جھیل کھبیکی کے مغربی سمت پہاڑی کے اوپر خوبصورت شہردھدھڑآباد ہے نام کی وجہ تسمیہ دو مختلف روایتوں ’’دو در‘‘ اور’’ دو دھڑ‘‘ بیان کی جاتی ہے۔ تپہ میں آباد اعوان برادری ملک طور کی اولاد ہیں ملک طور دھدھڑ کے رہنے والے تھے۔ دھدھڑ وادی سون کا قدیم ترین شہر ہے جہاں سب سے پہلے اعوان نے قدم رکھا اور وادی میں پہلا قیام اسی مقام پر ہے۔محبت حسین اعوان نے اپنی کتاب ’’علوی اعوان تاریخ کے آئینے میں‘‘صفحہ۵۸۹ پر حقائق کے بر خلاف کھبیکی کو قدیم لکھا ہے جبکہ دھدھڑکو کھبیکی کی حفاظتی چوکی لکھا ہے جو غلط ہے بلکہ دھدھڑ ، مناواں ، انگہ وادی کے قدیم گاؤں ہیں ۔ یہاں مسلمانوں کی آمد لگ بھگ نو سو سال پہلے ہوئی یہاں نڈھا خان کی اولاد آباد ہوئی جو بعد میں کھبیکی،اوچھالہ، سوڈھی ،جابہ،ناڑی اور کچھ حصہ ونہار تک پھیل گئے۔نڈھا اور وڈا کے درمیان جنگ ہوئی شکست کے بعد وڈا نے ونہار کا رخ کیا۔وہاں سے بدلہ لینے کے لئے ڈیڑھ درجن کے قریب حملے کئے مگر ناکام رہا۔ آخری حملے میں انس نامی بہادر دھدھڑ میں مارہ گیا انس کے مرتے ہی سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔ دھدھڑ کے شمال میں پھیرا کھریوٹ نامی قدیم عمارتوں کے آثار موجود ہیں وہاں اب بھی پتھروں اور چبوترے کے آثار باقی ہیں اس کے علاوہ کئی ایک مہیلے اس علاقے میں پائے جاتے ہیں یہ علاقہ کھدری مردوال کے نزدیک ہے۔ کامل باغ: کھبیکی سے دھدھڑ جانے والے رستے پر جھیل کے شمالی کنارے میاں کامل کا باغ ہے جہاں ایک چشمہ اسے سیراب کرتا ہے یہاں ایک بہت بڑا پتھر ہے جہاں حضرت میاں عیسیٰ ؒ نے چلہ ادا کیا۔ حضرت میاں عیسیٰ ؒ کی کئی ایک کرامات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ حضرت سخی محمد خوشحالؒ : آپ کا نام محمد خوشحال تھا آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے تضاد ہے البتہ وفات ۱۱۳۴ ھ بتائی جاتی ہے۔آپ دھدھڑ کی اعوان برادری کے چشم و چراغ تھے آپ کی سخاوت کے متعلق ایک روایت ہے جو تقریباً وادی پر لکھی جانے والی سبھی کتب میں شامل کی گئی ہے روایت کچھ یوں ہے کہ قحط کا زمانہ تھا آپ پکھڑ گندم لینے جا رہے تھے کہ نالہ گبھیرپر پہنچے تو ایک فقیرکو گرم ریت پر لیٹے پایا۔ آپ نے اس بزرگ پر اپنی چادر سے سایہ کیابزرگ جب نیند سے بیدار ہوئے تو سفر کا قصد دریافت کیا حضرت سخی محمد خوشحالؒ نے تفصیل بتائی تواس بزرگ نے بوری میں ریت بھرنے کو کہااور تاکید کی کہ گندم ذخیرہ کرنے والی سکار میں ڈال کر منہ بند کر دینا اور نیچے سے گندم نکالنا ۔حضرت سخی محمد خوشحالؒ نے ایسے ہی کیااور لوگوں کو اتنی گندم ملی کہ یقینی قحط سے نجات ملی،ان کی اس سخاوت کی وجہ سے نام سخی پڑ گیا۔ آپ کا مزار کھبیکی دھدھڑ روڈ پرجھیل کے مغرب میں واقع ہے جہاں ہر سال ۱۵ ہاڑ بمطابق ۲۸ جون میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں قوالی کے علاوہ بیلوں کا معروف جلسہ ،نیزہ بازی وغیرہ کا انعقاد لازمی تصور کیا جاتا ہے وادی کے بڑے میلوں میں سے ایک یہ ہے۔دور دور سے عقیدت مند اور بالخصوص آنکھوں کے مرض میں مبتلا لوگ مزار پر جمعہ کو حاضری دیتے ہیں۔ تاریخ علوی اعوان: محبت حسین اعوان کی ضیغم تصنیف ادارہ تحقیق الاعوان نے شائع کی ہے اس میں چند ایک واقعات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں مثلاًکھبیکی کے ملک عالم شیر والامن گھڑت واقعہ صفحہ ۵۸۹ پر تحریر کیا جس میں دھدھڑ اور مکڑمی کو کھبیکی کی چوکیاں ظاہر کیا ہے جو تاریخی غلطی ہے کیونکہ دھدھڑ وادی کا قدیم ترین گاؤں ہے جہاں جدِ اعوان کا پہلا پڑاؤ ہوا۔ * صفحہ ۵۹۰ پر ایک اور واقعہ ملک شیر سے منسوب کیا ،ٹوپہ ہل ملک شیر کے بجائے سکھوں کا تھا جسے اوچھالی کے ملک اﷲ یارنے ختم کرانے کے لئے آواز اٹھائی۔ * ہمارے معزز مصنف نے صفحہ۵۸۸ پر پدھراڑ کو وادی سون کا آغاز کہا ہے جسے ونہار کا اختتام کہاجائے تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ پدھراڑ، پیل۔ پیڑہ کھاریاں وغیرہ کی ثقافت وادی سے ضرور ملتی ہے لیکن زمینی تقسیم کے لحاظ سے یہ علاقہ کافی حدتک ونہارکہلاتا ہے۔ * صفحہ۵۹۱پر شہروں کی ترتیب بھی غلط ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے علاقہ دیکھے بغیر ہی وادی کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی موصوف نے شکر کوٹ ،سرال، انگہ،کوٹلی اوراوگالی شریف کا محل وقوع اندازے سے لکھا جو درست نہیں۔ |
|
|
|
کھبیکی نوشہرہ سے راولپنڈی جانے والی شاہراہ پر جھیل کنارے کھبیکی آباد ہے۔ کھبیکی کی آبادی ۱۲ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔داخلی آبادیوں میں بھناکہ ، پچون، کنہٹی وغیرہ شامل ہیں۔ شہر میں لڑکوں کے لئے ہائی جبکہ لڑکیوں کے لئے ہائرسیکنڈری سکول ہے۔ ڈاکٹر عمر حیات کی کاوشوں کا ثمر RHQ کی صورت میسر آیا۔ شہر کا واحد سید گھرانا گیلانی سید ہے جو انگہ سے مدعو ہوئے کھبیکی میں اسلام کی کرنیں روشن کیں ۔اندرون شہر لال بادشاہؒ ،شیربادشاہؒ ،محبوب شاہ ؒ کے مزارات ہیں۔ روایت ہے کہ اولیا ء اﷲ کی کوئی بارات یہاں شہید ہوئی جن میں جدِ کھبیکی بابا نڈھا بھی شامل تھا اس کے علاوہ بابا عنایت شاہ بھی تھے۔ ملک انعام نے جہاد فلسطین میں حصہ لیا اور غازی لوٹے شوق شہادت میں افغانستان پہنچے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ جھیل کھبیکی: یہ جھیل کھبیکی کے مغرب میں واقع ہے جھیل کا رقبہ تقریباً چھ سو ایکڑہے، جھیل کا محل وقوع انتہائی دلفریب ہے ایک جانب گاؤں دوسری جانب زرخیزہرے بھرے کھیت ہیں۔ دو اطراف میں سر سبز پہاڑ ہیں۔اس جھیل کا پانی ماہی پروری کے لئے موزوں ہے پچھلے کچھ عرصہ سے پانی کافی کم ہوا البتہ بارشوں سے صورت حال قدرے بہتر ہوئی۔ یہاں فشری فارم ہے۔اس جھیل میں مرغابیوں کی بہتات ہے ان کے علاوہ خوبصورت آبی حیات اس کے حسن کو دو بالا کرتی ہے۔یہ وادی کی دوسری بڑی جھیل ہے اور دنیا بھر کی خوبصورت جھیلوں میں شامل ہونے کے باعث یہاں فلموں اور ڈراموں کو فلمایا گیا ہے۔ سائیبریا اور دوسرے سمندروں سے مہاجر پرندے یہاں آتے ہیں۔ قلعہ اکراند: کھبیکی کے شمال مشرق میں وسیع پہاڑی سلسلے ہیں کنہٹی گارڈن کو جانے والی سڑک کے دائیں ہاتھ پچون کا وسیع و عریض علاقہ ہے جہاں قدیم قبریں مزار اور تاریخی قلعہ اکراند ہے جہاں تک بہت کم محققین پہنچ پائے ہیں۔بیشتر نے سنی سنائی باتیں لکھ کر صفحات کالے کئے ہیں۔ کھبیکی سے ۱۰ کلو میٹرکی مسافت پرجہاں سڑک کے اختتام پذیر ہوتی ہے کوئی میل کے قریب پیدل مسافت پر اکراند والا پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کا صرف ایک رستہ ہے۔وقت کی کمی کے باعث ہم نے غیر روایتی رستہ اختیار کیا لیکن کسی کو یہ تلقین نہیں کریں گے کہ مغربی سمت سے راستہ اختیار کریں بلکہ پہاڑی سلسلہ کے مشرقی سمت والا رستہ مناسب ہے۔کئی بار گرتے گرتے بچے آخر واپسی پر یہ الجھن بھی ختم ہوئی جب دس فٹ گہرائی تک لڑھکنے کے بعد ایک پتھر ہاتھ آیا ورنہ سینکڑوں فٹ نیچے تک ۔۔۔۔۔ اکراند والا پہاڑ کوئی پچاس ساٹھ ایکڑ پر مشتمل ہے جس پر شمال کی جانب بے شمار پتھروں کے کھنڈرات ہیں ان کھنڈرات کو دیکھ کر کہیں بھی یہ نظر نہیں آتاکہ یہ کسی راجہ کی آماجگاہ رہی ہو گی۔البتہ یہ کہنا مناسب ہے کہ یہاں انسانی آبادی رہی ہے جو پانی اور جنگلات کے باعث تارک ہوئی۔پرانے زمانے کے سکوں کا ملنا بھی راجہ اکراند کی رہائش کی تصدیق کے لئے کافی نہیں ۔راجہ اکراند راجہ جودھ کی نسل سے تھا جو سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوااس کی قبر پچون میں ہے جس کی لمبائی دس فٹ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے میں سلاجیت کی کافی مقدار ملتی ہے۔وہاں جانے والے سیاح پانی لازمی ساتھ لے کر جائیں یا مغربی طرف پہاڑ کی تہہ میں ایک چشمہ بہتا ہے وہاں سے پیاس بجھا سکتے ہیں۔ ملک نور خان: میاں سلطان کے فرزند ملک نور خان اپنے وقت کے مشہور انسان رہے۔اعوان اور راجہ قوم کی لڑائی اس دن سے جاری ہے جب سے اعوانوں نے وادی میں قدم رکھا لیکن آخری اور فیصلہ کن لڑائی ملک نور خان کے ہاتھوں انجام پائی۔ جابہ کی حد بندی پر لڑائی میں نور خان کے بیٹے قتل ہوئے اور راجوں نے راہِ فرار اختیار کی نرسنگھ پھوار کے قریب راجوں نے ملک نور خان کو تنہا تعاقب کرتے دیکھا تو گرفتار کر لیا۔پہاڑ ی میں قتل کر کے سر تن سے جدا کر کے پھنیک دیا ۔ میاں سلطان محمود نے اعوان قوم کو پکارہ سون بیک زبان ان کے ہمراہ چلی ملک نور کا دھڑ کٹھہ کے قریب ایک پہاڑی پر مل گیا البتہ سر نہ ملا تیسرے دن حملہ کیا راجہ قتل ہوا سر کے بدلے لڑکی کو اغوا کیا ملک نور کا سر بھی مل گیا تو دوبارہ جنازہ ہوا بعد میں راجہ قوم کی کوششوں سے صلح ہوئی میاں سلطان نے لڑکی کو علاقے کے رسم و رواج کے مطابق جہیز دے کر رخصت کیابعد میں راجہ قوم کے لوگوں نے بتایا کہ ملک نور نے مرنے سے پہلے کہا کہ سون کی حد وہ ہو گی جہاں میرا سر گرے گا راجہ قوم نے فوراً قتل کرکے سر تن سے جدا کیا وادی کی حد آج وہاں تک ہے جہاں ملک نور خان نے وفات پائی۔ میاں سلطان محمود نے انگریزوں سے جابہ ،کھبیکی اور جھونگہ سلوئی کی نمبر داری حاصل کی۔ انگریز بھی بڑے شہنشاہ تھے آخر یہ جاگیریں تھیں تو انہی لوگوں کیں جن میں وہ بندر بانٹ کرتے رہتے تھے۔ ایک بار انگریز جوڑا کٹھوائی آیا اور میاں سلطان محمود کووہاں بلوایا،میاں اپنے گھوڑے پر وہاں پہنچے انگریز عورت نے گھوڑے پر سواری کی خواہش ظاہر کی تومیاں نے اسے بازرہنے کو کہالیکن انگریز کہاں باز رہنے والے قصہ مختصروہ گھوڑے پر سواری نہ کر سکی انگریز نے میاں سلطان کے گھوڑے سے متاثر ہو کر میاں کو تین گاؤں کی نمبرداری عطا کی ۔میاں کے تین بیٹے تھے۔ مسلم لیگ ۴۶ء: ۱۹۴۶ ء میں مسلم لیگ اپنے عروج پر تھی اور کھبیکی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسلم لیگ کا پہلا ڈھنڈورہ میاں محمد لسی بلوچ خان میراثی نے کھبیکی میں دیا۔ جس میں میاں احمد لوہار وغیرہ نے شرکت کی۔ باقی مسلم لیگیوں میں رسالدار سلطان مبارز خان،ملک محمد اکبر خان کینہ، قاضی محمدعابد،فلک شیر یکہ،ہیڈماسٹر دوست محمدشامل تھے۔ ذیلدارملک شاہ محمد نورخنال یونینسٹ رہے بعد میں مقدمات قائم ہوئے تو رسالدار ،خان بہادر اور OBI کے اعزازات واپس کئے۔ملک شاہ محمد بعد میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ممبرمسلم لیگ کے چئیرمین اور ہجرت کے وقت ہندو پراپرٹی اور مسلمانوں کی آبادکاری کے انچارج رہے۔ | اقبال دوست: آپ کی عمر کا بیشتر حصہ یورپ میں گزرا آپ اردو شاعری کرتے ہیں آپ کے دو مجموعے جام خودی اور آپ کے نام شائع ہوچکے ہیں آج کل کھبیکی کے شمال مشرق میں رہائش پذیر ہیں۔ ڈاکٹر ظہور احمداظہر: ڈاکٹرظہور اظہرمسنال پی ایچ ڈی ہیں آپ یتیم تھے اور یتیمی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلامی سر براہی کانفرنس میں ترجمان رہے۔شہر کا ہائی سکول بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آجکل لاہور میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ مولوی غلام احمد: آپ درویش صفت انسان تھے آپ کو دینی علوم،طب،علم جعفر وغیرہ پر عبور حاصل تھا۔روایت ہے کہ انگوٹھے اور انگلی کے ناخن سے لکھتے تھے اورخوش نویسی میں ثانی نہ رکھتے تھے۔حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ نے آپ ہی سے اس فن میں رغبت حاصل کی۔ آپ مہاراجہ کشمیر کے شاہی حکیم رہے۔عمر کے آخری شب و روز کھبیکی میں گزارے اور علاقے کی عوام کی خدمت کی۔ جسٹس ملک غلام علی: آپ مولانا مودودی کے دستِ راست رہے۔آپ ضیاالحق کے دور حکومت میں شریعت بینچ میں تھے آپ نے قادیانی مذہب کی حقیقت،مرتد کی سزا، سیرت ، اسلامی قانون، رجم کی حداس کے علاوہ رسائل و مسائل کے قانون کے لئے کوشاں رہے۔ کھبیکی کے دیگر مشہور افراد میں ملک احسن اختر اور علامہ یوسف جبریل شامل ہیں۔ دادابھائی: دادابھائی میراثی قوم کے جدامجد ہیں ان کی قبر کھبیکی کے قبرستان میں موجود ہے آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ جنگ میں ڈھول بجاتے سر قلم ہوا تو تن ڈھول بجاتا رہا۔ پہلوان: کھبیکی میں غلام علی لعل خان اور غلام محمد پہلوان گزرے ہیں روایت ہے کہ غلام علی نے ایک بار ایک دنگل میں ایک پہلوان کو اس زور سے دبایا کہ اس کے منہ سے خون بہہ نکلا۔ لعل خان کے بارے میں روایت ہے کہ گائے بھینس وغیرہ اٹھا لیتا تھابلکہ غلام محمدنے اونٹ کو بھی اٹھایا تھا۔ان باتوں سے مبالغہ ارائی کی بدبو ضرور آتی ہے لیکن ایسے جوانوں سے نظر چرانی بھی محال ہے۔ ایک اور جوان امیر خان کے متعلق مشہور ہے کہ سات من وزنی پتھر اٹھاتا تھا۔ کنہٹی گارڈن کھبیکی سے نو ۹ کلو میٹر شمال پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت باغ ہے۔ یہ وادی میں واحد آباد باغ ہے۔یہ باغ ۷۵ ،ایکڑرقبے پر مشتمل ہے جسے چشمہ رکھ کھبیکی سے سیراب کیا جاتا ہے پانی کی کمی کے باعث یہاں محکمہ زراعت نے ٹیوب ویل بھی لگوایا ہے یہ باغ انگریز میجر واٹ نے ۱۹۲۷ ء میں لگوایا۔ یہاں مختلف قسم کے پھل دار پودے پھول اور اعلیٰ نسل کے درخت ہیں ان میں گرمئی مالٹے ،گرے فروٹ، خوبانی، آلوبخارہ، امرود، بادام ، سیب، انگور، لوکاٹ، انار وغیرہ لگائے گئے ہیں۔ کنہٹی گارڈن میں ریسٹ ہاؤس ہے جو قدرے بہتر حالت میں ہے لیکن رہنے کے لئے قطعاً موزوں نہیں یہاں محکمہ کے دو افراد ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ میوزیم آف نیچرل ہسٹری اسلام آبادکے ڈائریکٹر عبدالرحیم راجر کی سربراہی میں کنہٹی سے ایک کروڑدس لاکھ سال پرانے ہاتھی کی ٹانگ کا فاسل دریافت کیے ہیں جو اسلام آباد میوزیم شکرپڑیاں منتقل کر دیا گیا ہے۔ چشمہ پر پُراسرار چکیاں بھی ہیں جنہیں مقامی زبان میں جند کہتے ہیں۔ چشمہ کوئی ایک میل سے زائد پہاڑی کے دامن سے نکلتا ہے۔چشمہ کے پانی میں آجکل کمی ہوئی ہے تاہم وادی پکھڑ میں گرنے سے پہلے پن چکیوں کے قریب پانی خوبصورت آبشار بنا کر وادی سون کو الوداع کہتا ہے۔ اچھالہ کھبیکی سے جنوب میں ایک سڑک اچھالہ کو نکلتی ہے جو آگے نوشہرہ خوشاب شاہراہ سے مل جاتی ہیں۔یہاں پر سر سبز وشاداب کھیت ،ہریالیوں سے رنگے پہاڑوں میں گھرا اچھالہ نہایت دلکش مناظر پیش کرتا ہے۔یہاں پر تاریخی اہمیت کے حامل آثار قدیمہ کا انکشاف ہوا ہے،ڈھوک کامرہ کے جنوب میں علاقہ بھڑ میں ٹھیکریاں وغیرہ موجود ہیں یہاں قبریں اور کھنڈرات پرانی آبادیوں کے شاہد ہیں۔ یہاں قدیم کنواں کی دریافت ہوئی ہے جو عام زمینوں سے دس فٹ گہرا ہے یہ خستہ حال کنواں بھی کھنگر پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اچھالہ میں بزرگ سلطان حاجی احمد اویسیؒ اور میاں محمدؒ کے مزارات ہیں۔ سلطان حاجی احمد اویسیؒ : آپ سلسلہ اویسیہ قادریہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کو غائب سے اشارہ ملا کہ آپ پیران پیرؒ کے پاس آئیں، آپ بغداد تشریف لے گئے وہاں چھہ سال رہے، اس کے بعد حرمین شریف تشریف لے گئے وہاں ۱۲ سال تک قیام کیا۔ وہاں سے واپسی پر اچھالہ میں لوگوں کے دلوں کو فیض یاب کرتے رہے۔ آپ نے ۸۵ سال کی عمر میں ۱۷۱۵ء مین وفات پائی آپ کا مزار شریف اچھالہ میں ہی ہے۔ | موسیقار گھرانہ: اچھالہ سے تعلقہ ساون نامی شخص کو موسیقی سے بے حد شغف تھا۔ اس نے اپنے تمام بیٹوں کو فن موسیقی کی تعلیم دی اس کے بیٹوں میں استاد احمد بخش کو مختلف راگوں پر عبور حاصل تھا،غلام جند اور چراغ علی نے فن قوالی میں مہارت حاصل کی۔ماسٹر فتح علی اور فضل حسین نے ستار نوازی میں کمال حاصل کیا۔ تحریک خلافت: یوں توتحریک خلافت کے دنوں میں جتنا احتجاج اور گرفتاریاں وادی سون میں ہوئیں شاید ہی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی،اچھالہ کے عقیدت مندوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سلطنت عثمانیہ کی سر بلندی کے لئے میاں رکن الدین، میاں نور عالم،میاں محمد مظفر پیش پیش رہے۔ اس کے علاوہ شیر محمد جیسے لیڈروں نے پاکستان کیلئے جدوجہد کرنے والی مسلم لیگ کے لئے کام کیا۔ علاقہ میں مسلم لیگ کا بول بالارہا انگریزوں نے وادی میں اعزازات کی برسات کر کے فتح حاصل کی لیکن وہ دھونس دھاندلی کے سوا کچھ نہ تھا ۔علاقے کی عوام مسلم لیگ کے رہنماؤں کی راہ میں پلکیں بچھا کے ان کا استقبال کرتے ،نوشہرہ میں ۱۹۴۶ء کا جلسہ اس سلسلے کی واضح مثال ہے۔ سوڈھی جے والی نوشہرہ کٹھوائی روڈ پر مشرق کی جانب سوڈھی جے والی گاؤں اور گاؤں سے ملحقہ باغ ہے۔ اس گاؤں کی وجہ شہرت تو ایک چشمہ ہے جس پر انگریز دور میں ایک بند تعمیر کیا گیا تھا جس کی شکل انگریزی کے حرف ’J ‘سے ملتی جلتی تھی اور ہندوں کی ایک برادری سوڈھی یہاں آ کر آباد ہوئی اسی مناسبت سے نام سوڈھی جے والی مشہور ہوا۔ ضلع شاہپور (سرگودھا کی تحصیل شاہ پور پہلے ضلع کا درجہ رکھتی تھی)کے ڈپٹی کمشنر سر ڈبلیو جی ڈیوس نے یہاں ایک باغ لگوایا اور ڈسٹرکٹ بورڈ ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا۔ سوڈھی گارڈن: شہرسے ملحق کئی ایکڑ اراضی پر محیط یہ باغ جسے انگریزوں نے لگوایا اور یہاں ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی تعمیرکیا گیا۔جو وادی میں واحد ریسٹ ہاؤس ہے جو رہنے کے لائق ہے۔ باقی تمام ریسٹ ہاؤس خستہ حالی کا نمونہ پیش کر رہے ہیں البتہ جب راقم یہاں پہنچا تو یہ مسلح افواج کے استعمال میں تھا اور باغ بھی عجب ویرانی پیش کر رہا تھا،اجڑے باغ کودیکھ کر اپنا ہی شعر یاد آیا محفل کے رنگ اور ہوتے تنہائیاں اے کاش نہ ہوتیں اتنے بے رنگ نہ ہوتے جدائیاں اے کاش نہ ہوتیں کہاں وہ وقت تھا جب اس باغ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ،فاروق احمد خان لغاری اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت کئی بڑی شخصیات سیر اور شکار کی غرض سے یہاں آئے۔یاد رہے کہ سر خاب اور ہرن وغیرہ اس علاقے میں عام ہیں۔ اب بھی اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو یہ باغ ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ حاصل کر لے گا۔ سوڈھی جے والی کے جنوبی پہاڑ کی چوٹی پر پرانے کھنڈرات کے آثار ہیں جنہیں مراد والے کھولے کہتے ہیں۔یہاں پر بڑی آبادی کے آثار ہیں۔اس میں بازار کے آثار ملتے ہیں۔تھوڑی سی محنت کی جائے تو اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر چشمے کے ساتھ پتھروں پر گھوڑے کے سم کے نشانات ملے ہیں۔ سوڈھی میں بابا شاہ زمانؒ ،موتیاں والا،داتا پیر،بھالاں والے فقیر کے دربار ہیں۔ سوڈھی کی مشہور شخصیات میں پروفیسر محمدنواز،برگیڈیر جی ایم ملک، ملک احسان احمداور سماجی شخصیات غلام مصطفےٰ اعوان اور ملک گل نحمد مرحوم شامل ہیں۔ ملک الطاف طاہر اعوان: آپ سوڈھی کی نہایت تعلیم یافتہ ہستی ہیں آپ کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ آپ نے اسلامیات سی ایس ایس،اسلامیات ڈگری کلاسز، اسلامیات انٹرمیڈیٹ ،مطالعہ پاکستان انٹرمیڈیٹ ،اردو سی ایس ایس، اردو انٹرمیڈیٹ اور اردوپی سی ایس کیا۔ | ملک شیر دل اعوان(شیر واہگہ):
ملک شیر دل اعوان ۱۹۲۵ء مین وادی سون کے مشہور گاؤں سوڈھی جے والی میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم کا نام غلام محمد اعوان ہے جن کے متعلق روایت ہے کہ فقط لاٹھی سے چیتا ہلاک کیا تھا اور کبڈی کے لیجنڈ کھلاڑی رہے۔ ملک شیر دل اعوان نے ۱۹۴۲ء میں محمدی بٹالین میں نوکری شروع کی۔ ایم آر فرسٹ کے بعد برما کے محاذ پر تاریخی معرکوں میں حصہ لیاان معرکوں میں ۷ ڈویژن کے ۳۳ برگیڈ نے کوھما کے حملے میں پہلی بار جاپانیوں کو شکست دی۔ اس معرکے میں ملک شیر دل اعوان زخمی ہوئے اور زیر علاج رہے۔اس کے بعد دوبارہ اپنی بٹالین میں شامل ہو کر دریائے ایراودی کے قریب لڑائی لڑتے رہے وہاں ڈویژن کمانڈر جنرل اسلم سے کم عمری میں بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ ۱۹۴۷ء میں آپ مہاجرین کے قافلوں کی نگرانی پر معمور رہے۔۱۹۴۸ء کی جنگ میں ملک شیر دل اعوان سری نگر کے قریب جا پہنچے۔۱۹۵۷ء میں آپ کو نائب صوبیدار بنا دیا گیا،آپ نے سکول آف انفنٹری سے ہتھیاروں اور کیمیائی جنگ کے کورس مکمل کئے،سکول آف سگنل سے سگنل کاکورس توپ خانے کے لئے گن پوزیشن اورآبزرور پوسٹ کی تربیت حاصل کی۔ ۱۹۶۵ء میں ملک شیر دل اعوان راجہ عزیز ؒ بھٹی شہید نشان حیدر کی کمانڈ میں واہگہ کے علاقہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔دس ستمبر کی شام کمانڈر نے ملک شیر دل اعوان کو آگاہ کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ دشمن بڑی طاقت کے ہمراہ پیش قدمی کر رہا ہے آپ کی نفری بہت کم ہے لیکن دشمن بی آر بی کے پار ہی رہے تو ملک شیر دل اعوان نے کہا دشمن میری لاش سے گزر کر ہی بی آر بی عبور کرے گا۔ملک شیر دل اعوان جو لائین ہارٹ کے نام سے مشہور رہے ایسی جوانمردی سے مقابلہ کیااور گولہ باری کرائی کہ ۱۴ ستمبر کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اس جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد ملک شیر دل اعوان سے سوال کیا کہ آپ نے اتنی تباہی اپنی آنکھوں کے سامنے کیسے برداشت کی تو ملک شیر دل اعوان نے جواب دیا،قیام پاکستان کے موقع پر مسلمانوں کی قربانیاں میری نظر کے سامنے ہوئیں میرے دل و دماغ میں وہ سب لمحے طوفان برپا کئے ہوئے تھے،میں نے تہیہ کر لیاکہ جب تک میں اپنی سرزمین پر زندہ ہوں دشمن کے ناپاک قدم آگے نہ بڑھنے دوں گا۔ ۱۹۷۱ء میں آپ کو دوبارہ بلایا گیا تو آپ جنگ میں شرکت کے لئے ۸۶ فیلڈ رجمنٹ میں شامل ہو کر کنگن پور محاذ پر پہنچے سیز فائر کے باوجود گولہ باری ہوئی۔ ۱۰ اگست ۱۹۷۳ء کو ملک شیر دل اعوان آرمی سے ریٹائر ہوئے ۔آج کل آپ رکھ منکیرہ کے نمبر دار ہیں اور بھر پور سماجی زندگی بسر کر رہے ہیں،آپ کے باقی کارناموں کے ساتھ ساتھ منکیرہ کو تحصیل کا درجہ دلوانے میں اہم کردار ہے۔ آپ کو متعدد سول اور فوجی اعزازت سے نوازہ گیا جن میں سے نمایاں یہ ہیں۔ ۱۔امتیازی سند بسلسلہ پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء ۲۔ریڈ سٹیرپ بسلسلہ پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء ۳۔وارمیڈل دوسری جنگ عظیم ۴۔برما سٹار دوسری جنگ عظیم ۵۔وکٹری سٹار دوسری جنگ عظیم ۶۔پاکستان میڈل ۱۹۴۷ء ۷۔جمہوریہ پاکستان میڈل ۱۹۵۶ء ۸۔وار میڈل بسلسلہ پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء ۹۔ستارہء حرب بسلسلہ پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء ۱۰۔تمغہ جنگ بسلسلہ پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء مختلف کتب میں ملک شیر دل اعوان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جن میں سے میجرجنرل(شوکت ریاض) اپنی کتاب THE PAKISTAN ARMY WAR 1965 اورIZZAT-O-IQBAL میں ملک شیر دل اعوان کے کارناموں پرروشنی ڈالتے ہیں اس کے علاوہ سیارہ ڈائجسٹ کے قران نمبر میں کرنل محمد نواز سیال نے سپاہی کا کردار کیا ہونا چاہیے کے عنوان سے مضمون لکھا ہے جس میں ملک شیر دل کی مثال دے کر بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ ان تمام باتوں کو ایک طرف رکھ کر میں نے ملک شیر دل کے دل کے نہاں خانوں میں چھپے شکوے سنے تو دل خوں کے آنسو رو پڑا۔جنگ ۶۵ کا گمنام ہیرو ملک شیر دل اعوان کو فراموش کر دیا گیا ہے نہ صرف ملک شیر دل بلکہ ہمارے وطن کے ہزاروں غازی آج بھی اس امید پہ زندہ ہیں کہ انہیں بھی ان کا حق دیا جائے گا اور ان کی بہادری اور جوانمردی کے عوض پیار کے دو بول بول کے ان کے ارمان پورے کیے جائیں گے۔ملک شیر دل نے ۷۱ء کی شکست پر بھی گہرے غور وفوض کی ضرورت پر زور دیا۔ | بھناکہ سوڈھی جے والی سے جابہ کو جانے والی سڑک پر چھوٹی سی آبادی ڈھوک بھناکہ ہے یہاں پر سلطان مہدیؒ کی خانقاہ ہے ۔سلطان مہدیؒ کا تعلق ان پانچ سلطانوں سے ہے جنہوں نے وادی میں اسلام کی تعلیمات عام کیں۔آپ کا نام مہدی اور سلطان ولایت کی وجہ سے مشہور ہوا۔آپ کا تعلق اعوان قوم سے ہے۔آپ اپنی قوم کو ہمیشہ نصیحت کرتے کہ ڈھن بمبور کا احترام کریں لیکن ان کی قوم کی بد نصیبی انہیں لے ڈوبی۔آج بھی وہاں آبادی کے آثار ہیں اور مسجد کے آثار بھی ملتے ہیں۔موجودہ بھناکہ نئی جگہ آباد ہے پرانا نام بھیسن ہے۔ مزار سے کچھ فاصلے پر غار سلطان مہدیؒ ہے جہاں پر سلطان مہدیؒ نے چلہ ادا کیا۔آج بھی عقیدت مند وہاں چلہ کشی کے لئے آتے ہیں۔ سلطان مہدیؒ سے متعلق مشہور ہے کہ شہنشاہ ہند اکبر کے زمانے میں اٹک پل کی تعمیر شروع ہوئی لیکن پانی کے تیز بہاؤ کے باعث مشکل پیش آ رہی تھی۔کسی صاحب نظر نے سلطان مہدیؒ کی خدمات لینے کو کہاوہ صاحب جب سلطان مہدیؒ کے پاس پہنچے تو سلطان مہدیؒ کھیتوں میں ہل چلا رہے تھے کھیت کے چاروں کونوں پر کوزے رکھے تھے اس شخص کا قصد سن کے اپنی باطنی طاقت سے وہاں پہنچے پانی کوحکم دیا اور پانی نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔اسی مناسبت سے ضلع کیمبل پور کا نام اٹک پڑ گیا۔یہاں پرانے کہو اور پتھریلے نباتات کے آثار بھی ملے ہیں۔ احمد آباد آعوانوں کی آمد سے پہلے تمام وادی بشمول کوہ نمک پر راجگان قا بض تھے جو بعد میں شکست کھا کرکٹھہ تک محدود ہو کر رہ گئے چند ایک بچ جانے والے راجے احمد آباد میں رہ گئے روایت ہے کہ راجوں کا آخری سردار راجہ تاتار جب سکھوں کے ہاتھوں مارا گیاتواس کی وفات کے بعد پیدا ہونے والا بچہ کیتے پیدا ہوا کیتے دلیر جوان تھا اس نے یہاں احمد آباد پر قبضہ کر کے اپنے نام پر کیتکہ رکھا جو بعد میں کھو تکہ کے نام سے مشہور ہوا۔ وادی میں اعوان قوم کے علاوہ ہمدانی اور راجہ قوم کے لوگ بھی آباد ہیں۔احمد آباد جابہ کھبیکی روڈ پر خوبصورت گاؤں ہے ۔یہاں کی زمینیں اتنی ذرخیز ہیں کہ یہاں گنا بھی کاشت کیا جاتا ہے۔خوبصورت کھیت دلکش سرسبز پہاڑی سلسلے ہیں جو سڑک کے متوازی چلتے ہیں۔جھونگہ اور احمد آباد کے درمیاں ایک چوٹی جھکریوٹ ہے جہاں سے دور دور کا نظارہ کیا جاسکتا ہے یہاں ہی نزدیکی پہاڑوں سے قدیم محجرات ملے اور بتایا گیا کہ ایک جانورکے سر کی کھوپڑی ملی ہے جس کے لمبے دانت تھے، چاندی کے سکے بھی ملے ہیں ۔ احمد آباد کے شمالی پہاڑی سلسلہ میں کئی ایک چھوٹے بڑے مہیلے ہیں ان میں سرابہ،کوٹھااور ڈھیری والا مہلہ زیادہ مشہور ہیں۔مہیلوں سے متعلق روایت ہے کہ پہلے لوگ ان میں رہائش پذیر ہوا کرتے تھے اس تاریخی پس منظر کے پیش نظر ان مہیلوں کا ذکر تقریباً سبھی کتب میں آیا ہے۔ احمد آباد میں ایک چھوٹی جھیل بھی ہے جسے کہار کہا جاتا ہے،یہ کہار برساتی پانی سے جمع ہونے والے پانی سے معرض وجود میں آتا ہے یہ بھی وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس کا رقبہ پچاس مربع سے زائد ہے۔برسات کے موسم میں دلکشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ احمد آباد کے جنوب میں سنگلاخ پہاڑوں میں ایک چشمہ بہتا ہے جس کا پانی گبھیر نالے میں گرتا ہے۔ اس طرف مختلف جگہوں پر قدیم کھنڈرات کے آثار ہیں۔ احمد آباد سے سوڈھی والے رستے پر بھی قدیم آبادی کے آثار ہیں اس کے علاوہ کئی جگہوں پر اب بھی آثار باقی ہیں۔ احمد آباد میں کئی اولیاء اﷲ کے مزار بھی ہیں ان میں حضرت فیض علیؒ سلطان شاہ ہمدانیؒ ، حضرت غازی ؒ ماڑی والہ،حضرت امام دینؒ اور مولانا عطا محمدؒ زیادہ مشہور ہیں۔ پروفیسرسیداحمد سعید ہمدانی: آپ احمد آباد کے رہنے والے ہیںآپ نے اردو اور انگریزی میں ایم اے کیااور درس وتدریس کے شعبہ سے منسلک ہو گئے آپ گورنمنٹ کالج نوشہرہ کے پرنسپل رہے۔آپ نے کالج کے لئے گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔آپ نے ادبی میدان میں بھی بہت کام کیا،آپ کی تصانیف کی تعداد درجنوں میں ہے جن میں ضیاء سون،حیات وتعلیمات حضرت سلطان باہوؒ ،حضرت سلطان باھوؒ کی کتب کے اردو اور انگریزی تراجم کے علاوہ تذکرہ غوث و قطب، عصر جدید اور مسائل تصوف حقیقت ابدال وغیرہ نہایت مشہور ہیں۔علمی لحاظ سے حضرت سلطان باھوؒ پر ان کی تحقیق کو مستندسمجھا جاتا ہے مشہور ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد شاہ ہمدان ہائی سکول کھول لیااور درس و تدریس سے تعلق قائم رکھا۔ ایک صدی پہلے مولوی امام دین کھوتکوی نے حضرت غلام نبی ؒ پرفارسی میں ایک کتاب تصنیف کی جس کا سید احمد سعید ہمدانی نے ترجمہ کیا۔ جھونگیوالہ جھونگیوالہ جابہ کے مغرب میں چھوٹا سا پہاڑی گاؤں ہے جس کا تمام رقبہ کھبیکی کی حد میں آتا ہے جبکہ جھونگیوالہ داخلی جابہ ہے۔یہاں پر اکثریت کمیان دہ آباد ہے۔ جھونگیوالہ کے جنوب میں ڈھوک چانبل کے قریب ملک نور خان کا چورہ ہے جہاں وہ راجوں سے لڑائی کے دوران مارہ گیا۔اس کے علاوہ جھونگیوالہ سلوئی میں کئی ایک بزرگان دین ؒ کے مزارات ہیں۔ان میں بابا پھلائی والا، کہووالا مزار، کوٹلی والا، چھتیانوالی نام کے بزرگوں کے مزار ہیں۔ جھونگیوالہ کے شمال میں خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جبکہ جنوب میں مشہور پہاڑی سلسلے ہیں جو نیچے کٹھہ تک چلے جاتے ہیں،شمال میں کوڑہ چشمہ بھی ہے۔ جابہ خوشاب تلہ گنگ روڈ پر جابہ کا تاریخی گاؤں آباد ہے جابہ تپہ کاآخری گاؤں ہے جس کی حدیں شمال مغربی پنجاب کے علاقے چکوال سے ملتی ہیں۔ جابہ کی آبادی لگ بھگ پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ لفظ جابہ مقامی زبان میں ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی کھڑا رہنے سے زمین سخت ہوجاتی ہے۔یہاں ہندو آ باد رہے جو جھاٹلہ کی عوام کے تشدد سے عاجز آ کرنقل مکانی کر گئے۔انگہ سے شاہ فتح اﷲ ؒ ہمدانی یہاں آباد ہوئے ان کے علاوہ چٹی مٹی آلہ ؒ ، یار محمدؒ پیر کہو،ساوی بیری والہؒ ،بابا حسنین شاہؒ کے مزار جابہ کے گردونوح میں ہیں۔ ۱۸۵۷ء میں جابہ کو تحصیل کا درجہ دے کر ضلع شاہپور سے ملایا گیا۔اس کے بعد اسے جہلم سے بھی منسلک کیا گیا۔ فتح اﷲ ؒ ہمدانی: آپ انگہ کے رہنے والے تھے اور اہل علاقہ کی عقیدت اور منت سماجت پر جابہ میں مستقل قیام کیا،آپ ہمدانی سید حضرت شاہ بلاولؒ کی اولاد سے تھے۔آپ لوگوں کے لئے دعا فرماتے اور بارش ہو جاتی ۔آپ کا مزار جابہ کے مشرق میں واقع ہے۔ چشمہ غربی: جابہ کے مغرب میں ایک چشمہ ہے جسے مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایک مقامات پر چٹانیں بالخصوص تہہ دار چٹانیں موجود ہیں۔ ڈھوک چامل: ڈھوک چامل داخلی پیل ہے لیکن انتظامی تقسیم سے ڈھوک چامل جابہ سے منسلک ہے۔ڈھوک چامل پر پچاس سے زائد گھرانے آباد ہیں۔ڈھوک چامل کے نزدیک ایک نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے دامن کوہ مشہور نالہ بہتا ہے جس کا پانی نیچے جا کر کٹھہ کی زمینں سیراب کرتا ہے ،کیری والے پہاڑ کے ساتھ نیچے اتر کر مندر ہے اورمندر کے ساتھ ایک چشمہ ہے۔ نرسنگھ پھوار: یہ ڈھوک چامل کے نزدیک ایک چشمہ ہے جہاں ایک خوبصورت باغ اور پرندے ہیں۔ ملک بابر اعوان نے یہاں مختلف نسلوں کے پرندے پال رکھے ہیں، نزدیک ایک مندر ہے جو ہندوں کا نہایت مقدس مندر ہے۔اس چشمے کا پانی نیچے جا کر پھوار کی صورت گرتا ہے۔شام کے وقت یہاں بیٹھ کے دو پل خاموشی اور نیچے آبشاروں سے ایک مسحور کن احساس پیدا ہوتا ہے۔جی چاہتا ہے کہ یہ لمحات یہیں رک جائیں۔یہاں پر نزدیک ایک ایسی پگڈنڈی ہے جسے اراڑہ سے آنے والے لوگ استعمال کرتے ہیں اسے پل صراط کہتے ہیں دراصل یہ اتنی تنگ پگڈنڈی ہے کہ ذرہ سی لاپرواہی پر آپ نیچے ہزاروں فٹ گہرائی کی نظر ہوسکتے ہیں۔ وادی کی سیر نرسنگھ پھوار دیکھے بغیر نامکمل ہے۔یہاں آنے کے لئے جابہ کے علاوہ سوڈھی جے والی سے بھی رستہ آتاہے۔اس علاقے میں خطر ناک جنگلی جانوروں کی بہتات ہے جن میں چیتا وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں اس لئے اندھیرا چھانے سے پہلے یہاں سے نکلنا بہتر ہوگا کیونکہ رات کا سفر خطرے سے خالی نہیں۔ پیل خوشاب سے چکوال روڈ پر پیل واقع ہے۔پیل کی آبادی دس ہزار سے زیادہ ہے۔ پیل ونہار کی آخری حد پر واقع ہے البتہ انتظامی اعتبار سے پیل وادی سون سے متصل ہے۔ پیل میں خواجہ نوریؒ کی اولاد پیر اچھا ؒ کی کرامت سے ایک چشمہ رواں ہے جس سے پھنسی پھوڑے کی بیماری ختم ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ ٹریانوالہ چشمہ بھی ہے۔ پیل میں خواجہ نوریؒ کے علاوہ پیر اچھاؒ ،میاں بگھوؒ اور میاں بوٹاؒ کی خانقاہیں ہیں۔پیل میں حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ؒ ملتانی کی اولاد آباد ہے جو قصیٰ بن کلابؒ کی اولاد سے ہیں۔ اس خاندان کے بزرگ حضرت پیر علی قتالؒ ملتان سے تشریف لائے اور حضرت خواجہ نوری ؒ کے مزار کے قریب جھونپڑے میں ریاضت کی جھونپڑے کو سرائیکی میں پیل کہتے ہیں اسی مناسبت سے نام پیل پڑگیا۔ مولوی ولایت شاہ اور مولوی ہدایت شاہ بھی پیل میں آباد تھے آپ شعبہ درس و تدریس سے منسلک رہے۔ عبدالغنی ناز نامی شاعر کا تعلق بھی پیل سے بتایا جاتا ہے ۔ سجاد حسین ساجد: سجاد حسین ساجدؔ اعلیٰ پائے کے مصو رہیں ساجد نے وادی سون سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں اپنی کاوشوں کی نمائش منعقد کی جنہیں بے حد پسند کیا گیا۔آپ نے تصویروں میں علاقے کی عکاسی کی اور علاقہ وادی سون کو دنیا بھر میں ایک منفرد انداز میں پیش کیا۔ سجاد حسین ساجدملک کی بڑی اخباروں کے لئے کام کرتے ہیں جن میں خبریں ،نوائے جوہر وغیرہ شامل ہیں آپ کالم نویسی بھی کرتے ہیں اور اپنے مضامین میں وادی اور محروم طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پیل میں پھلکاریاں لوہے کی کڑاہیاں ،قینچی،استرے وغیرہ بنائے جاتے ہیں جو علاقہ بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ کچر کدھر اور پیڑاکھاریاں: پیل اور پدھراڑ کے درمیان خوشاب اسلام آباد شاہراہ پر یہ چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد ہیں۔یہاں پر چھوٹے چھوٹے کئی چشمے بہتے ہیں جو نیچے دامن کوہ تک چلے جاتے ہیں۔کچر کدھر اور پیڑاکھاریاں خوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ | پدھراڑ ضلع خوشاب کی حدود کاآغازہوتاہے ۔پدھراڑ کے گرد و نواع میں ذرخیز میدان ہیں جہاں کی زمین فصلوں کے لئے انتہائی ذرخیز ہے خوبصورت پہاڑی سلسلے بھی اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ پدھراڑضلع میں اہم سیاسی مرکزہے۔پدھراڑکئی سیاسی اورمذہبی شخصیات کی وجہ سے قومی سطح پر اپنی الگ پہچان رکھتاہے۔اگر یہ کہا جائے کہ ۱۹۷۰ ء سے وادی سون کی سیاست کا محور اور اختیار کل یہی گاؤں ہے تو غلط نہ ہو گا۔ ملک کرم بخش اعوان: ملک کرم بخش پاکستان کی مشہور شخصیت تھے آپ ۱۹۷۰ ء کے انتخابات میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور علاقے میں رفاہی کام کئے گورنمنٹ کالج نوشہرہ کیلئے خرید کر جگہ دی۔اس کے علاوہ رفاہی تنظیموں اور غریبوں کی مدد کے جذبہ سے سر شار تھے۔آپ نے تنظیم الاعوان کی بنیاد رکھی ۔پسماندگان میں ملک محمد بشیر نے ان کے سفر کو جاری رکھا۔ ملک نعیم خان اعوان: جس مشن کا آغاز ملک کرم بخش نے کیا اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ملک نعیم خان کا نام سر فہرست ہے۔ملک نعیم علاقے کی ہر دل عزیز شخصیت ہیں جس کا واضح ثبوت ملک نعیم خان کی ۱۹۸۵،۱۹۸۸،۱۹۹۳ کے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی ہے۔آپ وفاقی وزیر بھی رہے۔آپ نے علاقے کو تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے دل و جان سے کوشش کی اور اہلیان خوشاب کے دل جیت لئے۔آپ نے وادی سون میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے انقلاب لایا بدقسمتی سے ان کی خرابی صحت نے ان کے کئی منصوبے مکمل نہ کرنے دئیے وگرنہ آج حالات مختلف ہوتے۔ ملک محمد بشیر اعوان: آپ ملک کرم بخش اعوان کے صاحبزادے ہیں آپ رکن صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ آپ نے علاقے کی ترقی کے لئے بہت کام کیااور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ملک بشیر اعوان تنظیم الاعوان کے چئیرمین رہے۔آپ کی اعوان قوم کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ملک شاکر بشیر اعوان: وادی سون کی ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت،فخر اعوان ملک شاکر بشیر اعوان پدھراڑ کے مشہور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس گھرانے نے خوشاب کی سیاست پر شروع دن سے حکمرانی کی ہے لیکن جو اعزاز ملک شاکر بشیر اعوان کوا ﷲپاک نے بخشا ہے لوگ صرف اس کی حسرت دل میں لیئے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ملک شاکر بشیر خوشاب کے ضلعی نائب ناظم منتخب ہوئے اور خوشاب کی ترقی کے لئے دن رات کام کیا،۲۰۰۲ کے انتخابات میں آپ کے چچا نور پور تھل کے حلقہ سے انتخاب لڑا اور پچاس ہزار سے زائد ووٹ لے کرٹوانہ گروپ پر یہ واضح کر دیا کہ اب خوشاب کی سیاست میں ان کے دن گنے جا چکے ہیں اور ہوا بھی یوں ہی ۲۰۰۸ کے انتخابات میں ملک شاکر بشیر نے ٹوانہ گروپ کو شکست دے کر خوشاب پر اعوان برادری کی اجاراداری قائم کردی۔ محترمہ سمیرہ ملک: محترمہ سمیرہ ملک نواب آف کالا باغ کی پوتی اور سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری کی بھانجی ہیں۔آپ کی شادی پدھراڑ میں ڈی سی ملک طاہرسرفراز سے ہوئی۔آپ نے ۲۰۰۲ ء میں علاقے کی مشہور شخصیت ملک عمر اسلم کو شکست دے کر سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچایا۔محترمہ سمیرہ ملک وفاقی وزیر منتخب ہوئیں۔ محترمہ سمیرہ ملک نے ۲۰۰۸ ء کے انتخابات میں ایک بار پھر ملک عمر اسلم اعوان کو زبردست مقابلے کے بعد شکست دی اس مقابلے میں وہ اپنے ترقیاتی کاموں کی بدولت کامیاب ہوئیں وگرنہ ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ملک میں سخت ناکامی سے دو چار ہوئی۔محترمہ ایسے حالات میں بھی کامیاب ہوئیں اور عوام کی خدمت کے لئے اﷲ پاک نے ایک اور موقعہ عطا کیا ۔ ان کے علاوہ ملک جاوید اعوان بھی اب سیاست کے میدانوں میں بڑے معرکے سر کر رہے ہیں آپ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے آپ کو ملک بشیر اعوان کی وفات کے بعد تنظیم الاعوان کا صدرمنتخب کیا گیا ہے ۔ملک عمر اسلم اعوان بھی ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ شیعہ علماء میں مولوی مہدی حسن علوی لکھنو سے تعلیم حاصل کر کے آئے۔جبکہ ممتاز حسین اعلیٰ پائے کے ذاکر تھے۔مولوی عطامحمد مشہور سنی عالم ہیں۔موجودہ نسل میں ماسٹر نصیراحمد نصیر شاعر ،ذاکر ہیں۔ دامن کوہ کی آبادیاں مہاڑ سون کے دامن میں اعوان قوم سمیت متعدد برادریاں آباد ہو چکی ہیں اور کئی چھوٹے بڑے گاؤں ہیں ۔ان آبادیوں کا وادی سے براہ راست تعلق نہ سہی لیکن کسی نہ کسی طرح یہ وادی کا حصہ ہیں کیونکہ کبھی یہی لوگ وادی پر قابض تھے یا ان کی آّ ماجگاہ تھی کچھ لوگ محض پہاڑوں کو چھوڑ کر میدانوں کی جانب نقل مکانی کر آئے۔ کٹھہ: جنجوعہ راجگان کی آماجگاہ کٹھہ خوشاب اسلام آباد شاہراہ پر دامن کوہ میں واقع ہے کٹھہ کی آبادی پندرہ ہزار سے زائد ہے،یہاں کوئلے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ چشمہ ست گھراور چشمہ اچھڑا کے پانی سے یہاں فصلیں اورسبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔یہاں تاریخی اہمیت کا حامل ست گھرانہایت مشہور ہے۔کٹھہ میں ٹماٹر اور پیاز کی کاشت نے یہاں کے کسانوں کی تقدیر ہی بدل ڈالی یہ دونوں سبزیاں اگیتی کاشت ہوتی ہیں جس سے ملک بھر میں ان کی خصوصی مانگ ہوتی ہیں۔ منگوال: کٹھہ سے للہ انٹر چینج شاہراہ پر منگوال کا چھوٹا سا گاؤں آباد ہے جس میں بابا مانگوؒ کی اولاد آباد ہے منگوال میں بابا مانگو ؒ کادربار پرانا سماں والی چاڑھی کے قریب ہے۔ آبادی ۵ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔بنیادی سہولتوں سے آراستہ منگوال کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے ایک تو سمینٹ فیکٹری سے آلودگی دوسرا سیم اور تھور آلود زمین مطلوبہ مقدار میں فصلیں نہیں دے پاتی۔ منگوال اور دئیوال کو رکھ شاہ بھیوٹ کے چشمے بھیوٹ گڑھ ،کلیرانوالہ ،پکی والہ اور انٹر والہ سیراب کرتے ہیں۔معروف سماجی شخصیت ملک حاجی احمد اعوان کا تعلق منگوال سے ہے۔ اراڑہ: کٹھہ سے متصل پہاڑوں کے دامن میں چھوٹی سی آبادی اراڑہ آباد ہے جو داخلی نلی ہے۔ یہاں سے لوگ وادی میں پیدل سفر کرتے ہیں پرانے زمانہ میں براستہ چامل اراڑہ خوشاب تک لوگ پیدل سفر کرتے تھے۔ یہاں کی اہم شخصیات میں پنجابی افسانہ نگار ملک شاہ سوار اور پنجابی شاعر ملک محمد اصغر اعوان شامل ہیں۔ ناڑی: خوشاب سے اسلام آباد شاہراہ کے ساتھ ناڑی گاؤں آباد ہے یہاں کی آبادی آٹھ ہزار سے زائد ہے اور یہاں کی بیشتر آبادی اعوان قوم پر مشتمل ہے۔ نلی: ناڑی کے شمال مغرب اور خالق آباد کے شمال مشرق میں نلی گاؤں آباد ہے نلی کی آبادی آٹھ ہزار کے قریب ہے۔ رُکھلہ: رکھلہ منڈی چار ہزار آبادی کا چھوٹاسا گاؤں عالمی سطع پر کوہ نمک کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے یہاں کھیوڑہ کے بعد نمک کی دوسری بڑی منڈی ہے۔ وڑچھا: دنیا میں نمک کے دوسرے بڑے ذخائر وڑچھا کے مقام پر ہیں ۔آٹھ ہزارآبادی کا یہ گاؤں تاریخ کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ہزاروں سال پرانی جنگ اسی گاؤں کے قریب ہوئی ۔قدرتی معدنیات کی دولت سے مالا مال یہ گاؤں بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ دامن کوہ کے درجن کے قریب گاؤں ایسے ہیں جہاں ابھی تک ہائی سکول کی سہولت نہ ہونے سے علاقے کے نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں پر لائم سٹون ،جپسم،نمک،اور کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور تیل کی تلاش کی جائے تو ممکن ہے کوئی ذخیرہ ہاتھ آجائے۔ وڑچھا کی مشہور گوتیں ددوال،منگیال،پھلیال وغیرہ آباد ہیں۔یہاں کبھی صدیوں پرانی عمارتیں تھیں جو ہماری بے حسی سے زمانے کی دست و برد کا شکار ہویہاں پیر جند وڈاشاہ ؒ کا دربار ہے جہاں ہر سال ۲۲ ماگھ عرس ہوتا ہے۔ چوھا:(CHOHA) چوھا دامن کو کا خوبصورت ترین گاؤں ہے جہاں جدید طرز تعمیر کے نادر نمونے نظر آتے ہیں،یہاں اعوان قوم کی مشہور گوتیں ملکال،پھتیال،چنگے خیل،خانوخیل ہیں۔ یہاں صوفی بزرگ میاں یار محمدؒ کا دربار ہے ،جہاں ہر سال دیسی گھی سے دیگیں پکائی جاتی ہیں اور اس میں ہر سال ایک دیگ کا اضافہ کیا جاتا ہے اب یہ تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ ڈھوکڑی: جبی کے غرب میں ڈھوکڑی گاؤں ہے یہاں بھی اعوان قوم آباد ہے یہاں سے بیشتر لوگ نقل مکانی کر کے سرگودھا کے مضافات میں آباد ہوئے۔ جبی: دامن کوہ کا خوبصورت گاؤں جبی جوہر آباد کے مغرب میں واقع ہے۔یہاں اعوان قوم اکثریت میں ہے یہاں نزدیک چنکی کے مقام پرپائنیرسیمنٹ فیکٹری ہے۔یہاں کی مشہور شخصیت پیر مہر ضیاگیلانی ہیں۔ یہاں پیر اقبال ؒ گیلانی اور پیر شیرگیلانی ؒ کا دربار ہے۔ لمحہ فکریہ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ٹو ارزم آف پاکستان کی ریکارڈنگ کے دوران پی ٹی وی کے نمائندے وجاہت ملک نے صرف عورتوں کے کام کرنے اور دو دو گھڑے سر پر اٹھانے کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے سوچنے پر زوردیا،موصوف کی فکر بجا لیکن ہم ان کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاقے میں آج بھی اسلامی اقدارکا بول بالا ہے اورصدیوں سے مروج نظام پر عورتوں کو کوئی اعتراض نہیں یہاں عورتیں اپنے ہاتھ سے کام کو ترجیح دیتی ہیں اور یہی وادی کی ثقافت ہے۔آپ وادی کے بڑے سے بڑے گھرانے کو دیکھ لیںآپ کو نوکر شاہی نظر نہیں آئے گی،خواتین گھر کا کام کاج خود کرتی ہیں۔دوسری بڑی وجہ علاقہ بارانی زمینوں پر مشتمل ہے اور بد قسمتی سے علاقے میں صنعت نام کی کوئی چیز نہیں علاقے کے جوان ملک کو کونے کونے میں مسلح افواج ،کارخانوں، صنعتی مراکز میں محنت مشقت میں مصروف عمل ہیں،آپ کو ہر گھر میں بزرگوں کے علاوہ خال خال ہی نوجوان ملیں گے۔ایسی صورت میں لمحہ فکریہ ان شہروں کے لئے ہے جہاں مرد جینے کو ترستے ہیں اور مردانگی ناشد۔ | نغمہ سُون
آڈھولا سون وکھاں ملکاں دی لاری تے دنیا پئی ریس کرے اعواناں دی یاری تے
میں اتھاں تے ڈھول کٹھوائی اے ڈاڈھڈی ریساں نال اساں لائی اے رلے مرن جیون دی قسم چا چائی اے
میں اتھاں تے ڈھولا مڑدال اے راہندا ہر ویلے اوہدا ای خیال اے موہڈے رکھدا جیھڑاکالی شال اے
میں اتھاں تے ڈھولا جابہ موڑ اے سانوں سجناں دی بہوں لوڑ اے ادھ راہے نہ ونجے مین چھوڑ اے
آڈھولا سون وکھاں ملکاں دی لاری تے دنیا پئی ریس کرے اعواناں دی یاری تے
شجرہ نسب شاہ دل اعوان(مصنف) شاہ دل اعوان بن عطا محمد بن غلام محمدترکاؔ بن شاہ نواز بن امیربازبن شیرباز بن عطا محمد بن فلک شیر بن الہیٰ بخش بن فیض بن شیر باز بن سارنگ بن سجاول بن حبیب بن امیر بن میاں محمد ممدال بن قائم دین بن اﷲ دتہ بن مرَد بن ہڑپال بن پندڑ بن جسا بن ڈیوس بن کہلان بن ایاد بن مراد خان(مرداول)بن انور بن طور خان توری بن حسن دوست عرف سندروج ابن احمد علی لقب بدر الدین عرف بِدھو ابن عبداللہ کنیت ابو احمد لقب گوہر شاہ عرف گولڑہ( جد اعلیٰ گولڑہ اعوان)ابن عون قطب شاہ قادریؒ بغدادی ثمہ دامغانی (انگہ سون سکیسر )ابن یعلیٰ ابن ابو یعلیٰ حمزہ ابن طیار ابن قاسم ابن علی ابن جعفر ابن حمزہ اکبر مدنی ثمہ بغدادی ابن حسن ابن عبید اللہ ابن قمر بنی ہاشم حضرت عباس علمدار، شہیدِ وفا ، ساقی اہل بیت اطہار ؒ ابن امیر المومنین ، امام الاشجعین اسد اللہ و اسد رسول اللہﷺ، شیر خدا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ابن ابی طالب ہاشمی قریشی ۔ حوالہ جات وادی سون سکیسر ملک محمد سرور اعوان وادی سون سکیسر احمد غزالی مناقب سلطانی صاحبزادہ سلطان حامدؒ |
|
|
|
نصف وادی سون کا تفصیلی تعارف پڑھ کر خوشی ھوئی ،وادی کے بارےمیں اتنی عمدہ معلومات کی فراھمی پر محترم مصنف کا شکریہ ، امید ھے کہ وہ وادی سون کے باقی ماندہ حصوں کے بارے میں بھی جلد اپنی معلومات سے سرفراز فرمائیں گے
جواب دیںحذف کریںگاؤں کھبیکی
جواب دیںحذف کریںگاؤں کھبیکی کا ایک شاندار ماضی ہے۔ اس کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ پرانا گاؤں کھبکی سوڈھی جے والی کچی سڑک پر پہاڑی سلسلہ کی چوٹی پر واقع ہے۔ اب بھی پرانے کھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے یہاں ڈاک بنگلہ ہوتا تھا۔ جہاں پر ضلع کے افسر صاحبان جب کبھی وادی سون سکیسر کادورہ کرتے تو وہ یہاں قیام کرتے تھے لیکن قیام پاکستان کے وقت فسادات کے دوران چند شر پسندوں نے اسے مسمار کر دیا۔ موجودہ گاؤں کھبیکی کاایک خاص پس منظر ہے۔
پس منظر
پرانے گاؤں کھبیکی میں ملک محمداعظم خان برسراقتدار تھا۔ ان کے نو بیٹے تھے۔ جن میں ملک عالم شیر عرف ملک شیر بہت بہادر مدبر اور اعلی پایہ کا منتظم تھا۔ موجودہ گاؤں کھبکی کے میدانی علاقہ کے کچھ حصہ پر موضع مردوال کا قبضہ تھا۔ ملک شیر نے سوچا کہ کیوں نہ ان کو یہاں سے بے دخل کیا جائے۔ انہوں نے سکیم بنائی کہ دو جوڑا کبڈی کا بندوبست کیا جائے۔ لہذا وہ پوری تیاری اسلحہ سے لیس ہو کر ڈھول ڈھمکااور جوانوں کے ساتھ جائے مقررہ پر پہنچا۔ کبڈی کرنے والی جوڑی کو سمجھایا کہ موضع مردوال کے کسانوں نے جہاں اپنی بندوقیں اکٹھی کر رکھی ہیں۔ کبڈی کے دوران ان پر قبضہ کیا جائے۔انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ دوسرے آدمیوں کو بھرپور حملہ کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کسانوں کا تعاقب کیا یہاں تک کہ وہ مردوال کے نزدیک قبرستان پوچھلی والاگستان تک جا پہنچے وہاں مردوال کے مردوزن نے منت سماجت کی۔ تعاقب رک گیا ملک شیرکا گھوڑا بھی زخمی ہو گیا۔ ملک شیر نے حکم دیا کہ اس زخمی گھوڑے کو گھسیٹو اور شمال میں دور پہاڑی تک لے جاؤ وہاں تک موضع کھبکی کا قبضہ ہو گیا اور وہ جگہ ملک شیر دے ڈنگے دھڑے کے نام سے آج تک مشہور ہے۔ اس حد بندی کو مضبوط بنانے کے لئے انہوں نے موضع مکڑمی اورموضع دھدھڑ کی چوکیاں Outpost قائم کیں جو کہ آج کل پورے گاؤں کی شکل میں موجود ہیں۔
موضع کھبکی کو موجودہ محل وقوع پرآباد کیا۔ ملک محمد اعظم خان نے بیس بائیس بیگھہ زمین پر گاؤں کا تالاب بنایا۔ اسی گاؤں میں بڑی جامع مسجد بنائی اور پرانی کھبکی کو کلیتہ خیر باد کہا۔ اس نے جملہ آبادی کو یہاں آباد کیا اور ان کے تحفظ کا مناسبب بندوبست کیا اور یوں مغربی سرحدیں محفوظ ہو گئیں۔ اب ملک شیر مشرقی جانب متوجہ ہوا۔ موضع کھوتکّا ( احمد آباد) میں آباد راجہ قوم کو للکارا اور وہ کٹھہ سگھرال میں جا کر آباد ہو گئے اور مشرق میں دو چوکیاں بھناکہ اور جھنگے والا قائم کیں۔ موضع جابہ میں اپنا خاندان برسرقتدار کیا۔ موضع بھناکہ میں اپنے بھتیجے ملک نورخان ولد شیر شاہ کو اپنی برادری اورمزارعہ کے ساتھ آباد کیا۔کٹھہ سگھرال کے راجاؤں نے بھناکہ گاؤں پر حملہ کر دیا اور ملک نور خان اعوان کو قتل کر دیا۔ ملک شیر نے مسلح ہو کر گاؤں کٹھہ سگھرال پر حملہ کر دیا اور دو راجاؤں کے سر قلم کر کے اپنے گاؤں کھبکی لے آیا۔ اس طرح مشرقی سرحدیں مضبوط ہو گئیں۔ اب ملک شیر نے سون اور تپہ کو فتح کرنے کی ٹھان لی اور وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔ یعنی بائیس گاؤں سون اور گیارہ گاؤں تپہ اس کے زیر نگیں آ گئے۔ ( تاریخ بہت لمبی ہے پھر کبھی سہی) اور انہوں نے ہر فصل پر فصلانہ (خراج) ایک ٹوپہ ( تین سیر) فی ہل جنس لینے کا عہد و پیمان کیا۔ گاؤں کھبکی میں ایک کوٹ (قلعہ) تعمیر کیا اورعلاقہ کے تحفظ کے لئے مناسب اسلحہ بارود رکھا جاتا۔ زمانے کی چیرہ دستیوں سے کوٹ منہدم ہو گیا اور مکان ہٹا لئے گئے۔
Back to Conversion Tool
Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home
وادی سون میں ترقیاتی کام
جواب دیںحذف کریںتحریر : شوکت محمود اعوان
وادی سون کی تقدیر اب بدلنا چاہتی ہے۔ لیکن انڈر گراؤنڈ اللہ ہی بہت بہتر جانتا ہے جب کبھی تقدیر بدلتی ہے تو علاقے کو فائید ہ کم اور اس تقدیر کو بنانے والی شخصیات کو فائد ہ زیادہ ہوتا ہے۔ جو ضرورتیں ہیں علاقے کی ۔ان کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، سکولوں کی تعمیر اور کچھ ایسے کارخانے جو بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر سکیں۔ پاکستان میں جب بھی ترقیاتی کام ہوتا ہے زیادہ پیسے کرپشن رشوت اور حرام خوری کی شکل میں ضائع ہو جاتاہے ۔ اور یہ پاکستان بے چارے کی بدترین تاریخ ہے۔ وادی سون کس طرح اس اذیت سے بچ سکتی ہے۔ شائد دوست خوش ہوں کہ اس طرح کچھ مسائل حل ہو جائیں گے کنہٹی میں کام شروع ہے لیکن کنہٹی میں کیا تبدیلی آئے گی کنہٹی کا سکول اپ گریڈ نہیں ہو سکے گا۔ لوٹ مار کا ایک نیا طریقہ شروع ہو جائے گا ترقیاتی کاموں سے سے مراد ایسے کا م جو لوگوں کی قسمت بدلیں ۔خیر علاقے کے لوگ بہتر سمجھ سکتے ہیں اور اچھی طرح سے سوچ رکھتے ہیں بہتر رائے دے سکتے ہیں کچھ لوگوں کی رائے کہ خوشاب میں خوشاب والوں کو فائدہ نہیں ملے گا باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو زیادہ مفاد حاصل ہو گا ۔ یہ دور مقاصد حاصل کرنے کا ہے اور پھر اس کے مطابق ہی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔
اپنی رائے کا ضرور اظہار کیجئے۔ تاکہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے۔ دوستوں کی رائے ہماری رائے سے مقدم ہے۔
شوکت محمود اعوان ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
www.oqasa.org
Back to Conversion Tool
وادی سون میں ترقیاتی کام
جواب دیںحذف کریںتحریر : شوکت محمود اعوان
وادی سون کی تقدیر اب بدلنا چاہتی ہے۔ لیکن انڈر گراؤنڈ اللہ ہی بہت بہتر جانتا ہے جب کبھی تقدیر بدلتی ہے تو علاقے کو فائید ہ کم اور اس تقدیر کو بنانے والی شخصیات کو فائد ہ زیادہ ہوتا ہے۔ جو ضرورتیں ہیں علاقے کی ۔ان کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، سکولوں کی تعمیر اور کچھ ایسے کارخانے جو بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر سکیں۔ پاکستان میں جب بھی ترقیاتی کام ہوتا ہے زیادہ پیسے کرپشن رشوت اور حرام خوری کی شکل میں ضائع ہو جاتاہے ۔ اور یہ پاکستان بے چارے کی بدترین تاریخ ہے۔ وادی سون کس طرح اس اذیت سے بچ سکتی ہے۔ شائد دوست خوش ہوں کہ اس طرح کچھ مسائل حل ہو جائیں گے کنہٹی میں کام شروع ہے لیکن کنہٹی میں کیا تبدیلی آئے گی کنہٹی کا سکول اپ گریڈ نہیں ہو سکے گا۔ لوٹ مار کا ایک نیا طریقہ شروع ہو جائے گا ترقیاتی کاموں سے سے مراد ایسے کا م جو لوگوں کی قسمت بدلیں ۔خیر علاقے کے لوگ بہتر سمجھ سکتے ہیں اور اچھی طرح سے سوچ رکھتے ہیں بہتر رائے دے سکتے ہیں کچھ لوگوں کی رائے کہ خوشاب میں خوشاب والوں کو فائدہ نہیں ملے گا باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو زیادہ مفاد حاصل ہو گا ۔ یہ دور مقاصد حاصل کرنے کا ہے اور پھر اس کے مطابق ہی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔
اپنی رائے کا ضرور اظہار کیجئے۔ تاکہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے۔ دوستوں کی رائے ہماری رائے سے مقدم ہے۔
شوکت محمود اعوان ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
www.oqasa.org
Back to Conversion Tool
ریخ
جواب دیںحذف کریںقطب شاہی علوی اعوان
مستند قدیم عربی، فارسسی، اور انگریزی کتب کی روشنی میں
تحریر
محمد کریم خان اعوان
ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان، سنگولہ، راولا کوٹ آزا د کشمی
03129206639
03335258450 Malik Tariq Awan , chohr chowk, Rawalpindi
051-5558320 Ahmad book corporation iqbal road committee chowk rawalpindi
شائع ہو گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ مختصر تاریخ علوی اعوان معہ ڈائرکٹری بھی شائع ہو گئی ہے۔ جس میں چیف کوارڈینیٹرز اور کوارڈینیٹرز کے فون نمبر دیئے گئے ہیں۔ یہ کوارڈینیٹر اپنے اپنے علاقوں میں تاریخی کام کرتے ہیں اور پھر کتاب کی اشاعت کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری ہے۔ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ ان دونوں کتابوں کو خریدیں تاکہ اگلی کتاب تاریخ الانساب جس میں شجرہ نسب، گوتیں اور علاقے شامل ہوں گے۔ اس کے لئے اس ڈایریکٹری کا مطالعہ اور اپنے پاس رکھنا سب اعوانوں کے لئے ضروری ہے۔ رابطہ کرکے اپنی اپنی کتاب منگوالیں۔
شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری
ادارہ تحقیقی الاعوان پاکستان
03009847582
www.oqasa.org
Back to Conversion Tool
Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu H
ریخ
جواب دیںحذف کریںقطب شاہی علوی اعوان
مستند قدیم عربی، فارسسی، اور انگریزی کتب کی روشنی میں
تحریر
محمد کریم خان اعوان
ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان، سنگولہ، راولا کوٹ آزا د کشمی
03129206639
03335258450 Malik Tariq Awan , chohr chowk, Rawalpindi
051-5558320 Ahmad book corporation iqbal road committee chowk rawalpindi
شائع ہو گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ مختصر تاریخ علوی اعوان معہ ڈائرکٹری بھی شائع ہو گئی ہے۔ جس میں چیف کوارڈینیٹرز اور کوارڈینیٹرز کے فون نمبر دیئے گئے ہیں۔ یہ کوارڈینیٹر اپنے اپنے علاقوں میں تاریخی کام کرتے ہیں اور پھر کتاب کی اشاعت کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری ہے۔ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ ان دونوں کتابوں کو خریدیں تاکہ اگلی کتاب تاریخ الانساب جس میں شجرہ نسب، گوتیں اور علاقے شامل ہوں گے۔ اس کے لئے اس ڈایریکٹری کا مطالعہ اور اپنے پاس رکھنا سب اعوانوں کے لئے ضروری ہے۔ رابطہ کرکے اپنی اپنی کتاب منگوالیں۔
شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری
ادارہ تحقیقی الاعوان پاکستان
03009847582
www.oqasa.org
Back to Conversion Tool
Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu H
سلام علیکم
جواب دیںحذف کریںسلطان مھدی رح کا جہاں دربار ہے اس کا پرانا نام بھسین ہے تو بھسین کی تاریخ سے اگر کوئی واقف ہے تو برائے مہربانی مطلع فرمائے
آپ کا بہت بہت مشکور ہونگا
مبشرحسن
سلام علیکم
جواب دیںحذف کریںسلطان مھدی رح کا جہاں دربار ہے اس کا پرانا نام بھسین ہے تو بھسین کی تاریخ سے اگر کوئی واقف ہے تو برائے مہربانی مطلع فرمائے
آپ کا بہت بہت مشکور ہونگا
مبشرحسن
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںاسی سلسلے کے ایک معروف بزرگ حضرت شاہ بلاول ؒ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریںبلاول نام
Name:Bilawal
لڑكا جنس
Sex: Male
سندھ کے ایک صوفی بزرگ، جیتا ہوا ہونا ،فتح مند ہونا ، کامیاب ہونا معنی
A MOST FAMOUS SAINT OF SINDH IN AURANG ZAIB AALAMGIR
عربی زبان
Language: Arabic
6 لکی نمبر
Lucky Number: 06
تحقیق و تحریر : پروفیسرڈاکٹرسیّد مجیب ظفرانوارحمیدی
شعبۂ تعلیم ، حکومتِسندھ
پاکستان
BS 20
نورخنال خاندان کی اہمیت
جواب دیںحذف کریںہر گاؤں میں دو اختلافی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ کھبیکی گاؤں میں بھی ہمیشہ سے دو پارٹیاں رہی ہیں۔ ایک ملک مظفر خان اور شاہ محمد ملک کی پارٹی۔ اور ان کے مقابلے پر شہر کی دوسری شخصیات رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد ریاض، پیرزادہ بہاول شیر گیلانی، ملک اللہ داد برکھا۔ لعل خان بزیال،کینے خاندان، ملکال، مغلال، الیرال خاندان، البتہ ملک مظفر خان کے ساتھ ساتھ بہت سے خاندانوں کے رشتے وغیرہ ہیں۔ جس کی وجہ سے اقتدار ہمیشہ نورخنال خاندان میں رہا۔ اور وہ اقتدار کو قابو میں رکھنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے آ رہے ہیں۔ اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لئے جو بھی قوانین اور طریقہ کار ہوتے ہیں و ہاں پر عمل پذیر ہوتے رہے ہیں۔ مخالفین کو قتل کرانا، ان کے خلاف سازشیں کرنا، ان کو اپنے ساتھ ملانا کبھی صلح کر لینا اور کبھی دشمنی پر اتر آنا ۔سازشوں کا ایک وسیع سلسلہ جاری رکھنا ۔ خاص خاص لوگوں کو سازشوں سے تباہ و برباد کرنا ۔زمین کے ایک ایک انچ کے لئے مخالف کے خاندانوں کے خاندان تباہ کر دینا غرض ان میں یہ تمام صلاحیتیں موجود رہی ہیں۔ اور اب بھی ہیں۔ اگرچہ پچھلے بے شمار سالوں سے حکومتی اقتدار ختم ہو گیا ہے لیکن صدیوں کے اقتدار کے اثرات باقی ہیں۔ گاؤں سے سینکڑوں بچے تعلیم یافتہ ہو کر بڑی بڑی اعلیٰ پوسٹوں پر متعین ہو چکے ہیں جدید تعلیم نے ان کے دماغوں کو آمریت، شدادیت، نمرودیت اور ظالمانہ کردار سے خوفزدہ کر دیا ہے ۔ وہ ظلم و نا انصافی کے خلاف ہیں۔ لہذا ان کے اقتدار کوو ہ لو گ تسلیم نہیں کرتے۔ البتہ شہر کے گرداگرد اور تمام علاقے میں ابھی تک ان کا اثر ورسوخ باقی ہے۔ اور لوگ سیاسی محبت کی خاطر ابھی تک اس خاندان کیلئے اپنی قربانیاں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے پر کئی سیاسی گروپ پیدا ہو چکے ہیں۔ لیکن زمین کے ایک وسیع سلسلے نے اس علاقہ میں ان کو تاحال سردار بنا رکھا ہے۔ہر قوم میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ اس خاندان میں لوگوں سے مدد کرنے کا جذبہ بھی موجود ہے جو جزوی طور پر اثر انداز رہتا ہے۔ اگرچہ گاؤں میں بڑے بڑے خاندان آباد ہیں لیکن وہ اجتماعی طاقت سے محروم ہیں۔ البتہ اب حالات بدل چکے ہیں۔
نورخنالوں نے جو قتل کرائے۔ ان میں گھیبہ، شیر علی، خدابخش، اس کی ساس، ممند گھرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ واقعات بھول جا چکے ہیں۔ یہ دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔ ایک اہم تاریخی نقطہ یہ باتیں یہ تام اس زمانے میں ایسی ہی رائج تھے۔ یہ ماضی ہے۔ تاریخ بن چکا ہے ۔اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ اس زمانے کی دشمنیاں اب دوستی میں بدل چکی ہیں۔ نہ وہ لوگ رہے ہیں۔ اور نہ وہ دشمنیاں رہی ہیں۔ اس زمانے میں باہمی دھاڑیں پڑتی تھیں۔ دھاڑ والے دوسرے گاؤں کے مویشی وغیرہ لے جاتے تھے۔
جواب دیںحذف کریںعلامہ محمد یوسف جبریلؒ کی علمی ادبی خدمات کو یاد رکھا جائے گا
ٹیکسلا (نمائندہ )
علامہ محمد یوسف جبریل عصر ِحاضر کی بلند پایہ ادبی و علمی شخصیت تھے۔ ان کی تصانیف نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے دینِ اسلا م کی سربلندی کے لئے نمایاں کردار ادا کیا۔ رہتی دنیا تک ان کی علمی، ادبی اور روحانی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ موصوف کی تحریر کردہ تصانیف جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔ ان کی وفات سے دنیا ایک عظیم مفکر سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کے فرزند بلاشبہ مرحوم کے ادبی مشن کو جاری رکھ کر ان کے ادھورے مشن کو جلا بخش رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار واہ کینٹ میں معروف ادبی علمی اور روحانی شخصیت علامہ یوسف جبریل کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرینس سے منیر حسین شاہ، اشفاق حسین ،محمد ماجد ، گوہرالرحمن،خواجہ محمد ایوب عرفان کریمی، جاوید ملک، اظہر جاوید، علی محمد ، افراسیاب اعوان اور محمد حسین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ مقررین نے علامہ محمد یوسف جبریلؒ کی ادبی خدمات کے حوالے سے ان کے عرس پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ دنیائے انسانیت کو الحاد سے بچانے اور جادہء اسلام پر گامزن ہونے کے لئے مرحوم نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ اقوامِ عالم میں بلند مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے آخری دم تک قلم کی حرمت کا پاس کیا اور حق اور سچ کے علم کو بلند کرنے کے لئے ہمیشہ اپنا احسن کردار ادا کیا‘‘۔
www.oqasa.org
yousuf gabriel foundation pakistan
کھبکی
جواب دیںحذف کریں1 نومبر 1969
محترم جناب جبریل صاحب دام اقبالہ،
معرفت سکول فار الیکٹریشنز 4 دیو سماج روڈ لاہور
السلام علیکم!
خیال بہت دنوں سے تھا کہ لاہور آ کر شرفِ ملاقات ہوتا ۔ لاہور پہنچا بھی لیکن مل نہ سکا اور یہ چند روزہ قیام میں صبح و شام افراتفری میں گزرا۔ امیر عبداللہ کیس جو کہ سپرد ہو چکا ہے ۔ ہوم سیکرٹری کے پاس اپیل دائر ہے اور کوشش ہے کہ کیس واپس عدالت میں چلا جائے۔شیر محمد عدالت جوہرآباد سے خارج ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ سینئر جج کے پاس کوشش کر رہا ہے۔ میری مصروفیت آپ کو معلوم ہی ہے ۔ اس لئے اس مقدمہ کی باگ ڈور میاں محمد سیکرٹری کے ہاتھ میں ہے اور نہایت خوش اسلوبی اور جفاکشی سے یہ کام سرانجام دے رہا ہے اور دیتارہے گا ۔ اپنی کہیئے ! راولپنڈی والا مقدمہ کہاں تک پہنچا ہے ؟
شہر میں حسبِ معمول آئے دن نئے نئے کارنامے رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ حزب مخالف کچھ ؐ مخبوط الحواس سے ہو چکے ہیں۔
جبریل صاحب ! در حقیقت آ پ کو معلوم ہی ہے کہ میں خود اس ٹیڑھی راہ پر نہیں آیا بلکہ لایاگیا ہوں ۔اب تو صرف حالات اور وقت کی نزاکت کے مطابق ہی کہیں بھی کوئی قدم انداز ہوتا ہے۔ واقعی اس راہ پر کانٹے اور روڑے اکثر اوقات نظر آتے ہیں ۔ بارہا پیچیدہ مصروفیات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
اس راہ پر ہزاروں عہد ہوتے ہیں اور لاکھوں عہدو پیمان بھینٹ چڑھ جاتے ہیں لیکن بقول :۔
'؎تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
گزارے جاتا ہوں ۔
گھر میں خریت ہے۔ کبھی پھر لکھوں گا۔
رخصت
بہاول شیر گیلانی
1 نومبر 1969
یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
www.oqasa.org