جمعرات، 11 نومبر، 2010

مشرق وسطیٰ، ’یہودی بستیاں امن مذاکرات میں رکاوٹ

مشرق وسطیٰ، ’یہودی بستیاں امن مذاکرات میں رکاوٹ‘

اسرائیل کی طرف یہودی بستیوں کی تعمیر کرنے کا اعلان انتہائی مایوس کن ہے: امریکہ

امریکی صدر براک اوباما نے انڈونیشیا میں مشرقی یروشلم میں تیرہ سو یہودی بستیوں کی تعمیر کے اسرائیل کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی دونوں مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ امن مذاکرات میں پیش قدمی کے لیے اسرائیلی کا یہودی بستیوں کی تعمیر کا فیصلہ مدد گار نہیں ہے۔

اسرائیل نے چند دن قبل مشرقی یروشلم کے علاقے میں تیرہ سو مزید مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

اقوام متحدہ اور امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقوں میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف یہودی بستیوں کی تعمیر کرنے کا اعلان انتہائی مایوس کن ہے اور اس سے فلسطینیوں سے براہ راست مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےاسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو سے کہا کہ یہ معاملہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ امن مذاکرات میں تعطل کو ختم کرنے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے اور اسی معاملے پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہ اعلان مذاکرات کے سلسلے کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں