بش کے خلاف کارروائی کی جائے: ایمنسٹی
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر جارج بش کے خلاف جرم کے ارتکاب کی تحقیقات کی جائیں۔
ایمنسٹی نے یہ مطالبہ اس وقت کیا ہے جب جارج بش نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ قیدیوں سے تفتیش کے ایک متنازعہ طریقے ’واٹر بورڈنگ‘، جس میں ڈوبنے کا احساس پیدا ہوتا ہے، کے استعمال سے برطانیہ میں زندگیاں بچانے میں مدد ملی۔
انھوں نے کہا کہ ’واٹر بورڈنگ‘ کے استعمال سے لندن میں ہیتھرو کے ہوائی اڈے اور علاقے کنیری وارف پر حملے کے منصوبے کی تفصیل ملزمان سے حاصل ہوئی تھی۔
امریکہ کے سابق صدر جارج بُش کی یاداشتوں پر مبنی کتاب(Decision Point) انگریزی روزنامے ’دی ٹائمز‘ میں سلسلہ وار شائع کی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینیئر ڈایریکٹر کلوڈیو کورڈون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تشدد کے متنازعہ کے طریقوں کے استعمال کرنے کی منظوری دینے کے اعتراف کے بعد بش اور دیگر امریکی حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔
’بین الاقوامی قانون کے تحت سابق صدر کے اعتراف کے بعد امریکی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ تشدد کے متنازعہ طریقے استعمال کیے گئے تو بش کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔‘
بیان میں مذید کہا گیا ہے ’بش کے اعتراف سے ایک بار پھر یہ بات منظرِ عام پر آئی ہے کہ امریکہ میں تشدد اور گمشدگیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جاتی۔‘
بین الاقوامی قانون کے تحت سابق صدر کے اعتراف کے بعد امریکی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ تشدد کے متنازعہ طریقے استعمال کیے گئے تو بش کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل
اپنی کتاب میں سابق امریکی صدر نے تصدیق کی کہ انہوں نے امریکہ میں نو گیارہ کے حملوں کا منصوبہ بنانے والے القاعدہ کے رکن خالد شیخ محمد سے معلومات کے حصول کے لیے واٹر بورڈنگ کی اجازت دی تھی۔انہوں نے اخبار کو کہا کہ ’بالکل درست‘۔
صدر بُش نے کہا کہ ’ہم القاعدہ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو پکڑتے ہیں جس نے ہمارے تین ہزار لوگ ہلاک کیے۔ ہمیں محسوس ہتا ہے کہ اس کے پاس مزید حملوں کے منصوبوں کی بھی معلومات ہیں۔‘
’وہ کہتا ہے کہ میں آپ سے اس وقت بات کروں گا جب میرا وکیل موجود ہوگا۔‘ ’میں نے پوچھا ہم کیا کر سکتے ہیں جو قانون کے مطابق بھی ہو۔‘
برطانوی حکومت نے واٹربورڈنگ کی تکنیک کو ہمیشہ یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ وہ اسے تشدد تصور کرتی ہے۔
امریکہ کے چونسٹھ سالہ سابق صدر نے برطانیہ میں جنگ کی مخالفت کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ برطانیہ میں لوگ مجھے کیسے دیکھتے ہیں۔ اب اس سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھار اس وقت بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں